عصر حاضر کے مسائل اور فکری انتشار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دنیا میں جب سے انسانی آبادی کا آغاز ہوا ہے، اس وقت سے کچھ بنیادی نوعیت کے مسائل بھی ساتھ ساتھ پیدا ہوتے چلے گئے جن سے بر سر پیکار رہنا اور ان کے خلاف حکمت عملی سے جدوجہد کرنا انسانی سرشت میں شامل رہا ہے۔ اگر بنظر غائر اس بات کا جائزہ لیا جاوے، تو دراصل یہی بات سر حیات اور انسان کی بقاء کی ضامن ہے۔ تاہم ان تمام مسائل میں سے کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو بنیادی نوعیت کے ہوتے ہیں، اور کچھ مسائل ثانوی نوعیت کے۔

اگر ہم بنیادی نوعیت کے مسائل کی بات کریں تو اس میں تمام انسانوں کے واسطے آزادی، مناسب خوراک، پوشاک، رہنے کے واسطے مکان، انصاف کی بلا معاوضہ فراہمی، صحت کی سہولیات، معاش کے ذرائع کی بہم دستیابی، حریت فکر، حریت لسانی، حریت قلم اور مذہبی آزادی وغیرہ شامل ہے۔ اور ان تمام چیزوں کی فراہمی اور ان کا تسلسل برقرار رکھنا، یہ ہر دور کے اندر ہر علاقے کے حکمران کا بنیادی فریضہ سمجھا اور مانا جاتتا ہے۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ جس دور کے اندر اور جس حکمران کے دور حکومت میں یہ تمام سہولیات رعایا کو میسر رہیں، ان کو بعد میں آنے والے غیر جانبدار مورخین عمدہ حکمرانوں میں شمار کیا ہے اور ان کے اوصاف کے گن گائے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ہر وہ حکمران جس کے دور مملکت میں یہ اوصاف ناپید تھے، اوہ فی نفسہ اگرچہ خود متقی کیوں نہ ہو لیکن اس کو تاریخ نے غاصب، آمر اور مطلق العنان جیسے الفاظ سے ہی یاد رکھا ہے۔

ہر دور کے اندر اور ہر ملک کے اندر حکومت کی یہی بنیادی خواہش رہی ہے کہ اس کی حکومت کو داخلی اور خارجی استحکام میسر رہے تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنا کام کرسکے، لہذا اس استحکام کو حاصل کرنے کے واسطے ہر وہ اقدام کرنا جائز بھی اور اپنا حق بھی سمجھتی ہے جس کے ذریعے اپنے مطلب کی برآوری ہو سکے۔ تاہم ایسے اقدامات کی اکثر و بیشر زد رعایا پہ جب پڑتی ہے تو اس کا لامحالہ نتیجہ داخلی انتشار اور شورش کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

چنانچہ اس متوقع رد عمل سے بچنے اور اپنے من پسند افراد، اداروں اور جماعتوں کو بچانے کے لئے ایسے نظریات اور افکار کا شوشہ معاشرے میں چھوڑ تی ہے، جس کا مقصد عوام الناس کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا نا اور ان مسائل و مباحث میں الجھانا ہوتا ہے جس کا ان بنیادی مسائل سے دور دور تک نہ تو کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی وہ بنیادی مسائل جیسے اہم اور ضروری ہوتے ہیں۔ ان نئے افکار و نظریات کی بدولت معاشرہ فکری انتشار کا شکار ہوکر مختلف گروہوں میں منقسم ہوکر نہ صرف خود اپنے آپ کو کمزور کردیتا ہے، بلکہ حکومت وقت کے لئے بھی اطمینان کا باعث بن جاتا ہے۔

یہ افکار و نظریات اپنی ابتداء میں اتنی شدت سے ظاہر نہیں ہوتے لیکن جب ان نئے افکار و نظریات کو مذہبی تاویلات کا رنگ دیا جاتا ہے تو یکایک ہوا کا رخ ایسے تبدیل ہوجاتا ہے کہ گویا ایک ایسی خطرناک آندھی یا سیلاب ہے جو ہر خس و خاشاک کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے۔ اور یوں پورا معاشرہ اپنے بنیادی مسائل سے یکسر غافل ہوکر، ایک ایسے معمے کی تلاش میں سرگرداں اور متفکر ہوجاتا ہے جس کا نتیجہ سوائے وقت کے ضیاع اور بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

تاہم اس سارے عمل اور تحریک کا سب سے بڑا منفی پہلو یہ ہے کہ ایسے تمام وہ افراد، ادراے اور جماعتیں جو اس تمام سیلاب کے آگے بند باندھنے کی کوشش کرتی ہیں، قوم کو اس جال سے بچانے کے واسطے چیخ چیخ کر متنبہ کر رہی ہوتی ہیں لیکن وہ اپنی افرادی قلت اور وسائل میں کمی کے سبب بری طرح کچل دی جاتی ہیں اور ان کی آواز پہ کوئی بھی کان نہیں دھرتا۔

اگر ہم موجودہ حالات کے اندر مملکت پاکستان کے حالات کا جائزہ لیں، تو یہاں بھی کچھ ایسے ہی حالات کا ہمیں نشان ملتا ہے۔ جب اس مملکت کا قیام عمل میں آیا تو سب سے پہلی ذمہ داری جو حکمراں جماعت کے اوپر بنتی تھی وہ آئین کی تشکیل تھی، جس نے اس نوزائیدہ مملکت کے نئے سفر کا رخ متعین کرنا تھا۔ تاہم اس دور کے اندر اس بنیادی تقاضے کو پس پشت ڈالتے ہوئے دیگر عوامل کی جانب جس طرح توجہ مبذول کی گئی وہ اہل علم و دانش سے مخفی نہیں۔

ایک ایسے دور کے اندر جب مہاجرین کی آباد کاری اور مملکت کے داخلی و خارجی مسائل کی طرف متوجہ ہونا ایک حکومت کا بنیادی فرض بنتا تھا، اس کو چھوڑ کر اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل، دوام اقتدار کا بند وبست، اپنے اور اپنے اقارب کے مفادات کا تحفظ اور ہر جائز و ناجائز ذرائع سے دولت کو اکٹھا کرنا یہ بنیادی فریضہ سمجھا گیا اور اس کے حصول کے واسطے اپنی تمام توانیاں اور وسائل صرف کردیے گئے۔ لہذا جب ایسے عالم میں کہ سفر کے آغاز میں رخ کا تعین درست نہ ہو، تو آگے چل کر منزل مقصود مل جائے یہ بات کار محال میں سے ہے۔

اور یوں برصغیر پاک و ہند کے ان لاکھوں مسلمانوں نے جو اسلام اور اسلامی حکومت کے قیام کے واسطے جانی، مالی اور اخلاقی قربانیاں دی تھیں، ان کا خون کرکے ان کو آئینہ دکھادیا گیا کہ کیسے ذاتی مفادات اور اقتدار کی خاطر مذہب کا سہارا لے کر ہم نے تم کو استعمال کیا اور اب وہ سب کچھ نہیں ہوگا جو عوام الناس کی بھلائی کے واسطے ہو، بلکہ وہ سب ہوگا جو ہمارے اقتدار کے واسطے مفید اور ہمارے مفادات کی بارآوری میں ممد و معاون ثابت ہو۔

آج اس مملکت خداداد کو قیام پذیر ہوئے ستر برس سے زائد عرصہ ہوچکا لیکن اپنے اقتدار کو دوام بخشنے اور کچھ خاص افراد اور اداروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کا وہ ”نسخہ کیمیا“ ہنوز پوری کامیابی کے ساتھ آزمایا جا رہا ہے، اور قوم کو نت نئے افکار و نظریات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے۔ جب بھی پاکستان میں کبھی ایسی کوئی بھی کوشش جو عوام الناس کے ہجوم کو ذہنی و فکری لحاظ سے منتشر ہونے سے بچانے کے واسطے کی گئی، اس کے اوپر نہ صرف مادی لحاظ سے بلکہ مذہبی لحاظ سے یہ سوچ کر کہ مبادا قوم متحد نہ ہو جائے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا اور ساتھ ساتھ مذہبی رہنماؤں کے فتاوی جات کی روشنی میں ان کو قعر مذلت میں ڈال دیا گیا تاکہ وہ عبرت کا نشان بن جائیں۔

ہم آج ٹھنڈے دل کے ساتھ، جذبات کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان تمام تحریکات اور افکار کا جائزہ لیں جو مختلف ادوار میں یہاں چلائی گئیں جن میں تحریک جہاد، تحریک اسلامی سوشلزم اور حال ہی میں تحریک قیام ریاست مدینہ وغیرہ شامل ہیں اور پھر اپنے ضمیر سے اگر وہ زندہ ہے اس سے جواب لینے کی کوشش کریں تو شاید ہم جان پائیں کہ ان تمام تحریکات کا ماحاصل سوائے نظریاتی اور فکری انتشار کے کیا رہا؟ ہمیں اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ ان تمام تحریکات جن کے لئے ہم نے جانی و مالی قربانی دی، ان کے بدلے اس ملک کتنا استحکام نصیب ہوا اور عوام الناس کو بلا شرکت مذہب، قوم اور زبان ان کے بنیادی حقوق کس قدر میسر آئے۔

کیونکہ آج ہم اس دور میں آچکے ہیں کہ جہاں، سوشل میڈیا کی صورت ایک نئی فکری یلغار کا ہمیں سامنا ہے، اور جہاں ہر قسم کے نظریات بلا تفریق مفید و غیر مفید ایک آن میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں پہنچ کر ہلچل مچا دیتے ہیں۔ اور یوں عوام الناس ایک مرتبہ پھر اس نئے بہتے ہوئے سیلاب کی زد میں آکر اپنا سب کچھ لٹا نے کے واسطے شامل ہوجاتی ہے۔ لیکن اگر ہم نظریاتی طور پہ مضبوط اور فکری طور پہ پختگی کے مالک ہوں گے تو یہ نت نئے آنے والے سیلاب ہمارے عزم مصمم کو متزلزل نہیں کر سکیں گے۔ گو ایسی سوچ کے مالک افراد تعداد میں قلیل اور مادی وسائل لے لحاظ سے پس ماندہ ہی کیوں نہ ہوں، مگر فکری اور نظریاتی جنگیں تعداد اور وسائل سے نہیں بلکہ غیر متزلزل یقین، صمیم عزم اور قلب و شعور کی پختگی سے جیتی جاتی ہیں اور ایسے اوصاف کے متصف افراد ہی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments