اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی فائدہ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ تھا تو اسی طرح بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتی تھیں اور تنقید کی جا رہی تھی کہ لاک ڈاؤن جاری رہا تو غریب بھوک سے مر جائیں گے۔ حکومت نے تنقید سے گھبرا کر عجلت میں لاک ڈاؤن ختم کر دیا جس کا نتیجہ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں ہلاکتوں کی صورت میں اب سامنے ہے۔ کوئی شبہ نہیں کہ ہمارے لوگ غیر ذمہ دار اور لا پروا ہیں۔ سب سے زیادہ لا پروائی اور بے احتیاطی عید سے قبل دکھائی دی۔

لوگوں نے عید کی شاپنگ اس طرح کی جیسے کہ یہی آخری عید ہو یا پھر تن پر پہلے کپڑے ہی موجود نہ ہوں۔ شروع میں مگر یہی لوگ تعاون پر آمادہ تھے۔ ابتدائی چودہ دن عوام نے لاک ڈاؤن کے ضوابط کی بڑی حد تک پاسداری کی۔ اس عرصے میں زیادہ سے زیادہ ٹیسٹنگ سے متاثرہ لوگوں کی شناخت اور لاک ڈاؤن کے بتدریج خاتمے کی حکمت عملی تیار کرنا ضروری تھا۔ اس کا فائدہ اٹھانے کی بجائے مگر وفاقی و صوبائی حکومتیں آپس میں الجھتی رہیں۔

سب سے زیادہ خرابی خود وزیراعظم عمران خان کے بیانات سے پیدا ہوئی ان کی پالیسی واضح نہیں تھی صاف نظر آتا رہا کہ وہ گومگو کا شکار ہیں۔ ایک طرف وہ اپیلیں کرتے رہے کہ بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں، آنے والا وقت نہایت مشکل ہے دوسری جانب وہ یہ بھی کہتے رہے کہ لاک ڈاؤن سے غریب کا زیادہ نقصان ہو گا، لوگ بھوک سے سڑکوں پر نکل آئے تو لاک ڈاؤن کا فائدہ نہیں ہو گا۔

مکمل لاک ڈاؤن کا اسی لیے فائدہ نہیں ہوا اب نقصان نا قابل تلافی ہو چکا تو انہوں نے سمارٹ لاک ڈاؤن کی اختراع متعارف کرادی ہے۔ خبر نہیں مکمل لاک ڈاؤن کامیاب نہیں ہوا سمارٹ لاک ڈاؤن کیسے ہوگا؟ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی علاقے کو مکمل بند، کسی کو جزوی بند اور باقی کو کھلا چھوڑ دیا جائے اس پر کیسے عملدرآمد ہو سکتا ہے؟ یہ بھی عجیب تماشا ہے کہ بیشتر علاقوں میں ہفتے میں دو دن لاک ڈاؤن کیا جاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتا اس کا کیا فائدہ ہے؟

اب اگر ایک دکان کے ہفتے میں ستر گاہک ہوں تو سات دن کھلنے سے یومیہ دس لوگ آئیں، لیکن صرف دو روز وہ دکان کھلے تو ایک دن میں پینتیس لوگ آئیں گے۔ لاک ڈاؤن کا مقصد سماجی فاصلے کا قیام ہے اس طرح تو یہ مقصد فوت ہو جائے گا۔ طریقے سے یہ کام کیا جاتا تو دنیا کی طرح آج ہمارے ہاں بھی لاک ڈاؤن ختم ہو رہا ہوتا۔ لاک ڈاؤن کے اور کچھ فوائد ہوں نہ ہوں ان دو دنوں میں پولیس کی چاندی ضرور ہو جاتی ہے۔ دکاندار پیسے دے دیں تو بیشک آدھا شٹر کھول کر کاروبار کرتے رہیں ورنہ پولیس انہیں اٹھا لے جاتی ہے۔ پیسے نہ دیں تو ایسے کاروبار جنہیں سات بجے تک اجازت ہے ان دو دنوں میں انہیں بھی کبھی بارہ بجے اور کبھی دو بجے بند کرا دیا جاتا ہے۔

صرف جمعہ کو ملک بھر سے کورونا کے مزید 5567 کیسز سامنے آئے اور 133 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ بتایا جا رہا تھا کہ کراچی کی 43 ؍ یوسیز میں اسمارٹ لاک ڈاؤن ہے۔ اسی روز سارا دن کالم نگار سیل قرار دیے گئے علاقوں پی ای سی ایچ ایس، طارق روڈ، سولجر بازار اور جمشید روڈ پر پھرتا رہا مگر کہیں بھی لاک ڈاؤن کی علامات نظر نہیں آئیں۔ کہیں ایک آدھ گلی کا آدھا داخلی راستہ قناط وغیرہ سے نصف بند تھا اس کے علاوہ لوگوں کی آمدورفت عام دنوں کی طرح جاری تھی۔

کہا جا رہا تھا سیل کیے جانے والے علاقوں میں کسی کو بلا ضرورت آنے جانے کی اجازت نہیں ہو گی کسی ایک جگہ بھی مجھے کسی نے روک کر پھرنے کا سبب نہیں پوچھا۔ یقیناً جن علاقوں کو دوبارہ سیل کیا گیا ہے کسی ٹھوس انفارمیشن اور رپورٹڈ کیسز کی بنیاد پر ہی کیا گیا ہوگا۔ سوال لیکن یہ ہے کہ اگر اس طرح کھلے عام آمدورفت جاری رہی تو کیا دو تین ہفتوں کے بعد وائرس دیگر علاقوں تک نہیں پہنچے گا، جب پہلے ہی لاک ڈاؤن میں نرمی کا نتیجہ دیکھ چکے ہیں تو سیل کیے گئے علاقوں میں ڈھیل دے کر اس قدر سنگین رسک کیوں لیا جا رہا ہے۔

پہلے بھی استدعا کر چکے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ اسمارٹ یا جزوی لاک ڈاؤن کے چکر میں پڑنے کی بجائے چودہ دن کے لیے مکمل کرفیو نافذ کرے تاکہ کوئی شخص ادھر سے ادھر نہ جا سکے۔ اس کے علاوہ اور کوئی حل نہیں باقی جہاں تک غریب عوام کی بات ہے ان کا احساس اچھی بات ہے مگر اللہ پر آسرا رکھیں چودہ دن میں ان شاءاللہ کوئی بھوک سے نہیں مرے گا۔

جامعہ بنوریہ کراچی کے مہتمم مفتی محمد نعیم صاحب رضائے الہی سے انتقال فرما گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مفتی صاحب سے کبھی براہ راست ملاقات کا شرف تو حاصل نہیں ہوا البتہ فون پر چند بار بات ضرور ہوئی۔ نہایت شفقت سے پیش آتے تھے، دعا ہے اللہ پاک ان کے درجات بلند اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply