لمحوں کی فتح اور زندگی کی کہانی ہوئی ختم

کچھ واقعات اور سانحات ایسے رونما ہو جاتے ہیں جنہیں دیکھ اور سنکر ہم ساکت و جامد رہ جاتے ہیں۔ حیرت اور ہے یقینی کی کیفیت لیے یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کیا کوئی ایسا بھی کر سکتا ہے؟ ایک محروم، مجبور، اور نادار انسان مایوس ہو کر زندگی کے خاتمے پر مجبور ہو تو عقل قبول بھی کر لے۔ حالاں کہ زندگی ختم کرنے کا اس کا فعل بھی نا قابل قبول اور تکلیف دہ ہے۔ مگر جس شخص کے پاس دنیا کی ہر آسائشیں موجود ہو، شہرت کی بلندیوں پر ہو، مستقبل کے پلان ریڈی ہوں، وہ شخص بھی ایسے قدم اٹھانے کی جسارت کر سکتا ہے۔ یہ حیران اور متفکر کر دینے والی بات ہے۔ سوشانت کی خود کشی نے بھی بہت سے سوال میرے ذہن میں پیدا کیے۔ اس کے مذہب، شخصیت، ماضی کو درکنار کر میں نے بہ حیثیت ایک انسان اس کی خودکشی پر تکلیف محسوس کی بلکہ ہر حساس ذہن نے کی ہوگی۔

ہماری زندگی میں بھی بہت سے لمحات ایسے آتے ہیں جب ہم خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ ایسی مشکلات بھی آتی ہیں جب راہیں مسدود اور حل محدود ہو جاتے ہیں۔ خوف، ہے بسی، ہے چارگی غالب آتی ہے اور زندگی کے سارے رنگ تاریکی میں گم ہو جاتے ہیں۔ پھر جیسے زندگی بوجھ محسوس ہوتی ہے اور چہرے پے کرب کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں۔ آنکھوں میں امید کی ساری چمک معدوم ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ہمارے کسی اپنے کی نظر پڑتی ہے اور وہ اندر کا درد محسوس کر لیتا ہے، پھر بڑے پیار سے ہمارے کندھے پے ہاتھ رکھ کر پوچھتا ہے کیا ہوا؟ بہت پریشان ہو؟ اور اسی لمحے ہمارا سارا درد، ہے بسی، کرب آنسوؤں کی صورت میں اس ہمدرد کے شانوں پے ڈھلک جاتے ہیں۔ پانی کی شکل میں بہہ جاتے ہیں۔ ان لمحوں میں کوئی حل ملے نہ ملے مگر مایوسی کے با دل ضرور چھٹ جاتے ہیں۔ غبار ختم ہو جاتا ہے۔ ذہن کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ زندگی کی کرن دبیز کہر میں پھوٹ نکلتی ہے۔ سوشانت کے پاس کوئی ایسا ہمدرد نہیں تھا۔ جبکہ اس کے آثار نظر آرہے تھے۔ اس کی ٹویٹر کی لاسٹ پوسٹ اور ٹویٹر کا کور فوٹو جس میں اس نے ایسی پینٹنگ لگائی تھی جس کے خالق اور فنکار نے خودکشی کی تھی۔

وہ پچھلے 6 مہینے سے ڈپریشن میں تھا اور اپنے انٹرویو میں اس کا اشارہ بھی کہیں نہ کہیں دے رہا تھا۔ مشہور اداکارہ کنگنا رناوت نے اپنے ٹویٹر پے ویڈیو اپلوڈ کر اس کا انکشاف بھی کیا ہے۔ اس کی موت کے بعد بہت سے لوگوں نے بہت کچھ کہا ایک بچپن کے دوست کا آرٹیکل بھی ہندی کے مشہور اخبار میں آیا مگر جب سوشانت کو ضرورت تھی تو کسی دوست کسی اپنے کا ہاتھ نہیں بڑھا کوئی اس کی دہلیز تک نہ پہنچا۔

ہمارے شہروں کی پرائیویسی کلچر نے نہ جانے کتنی زندگیوں کو یوں تنہا مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔ ہم گاؤں کی بے جا مداخلت سے پریشان ہو کر شہر کا رخ کرتے ہیں تا کہ زندگی کا بھرپور لطف اٹھا سکیں مگر جب ہم پریشان ہوتے ہیں کسی کشمکش کا شکار ہوتے ہیں تب اس پرائیویسی کلچر کی حقیقت ہم پر آشکار ہوتی ہے اور اس کی خوفناک تصویر ہمارے سامنے ہوتی ہے۔ جس کی بدولت ہم ہمدردی کے دو بول سننے کے لیے ترس جاتے ہیں۔ کوئی کندھا نہیں ملتا کہ اس پر سر رکھ کر ہم دل کا غبار نکال سکیں۔ کوئی نہیں ہوتا جو دیر تک تنہا کمرے میں بند ہونے پر دروازہ کھٹکھٹا کر زبردستی وہاں سے نکال کر باہر لے جا سکے اور مایوسی کے اندھیرے میں امید کی کرن دکھا سکے۔

34 سالہ خوب رو اور معصوم سی مسکراہٹ رکھنے والا سوشانت، جس کے پاس دولت، شہرت اور راحت و آرام کے تمام اسباب موجود تھے۔ لگاتار کامیابیوں کے بعد وہ اس وقت بالی ووڈ میں عروج کی سیڑھی پر قدم رکھ کر تمام سپر سٹار کے مد مقابل اپنی الگ شناخت بنا رہا تھا کہ اچانک سب کچھ ختم ہوجاتا ہے اور اس کے گھر سے اس کی مردہ لاش ملتی ہے۔ وجہ؟ ڈپریشن، مایوسی اور نا امیدی۔

