ارد شیر کاﺅس جی سے پہلی ملاقات اور قصہ پوائزن پرفیوم کا


عبداللہ کو سب پتہ تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں مالیات و اراضی کے محکمے میں کوٹھار (ریکارڈ سنبھالنے والا سب سے جونئیر ملازم چپڑاسی سے اوپر مگر کلرک کے نیچے درجے کا) بھرتی ہو گیا تھا۔ سن چھیاسی میں سٹی سرویئر کے عہدے تک پہنچ گیا۔ تہذیب نام کو نہیں تھی مگر دنیا داری کا بہت شعور تھا۔

 پرانے کراچی کی ساری پرانی بلڈنگز کی تعمیر سے ملکیت تک کے تمام رموز جتنے سٹی سروے کے رجسٹر میں محفوظ تھے ان کے بارے میں کہیں زیادہ تفصیلات اس کے دماغ میں محفوظ تھیں۔ ان دستاویزات ملکیت میں کہیں یہ نہ لکھا ہوتا کہ کس طوائف کے عشق میں مبتلا ہوکر کن صاحب کی ملکیت کے حصے بخرے ہوئے مگر عبداللہ کچھی کو پتہ تھا کہ وہ طوائف لاہور یا حیدرآباد کی ہیرا منڈی سے بلبل ہزار داستان نامی بلڈنگ کے کس کوٹھے میں کب آن کر آباد ہوئی تھی۔ لائٹ ہاﺅس کے تاجر اکبر خان مندوخیل کو کب پرانے کپڑوں کی گانٹھ میں پرانے کوٹ میں سلے سونے کے سکے ملے تو اس نے نانک واڑہ میں فلاں بلڈنگ خریدی۔

عبداللہ اس دن ہمارے کمرے میں منہ لٹکائے آیا۔ لگ رہا تھا کہ اشتعال میں ہے۔ کاﺅس جی نام کے کسی شخص پر تف بھیج رہا تھا۔ کمشنر صاحب نے اسے انہی کاﺅس جی اور کچھ مہمانوں کے کے سامنے بلا کر ڈانٹا تھا۔ بتانے لگا کہ کمشنر صاحب نے ”کاﺅس جی کو بہت کہا جاﺅ ڈپٹی کلکٹر ضلع جنوبی دیوان سے ملو۔ ذرا صاحب آدمی ہے۔ پڑھا لکھا بھی ہے۔ ابھی ابھی امریکہ سے آیا ہے۔ کہنے لگا کل ملوں گا“۔

 ہم نے دریافت کیا کہ ” آج کیوں نہیں آیا۔ ہمارا دفتر بھی تو اسی کمپاﺅنڈ میں ہے؟“ عبداللہ کچھی کہنے لگا کہ” آج چڈی، ٹی شرٹ اور چپل پہنی تھی۔ آپ کا صاحب ہونے کا سنا تو دم دبا کر چلا گیا۔ سالے سے کمشنر صاحب کے دفتر کی سیڑھیوں پر گجراتی میں گالم گلوچ بھی ہوئی تھی“۔ اس جملے کو ہم نے اپنے صاحبانہ طمطراق سے زیادہ عبداللہ کی خوشامد سے منسوب کیا۔

ہم تینوں ایک ہی زبان اور کلچر سے جڑے تھے لہذا ہمیں یہ علم تھا کہ پارسیوں، گجراتی، میمنوں میں غصہ وقتی اور گالم گلوچ اس کی انتہا ہوتی ہے مگر انہیں وہ دیگر لوگوں کی نسبت جلد Rationalize کر لیتے ہیں.

