کتے والا بشر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھنے درختوں اور پھولوں سے بھرے پارک میں معمول کی دوڑ لگاتے ہوئے بشر کی نگاہ ایک چھوٹے سے کتے پر پڑی جو زخمی حالت میں تھا۔ گرین ووڈز نامی اس پارک میں بشر کو اکثر زخمی پرندے یا کتے بلیاں نظر آ جاتے تھے، جن کو کبھی پارک میں موجود بچے یا نو عمر لڑکے لڑکیاں اٹھا کر لے جاتے تھے۔ کچھ پالتو بن جاتے تھے، اور کچھ کو واپس چھوڑ دیا جاتا تھا۔ ابھی تک کتے کو اٹھایا نہیں گیا تھا، یقیناً یہ ذمہ داری میری ہے، بشر نے سوچا اور احتیاط سے کتے کو اٹھایا، قریبی کلینک سے اس کی مرہم پٹی کروائی اور اس کو اپنے اپارٹمنٹ میں لے آیا۔ واشنگٹن کے مضافات میں واقع چھوٹے سے قصبے میں گزشتہ پانچ سال سے بشر کی رہائش تھی۔

گرین ٹاؤن نامی قصبے میں ہر نمایاں مقام کا نام گرین سے شروع ہوتا تھا۔ ٹاؤن کا سب سے بڑا پارک بلکہ جنگل بھی گرین ووڈز کہلاتا تھا، جہاں جنگلی جانور بھی تھے، لیکن قصبے کے لوگوں کو قطعاً پرواہ نہ تھی، وہ بندوقیں لے کر جنگل میں آزادانہ گھومتے۔ سرکاری طور پر ممنوع ہونے کے باوجود چوری چھپے شکار بھی کر لیتے اور اسلحہ بھی استعمال کرتے لیکن کم ہی افراد ایسا کرتے، زیادہ تر شہری امن پسند تھے۔ بشر ایشیائی ملک کا باشندہ تھا، اس کے ملک میں عقیدے کی بنیاد پر آئے روز فسادات ہوتے، کبھی گائے کے گوشت کھانے کے شک کی بنیاد پر۔ کبھی اونچی ذات ہونے کے زعم میں نچلی ذات کو لوگوں کو اذیت دی جاتی، عقیدے کو زندہ رکھنے کے لئے انسانوں کو ڈنڈوں، لاٹھیوں اور گولیوں سے مار دیا جاتا، عورتوں کو اٹھا لیا جاتا۔ بچے جنگلوں میں بھاگ جاتے یا حملہ آور ان کو اپنا غلام بنا لیتے یا پھر ریل گاڑی میں بٹھا کر ملک کے بڑے شہر میں فروخت کر آتے۔

ایسے ہی ایک فساد میں اس کے باپ کو مار دیا گیا تھا۔ اس کی ماں بشر کے چھوٹے بھائی کو کمر سے باندھے کھیتوں میں کام کر رہی تھی، سات سالہ بشر روتے ہوئے ماں کے پاس بھاگا لیکن راستے میں آگ ہی آگ تھی، گھر اور کھیت جل رہے تھے، گاؤں کے ایک آدمی نے بشر کو گود میں اٹھایا اور ایک چھکڑے نما گاڑی پر چڑھ گیا۔ بشر روتا رہا لیکن کسی نے نہ سنی، بشر امدادی کیمپ میں پہنچ گیا، وہاں سے دوسرے کیمپ، پھر سرحد پار تیسرے کیمپ جہاں اقوام متحدہ کے بڑے بڑے کیمپ تھے۔

ہزاروں بچے وہاں موجود تھے جو زمین پر موجود جنگ زدہ علاقوں سے آئے تھے۔ یہ بچے غذائی قلت کا شکار تھے۔ کئی بچے لاعلاج بیماریوں میں مبتلا تھے، کچھ جسمانی و ذہنی معذور تھے، جن کو علاحدہ رکھا گیا۔ بشر اور اس جیسے بچے کیمپ میں موجود اسکول جاتے، اور مختلف کھیل بھی کھیلتے، لیکن گھر کو بھی یاد کرتے، جو کہیں نہیں تھے۔ کیمپ میں بہت ساری بچیاں اور لڑکیاں بھی تھیں، جن کے کیمپ بالکل الگ تھے، اور وہاں مختلف لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ کبھی کبھی چند لڑکیوں کو گاڑی میں بٹھا کر لے جایا جاتا تھا، اور پھر وہ کبھی واپس نہیں آتی تھیں۔ بشر سوچتا وہ بھی کسی دن گاڑی میں بیٹھ کر اپنے گاؤں اپنی ماں کے پاس چلا جائے، لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی کیونکہ کیمپ میں غنایہ آئزک اور اس کی ٹیم کی آمد ہو گئی۔

