جب میں نے نیلام گھر میں کار جیتی

محسن نقوی نے کہا تھا کہ،
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی۔
طارق عزیز صاحب کے نوحہ خواں بہت ہیں۔ میں طارق عزیز اور ان کے پروگرام کے حوالے سے اپنی بہت سی خوش گوار یادوں میں سے چند کو تحریر کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔
22 اگست 1990۔ ایک یاد گار دن، جب پہلی دفعہ میں نے نیلام گھر میں شرکت کی۔ وہ نیلام گھر جسے دیکھتے ہوش سنبھالا تھا۔ اس میں شرکت ایک نہ بھولنے والا لمحہ تھا۔ اگرچہ کسی مقابلے میں شرکت نہ کر سکا، تاہم پروگرام میں شمولیت اور ایک دیو زاد شخصیت کو سامنے دیکھنا بھی ایک عجب منظر تھا۔
اکتوبر 1990 میں پہلی مرتبہ پروگرام میں کسی مقابلہ میں شرکت کی اور وہ بھی کار کے مقابلے میں۔ پہلی دفعہ ہی گاڑی تو نہیں جیتی جا سکتی تھی، بس طارق عزیز کے سامنے بیٹھ کر سوالوں کے جواب دینا ہی ایک ہوش ربا بات تھی۔ پھر جب ٹی وی پر اپنا مقابلہ دیکھا تو پاؤں زمین پر ٹکتے نہ تھے کہ اپنے خاندان بلکہ پورے گجرات میں سے سب سے پہلے یہ اعزاز حاصل ہوا۔
نوجوانی کا دور تھا۔ سنجیدگی اور معلومات عامہ کا وہ درجہ نہیں تھا کہ کوئی بڑا انعام جیتا جا سکتا۔ صرف ٹی وی سکرین پر آنے کے شوق میں کئی بار چھوٹے موٹے مقابلوں میں حصہ لیا۔
پھر 1997 آیا۔ کار کے سیمی فائنل میں سخت مقابلہ چل رہا تھا۔ میں ایک غلطی کر چکا تھا۔ میرے مدمقابل نے ایک سوال کا جواب دیا، ایک ارب اور چھ کروڑ۔ طارق صاحب نے وہ جواب درست قرار دیا۔ میں نے چیلنج کیا کہ یہ ایک ارب ساٹھ کروڑ ہے اور جواب غلط تصور کیا جائے۔ لیکن طارق صاحب نے میرے چیلنج کو رد کر دیا۔ میں سیمی فائنل ہار گیا۔
لیکن مجھے علم تھا کہ میرا چیلنج درست ہے۔ اگلے پروگرام میں جو کہ فائنل تھا، میں اپنے ساتھ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کا تازہ شمارہ لے کر گیا جس میں میری بات کا ثبوت تھا۔ طارق صاحب سے بات ہوئی تو فوراً ہی انہوں نے تسلیم کر لیا کہ آپ کی بات درست ہے۔ لیکن اس وقت تک فائنل ہو چکا تھا۔ طارق صاحب نے مجھے آفر کی کہ دو تین ماہ بعد مجھے دوبارہ موقع دے دیا جائے گا۔ جو کہ انہوں نے دے دیا۔ اور 27 اکتوبر 1997 کو میں نے موٹر سائیکل جیت لی کیونکہ اس وقت کار موجود نہیں تھی۔ اس لیے بڑا انعام موٹر سائیکل ہی تھی۔
پھر 2004 آیا۔ چار سال تک بند رہنے کے بعد پروگرام دوبارہ شروع ہوا اور مجھے کار کے مقابلے میں شرکت کا موقع ملا۔ سیمی فائنل میں پھر ڈرامہ ہوا۔ اس دفعہ میرا درست جواب غلط قرار دیا گیا۔ سوال یہ تھا کہ جھیل سیف الملوک سطح سمندر سے کتنی بلندی پر واقع ہے۔ میرا جواب تھا کہ دس ہزار پانچ سو فٹ۔ طارق صاحب نے کہا کہ چھ ہزار پانچ سو فٹ۔ میں پھر آؤٹ ہو گیا۔ بعد میں پروگرام کے پروڈیوسر زاہد عزیر صاحب سے بات ہوئی کہ جواب میرا درست ہے۔ ٹی وی پہ غلط معلومات جائیں گی، تو درستی کر لیں۔
طارق صاحب نے فوراً مجھے کال کی کہ فوری طور پر ٹی وی اسٹیشن آ جاؤ۔ میں اپنے ساتھ کتابوں کا پلندا لے کر گیا۔ طارق صاحب نے اطمینان سے چیک کر کے تسلیم کیا کہ ان سے غلطی ہو گئی ہے۔ اپنی اس غلطی کا ازالہ انہوں نے ایسے کیا کہ مجھے دوبارہ موقع دینے کا وعدہ کیا اور موقع دے بھی دیا۔ اس بار اللہ تعالی کے فضل و کرم سے میں نے گاڑی جیت لی۔
اس طولانی تحریر میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ طارق عزیز اپنی غلطی کو تسلیم کرنے اور اپنی بات کا پاس رکھنے والی شخصیت تھے۔
گاڑی جیتنے کے بعد بھی ان سے رابطہ رہا۔ کسی وقت کسی سوال کے معاملے میں کوئی اشکال ہوتا تو فون پہ بھی رابطہ کرتے تھے۔ یعنی میرے جیسے کم علم اور کم حیثیت آدمی سے بھی پوچھنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔
عجب آزاد مرد تھا، حق مغفرت کرے۔