احتیاطاً ہم نے پوچھا کہ” کاﺅ س جی کی کیا کمشنر سے بہت دوستی ہے؟“ اور پیپلز پارٹی کا جانثار، لیاری کا عبداللہ کچھی کہنے لگا ”سالے دونوں ہمارے بھٹو صاحب سے نفرت کرتے ہیں۔ ایک کی شپنگ لائین بھٹو نے نیشنلائز کرلی تھی تو دوسرے کو مارشل لا ریگولیشن میں نوکری سے فارغ کیا تھا۔ آج کل ضیا الحق کا ٹائم لگے لا ہے تو سالے دونوں ٹھیکڑے (گجراتی، میمنی میں اچھل کود کرنا۔ اودھم مچانا) مارتے ہیں “

فریال نینسی سامنے صوفے پر بیٹھی ٹائم میگزین کا تازہ شمارہ دیکھ رہی تھی۔ گلے میں پرانی یاد کے طور پر ویاکن مذہب کا پانچ کونے والا ستارہ لاکٹ جھول رہا تھا۔ اس کی وجہ سے عبداللہ کچھی کی شام غریباں بہت مختصر رہی۔ البتہ کمرے سے باہر نکلتے ہوئے اس نے ایک بہت زور دار سانس اندر کی طرف کھینچی، ہماری طرف استفہامیہ نگاہوں سے دیکھا اور چل پڑا۔

فریال امریکہ جانے سے پہلے ہماری پڑوسی تھی۔ ہم وہاں گئے کچھ دن بعد وہ بھی چلی آئی۔ بوسٹن میں پڑھتی تھی ہم پین سیلوانیا میں تھے۔ بعد میں کسی لڑکے کے چکر میں وہ کیلفورنیا چلی گئی۔ اس لڑکے کے چکر میں یہ اور دوسری دو پاکستانی لڑکیاں اس کی چیلی بن کر Wiccan مذہب کی ممبر بن گئیں۔ یہ چاند سورج، فری سیکس، فطرت کی پوجا کا مذہب تھا۔ ماں باپ اسے بمشکل وہاں سے واپس کھینچ کر لے آئے۔ ماہر نفسیات نے معالجے میں اس کی نرم نگرانی اور خود معالجہ تجویز کیا تھا۔ اب وہ انگریزی کی اصطلاح میں رکیو پریٹ recuperate کر رہی تھی یعنی مائل بہ صحت تھی۔ دس بجتے تو وہ گاڑی منگوا کر ہمارے پاس آ جاتی۔ اکثر دوپہر ہمیں کسی نہ کسی کلب کھانے پر لے جاتی۔ والدین کو یہ تسلی تھی کہ وہ ہمارے دفتر میں بیٹھ کر کچھ نہ کچھ سیکھے گی۔ ممکن ہے افسرانہ ٹھاٹھ دیکھ کر سی ایس ایس کر لے جو اپنی ساخت اور ترکیب میں اور اقتدار کے دیوتا کے سامنے بغرض پوجا پاٹ ننگا ناچنے کے معاملے میں کسی Wiccan مذہب سے کم نہیں۔ یوں اس کا سابقہ وابستگیوں سے دوری کا احساس بے گانگی کا گھاﺅ بھی مندمل ہو جائے گا۔

عبداللہ نے بہت بعد میں جب ہم وہاں سے تبادلہ ہوگئے تو ہمیں بتایا کہ وہ لڑکی (فریال) کو ہمارا ڈرائیور ماما سلیم لیاری والا چرس لا کر دیتا تھا۔ وہ افسر بننے نہیں، چرس لینے اور ایک گونہ بے خودی کے لیے دفتر آتی تھی۔ عبداللہ نے جب بابو اقبال ڈکیت نامی گینگ لیڈر سے (جو اس کی بہت عزت کرتا تھا) سلیم ماما کو اٹھوا کر میوہ شاہ قبرستان میں مار لگوائی تو حقیقت کھل گئی کہ وہ پچاس روپے فی سیگریٹ کے حساب سے فریال کو چرس لا کر دیتا تھا جو وہ دفتر آتے جاتے پھونکا کرتی تھی۔ ہمیں حیرت ہوتی تھی کہ گاڑی ڈرائیور تو اس کے اپنے ہاں بھی موجود ہے۔ اسے ہماری سرکاری کار منگانے پر کیوں اصرار ہوتا تھا مگر یہ سوچ کہ سرکار کا مال سب کو حلال ہے وہ بھی اپنا حصہ بٹورتی تھی۔ عبداللہ کا گہرا سانس لینا اسی وجہ سے تھا۔