وہ ایک بین الاقوامی سماجی کارکن تھی، وہ ایسے بچوں کی خوراک اور تعلیم کے لئے کام کر رہی تھی جو اس طرح کیمپس میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔ غنایہ آئزک دنیا کو یہ بات سمجھانے میں ناکام ہو چکی تھی کہ ناکافی خوراک اور فطری توجہ نہ ملنے پر بچے جنگ جو فطرت کے حامل ہو جاتے ہیں، اس طرح تو جنگ کبھی ختم نہیں ہو گی، آخر ان بچوں کا کیا قصور ہے جو یہ اس طرح کیمپوں میں اپنی زندگیاں گزار رہے ہیں، کب اقوام متحدہ مختلف ممالک میں جاری خانہ جنگیاں اور پرتشدد معاملات حل کروائے گی۔

غنایہ جیسے کئی اچھے اور پر امن سوچ کے حامل انسان یہی چاہتے تھے لیکن وہ ساری دنیا کی سوچ کیسے بدلتے اس لیے انہوں نے ان بچوں کی زندگیاں بدلنے کی کوششیں شروع کر دیں، وہ کیمپ میں کیا داخل ہوئے کہ کیمپ کا ماحول ہی بدل گیا، بچوں کی عمروں کے حساب سے ان کی تعلیم کا اہتمام کیا گیا، معذور اور بیمار بچوں کے علاج کروائے گئے۔

کھیلوں کا سامان ایک بین الاقوامی ادارے نے تحفتاً کیمپ میں پہنچایا جو یقیناً غنایہ آئزک کی کوششوں کی بدولت ممکن ہوا۔

مختلف کمپنیز نے خوراک اور ادویات کی ذمہ داری اٹھائی، غنایہ نے ہزاروں بچوں کے گمشدہ والدین ڈھونڈے اور بچوں کو ان تک پہنچایا، کئی ممالک کے بے اولاد افراد بھی غنایہ سے بچوں کے لئے رابطہ کرتے تھے، کیونکہ وہ بین الاقوامی جرائد میں بچوں کی تصاویر اور کیمپ کی زندگی کی مشکلات رپورٹ کی صورت شائع کرواتی رہتی۔

کئی سال گزر گئے، بشر اور اس جیسے کئی بچے جوان ہو گئے۔

کیمپ میں بچے اب بھی آتے تھے، بشر اور اس جیسے نوجوان جو کیمپ سے کہیں نکل نہیں سکے تھے، اب غنایہ کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کرتے تھے۔

وہ بچوں کو پڑھاتے، اور ان کو انسانی قدریں سمجھانے کی کوششیں کرتے، لیکن ایسا محسوس ہوتا تھا، کہ سب بے سود ہے، کیمپ کی زندگی جنت ہے اور کیمپ سے باہر دنیا جہنم بنی ہوئی ہے کیونکہ ایک عرب ملک میں ہونے والی جنگ سے تباہی کے بعد بہت سارے بچے کیمپ میں پہنچائے گئے۔

ان بچوں کی کسمپرسی دیکھ کر بائیس سالہ بشر کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ ان کی بے جان آنکھیں اور لاغر اجسام دیکھتا اور کڑھتا، کیمپ میں ایک بار پھر خوراک و ادویات کی شدید کمی ہو گئی، غنایہ نے بشر کو بلایا، اور کہا، بشر اب تمھارا کام ہے، کہ تم دنیا کو بتاؤ کہ جنگ کے اثرات کتنے بھیانک ہیں، اور اس کے لئے تم کو کیمپ سے باہر جانا ہو گا۔

بشر نے حیران ہو کر پوچھا، لیکن میں کہاں جاؤں گا، کیا کروں گا اور کس کو بتاؤں گا۔

غنایہ مسکرائی، تم بہت کچھ کر سکتے ہو، تمھارے ساتھ بہت اچھے انسان ہوں گے جو اس کام میں تمھاری مدد کریں گے، بشر کچھ پر جوش ہو گیا، لیکن پھر اس کو خیال آیا کہ غنایہ یہیں رہ جائے گی، اس کو غنایہ بہت پسند تھی، وہ اس کا احترام ماں کی طرح کرتا تھا، آپ بھی میرے ساتھ چلیں، غنایہ مسکرائی یہاں میری موجودگی ضروری ہے بشر، تم اچھی طرح سمجھتے ہو، تم خوراک و ادویات لے کر مجھ سے ملنے آ جانا۔

