دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا آخری سلام


تین دن پہلے جب طارق عزیز صاحب کے جدا ہونے کی خبر ملی تو جہاں دل کو اداسی اور غم نے گھیر لیا۔ وہاں ان سے جڑی حسین یادوں کے بند کواڑ بھی کھل گئے۔ پچھلی صدی کی نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ کیا حسین زمانہ تھا۔ میری عمر کوئی آٹھ برس کے لگ بھگ ہوگی جب طارق عزیز صاحب سے میرا پہلا تعارف میرے دادا جی کے توسط سے ہوا تھا۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہمارے گاؤں والے گھر کے صحن میں دادا جی کا بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی چل رہا ہوتا تھا اور جمعرات کی رات آٹھ بجے سب گھر والے ”نیلام گھر“ دیکھنے کے لیے بے تاب ہو رہے ہوتے تھے۔ دادا جی مجھے اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ کھانا کھلاتے تھے اور ساتھ ساتھ جو جو کچھ نیلام گھر میں ہورہا ہوتا تھا، وہ بتاتے جاتے تھے۔

تب سے طارق عزیز صاحب کے ساتھ ایک ایسا رشتہ جڑ گیا جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید گہرا ہوتا چلا گیا۔ ان کے پروگرام کا نام، ”نیلام گھر“ سے ”طارق عزیز شو“ اور پھر ”بزم طارق عزیز“ ہوا۔ مگر ہم نے اس کو دیکھنا ترک نہیں کیا۔ ان سے محبت کا یہ عالم تھا کہ ایک بار ساہیوال کے سکول میں پڑھتے ہوئے جب یہ پتا چلا کہ طارق عزیز صاحب کا تعلق بھی ساہیوال سے تھا اور جس گھر میں وہ رہتے رہے تھے، وہ ابھی موجود تھا تو اپنے ایک کلاس فیلو کو لے کر ہم وہ گھر دیکھنے پہنچ گئے تھے۔ گھر تو تب بند تھا۔ اس لیے بس باہر سے دیکھ کر ہی خوشی سے سرشار ہو گئے تھے اور واپس آ گئے تھے۔

پھر جب بھی ان کا پروگرام دیکھا تو ان کا منفرد انداز بہت بھایا۔ ”ابتدا ہے رب جلیل کے بابرکت نام سے جو دلوں کے بھید خوب جانتا ہے، دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں، آپ کو طارق عزیز کا سلام پہنچے“ اس خوب صورت فقرے سے وہ اپنے پروگرام کا کیا شاندار آغاز کیا کرتے تھے۔ جس کے بعد کسی اہم سماجی معاملہ پر ان کا بات کرنا بھی کمال تھا۔ سوالوں کے درست جوابات دینے پر ان کا والہانہ انداز، خاص طور پر ٹی وی جیتنے پر ان کا ”الیکٹرا“ کہنا کون بھول سکتا ہے؟ مزاج آشنائی کے مرحلے میں ان کی نئے شادی شدہ جوڑوں سے کی جانے والی اٹکھیلیاں اور انہی نو بیاہتا جوڑوں کے لیے تحائف دینے والے مرحلے میں ان کے سٹیج پر آنے پر ایک مخصوص میوزک کا بجنا اور اس پر طارق عزیز صاحب کا ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ شرمانا بھی دیدنی ہوتا تھا۔

پھر ”بیت بازی“ کا مرحلہ جو کہ میرے والد صاحب کو بھی بہت پسند تھا۔ اس میں مقابلے کے لیے آئے ہوئے شرکاء سے زیادہ اشعار، طارق عزیز صاحب خود سنا دیا کرتے تھے۔ کیونکہ شعر کو بہترین انداز اور تلفظ سے پڑھنے میں ان کا کوئی بھی ثانی نہیں تھا۔ ان کے پروگرام سے اردو زبان اور شاعری سے ایک لگاؤ پیدا ہوا۔ یہی نہیں بلکہ ان کی طرف سے مختلف مواقع اور مراحل پر پوچھے جانے والے سوالات سے ہر طرح کی معلومات میں بہت اضافہ بھی ہوتا تھا۔ پھر کسی معروف شخصیت کا انٹرویو اس قدر عمدہ انداز میں کرتے تھے کہ ان سے متعلقہ کئی اہم باتیں ان کے چاہنے والوں کے سامنے آ جایا کرتی تھی۔ ان کا پروگرام کے آخر میں ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ لگانے کا جوشیلا انداز وطن سے ان کی محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

