کرونا سے ہم کیسے صحتیاب ہوئے
کرونا جب تک گھر کی دہلیز تک نہیں پہنچا تھا ایک معمہ تھا۔ کوئی اس کو امریکہ اور چین کی لیبارٹریوں کا بنایا ہوا ایک سازشی جرثومہ تو کوئی اس کو حرام جانوروں مثلاً چمگادڑ کے سوپ پینے سے جانور سے انسان میں منتقل ہونے والی ایک وبا سمجھتے تھے۔ پڑھے لکھے لوگ بھی سوشل میڈیا پر ایسی افواہیں پھیلانے میں پیش پیش تھے۔ لوگوں کو کرونا کے پیچھے یہود اور نصاری کی سازش سے لے کر بل گیٹس کی کمپنی کے مفادات تک نظر آرہے تھے۔
اچھے خاصے سنجیدہ لوگ کہہ رہے تھے کہ کرونا شرونا کچھ نہیں یہ ایک افواہ ہے۔ ایک باشعور قوم بنے کی بجائے ہم نے سازشی تھیوریاں پھیلا نے میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیا۔ ہمارے وزیراعظم بھی کرونا کی بے بسی سے مرنے والوں کی ذمہ داری لینے کی بجائے بڑے آرام سے کہہ رہے ہیں کہ شکر ہے لوگ کم مر رہے ہیں۔ اسپتالوں کی یہ حالات ہے کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈکس اس کا تیزی سے شکار ہو رہے ہیں۔ وبا کی یہ حالت کہ پاکستان کا ہر گھرانا اس کا شکار ہو رہا ہے۔
میرا گھرانا گزشتہ ہفتہ کووڈ 19 کا شکار ہوا۔ جب سے یہ وبا پھیلی ہے ہم بہت احتیاط کرتے تھے۔ گھر سے باہر کم ہی جاتے تھے مگر اگر کوئی بھی باہر جاتا تو ماسک اور دستانے پہن کے جاتا۔ گاڑی میں سینی ٹائزر ہر وقت موجود رہتا ہے۔ گھر کے اندر بھی ہر وقت صابن سے ہاتھ دھونے کا معمول تھا۔ کسی کے گھر آنا جانا نہیں تھا۔ میاں آفس جاتے تو ماسک اور دستانے پہن کر جاتے تھے۔ بہت احتیاط کے باوجود بھی کرونا سے بچ نہ سکے۔
مجھے، میرے شوہر اور دو چھوٹی بچیوں کو کرونا ہوا۔ ہم چاروں اب تک قرنطین میں ہیں۔ اس دوران شوہر کو زیادہ تکلیف ہوئی۔ وہ ذیابیطس کے مریض بھی ہیں۔ ان کو سات آٹھ دن تک بہت بخار ہوا۔ میں اور میری چھوٹی بچیاں بھی دو دن بیمار رہے اور اس کے بعد طبیعت میں بہتری آئی۔ میرے بھائی سینئر ڈاکٹر ہیں اور ہم ان سے ہی فون پر علاج کے لئے ہدایات لیتے رہے۔ ہم نے اس دوران ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق پانی زیادہ سے زیادہ استعمال کیا۔ بخار کے لئے پیراسٹامول لی۔ ایک ہفتے تک کچھ کھانے کو دل ہی نہیں کر رہا تھا مگر زبردستی وقفے وقفے سے کچھ کھا لیتے تھے تاکہ کمزوری نہ ہو۔
گھر میں ہم چھ بندے ہیں جو کرونا کی وجہ سے الگ الگ کمروں میں ماسک پہنے رہتے ہیں۔ بغیر ضرورت کے ایک دوسروں سے بات چیت بھی نہیں کرتے ہیں۔ میرا بھتیجا جو ہاسپٹل میں ہاؤس جاب کر رہا تھا اس کو بھی کرونا ہوا۔ الحمدللہ اب وہ بھی ٹھیک ہے۔ اس کرونا کے دوران ہم نے نہ سنامکی کی چائے پی اور نہ دوسرے ٹوٹکے استعمال کیے۔ رشتہ دار وغیرہ ایسی جھڑی بوٹیوں کا استعمال کرنے کا مشورہ بھی دیتے رہے اور ساتھ کرونا کا تریاق علاج بھی بتاتے رہے مگر گھر میں ڈاکٹر ہونے کی وجہ سے یہ فائدہ ہوا کہ ان چیزوں کے نقصانات کے بارے میں تھوڑا سا شعور تھا لہاذا ڈاکٹر نے جو ہدایات دی اس پر سختی سے عمل کیا۔
ہم کرونا کے مریض بھی گھر میں ایک دوسروں سے سماجی فاصلہ رکھتے تھے۔ میری سب لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ ڈاکٹرز کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور دوائیاں ٹائم پہ لیں۔ حکیموں کے نسخے اور جڑی بوٹیوں کے علاج سے پرہیز کریں۔ اگر ڈاکٹرز کی ہدایات پر عمل کریں گے تو مریض کے ٹھیک ہونے کا چانس زیادہ ہوتا ہے۔ جھڑی بوٹیوں اور گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے بیماری ٹھیک ہونے کی بجائے بگڑ جاتی ہے اور ساتھ دوسری پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں۔ ایک مستند ڈاکٹر کے مشورے اور ہدایات پر عمل کر کے بروقت اپنا صحیح علاج کروائیں۔



Bohat khoob. Ap nay durust farmaya hay.
Very well written! I really appreciate your perspective. People need to act more maturely and be a responsible citizen.
May Allah Almighty protect us all!