بشر سمجھ گیا اور دو افراد کے ساتھ امریکہ پہنچ گیا، پہلے مرکزی دفتر نیویارک اور پھر واشنگٹن جہاں بشر کے ذمے واشنگٹن میں موجود دفتر کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ وہ اکاؤنٹس کا حساب رکھتا اور فنڈز کو ایمانداری کے ساتھ استعمال کرتا، اس کے ڈیپارٹمنٹ کا ہیڈ آدم گلمور تھا، جو بہت شفیق اور دردمند دل رکھنے والا انسان تھا۔ وہ فنڈ ریزنگ کے لئے امریکہ کے علاوہ دنیا بھر کے لوگوں سے رابطے میں رہتا اور دن رات مختلف ممالک میں متاثرہ بچوں کی بحالی کے لئے کوشاں رہتا۔ بشر نے کئی بار کیمپ جانے کا سوچا لیکن دفتری مصروفیات میں گھر کر وہ اپنے بچپن کے کیمپ نہ جا سکا اور یوں پانچ سال گزر گئے۔

دفتر کے ساتھیوں نے بشر کو دنیا کی زندگی کے رنگ دکھائے، وہ ایک عرب ملک بھی گیا، افریقہ کے ممالک میں کیمپوں کا دورہ کیا اور وہاں دو سال تک کام کیا، ہر دورے کے بعد وہ واشنگٹن کے اس مضافاتی علاقے میں واقع اپارٹمنٹ میں آ جاتا، جو آدم کی ملکیت تھا لیکن وہ کبھی یہاں مستقل نہیں رہ سکا تھا، بشر کو یہ جگہ بہت پرسکون محسوس ہوتی تھی، گو کہ دفتر یہاں سے دور تھا، دفتر جانے کے لئے بشر کو ٹرین کی مسافت اختیار کرنی پڑتی لیکن وہ راستے کے مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہوا سفر کرتا تھا۔

کتے کی حالت ہفتے بھر میں بہت بہتر ہو گئی وہ بشر سے مانوس ہو گیا، بشر کو بھی تنہائی کا ساتھی مل گیا، آفس سے آ کر وہ اس کو ٹہلانے لے جاتا اور اس سے باتیں کرتا رہتا۔ آدم دفتری دورے سے واپس آیا تو اس نے کتے کو ”مورس“ نام دیا۔

دن معمول کے مطابق گزر رہے تھے کہ اچانک دنیا میں وبا پھوٹ پڑی، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے صحت و صفائی کے حوالے سے نئے قوانین و اصول وضع کر دیے، وبا تیزی سے دنیا میں پھیل رہی تھی، کئی ممالک میں مستقل لوگوں کی جانیں لے رہی تھی۔ علاج کرنے والے مسیحا تک وبا کا شکار ہو رہے تھے۔

پوری دنیا میں سفر پر پابندی لگا دی گئی کہ وبا نہ پھیلے لیکن وبا پھیلتی جا رہی تھی۔ تین ماہ اسی طرح گزر گئے۔
دنیا میں بھوک اور غربت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

اقوام متحدہ نے نئے پروجیکٹ شروع کر دیے، پہلے پہل دنیا بھر کے لوگوں نے امدادی رقوم جمع کروائیں لیکن وبا کا طویل ہوتا دورانیہ لوگوں کو خوف زدہ کر رہا تھا، وہ گھروں میں محصور تھے اور کئی بین الاقوامی ادارے افرادی قوت کم کر رہے تھے،

چھوٹے اور مقامی ادارے اس صورتحال میں کیسے قائم رہتے، دنیا بھر کی معیشت خطرے کی زد میں تھی بلکہ کئی ممالک میں مقامی کمپنیز دیوالیہ ہو رہی تھیں۔
ایسے میں ایک دن اچانک بشر کے ملک سے فسادات کی خبر آ گئی، ملک گیر فسادات کی وجہ وبا پھیلنے کی وجوہات کو مذہبی اجتماعات سے جوڑنا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Latest posts by مطربہ شیخ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

One thought on “کتے والا بشر

  • 24/06/2020 at 2:43 am
    Permalink

    بہت المناک کہانی ہے لیکن افسانے کی بجائے حقیقت لگتی ہے. اس میں کوئی شک نہیں کہ مذہبی جنونیوں نے مذہب کو انسانوں کے لئے رحمت کی بجائے زحمت بنا دیا ہے. ایک سیکولر جمہوری معاشرہ ہی مذہبی جنونیت کو ختم کر سکتا ہے.

Leave a Reply