اگلے دن فریال بیٹھی تھی کہ ہمارے کمرے میں اردشیر کاﺅس جی داخل ہوئے۔ وہ حسب عادت کچھ Stoned(منشیات کے نشے کی کیفیت) تھی۔ گھر سے فیمینا انڈیا لائی تھی۔ اس کی ورق گردانی کر رہی تھی۔

ہم نے تمام فائلوں کو صبح آتے ہی پروسیس کرلیا تھا۔ دفتر میں آج دو اپیلوں پر بحث ہونی تھی۔ وکیل صاحبان کا اصرار تھا کہ وہ دو بجے آئیں گے، کورٹوں سے فارغ ہوکر۔ سو آج کام کم تھا۔ ہم امریکہ سے اوریانا فلاشی کا ایک سوانحاتی رپورتاژ Letter to a child never born پڑھ رہے تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے رہنماﺅں سے مرعوب نہ ہونے والی اوریانا کا کہنا تھا کہ ساری زندگی میں اسے یونان کے حزب اختلاف کے لیڈر الیکژنڈر پیناگولس جیسا کوئی اور دلیر اور اصول پرست مرد نہ مل سکا۔ انٹرویو کے دوران رومانس چل پڑا، تعلقات بڑھے اور وہ حاملہ ہو گئی، یونانی فوجی جنتا نے جب الیکژنڈر پیناگولس کو ہلاک کر دیا تو صدمے سے اوریانا کا حمل ساقط ہو گیا۔ یہ کتاب اس صدمے سے دوچار ہو کر لکھی گئی۔

ارد شیر کاﺅس جی نے سر پر مافیا کے چیف ال کپون والا فیڈورا ہیٹ لگایا تھا۔ ہاتھ میں سونے کے دستے والی چھڑی، پیروں میں جان لاب کے ہاتھ کے بنے ہوئے قیمتی جوتے، ناک پر پھسلتے ہوئے سونے کی عینک۔ وہی سوٹ جو آپ تصویر میں دیکھتے ہیں پہنا تھا۔ البتہ نیلے رنگ کا رومال اور ٹائی Hermes کے تھے۔ کوٹ کی اندرونی جیب میں زنجیر سے اڑسی پاٹیک فلپ کی ایک جیبی گھڑی۔ اندر داخل ہوتے ہوئے رعونت کا کوئی شائبہ نہ تھا جائزہ لیتی ہوئی احتیاط البتہ ضرور عیاں تھی، مگر وہ مطالعے کی ایک فضا کی وجہ سے۔ کیا اسٹائل تھا۔ ہم نے یہ اسٹائل اور کلاس پاکستان میں کسی اور مرد میں نہیں دیکھی۔ خاصے وجیہہ اور بے باک مرد تھے۔ آریائی اور خود آگاہ۔ خاندانی رئیس جسے امریکہ کے یہودی ’اولڈ منی‘ کہتے ہیں۔

اردشیر کاﺅس جی نے بھی کمرے میں داخل ہوتے وقت وہی حرکت کی تھی جو گزشتہ روز عبداللہ کچھی نے کمرے سے جاتے وقت کی تھی۔ یعنی زور کا سانس کھینچنا۔

عورتیں چونکہ Body Language (بدن بولی) کو سمجھنے کی ماہر ہوتی ہیں لہٰذا انہیں دم گٹکو کرتا دیکھ کر فریال ہڑبڑا کر کھڑی ہوگئی دونوں نے نظر بھر کر ایک دوسرے کو دیکھا۔ کاﺅس جی کی دید بانی میں اک نگاہ میں انسانوں کو تول کر علیحدہ کرنے والی برق رفتاری تھی تو فریال کی آنکھوں میں گو لٹی محفلوں کی دھوم ضرور تھی مگر وہ کسی طرح سے عبرت سرائے دہر نہ لگتی تھیں۔

Call me when you are done. I am home. Taking Salim along.

