قاضی فائز عیسی کیس: قانون دیکھتا، سنتا اور بولتا ہے

”کون کہتا ہے کہ قانون اندھا ہوتا ہے، قانون کو نہ صرف دکھائی دیتا ہے بلکہ سنائی بھی دیتا ہے اور اگر یہ چاہے تو بہ آواز بلند اپنے وجود کا احساس بھی دلا سکتا ہے۔ ۔ ۔“
آصف زرداری، ڈاکٹر عاصم حسین، شرجیل میمن، نواز شریف، شہباز شریف، خواجہ برادران، آیان علی، رانا ثناءاللہ، ملک ریاض، فریال تالپور، اومنی گروپ، مفتی عبدالقوی، پشاور بی آر ٹی کرپشن کیس، پاکستان نیوی آبدوز کیس، شوکت ترین، جرنل (ر ) پرویز مشرف، احد چیمہ، فواد حسن فواد، جسٹس (ر ) عبدالقیوم، اور اب جسٹس قاضی فائز عیسی۔ ۔ ۔
اور انشاءاللہ انصاف کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ ۔ ۔ جس میں شوگر ملز مالکان، پٹرول بحران، جعلی ادویات، نقلی اور غیر معیاری خوراک، صاف پانی کمپنی، غرض ایک نہ ختم ہونے والی لسٹ ہے، جو ایسے افراد پر مشتمل ہے کہ جنہیں یقین ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی بھرپور انصاف حاصل کرپائیں گے۔ ۔ ۔
تو پھر کون ہے جو کہتا ہے کہ قانون اندھا ہے؟ قانون کی نہ صرف آنکھیں ہیں بلکہ وہ نہایت ہی باریک بینی سے انصاف حاصل کرنے والے کا نہ صرف تقابلی جائزہ بلکی معاشی نسب و حال کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ ۔ ۔ پھر کوئی کم ظرف اور کم عقل ہی ایسے قانون کو اندھا کہے گا، جو کہ نہ صرف سستا، بلکہ تیز ترین بھی ہے اور شفاف بھی۔ ۔ ۔
کراچی بلدیہ فیکٹری مقتولین، سانحہ 12 مئی مقتولین، 17 جون ماڈل ٹاؤن مقتولین، سانحہ ساہیوال مقتولین، زینب قتل کیس، قصور جنسی تشدد اور زیادتی مقتولین۔ ۔ ۔ او بس کر بھائی بس کر۔ ۔ ۔ بھلا خود سوچو انصاف کی ضرورت ان لوگوں کو زیادہ ہے جو زندہ ہیں اور خود بھی شاد ہیں اور قانون کو بھی آباد رکھنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں یا پھر وہ جو منوں مٹی تلے دبے افراد۔ ۔ ۔ ؟ اور ویسے بھی اب بھلا یہ سارے مقتولین انصاف حاصل کرکے اس کا اچار ڈالیں گے کیا؟
پیچھے رہ گئے ان کے ورثا، تو انہیں حکومتی تسلیاں بھی دے دی گئی ہیں اور اس بات کی عدالتی یقین دہانیاں بھی کروائی گئی ہیں کہ ان کے پیاروں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ ۔ ۔ بس صرف چند صدیاں اور انتظار کر لیں، اب ایسی بھی کیا جلدی ہے، کم از کم قانون کو اتنا وقت تو دیں کہ وہ اگلے الیکشن تک اور اپنی جسٹسی کی مدت ملازمت میں توسیع کروانے کا بندوبست تو صحیح طرح سے کرسکیں۔ ۔ ۔
وکیل صاحب کے چیمبر میں میلے کچیلے کپڑوں میں ملبوس مائی سکینہ ( عمر 60۔ 58 برس اندازہً ) حیران و پریشان سی بیٹھی وکلاء کی آنیاں جانیاں دیکھ کر انتہائی بے بس سی معلوم ہو رہی تھی۔ ۔ ۔
اسے دیکھ کر بے اختیار یہ شعر زبان پر آ گیا؛
” زندگی اک جہد مسلسل کی طرح کاٹی ہے
جانے کس جرم کی سزا پائی ہے ”
میں بذات خود بھی اسی طرح کے ایک بظاہر نظر نہ آنے والے انصاف کا متلاشی۔ پچھلے اڑھائی برس سے کبھی ایک عدالت اور کبھی دوسری عدالت، کبھی ایک وکیل اور کبھی دوسرے وکیل کے در پر اور اپنی اوقات سے بڑھ کر ان کی فیسیں بھر بھر کر۔ انصاف کی امید پر قانون کا دروازہ کھٹکھٹانے کی پاداش میں نشان عبرت بنا چلا جا رہا ہوں۔ ۔ ۔ سوچتا ہوں کہ شاید کبھی تو انصاف کی دیوی مجھ پر بھی مہربان ہوگی۔ ۔ ۔
”اور تو کوئی غم خوار نہ ہوگا اس مہ کدے میں
یہاں ساقی بھی میں اور جام بھی میں۔ ۔ ۔ ”
