کچھ پاکستانی ڈراموں کے بارے میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ڈراموں کا زیادہ شوقین تو نہیں ہوں۔ لیکن پھر بھی ہلکی پھلکی نظر ضرور رہتی ہے۔ آپ کو پتا ہے اگر آپ ٹیلی ویژن دیکھ رہے ہوں تو ریموٹ کبھی نا کبھی ڈراموں پر بھی رک ہی جاتا ہے۔ کیونکہ اس وقت بے تحاشا پرائیویٹ چینلز ہیں، جن پر ڈرامہ، شوز اور مختلف سیریلز چل رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ٹیلی ویژن نہیں بھی دیکھ رہے ہوں تب بھی سوشل میڈیا پر ڈراموں کے بارے پتا چلتا رہتا ہے کہ کون سا ڈرامہ زیادہ دیکھا جا رہا یا پسند کیا جا رہا ہے۔ اور کن پر تنقید ہو رہی ہے، اس سے پھر تجسس بڑھتا ہے کہ دیکھا جائے۔

اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ ہمارے ڈرامے ہمیشہ سے ہی سپر ہٹ رہے ہیں اور دوسرے ممالک بھی ہمارے ٹیلی ویژن سیریلز کے معترف رہے ہیں۔ مگر اب شاید ہمارے ڈراموں کا معیار گر رہا ہے۔ پاکستانی ڈراموں کا پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک یعنی ( پی ٹی وی ) کے دور سے ہی ایک نام رہا ہے۔ ساٹھ، ستر کی دہائی سے لے کر ابھی پانچ، سات سال پہلے تک بھی بہترین ڈرامے بنتے رہے ہیں۔ جو تفریح کے ساتھ ساتھ کافی نصیحت آموز بھی ہوا کرتے تھے۔ اگر میں ان کے نام گنوانا شروع کر دوں تو کئی گھنٹے لگ جائیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ڈرامہ عوام کو تفریح فراہم کرتا ہے جس میں کوئی سبق بھی پنہاں ہو سکتا ہے۔ اور اہم معلومات بھی ہو سکتی ہے۔ اکثر ہدایت کار کی کوشش ہوتی ہے کہ ان سیریلز میں معاشرے کے ان پہلوؤں کو اجا گر کیا جائے جو اس وقت معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک اچھی چیز بھی ہے۔ مگر کوئی بھی پہلو اجا گر کرنے کی بھی کچھ اخلاقیات ہوتی ہیں۔ کہ کیا ہم جو بنانے جا رہے ہیں اس کا کوئی فائدہ بھی ہے سوائے اس کے کہ جیب گرم ہو گی، یا پھر پسی ہوئی قوم کو اخلاقیات میں اور گرایا جائے۔

مثال کے طور پر اگر کوئی ایسا واقع ہو گیا ہے کہ شادی شدہ عورت کسی دوسرے مرد سے افیئر چلا رہی ہے (جیسا کہ ڈرامہ سیریل دیوانگی میں ) ، سسر جو ہے وہ بہو پر ڈورے ڈال رہا ہے (ڈرامہ سیریل پیار کے صدقے میں ) ، بہن بہنوئی پر فدا ہو رہی ہے (ڈرامہ سیریل جلن میں ) ، جبکہ ایک لڑکی شادی سے پہلے چار چار لڑکوں سے افئیر چلا رہی ہے (ڈرامہ سیریل دلربا میں ) جو میں مانتا ہوں کہ ہو سکتا ہے۔ مگر ایسے ایشوز کو عوام میں دکھانے سے کیا حاصل، ایسے ڈراموں سے ہماری نوجوان نسل کیا سبق لے گی؟ اخلاقی قدریں اور اخلاقیات تو ہماری ویسے ہی وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ رہی سہی کسر ایسے گھٹیا اور بے ڈھنگے ڈرامے پوری کر رہے ہیں۔

اور جب سے ترکش سیریل غازی ارطغرل پاکستان ٹیلی ویژن ( پی ٹی وی ) پر چل رہا ہے، ہمارے بہت سے اداکاروں سمیت، ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز بھی اس کی مخالفت کرتے نظر آئے ہیں۔ بہت سے ٹاک شوز بھی ہوئے ہیں اس پر جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ایک پوری کمپین چلتی رہی ہے کہ ہمیں اپنے ڈرامے چلانے چاہیے۔ جس میں اپنی تاریخ بتائی جائے اور اپنی ثقافت دکھائی جائے، ورنہ ہمارے اداکار بے روزگار ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

میں نے غازی ارطغرل نہیں دیکھا۔ اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اس میں جو کچھ دکھایا گیا ہے تاریخ میں اس کا زیادہ ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ مگر جس طرح عوام میں اس کو پسند کیا جا رہا ہے اس سے صاف ظاہر ہے گھسے پٹے موضوعات جیسا کہ اوپر بھی بتائے گئے ہیں اور اس کے علاوہ ساس، بہو کے جھگڑے اور شادی کے بعد لڑکی کا روتے رہنا وغیرہ، جیسے موضوعات سے عوام اکتا گئی ہے۔ اگر ہمارے پروڈیوسرز اور رائٹر ایسے ڈرامے بناتے رہے تو پھر غازی ارطغرل جیسے اور ڈرامے بھی چلیں گے، اس لیے غازی ارطغرل پہ رونا بند کریں اور اچھی پروڈکشن دیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *