خود ساختہ سچ میں گرفتار فیصلہ ساز



لاہور اسلام آباد اور دوسرے شہروں میں پھر لاک ڈاؤن کا نفاذ ہو گیا ہے لیکن ٹھرئیے یہ تو سمارٹ لاک ڈاؤن ہے کیوں کہ ہماری سیاسی قیادت کو لاک ڈاؤن پسند نہیں، کیا کریں ایک طرف ہماری سوچ کا انداز ہے جس میں ہم چاہتے ہیں کہ دنیا ہماری مرضی کہ مطابق چلے، قدرت کے قوانین بھی ہماری ابرو کے اشاروں کے منتظر رہیں، بیماریاں ہم سے پوچھ کر کم یا زیادہ ہوں اور دوسری طرف وبا کا سیلاب رواں ہے جو چڑھا جاتا ہے، اس کے ساے ہیں کہ گھنیری آندھی کی طرح آبادیوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں، ہسپتالوں میں وبا کے مریضوں کی یلغار ہے کہ بڑھتی چلی جاتی ہے، طبی عملہ بالخصوص ڈاکٹروں میں شرح اموات بڑھ رہی ہے، کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ کسی شہر یا قصبے میں کرونا سے ڈاکٹروں کے مرنے کی اطلاع نہ آئے۔

اب تک کی اطلاح کے مطابق تصدیق شدہ کرونا مریضوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور اموات تین ہزار سے زاہد لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اموات بارے اعداد و شمار صرف ایک اندازہ ہیں حقیقت ذرا مختلف اور گمبھیر ہے۔ اور اگر صورت احوال ایسے ہی چلتی رہی تو اس وبا کی بڑھوتری کے سائنسی اندازوں کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں وبا میں مبتلا افراد کی تعداد دس لاکھ سے بڑھ سکتی ہے اوران ہی اندازوں کے مطابق اگست کے وسط تک جب یہ وبا پاکستان میں اپنی انتہا پر ہو گی تو شرح اموات کا اندازہ ہزاروں میں ہونے اک اندیشہ ہے اصل خطرناک بات یہ ہے کہ حکومتی سطح پر کوئی منظم حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

حکومتی حلقوں میں اپنی مرضی کی صورت احوال نظر نہ آنے پر مایوسی کا اظہار اب طعن وتشنع کی صورت اختیار کر گیا ہے جیسا کہ چند دن پہلے پنجاب کی وزیر صحت لاہوریوں پر برس پڑیں۔ پچھلے چار ماہ میں حکومت کی ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کی ڈھلمل پالیسی اور اقدامات اب اپنا رنگ دیکھانا شروع کر چکے ہیں۔ اگرچہ اس وبا نے سوسائٹی کے تمام طبقات کو متاثر کیا ہے لیکن اس میں بھی کوئی دو راے نہیں کہ یہ غریب طبقہ ہی ہے جو اس کا سب سے بڑا شکار بنے گا اگرچہ ہمارے وزیر اعظم اس کے غم میں مرے جاتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے، اپنی مروجہ پالیسی سے ہٹ کر حکومت پاکستان سے لاک ڈاؤن کو دوبارہ نافذ کرنے کو کہا لیکن مرکزی حکومت بشمول وزیراعظم لاک ڈاؤن سے متعلق اپنے پرانی تسبیح کا ورد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے مشورے کو نظر انداز کرنے کے صرف دو دن بعد ہی نیشنل کوارڈینیشن اور آپریشن سنٹر نے بیس شہروں اور قصبوں کے متاثرہ علاقوں میں ”سمارٹ لاک ڈاؤن“ کا نفاذ کر دیا۔ خدا جانے فیصلہ ساز کون ہیں کیونکہ فیصلہ سازی کا ایسا عمل مزید کنفیوژن کا سبب بن سکتا ہے۔

اگر ہم اس وبا کے دنیا میں پھیلاؤ پر غور کریں تو یہ چین سے شروع ہو کر ایشیائی ممالک سے ہوتا ہوا یورپ اور پھر امریکہ کے بعد جنوبی امریکی ممالک تک جا پہنچی ہے اور اس سفر میں برازیل پہلا مکمل ہے جس میں غربت کے ساتھ ساتھ سماجی ناہمواری بہت زیادہ ہے۔ پاکستان اور بھارت میں غربت اور سماجی ناہمواری کچھ ایسی ہی ہے لیکن اس پر بات ذرا بعد میں۔