کاﺅس جی نے کہا بھی کہ بی بی بیٹھو

 I am not that bad

مگر فریال

"Some other time”

کہہ کر سٹک گئی.

Which one was your real nana?

یہ پہلا سوال تھا جو انہوں نے ہم سے پوچھا اس میں انہوں نے حبیب پٹیل، امیر جی پٹیل اور محمد پٹیل کا نام شامل کر لیا۔ ہم نے حبیب پٹیل کا نام لیا تو کہنے لگے کہ وہ تو ولی تھے۔ So rich, so saintly باقی دو کی ان کے والد اور دادا سے کاروباری واسطے داری تھی۔

ہم نے پوچھا کہ وہ کل کیوں نہیں آئے تو کہنے لگے کہ ام (ہم )عبداللہ چریا (گجراتی میں پاگل) کو بولا تھا کہ” آج اس کی سات پیڑھی (نسل) کا کھاتہ دیکھ لوں“۔ اب سوال کرنے کی باری ہماری تھی اور ظاہر ہے پہلا سوال کمرے میں ان کی آمد پر گہرا سانس لینے سے متعلق تھا۔ وہ جواب میں کہنے لگے . چرس۔ Poison پرفیوم بھیگی (ساتھ)۔

 ہمارے پوچھنے پر کہنے لگے کہ ان کی بیگم گھر میں یہ خوشبو لگاتی ہیں باہر جاتی ہیں تو پلوما پکاسو کا پرفیوم۔ وہ کہنے لگے، میرا کتے ڈیوک اور میں میری بیوی کی پسندیدہ خوشبو کو میلوں دور سے سونگھ لیتے ہیں۔ لڑکی نے سوٹا لگایا تھا مگر پرفیوم Poison تھا۔

 گجراتی میں ہم سے پوچھنے لگے ”چھوکری کون چھے؟“ (یہ لڑکی کون ہے)

ہم نے بات ٹالنے کو کہا کہ فقیر اور سنتوں لوگ کے تکیے پر کون آتا ہے، کون جاتا ہے۔ وہ کسی کی سات پیڑھیاں نہیں کھنگالتے۔ یہ ہمارا طنز تھا مگر وہ اس کی کاٹ کو نظر انداز کہنے لگے۔ ۔

Seems to be girl interrupted (بکھری ہوئی لڑکی لگتی ہے)

ہم نے موضوع لپیٹتے ہوئے کہا Yes. Recuperating from old wounds۔ اردشیر نے (ان کو ہم اسی نام سے پکارتے تھے) پھر فریال نینسی پر ساری عمر کوئی سوال نہیں کیا۔

انہیں ہمارے دفتر کا ماحول اچھا لگا۔ ہم اور ہماری مہمان مصروف مطالعہ تھے۔ دروازہ آنے جانے والوں کے لیے کھلا تھا۔ دفتر کے باہر دربان نہ تھا۔ میز فائلوں سے خالی تھی۔ کافی بھی جلد اور گرما گرم آئی۔ ہم نے کہا ہمارے منجھلے نانا امیر جی پٹیل کاروبار میں نہیں تھے وہ ونتھلی کے پٹیل تھے۔ جاگیردار۔ تب کاﺅس جی نے بتایا کہ امیر جی پٹیل کی سردار ولبھ بھائی پٹیل اور ابوالکلام آزاد اور مرارجی ڈیسائی سے بہت دوستی تھی۔ یہ بات انہیں رستم فقیر جی کاﺅس جی نے بتائی تھی جو ان کے والد تھے۔

کاﺅس جی نے اٹھتے اٹھتے ہمیں دوست بنانے کی پیشکش کی مگر ہم نے جب جتایا کہ” یہ دوستی کسی طرح ان کے کیس پر اثرانداز نہیں ہونی چاہیے“۔ وہ کہنے لگے کہ ”ہم قانون کے سامنے رکھ کر جو فیصلہ مناسب سمجھتے ہیں۔ بلا تاخیر سنا دیں۔ ہمارے پرانے پیش رو ان سے خوف زدہ ہوکر اور رشوت کی رقم نہ ملنے کے امکانات کی وجہ سے اس کیس کو پچھلے پانچ برسوں سے لٹکا کر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف چونکہ ایک بہت طاقتور سرکاری ادارہ فریق ہے اس لیے وہاں سے بھی رقم توڑنے کا کوئی آسرا نہیں۔ اسی لیے اب تک اتنی تاخیر ہوئی ہے۔

دوسری طرف واقعی بہت طاقتور ادارہ تھا۔ یہ ادارہ محض اس لیے کہ وہ پاکستان بننے سے پہلے سے ان کی اس عمارت کا کرایہ دار تھا، اب اس قیمتی ان کی جائیداد کو THE LAND ACQUISITION ACT, 1894 کے تحت بحق سرکار خریدنے کا متمنی تھا۔ ارد شیر کاﺅس جی کو اس عمارت کو بیچنے پر کوئی اعتراض نہ تھا مگر ادارہ انہیں مارکیٹ ریٹ کا کل بیس سے پچیس فیصد ادا کرنے پر مصر تھا جب کہ وہ اسی قانون کے تحت بتائے ہوئے اصول Gold for Gold کے تحت فیصلہ کے متمنی تھے۔

 ہم نے اعتراض کیا کہ ادارہ عوامی مفاد میں کام کررہا ہے۔ اس کا اس عمارت کو لینے میں کوئی تجارتی مقصد نہیں لہذا مارکیٹ پرائس کو تو وہ بھول جائیں۔ وہ سرکار کو اس حد تک رعایت دینے پر رضامند ہوگئے کہ ایک میل کے قطر (Radius) میں دو ہزار گز سے اوپر کی آخری تین عمارتوں کی رجسٹرڈ ویلیو کی اوسط قیمت دے دیں۔ نہ زیادہ نہ کم۔ ان کی عمارت تو دس ہزار گز کی ہے اور علاقہ بھی کراچی کا سب سے قیمتی علاقہ ہے۔

بات مناسب تھی۔ ہم نے ان سے کہا وہ ہمیں یہ شرط لکھ کر دے دیں۔ ہم ادارے کو یہ پیشکش رائے زنی کے لیے بھیج دیں گے۔ وہ کہنے لگے کہ اس سے ان کے عدالت میں اپیل میں جانے کے امکانات ختم ہوجائیں گے۔ چلتے وقت کہنے لگے کہ ادارہ کسی صورت اپنی بتائی ہوئی قیمت سے زیادہ ادا کرنے پر رضامند نہیں۔ اس میں کچھ ناگفتہ بہ نکات ہیں۔ ہم اگر ادارے کی بتائی ہوئی قیمت سے ایک روپیہ بھی زیادہ کا ایوارڈ آف کم پین سیشن دیں گے تو ادارہ معترض ہو گا۔ ہمارے خلاف اپیل میں چلے جائیں گے۔ ممکن ہے ہمارے تبادلے کی بھی کوشش کریں۔

ہم نے انہیں تبادلوں کے حوالے سے اپنی بے اعتنائی کا ذکر اپنی والدہ کے سکھائے ہوئے گجراتی محاورے میں کیا کہ درزی نوُں ڈیکرو چھے۔ جیار سدی جیوا نوں۔ تیار سُدی۔ سیوا نوں (درزی کا بیٹا ہے، جب تک جیے گا، تب تک سیئے گا)۔ وہ زور سے ہنسے

اور کہنے لگے

 I will pick you for dinner at 7.30 sharp from your place.

ہمیں لگا کہ چوبیس گھنٹوں میں انہوں نے ہمارے بارے میں بہت کچھ جان لیا تھا۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan