انسانی فیصلوں کا ماخذ کہاں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انسان کا نظام ہستی اس کے جذبات کا مست ہاتھی اور اس کی خود کار عادات چلاتی ہیں۔ عقل کی دستار فضلیت بالعموم جذبات کی سرخ آندھی لے اڑتی ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق انسان کے اندر فیصلہ سازی کی دو قوتیں پائی جاتی ہیں۔ ہم پر فیصلہ سازی کی جو قوت عام طور پر اور غیر ارادی صورت میں بر سراقتدار رہتی ہے وہ ہمارے اندر ردعمل کی نفسیات کو جنم دیتی ہے۔ یہ عجلت پسند قوت فیصلہ ہر وقت چٹ منگنی پٹ بیاہ پر تیار رہتی ہے۔

یہ بندوق کی نالی سے گولی فائر کرکے اس کی وجہ تسمیہ کی تلاش شروع کر دیتی ہے۔ انسان کی یہ غالب قوت فیصلہ جذبات کی باندی بن کر غیر شعوری طور پر فخر محسوس کرتی ہے۔ اسے رسی سانپ کی صورت دکھائی دیتا ہے۔ بدلے کی آگ اس کا چولہا کبھی ٹھنڈا نہیں ہونے دیتی ہے۔ یہ اپنے ہر عمل کا جواز تراشنے میں ید طولیٰ رکھتی ہے۔ اسے معاشرے میں تقسیم پیدا کرکے توانائی ملتی ہے۔ یہ دنیا کو حق وباطل کی رزم گاہ سمجھتی ہے۔ اسے حق وہاں پر نظر آتا ہے جہاں پر اس کا قیام ہے۔ اسے اپنے مفادات سورج جیسی روشن سچائیوں کی مانند نظر آتے ہیں۔

ہم بلا تا مل یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا عقلی وجود اس کے جذباتی وجود کے رحم و کرم پر ہے۔ ہمارا عقلی وجود توجہ اور حاضر دماغی کا متفاضی ہوتا ہے۔ توجہ توانائی کی طالب ہوتی ہے اور توانائی کی فراہمی محدود ہوتی ہے۔ ارتکاز توجہ کچھ دیر بعد ہم پر تھکن طاری کر دیتی ہے۔ اس موقع پر ہمارا جذباتی وجود ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہو جاتا ہے اور پھر فیصلے پلک جھپکتے ہی ہونے لگتے ہیں۔

جذبات اور تعصبات میں چاند اور چکوری کا سارشتہ ہے دونوں ایک دوسرے کی تقویت کا سبب بنتے ہیں۔ رخسار کا تل دیکھ کر دام محبت میں گرفتار ہو جانا ”ہالو“ فکری تعصب کا شاخسانہ سمجھنا چاہیے۔ البتہ برادران یوسف یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ اگر آپ کے والد صاحب غریب ہیں تو یہ آپ کا نصیب ہے لیکن اگر آپ کے خسر بھی قلاش ہیں تو پھر آپ کے اندر ”عقل خود بیں“ کا فقدان ہے۔ برادران یوسف گھاٹے کا سودا کرنے سے اجتناب برتتے ہیں۔ ان کو اپنی جان و دل عزیز ہوتی ہے اس لیے وہ اپنا وزن ہمیشہ طاقتور کے پلٹرے میں ڈالتے ہیں۔

ہم اپنے فیصلے کرنے کے لیے بنے بنائے شارٹ کٹ راستے اختیار کرتے ہیں تاکہ چوک پر کھٹرے ہو کر راستہ منتخب کرنے کی اذیت سے محفوظ رہ سکیں۔ مثال کے طور پر ہم رائے عامہ کو بغیرکسی ترددکے قبول کرلیتے ہیں۔ کسی طبیب کے پاس اگر مریضوں کی کثرت ہو تو اس طبیب کو موثر اور کامیاب تصور کرتے ہیں اور اس سے شفایابی کو یقینی سمجھتے ہیں کیونکہ اسے معاشرتی قبولیت حاصل ہو چکی ہوتی ہے۔ آج کل دنیا کے سیاسی منظر نامے پر جو مقبول لیڈر نظر آتے ہیں وہ سماجی سند حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ فرد سماجی رواج کو بغیر پس و پیش کے قبول کر لیتا ہے کیونکہ سوچنا اور سوال اٹھانا مشقت طلب کام ہے اور اسی لیے ہم معاشرے کے مروجہ رحجانات کی حامل ریل کار کا آخری ڈبہ بننے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں۔

ہمارے اکثر فیصلے کرنے میں روایات اور قصہ کہانیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انسانی ذہن کہانی کے لیے خصوصی رغبت رکھتا ہے کیونکہ کہانی اسے سوچنے کے کرب سے بچاتی ہے اور واقعات کی گمشدہ کڑیوں کو بھی کہانی کا رخود سے خالی جگہ پر کرکے کہانی کے پلاٹ کو منظم اور مربوط بنا دیتا ہے۔ انسانی ذہن شماریات سے کنی کتراتا ہے کیونکہ فیصلہ سازی کی وہ قوت جس کی لگا میں ہمارے جذباتی وجود کے ہاتھوں میں ہوتی ہیں، اسے ہند سے ایک آنکھ نہیں بھاتے ہیں۔

دو ماہرین نفسیات کر سٹوفر چیبرز اور ڈینیل سمنز نے اپنی کتاب ”نا دیدہ گوریلا“ میں ایک تجربے کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ایک مختصر فلم بنائی جس میں دو باسکٹ بال کی ٹیمیں تھیں۔ ایک ٹیم نے سفید قمیض زیب تن کر رکھی تھیں جب کہ دوسری ٹیم نے سیاہ قمیض پہن رکھی تھیں۔ فلم کے ناظرین کو یہ ہدایت کی گئی کہ انہوں نے صرف یہ گنتی کرنی ہے کہ سفید ٹیم کے کھلاڑیوں نے کتنی مرتبہ ایک دوسرے کی جانب باسکٹ بال پھینکا ہے۔ دریں اثنا ایک خاتون ایک گوریلے کا روپ دھارے سینہ کوبی کرتے ہوئے باسکٹ بال کورٹ کے درمیان میں موجود رہتی ہے۔

ناظرین کے سامنے خاتون پورے نو سیکنڈ تک میدان میں موجود رہتی ہے۔ ناظرین سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ نے کسی گوریلے کا دوران گنتی مشاہدہ کیا ہے تو وہ صاف انکار کر دیتے ہیں، جب کہ وہ گوریلا میدان کے بیچوں بیچ دندناتا ہوا گزرتا ہے اور سینہ کوبی کر کے ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ یہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ حضرت انسان جب کسی دھن اور ترنگ میں ہوتا ہے تو اس کو دودھ میں پڑی ہوئی مکھی تک نظر نہیں آتی ہے اور وہ من کی موج میں وہ فیصلے کر ڈالتا ہے جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزاپائی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply