انسان نما درندے


انسان اشرف المخلوقات ہے۔ اس کا مطلب انسان اس دنیا میں بنائے جانے والی ہر مخلوق سے افضل ہے۔ پر کیا واقعے ہی انسان یہ کہلانے کے لائق ہے؟ جس کو اللہ نے دنیا میں پیدا ہونے والی ہر مخلوق سے افضل بنایا اس انسان نے اپنی ہی پہچان کو کھو دیا۔ وہ انسان جسے عقل و شعور دیا گیا وہ درندہ بن گیا۔ اور وہ درندہ ایسا بنا جس سے بھیانک درندے خود پناہ مانگتے ہیں۔ اس کی درندگی اتنی خطرناک ہے کہ جب وہ درندہ بنتا ہے تو اس کی ہوس کا نشانہ صرف انسان ہی نہیں جانور بھی بنتے ہیں۔

ان درندہ صف لوگوں میں پڑھے لکھے اور جاہل سب ہیں پر آج بات کریں گے اس کی ہوس کا شکار ہونے والی معصوم کلیوں کی۔ جو نہیں جانتی ان کے وجود کی پیاسے لوگ اسے چھلنی کر دیں گے۔ جو گناہوں سے پاک ہوتی ہیں انہیں سب سے بڑے گناہ کا شکار کیا جاتا ہے۔ اور ان درندوں کی پہچان اتنی مشکل ہوگی ہے کہ یہ آپ کو ہاتھوں میں تسبیح اور سر پہ ٹوپی رکھے ہوئے بھی ملیں گے۔ یہ پہچانا مشکل ہو چکا ہے کون انسان ہے اور کون درندہ ہے۔

مجھے ڈر ہے وہ وقت نہ آ جائے جس میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی ماں باپ اسے اس ڈر سے مار دیں کہ کہیں اسے کوئی اپنی ہوس کا نشانہ نہ بنا ڈالے۔ اور کوئی آپشن بھی نہیں مار دینا درندگی کا نشانہ بننے سے بہتر ہے۔ کیونکہ دن با دن یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے روز ایسے بہت سے کیس سامنے آتے ہیں دو دن ٹرینڈ بنتا ہے اور تیسرے دن کوئی اور نام سامنے آ جاتا ہے نام تبدیل ہوتے جاتے ہیں۔ پر ہوس ختم نہیں ہوتی۔ میں کچھ وقت پہلے تک یہ سوچتی تھی عورت کو تمام حقوق حاصل ہیں عورت کو ہر طرح کا تحفظ ہے۔

پر میرا یہ نظریہ غلط ثابت ہوا عورت کو تو اپنی رائے تک کی آزادی حاصل نہیں ہے۔ اور یہ تو گھر کی چاردیواری میں بھی محفوظ نہیں رہی ابھی تو گھروں میں درندگی کا نشانہ بننے والے کیس زیادہ سامنے نہیں آتے ورنہ باہر سے زیادہ گھروں میں بچیاں درندگی کا شکار ہو رہی ہیں۔ گھروں میں شکار ہونے والی بچیوں کے منہ پہ تالے ماں باپ کی عزت اور معاشرے میں لوگوں کے ہزاروں سوالات نے لگا رکھے ہیں اور کبھی کؤ آواز اٹھائے تو اسے ایسے القابات سے نوازا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے ان بچیوں کو خاموش رہنے میں ہی بہتری ہے اور وہ آواز اٹھائیں بھی تو کیسے؟

آواز تو تب اٹھائی جاتی ہے جب کہیں مری ہؤ لاشیں ملیں تو۔ پھر قانون بنائے جاتے ہیں صرف قانون بنانے سے اگر بہتری آتی تو آج کوئی بھی مجرم نہ ہوتا۔ میں جانتی ہوں میرے ان دو چار لفظ لکھنے پہ بھی کوئی فرق نہیں پڑھے گا کیونکہ سوچوں میں بھی درندگی آ چکی ہے۔ میں نے لوگوں کو کہتے سنا ہے عورت چادر میں لپٹی ہو تو محفوظ ہوتی ہے یہ تو وہ دور آ گیا ہے جہاں عورت کفن میں بھی لپٹی ہوئی محفوظ نہیں رہی۔ باپ چچا بھائی سبھی نام تو سامنے آچکے ہیں کسے اپنا محافظ سمجھے درندگی اتنی بڑھ گئی ہے کہ کسی رشتے پہ اعتبار نہیں رہا انسان اپنی ہی درندگی سے اس دنیا کو ختم کر رہا ہے۔

وہ باہر کی عورتیں جو عورتوں کی عزت وقار پہ ہمارے ملکوں کی مثالیں دیتی تھیں آج وہ بھی یہاں آ کے با اثر لوگوں کے ہاتھوں ہوس کا نشانہ بنی۔ جرم ان لوگوں کا اتنا بڑا ہے کہ اگر قیامت تک بھی ان لوگوں کو روز پھانسی دی جائے تو یہ سزا کم ہے۔ اگر آج اس ظلم کو نہ روکا گیا تو یہاں پھول کھلنا بند ہو جائیں گے اور صرف خاردار جھاڑیاں ہی رہ جائیں گی

آؤ اس ظلم کے خلاف آواز اٹھاؤ
قیامت سے پہلے قیامت کو نہ لاؤ

Facebook Comments HS