باپ۔ مانند سورج
دنیا بھر میں جون کے تیسرے اتوار کو باپ کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ ایک روایت ہے ورنہ باپ کے بغیر تو کوئی دن، دن ہی نہیں ہوتا۔ اردو زبان کے حروف تہجی کا کوئی بھی مجموعہ لفظ باپ کی وضاحت نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی کا اپنے بندوں کے لئے ایک عظیم تحفہ باپ ہے۔ باپ صرف ایک لفظ ہی نہیں بلکہ احساس محبت، شفقت، پیار اور وفا جیسے ایک جذبے کا نام ہے۔ ہمارے مذہب اسلام نے بھی باپ کو بہت بلندوبالا مقام دیا ہے۔ باپ وہ عظیم ہستی کے جس سے باب جنت یعنی جنت کے دروازے کا رتبہ دیا گیا جسے ایک نظر پیار سے دیکھنے پر ثواب حج اور جس کی رضا کو رب نے اپنی رضا کہا۔
ایک بیٹے کا پہلا ہیرو اور ایک بیٹی کا پہلا پیار اس کا باپ ہوتا ہے۔ باپ وہ عظیم ہستی ہے جو ساری زندگی اولاد کے بہتر مستقبل کے لئے اپنی خوشیوں کی قربانی دیتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ وہ بعض اوقات اولاد کے لئے اپنی بنیادی ضروریات زندگی تک کی پروا نہیں کرتا اور اپنی خواہشیں نظر انداز کر دیتا ہے۔ اسے ہمیشہ اپنی اولاد کی فکر رہتی ہیں اور وہ بھر پور کوشش کرتا ہے کہ انھیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔ باپ سورج کی مانند ہوتا ہے جو گرم تو ہوتا ہے مگر اس کے ہونے سے اندھیرا نہیں ہوتا۔
بچپن میں اس کی سختی آپ کی بھلائی کے لئے ہوتی ہے جب انسان بڑا ہوتا ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ باپ کی پابندیاں اس کے لئے ٹھیک تھیں۔ باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہے جس کے پاس بیلنس نہ بھی ہو پھر بھی وہ اولاد کی خواہشات پورے کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اولاد کو کبھی نہ نہیں کر سکتا چاہے حالات کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں۔ شاعر نے کیا خوبصورت شعر کہا ہے
جیب خالی ہو تب بھی نہ نہیں کرتا
اپنے باپ سے امیر شخص میں نے دیکھا نہیں کوئی
چاہے کتنا ہی بوڑھا کیوں نہ ہو گھر کا سب سے مضبوط ستون باپ ہوتا ہے۔ باپ خدا تعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے کچھ وقت اپنے والد کے پاس بیٹھا کرو اس طرح وہ بوڑھا جوان رہتا ہے۔ اس کی خدمت کر کے اپنے لیے کامیابی کی راہیں ہموار کر لو۔ دنیا میں جب بھی کوئی پریشانی آئے اپنے باپ سے مشورہ لو کیونکہ باپ سے بہتر کوئی استاد نہیں، اس سے بہتر کوئی ہمدرد نہیں، اس سے بہتر کوئی غمخوار نہیں اور اس سے بہتر کوئی دردمند نہیں۔
اس نے زندگی کا وہ کٹھن وقت گزارا ہوتا ہے جو آپ نے ابھی تک نہیں گزارا۔ وہ آپ کی پریشانیوں میں آپ کی بہتر رہنمائی کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں باپ ہی وہ واحد شخص ہے جو چاہتا ہے کہ آپ اس سے زیادہ کامیاب ہوں۔ جتنا صحیح اور مخلص مشورہ آپ کو آپ کا باپ دے سکتا ہے وہ کوئی اور نہیں دے سکتا۔ باپ ایک ایسا گھنا شجر جو ہمیشہ بڑھتا ہی رہتا ہے اور آنے والی پریشانیوں، تکلیفوں، مصیبتوں اور سختیوں کی کڑی دھوپ سے ہمیں بچاتا ہے۔
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا ہے ایک فرشتہ باپ کے روپ میں
جیسا سلوک آپ والدین کے ساتھ کرو گے ویسا ہی سلوک آپ کی اولاد آپ کے ساتھ کرے گی۔ والدین کے نا فرمان کو دنیا میں ہی سزا ملتی ہے۔ اگر کوئی چاہتا ہے کہ زندگی میں کامیاب ہو تو اسے چاہیے کہ والدین کا فرمانبردار بنے۔
باپ وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کے لئے ساری کائنات سے لڑ سکتا ہے۔ وہ اپنی خوشی کی پروا کیے بغیر اولاد کی ہاں میں ہاں ملا دیتا ہے تا کہ وہ خوش رہیں۔
عزیز تر وہ مجھے رکھتا ہے رگ و جان سے
یہ بات سچ ہے کہ میر اب اپ کم نہیں ہے میری ماں سے
کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ جو باپ جیسی عظیم نعمت کی قدر نہیں کرتے۔ میری ان لوگوں سے گزارش ہے کہ جن کے والدین ان سے ناراض ہے جائیں ان کے پاؤں میں گر جائیں ان سے معافی مانگ لیں ان کے گلے لگ جائیں وہ آپ کو ضرور معاف کر دیں گے۔ جائیں اور اپنی دنیا آخرت دونوں سنوار لیں۔ لوگو اپنے والدین کی قدر کرو اور ان کی خدمت کر کے جنت حاصل کر لو اگر وہ اس دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں تو ان کے لیے دعائے مغفرت کرنا اپنا معمول بنا لو کیونکہ والدین جیسی عظیم نعمت کا کوئی نعم البدل نہیں۔
آخر میں صرف اتنا کہوں گا۔ باپ وہ عظیم ہستی ہے کہ جس کے پسینے کی ایک بوند کا قرض بھی اولاد نہیں اتار سکتی۔
قرض دار ہوں باپ کا اپنے
اور یہ قرض میں اتار نہیں سکتا