آج کے دور میں ٹی وی چینلز پر دکھائے جانے والے انعامات والے شوز کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا تخلیقی معیار کس قدر نیچے گر گیا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب طارق عزیز صاحب کے پروگرام میں جانے والے مہمان ان کے شائستہ انداز کی وجہ سے اپنی عزت اور تکریم محسوس کرتے تھے اور پروگرام دیکھنے والوں کو بھی ایک اپنائیت کا احساس ہوتا تھا۔ اور اب یہ وقت ہے کہ ایسے دوسرے شوز میں آنے والے میزبانوں کو بات کرنے کا کوئی سلیقہ اور ڈھنگ ہی نہیں ہے۔ وہ تو بس وہاں پر آنے والے مہمانوں کا ٹھٹھا اڑاتے رہتے ہیں۔ اور ایک تماشا ہے جو ہر وقت ٹی وی سکرینوں پر لگا رہتا ہے۔ جس کو دیکھ کر بس دل کڑھتا رہتا ہے۔ اور سوچتا رہتا ہے کہ کاش کسی میں تو ہلکی سی پرچھائیں طارق عزیز کی آجاتی۔

مگر یہ کیسے ہو سکتا ہے کیونکہ طارق عزیز تو بس ایک ہی تھا۔ جس نے چالیس سال تک اپنے پروگرام کے ذریعے تین سے چار نسلوں کی ذہنی آبیاری کی۔ وہ اچھا مقرر بھی تھا، کمال کا میزبان بھی تھا، عمدہ شاعر بھی تھا۔ فلموں کا اداکار اور سیاست دان بھی تھا۔ اور سب سے بڑھ کر ایک سچا پاکستانی بھی تھا۔ اس لیے اس کے چلے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ تو شاید کبھی بھی پر نہیں ہو پائے گا۔ اور ان کے چلے جانے کا غم بھی ہم مناتے رہیں گے۔ لیکن یہاں پر بطور سماج ہمیں اپنے ایک رویہ پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ جب بھی کوئی فنکار یا کسی اور شعبے سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی مشہور شخص اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے تو مجھ سمیت سب کو ان کی خدمات بھی یاد آتی ہیں۔ اور ہم ان کو خراج تحسین بھی پیش کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ مگر جب وہ باکمال شخصیت ہمارے درمیان موجود ہوتی ہے تو ہم میں سے کسی کو بھی یاد ہی نہیں رہتا کہ ان کی خدمات کا اعتراف اور ان کی عزت افزائی ان کے سامنے کریں۔ تاکہ ان کو ایک طمانیت کا احساس ہو۔ مگر یہاں پر تو طارق عزیز صاحب کی وفات کے بعد بھی کچھ لوگوں کی طرف سے ان کو ان کی سیاسی وابستگیوں کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا جو کہ بہت افسوس ناک امر ہے۔

کیا ایک شخص کے سیاسی نظریات کی وجہ سے اس کی دیگر شعبہ جات میں کیے جانے والے کام کی قدر کم ہوجاتی ہے؟ آپ کو ان کے سیاسی سفر سے اختلاف ہے، آپ رکھیں اختلاف، مگر دل میں اتنا بعض اور کینہ بھی کیا رکھنا کہ ان کے دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی آپ اپنے تنقید سے بھرے نشتر ان کی شخصیت پر چلا رہے ہیں۔ لیکن میں تو اتنا جانتا ہوں کہ طارق عزیز صاحب ہمارے ملک کے ایک عظیم فنکار اور اپنے وطن سے محبت کرنے والے ایک خوب صورت انسان تھے۔ اسی لیے شاید انھوں نے یہاں سے رخصت ہوتے وقت بھی اپنے مخصوص انداز میں ”پاکستان زندہ باد“ کا نعرہ ضرور لگایا ہوگا۔ اور اپنے سب چاہنے والوں کی دیکھتی آنکھوں اور سنتے کانوں کو آخری بار سلام کہتے ہوئے الوداع بھی ضرور کہا ہوگا۔

Facebook Comments HS