یہی سوچ کر مائی سکینہ کی حاضری کا سبب سننے کا اشتیاق ہوا اور پوچھ بیٹھا ”اماں جی کس سلسلے میں آپ آج یہاں آئی ہیں؟“ مائی سکینہ بولی، میں پچھلے 8 ماہ سے ٹوبہ ٹیک سنگھ سے لاہور ہائی کورٹ کے چکر پر چکر لگا رہی ہوں۔ ۔ ۔ میرے مزید استفسار کرنے پر وہ بولی ”ایک ہی بیٹا ہے میرا سیدھا سادھا سا، شادی شدہ ہے اور 5 بچے ہیں اس کے۔ 4 بیٹیاں اور 1 بیٹا ہے اس کا، سب سے بڑی بیٹی ابھی میٹرک میں ہے اور سب سے چھوٹا بیٹا 5 سال کا ہے۔ اصغر ( مائی سکینہ کا بیٹا ) باپ کی چھوڑی ہوئی زمین پر کھیتی باڑی کرتا ہے اور ہمارا گھر کا سلسلہ چل رہا ہے۔“
آج سے تقریباً 18 ماہ پہلے اصغر نے کچھ اور زمین ٹھیکے پر لی تھی تاکہ وہ اس میں کھیتی باڑی کرکے مزید آمدن حاصل کرسکے تاکہ اس سال اس نے گھر کی کچی چھتوں کو بھی لینٹر ڈال کر پکا کرنے کا جو ارادہ کیا تھا، وہ اسے پایاء تکمیل تک پہنچا سکے۔ وگرنہ پچھلے سال کی طرح اس دفعہ بھی اصغر کے پورے گھرانے کو چھتوں سے پانی ٹپکنے کی وجہ سے بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا۔ ۔ ۔
اللہ کے فضل سے اور اصغر کی محنت سے اچھی کٹائی ہوئی تھی اور اصغر نے زمین کے مالک کو ٹھیکے کی رقم طے شدہ وقت سے پہلے ہی ادا کردی تھی۔ شاید اسی وجہ سے مالک زمین کو کچھ لالچ آ گیا تھا اور وہ اصغر سے مزید رقم کا مطالبہ کرنے لگ گیا تھا، بصورت دیگر اس نے اپنی زمین واپس لینے کا عندیہ دے دیا تھا۔
اصغر نے اس سے کچھ مہلت مانگی تھی اور ایک عدد چیک دو ماہ بعد کی تاریخ کے ساتھ جمع کروادیا تھا۔ مگر پھر بدقسمتی سے وہ پیسوں کا بندوبست نہیں کر پایا تھا۔ جس کے اوپر مالک زمین نے اصغر کے خلاف پرچہ کروا دیا تھا اور پولیس اصغر کو اٹھا کر لے گئی تھی، اس کے بعد عدالت میں چالان پیش کیا گیا اور اصغر کو جیل ہوگئی۔ ۔ ۔
” 8 ماہ ہوگئے ہیں اصغر کی ضمانت کے کاغذات جمع کروائے، جب اپنے بیٹے سے جیل میں ملتی ہوں تو وہ رو رو کر کہتا ہے کہ اماں مجھ کو یہاں سے نکال لے، میں مر جاؤں گا یہاں۔ جب گھر جاتی ہوں تو اصغر کے چھوٹے چھوٹے بچے پوچھتے ہیں کہ ابا کب گھر آئے گا؟ کوستی ہوں اپنی قسمت کو جب اصغر کی جوان بیوی کو دیکھتی ہوں کہ وہ ہمیشہ سے یہ آس لگا کے بیٹھتی ہے کہ شاید اس دفعہ میں اصغر کو اپنے ساتھ گھر لے آؤں گی۔ ۔ ۔ میں کیا بتاؤں ان سب کو کہ میں تو خود مر چلی ہوں، ہر بار ایک نئی تاریخ مل جاتی ہے عدالت سے۔
کبھی سرکاری وکیل نہیں آتا اور کبھی جج صاحب چھٹی پر ہوتے ہیں، اگر کبھی کچھ نہ ہو تو وکیلوں کی ہڑتال ہوجاتی ہے۔ ۔ ۔ اب میں بوڑھی جان پورے گھر کو اکیلے دیکھ رہی ہوں، اب تو میرے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ مزید کچہری کے چکر لگا سکوں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے اب کسی دن اسی عدالت کی سیڑھیوں پر بیٹھے بیٹھے اپنا دم دے دینا ہے“ ۔ ۔ ۔
اسی اثناء میں وکیل صاحب کے چیمبر میں شور مچا اور آزاد عدلیہ کی جیت کے نعرے فضا میں بلند ہونے لگے، معلوم ہوا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی ریفرنس، جو چند روز پہلے عدالت میں پیش کیا گیا تھا اس کا عدالتی فیصلہ آ گیا ہے۔ ۔ ۔ معزز جج صاحبان نے اہلیہ قاضی فائز عیسی کے تمام متعلقہ ثبوت فراہم کرنے اور ان کے وڈیو کے ذریعے دیے گئے بیانات کی روشنی میں اپنا فیصلہ سناتے ہوئے حکومتی ریفرنس کو خارج کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جسٹس صاحب کی اہلیہ کو پہنچنے والی تکلیف پر اپنے گہرے دکھ اور رنج کا بھی اظہار کیا تھا، بلاشبہ یہ عدلیہ کی جیت ہی تو تھی۔ بے شک قانون نے دیکھا بھی تھا، سنا بھی تھا اور قانون بولا بھی تھا۔ ۔ ۔
”مائی سکینہ تو صرف ایک جھلی عورت ہے۔ ۔ ۔ جسے انصاف ہوتا ہوا نظر ہی نہیں آتا!“