دراصل ڈپریشن وہ بیماری ہے جو آج کل حد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں۔ کامیاب ترین شخصیات کہ جنہیں نوجوان طبقہ اپنا آئیڈیل مانتا ہے اور ان کی طرح طرز زندگی اپنانے کا خواہاں ہے۔ وہ شخصیات بھی اپنی زندگی میں شدید ڈپریشن کی شکار ہیں۔ یہ ہمارے لیے باعث حیرت ہے۔ سوال یہ ہے کہ انسان پوری زندگی جس چیز کے پیچھے اپنی ساری توانائی لگا دیتا ہے تو پھر اس کے مل جانے کے بعد بھی وہ زندگی سے بیزار کیوں ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس کی زندگی تو سب سے زیادہ شاندار ہونی چاہیے؟

دراصل جب انسان اپنے مقصد کو حاصل کر لیتا ہے اپنے خوب پورے کر لیتا ہے تو اس کے پاس کوئی محرک نہیں رہتا جو اسے جدوجہد کے لیے آمادہ کرے۔ وہ شہرت اور کامیابی تو حاصل کر لیتا ہے لیکن اس کو سنبھالنا نہیں سیکھ پاتا۔ عروج پر پہنچ کر ذرا سی مشکل آنے پر وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے۔ اپنی شہرت میں ذرہ برابر کمی ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ مستقبل کو لے کر غیر یقینی صورت حال اسے مایوسی کے اندھیرے میں گم کر دیتی ہے اور نتیجہ خود کشی کی شکل میں رونما ہوتا ہے۔

ہماری نوجوان نسل مادیت پسند ہو گئی اسے مطمئن ہونا نہیں آتا۔ وہ زندگی کی خوشیاں اشیاء اور آسائش میں تلاش کرتی ہے۔ اسٹیٹس اور نمود و نمائش کو ہی وہ زندگی کا مقصد گردانتی ہے۔ ان کے نزدیک رشتے ناتے، محبت و خلوص کی کوئی قدر نہیں ہے۔ جس سے مشکل وقت میں وہ تنہا رہ جاتے ہیں۔

جدید ریسرچ کے مطابق دنیا میں ہر سال 8 لاکھ افراد خودکشی کرتے ہیں۔ ہر 16 منٹ کے بعد ایک انسان خودکشی کر رہا ہے۔ 17 سے 34 سال کے درمیان والے لوگوں میں مرنے کی وجوہات میں دوسری بڑی وجہ خودکشی ہے۔ سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات بدھ کے روز ہوتے ہیں اور خودکشی کی تین بنیادی وجوہات میں سے ایک وجہ ”ذہنی صحت“ ہے۔ ”ذہنی صحت“ کی خرابی کی بڑی وجہ ڈپریشن ہے، جس میں مبتلا شخص کو خودکشی کے خیالات زیادہ آتے رہتے ہیں۔

ریسرچ یہ بھی بتاتی ہے کہ دنیا میں خودکشی کا زیادہ رجحان میڈیا اور شوبز سے منسلک لوگوں میں ہوتا ہے، کیونکہ اس فیلڈ میں پیسہ اور گلیمر بہت زیادہ ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں میں کھوکھلا پن بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بڑے بزنس مین، بیوروکریٹ اور کامیاب شخصیات میں بھی خودکشی کا رجحان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان لوگوں کا کوئی مخلص دوست نہیں ہوتا، یہ اپنی دل کی بات کھل کر کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتے۔ یہ لوگ زندگی میں کامیابیاں تو شاید بہت سمیٹ لیتے ہیں لیکن انہی کامیابیوں کی وجہ سے وہ معاشرے سے کٹ کر تنہائی اختیار کرلیتے ہیں، جبکہ تنہائی، ذہنی بیماری کو مزید تقویت دیتی ہے اور یہی چیز ان کی خودکشی کا سبب بنتی ہے۔

سوشانت کی موت پر بہت سے لوگوں نے مختلف انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کچھ نے منفی کچھ نے مثبت۔ کہیں ہمدردی تھی افسوس تھا تو کہیں حقارت اور حماقت بھی نظر آئی۔ مذہبی نقطۂ نظر سے بھی لوگوں نے اس واقعہ کو پر کھا۔ واعظ و نصیحت کے دور بھی چلے۔ یہ سب اپنی جگہ مگر ان سے پوچھیے جن کا لخت جگر خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگی کو ختم کر گیا۔ ان بہنوں کو کون سمجھائے جن کا لاڈلا بھائی ہمیشہ کے لیے جدا ہو گیا۔ خدا زندگی میں اتنی مایوسی نہ لائے کہ موت ہی واحد حل نظر آئے۔

ایسا نہیں کہ مرنے والے کو اپنوں کا خیال نہ آیا ہوگا مگر کیا کیجئے کہ اسے اس کے سوا کوئی صورت بھی نظر نہ ائی ہوگی۔ کبھی بھی کسی اپنے کے چہرے پر زندگی سے فرار کے نشان نظر آئیں موت کو گلے لگانے کی اذیت دکھائی دے آنکھوں میں نا امیدی کی جھلک نظر آئے۔ تو آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیجیے گا۔ ایک کوشش ضرور کریے گا۔ اسے خود کشی سے بچا نے کی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words