آن لائن کلاسز۔ حال اور مستقبل

پاکستان میں کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے باعث مارچ میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا۔ اس لاک ڈاؤن کے نتیجے میں جہاں ہر شعبے میں کاروبار زندگی متاثر ہوا، وہاں تعلیمی ادارے بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے گئے۔ پاکستان کے تعلیمی کیلنڈر کے مطابق سکولوں میں نیا تعلیمی سال عمو ماً مارچ یا اپریل میں شروع ہوتا ہے۔ اعلیٰ تعلیمی اداروں یعنی یونیورسٹیز میں بھی نئے سمیسٹر کا آغاز فروری یا مارچ میں ہی ہوتا ہے۔ بیچلرز، ماسٹرز اور ایم فل کے بیشتر طالبات اپنے تحقیقی مقالات (research thesis) اس سمیسٹر کے اختتام پر جون جولائی کے مہینوں میں جمع کراتے ہیں۔

لاک ڈاؤن ہونے کے بعد چند ہفتوں تک تو پورے پاکستان نے خوب چھٹی منائی۔ تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل رہی۔ رفتہ رفتہ جب اندازہ ہوا کہ کرونا کی یہ وبا کم از کم چند مہینوں تک قابو میں آنے کا کوئی امکان نہیں، تو تعلیمی سرگرمیاں نئے سرے سے شروع کرنے کے طریقوں پر غور کیا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹیز کو آن لائن کلاسز کے اجراﺀ کی تجویز دی۔ تجویز انتہائی معقول تھی۔ ایسے حالات میں جہاں تمام دنیا ایک وبا کے خلاف برسر پیکار ہے، ترقی یافتہ ممالک تمام تر وسائل کے باوجود اس سے نمٹنے میں ناکام رہے، وہاں پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں، ایک نسبتاً کمزور نطام صحت کے ساتھ، اس وبا کا مقابلہ کرنے میں بے انتہا چیلنجز تھے۔ وہاں نظام زندگی کو بھی ایک طویل عرصے تک معطل نہیں رکھا جا سکتا تھا۔

سو تعلیم کا پہیہ چلانے کے لیے آن لائن کلاسز کا حل سوچا گیا۔ تاہم اس کے لیے کوئی مناسب تیاری نہیں کی گئی۔ نتیجتاً طلبا اور اساتذہ دونوں ہی اس سے نالاں نظر آئے۔ ایک ایسا ملک جہاں ہر یونیورسٹی کی ایک ویب سائٹ تو ہے مگر وہ مہینوں اپ ڈیٹ نہیں ہوتی۔ بہت سی یونیورسٹیز کا آن لائن لرننگ مینجمنٹ سسٹم (LMS) تو ہے، مگر سسٹم ہمیشہ ڈاؤن ہی ملتا ہے۔ کلاسز میں ملٹی میڈیا تو لگے ہوئے ہیں، مگر اس کے ساتھ لگے ہوئے کمپیوٹر کو آن ہونے میں زمانے لگ جاتے ہیں۔

اساتذہ کو pointer تک کا استعمال نہیں آتا۔ بہت سے لوگ آڈیو/ویڈیو اور ویب کانفرنسنگ کے software اور apps جیسا کہZoom، Skype، WebEx، GotoMeetingاورGoogle Hangoutsسے آشنا نہیں۔ انٹر نیٹ کنکشن مستحکم (stable) نہیں۔ اس پر مستزاد آبادی کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں میں رہتا ہے۔ جہاں اگر آپ کی خوش قسمتی سے لیپ ٹاپ، یا سمارٹ فون اور انٹرنیٹ دستیاب ہو تو عین کلاس کے وقت بتی دغا کر جائے۔ میں بذات خود پاکستان کی دو بہترین جامعات میں تعلیم حاصل کر چکی ہوں، جہاں گلگت سکردو سے لے کر اندرون سندھ اور بلوچستان کے دور دراز دیہی علاقوں سے نوجوان تعلیم کے حصول کے لیے آتے ہیں۔ وہاں کے حالات لاہور، کراچی، اسلام آباد سے یکسر مختلف ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ ”every crisis is an opportunity“ پاکستان میں کرونا کی وبا سے ہم سب نے کچھ نہ سیکھا ہے۔ یقیناً ہماری یونیورسٹیز اور ہائر ایجوکیشن کمیشن بھی بہت سے چیزیں سیکھ سکتا ہے۔

پچھلے دس برسوں میں ہمارے ملک میں انٹرنیٹ، سمارٹ فون کے استعمال میں بہت اضافہ دیکھنے آیا ہے۔ ٹیلی کام کمپنیوں نے اپنی سروسز کا دائرہ کار دور درازعلاقوں میں پھیلایا ہے، ۔ سمارٹ فون آبادی کے ایک بڑے حصے خصوصاً نو جوانوں کے استعمال میں ہے۔ انٹرنیٹ پیکجز بھی دستیاب ہیں۔ بہت سے نوجوان اساتذہ ٹیکنالوجی سے بخوبی واقف ہیں۔ ۔ اس تمام صورت حال کو ایک ٹیسٹ کیس یا پائلٹ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینی چاہیے۔

جس کا آغاز ایک situational analysis سے ہو سکتا ہے، جس میں ابتدائی طور پر چند بڑی یونیورسٹیاں طالب علموں سے سروے کے ذریعے یہ معلومات حاصل کریں کہ طلبا کن کن علاقوں سے ہیں، کو ن سا فون استعمال کرتے ہیں، انہیں کیمپس کے علاوہ انٹرنیٹ کس حد تک دستیاب ہے۔ اور اساتذہ سے جانا جائے کہ کہ وہ کس قدر technology literate ہیں۔ دوسرے مرحلے میں اساتذہ کی مختلف آن لائن پلیٹ فارمز استعمال کرنے اور آن لائن کورسز مرتب کرنے کی ٹریننگ کی جا سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے موجودہ آن لائن کورسز جو coursera وغیرہ پر دستیاب ہیں، کافی مددگار ہو سکتے ہیں۔ مثلاً کورسز کا دورانیہ کتنا ہو، طلبا کی دلچسپی کو کیسے برقرار رکھا جائے اور امتحانات لیے جائیں۔ کیونکہ ہمارے ہاں یہ نسبتاً نئی چیز ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام کمپنیز کے ساتھ طلبا کے لیے سستے انٹرنیٹ پیکجز کے لیے معاہدے کیے جائیں۔ اس کے بعد چند کورسز آزمائشی بنیادوں پر شروع کیے جائیں۔ اور اس میں پیش آنے والی مشکلات کا جائزہ لیا جائے۔

اس کے بعد ہی اس طریقہ کار کو ملک گیر بنیادوں پر شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف اس قسم کے غیر معمولی حالات میں فائدہ اٹھا یا جا سکتا ہے بلکہ عمومی حالات میں طلبا کے لیے سمر کورسز، دور دراز علاقوں کے طلبا کے لیے شارٹ کورسز تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے آہتہ آہستہ ہمارے نوجوانوں میں self۔ learning کا جذ بہ بھی پیدا ہوگا۔ دنیا کی بڑی یونیورسٹیوں کورسز مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر ستیاب ہیں۔ جن سے کوئی بھی کہیں بھی بیٹھ کر فیض یاب ہو سکتا ہے۔ اسی صورت میں ہی یہ ایک مفید، دیرپا اور سب کے لیے قابل قبول حل ہو سکتا ہے۔ اور ڈیجیٹل پاکستان کی طرف پہلا قدم بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words