ہمیں اندازہ ہے کہ کرونا کی موجودہ وبا نے حکومتوں کے لئے کافی مشکل پیدا صورت حال پیدا کر دی ہے۔ دنیا میں اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لئے اس وقت دو ماڈل زیر استعمال ہیں۔ پہلا ماڈل میں مکمل لاک ڈاؤن کے ذریعے پہلے مرحلے پر شرح اموات کو کم سے کم کرنا اور پھر سماجی فاصلے، ٹسٹنگ اور سمارٹ لاک ڈاؤن کے اصولوں کو استعمال کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پابندیوں کو ختم کرنا شامل ہیں۔ ان اقدامات میں ذرا سی غفلت اور بے احتیاطی کے نتیجے میں وبا کا دوبارہ پھیلاؤ شروع ہو سکتا ہے جیسا کہ حالیہ دنوں میں نیوزی لینڈ اور چین میں دیکھا گیا۔ اس ماڈل میں ان اقدامات کے ذریعے ویکسین کی تیاری کے لئے مہلت حاصل کرنا اور صحت کی سہولتوں کو بیماری کی یک دم یلغار سے بچانا شامل ہے۔ یہ ماڈل دنیا کے اکثریتی ممالک نے کامیابی سے استعمال کیا اور اس وبا کو نہ صرف کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو گیے بلکہ اب اقتصادی سرگرمیوں کو بحال کرنے میں مصروف ہیں۔

دوسرے ماڈل میں لوگوں میں اس بیماری بارے آگاہی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلے کے اصول کو لاگو کرنے کی ذمہ داری لوگوں پر ہی چھوڑ دی گئی اور زیادہ زور اقتصادی سرگرمیوں پر رکھا گیا۔ اس ماڈل کو استعمال کرنے والے ممالک میں سویڈن، برازیل تو سر فہرست ہیں جبکہ برطانیہ اور امریکہ نے شرعی میں اس ماڈل پر چلنے کی کوشش کی لیکن شرح اموات میں اضافے نے ان کو لاک ڈاؤن پر مجبور کر دیا لیکن شروع کی ڈھلمل پالیسی کی قیمت ہزاروں اموات کی شکل میں ادا کی۔

اگر ہم برازیل کی موجودہ صورت حال پر نظر ڈالیں تو گزشتہ ہفتے یہاں وبا سے مرنے والے افراد کی تعداد برطانیہ سے زیادہ ہو گئی۔ یاد رہی کہ برازیل میں کرونا سے ہونے والیپہلی تصدیق شدہ موت 17 مارچ کو ہوئی تھی اورواشنگٹن یونیورسٹی کے اندازوں کے مطابق اگست تک یہ تعداد ایک لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ برازیل کی مثال دینے کی ضرورت اس لیے آئی کہ برازیل اور پاکستان دونوں ممالک میں اوپر بیان کردہ سماجی ناہمواری کی مماثلت کے ساتھ ساتھ لگتا ہے کہ دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے خیالات میں بھی ہم آہنگی موجود ہے۔

برازیلی صدر بولسنارو کی موجودہ وبا بارے خیالات اور حکمت عملی کے سامنے تو برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا طرز عمل کافی سنجیدہ لگتا ہے۔ صدربولسنارو بھی ہمارے وزیراعظم کی طرح کرونا کو ”ذرا سا فلو“ کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔ برازیل میں بڑھتی ہوئی شرح اموات کو چھپانے کی کوشش کی گئی لیکن برازیلی میڈیا نے یہ کوشش ناکام بنا دی۔

ذرا مڑ کر دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ وطن عزیز میں جنوری سی لے کر اب تک قدرت نے کتنے ہی مواقع ہمیں فراہم کیے جن پر بر وقت عمل کرتے تو آج صورت حال بالکل مختلف ہوتی۔ اگر شروع میں ایران سے آنے والے زائرین کو تفتان کے مقام پرکوارنٹین کی اچھی سہولیات فراہم کی فراہمی، یورپ سے آنے والے مسافروں بالخصوص پاکستانیوں کو ایر پورٹ پر ٹیسٹ اور کوارنٹین (باعزت طریقے پر) کی سہولیات کی فراہمی، مرکزی اور صوبائی حکومتوں میں ہم آہنگی اور مارچ میں کیے جانے والے لاک ڈاؤن پر یکسانیت اور توجہ سے عمل درآمد، عید سے پہلے لاک ڈاؤن کے سلسلے میں عدالت عظمی میں سائنسی وجوہات کی وضاحت اور علماء کرام کی مدد اور اس سب کے دوران یکسوئی سے سادہ زبان میں لوگوں کو اس وبا سے سائنسی حقائق سے آگاہی کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا ہوتا تو آج شاید حالات اور ہوتے۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ وقت کا ایک ٹانکا بے وقت کے نو ٹانکوں سے بچاتا ہے۔ غربت کا رونا روتے روتے نہ صرف اب ہزاروں جانوں کے ضیاع کا خطرہ ہے بلکہ پہلے سے کمزور معیشت اب چند سال اور پیچھے چلی جائے گی اور غربت میں بھی آضافہ ہو گا۔

Facebook Comments HS