ایک خبطی علامہ کے چند قصے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لوگوں کو کئی طرح کے خبط ہوتے ہیں۔ کچھ طنز میں بجھی ہوئی تلوار ساتھ رکھتے ہیں اور کچھ کے پاس گالیوں کا وافر ایمونیشن ہوتاہے۔ کئی ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ادھر کسی کو کوئی کام کرتا دیکھیں گے اور ادھر ان کے اندر کا نقاد جاگ اٹھے گا۔ ہمیں ایک ایسے صاحب سے واسطہ پڑا جو نا صرف ’عالم ہر شے‘ تھے بلکہ دوسروں کو اس کی بار بار یاددہانی بھی کراتے تھے۔ ان سے ملاقات سے قبل ہم ’لاعلمی‘ کی دولت سے مالامال تھے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ انہوں نے ہماری کئی اصطلاحات پر اپنے ’کالے علم‘ کا پوچا پھیر دیا ہے۔ ہم جو ان تمام اصطلاحات کو اپنی عقل سے حسب حال کر چکے تھے اور جیسے چاہتے تھے، استعمال کرتے تھے اب اس ’عیاشی‘ سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

دراصل ہوا یوں کہ ایک دن وہ اپنی علمیت کے قصے سناتے سناتے ایک سیمینار میں نکل گئے۔ سیمینار میں بیسویں لڑکیاں پونی ٹیل کیے ہوئے تھیں۔ اس سے قبل پونی ٹیل سے متعلق ہمارا مشاہدہ رومان سے بھرپور تھا۔ یہ بالوں کا خاص سٹائل تھا جو نوجوان لڑکیوں تک ہی محدود تھا۔ بہرحال حضرت عالم نے بتایا کہ ’پونی ٹیل‘ گھوڑے کی دم (بلکہ انہوں نے تو پونچھ کہا تھا) کو کہا جاتا ہے۔ یہ سن کر پونی ٹیل بنائے لڑکیوں نے ربڑ بینڈ اتار ڈالے۔ اگر وہ کھلے بالوں میں مزید قیامت نہ ڈھا رہی ہوتیں تو ہم عالم کی اس تھیوری سے انکار بھی کر سکتے تھے۔ تاہم انہوں نے ہمارے ایک رومانوی احساس کو مٹی میں ملا دیا۔ اب جہاں بھی کوئی لڑکی پونی ٹیل میں دکھے اپنا آپ گھوڑا گھوڑا سا لگنے لگتا ہے۔

یہ صاحب ہمارے ’ہم ادارہ‘ تھے۔ ہم جو اپنی ساتھی خواتین کو ’قاف کی پریاں‘ سمجھتے تھے، ان کی پر اسرار اور بصد اصرار سنائی گئی داستانوں کے سحر میں آ گئے اور ’قاف‘ کی جگہ ’کوہ قاف‘ کہنے لگے۔ دوسرے ملازمین بھی ہمیں ’جن چھلیڈے‘ ہی معلوم ہونے لگے۔ ہم چونکہ غیر شادی شدہ ہیں اس لیے ہمارا علم ٹی وی اشتہاروں تک ہی محدود ہے۔ ادھر یہ حضرت نہ صرف شادی شدہ ہیں بلکہ کثیر الاولاد بھی واقع ہوئے ہیں۔ ایک اور سیمینار میں انہوں نے ’بچے دو ہی اچھے‘ کے سلوگن کا ستیاناس کر کے رکھ دیا۔

ایک لڑکے نے کہا کہ ’مغربی ممالک کی آبادی کم ہے، اس لیے ان کے مسائل بھی کم ہیں‘ ۔ اب جانے انہوں نے اس سوال کو اپنی ذاتی زندگی میں دخل اندازی سمجھا یا کچھ اور بس خاندانی منصوبہ بندی پر وہ ڈرون داغے کہ خدا کی پناہ۔ فرمانے لگے کہ مسلمانوں کی طاقت خاندانی نظام میں ہے اور خاندان کی بنیاد چاچے، تائے، پھوپھیاں اور خالائیں ہوتی ہیں۔ امریکہ اور طاغوتی قوتیں خاندانی منصوبہ بندی کے تحت ہمیں تنہا کر کے مارنا چاہتی ہیں۔ تاہم یہ بات وہ گول کر گئے کہ مغرب کی ترقی اور ہماری تنزلی میں بڑا ہاتھ بھی انہی چچاؤں، تایوں، پھوپھیوں اور خالاؤں (اور ان کی لڑکیوں ) کا ہی ہوتا ہے۔

ایک اور دفعہ ان کی زبان کی تان ایک این جی او کی محفل پر ٹوٹی۔ کہنے لگے کہ بھرے ہال کے سامنے میں نے ’کونڈوم‘ کے استعمال پر اعتراض کر دیا۔ ہنستے ہنستے بتایا کہ جب میں نے پوچھا کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ صرف شادی شدہ ہی استعمال کریں گے تو وہ منہ چھپاتے پھر رہے تھے۔ ان کا منہ چھپانا بنتا بھی تھا۔ وہ شاید اپنی ’پراڈکٹ‘ تیار کرتے وقت ’منطق‘ پر توجہ دینا بھول گئے تھے۔ ہم نے عالم موصوف سے کہا نہیں لیکن غالباً مشتاق احمد یوسفی انہی کے بارے میں کہہ گئے تھے کہ ’پھبتی سے آدمی لاجواب ہوجاتا ہے مگر قائل نہیں‘ ۔

اب ہم ہیں اور ہمارے ٹوٹے ہوئے نظریات۔ کسی کا سر ہاتھ نہیں آتا اور کسی کا پیر غائب ملتا ہے۔ پونی ٹیل گھوڑے کی دم نظر آتی ہے۔ خاندانی منصبوبہ بندی والے آتشیں اسلحہ کے ماہرین معلوم ہوتے ہیں۔ اور کونڈوم کا خیال آنے پر ہی لاحول پڑھتے ہیں کہ جب شادی شدہ اسے ضروری نہیں سمجھتے تو ہمارا کون سا میڈیکل کلینک ہے جو ٹینشن لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *