اسلامی جمہوریہ کا جمہوری تشخص خطرے میں


قیام پاکستان کے بعد سے ہی جمہوریت کو وطن عزیز میں بحال رکھ پانا جوش شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔ قائد کی بہت جلد وفات نے نوزائیدہ ریاست کو سنبھلنے اور ریاست میں جمہوری اداروں کو مضبوط ہونے کا موقع ہی نہ دیا جبکہ دوسری طرف بھارت میں جواہر لال نہرو کا آزادی کے بعد بہت لمبے عرصے تک اقتدار میں بنے رہنا بھارت کے جمہوری مستقبل کو بہت طاقتور بنا گیا۔ ابھی پاکستان قائد کی اور وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے صدمے سے باہر ہی نکلا تھا کہ ملک میں آئینی بحران کھڑا ہو گیا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر وزیراعظم بدلے جانے لگے تو ہمسایہ ملک کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے طنزیہ کہا
”میں تو اتنی دفعہ لنگی نہیں بدلتا جتنی دفعہ پاکستان کے وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں“

ملک میں یکے بعد دیگرے لگنے والے مارشلاؤں نے ملک کے جمہوری اداروں کی کمر مزید توڑ دی اور جمہوری لیڈران کی جمہوری ماحول میں پیدائش نا پید سی ہو گئی۔ تعلیم کے فقدان نے عوام جمہوریت اور اس کی اہیمت کو سمجھنے سے قاصر رکھا تو غیر جمہوری قوتوں کا اثر و رسوخ بڑھتا ہی چلا گیا۔ پارلیمنٹ جسے تمام اداروں کی ماں کہا جاتا ہے۔ ایک چھڑی کے اشارے سے تحلیل کر دیا جاتا۔ منتخب جمہوری وزیراعظموں کو معزول کر دینے کے بعد جیل بھیجا جانے لگا اور کچھ جمہوری لیڈران کو تو تختہ دار پر لٹکایا گیا۔

غیر جمہوری ادوار کا ایک تحفہ جنگیں بھی تھی جن کی وجہ ملک کو جانی اور مالی نقصان بھی پہنچا تو دوسری طرف معیشت کا نا تجربہ کار ہاتھوں میں ہونا ملک پر قرضوں کے بوجھ میں اضافے کا سبب بنا تاریخ گواہ ہے کہ ملک کے جمہوری سربراہوں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں دور اندیش فیصلے کیے جبکہ آمروں نے ملک کا مستقبل تک بگاڑ دینے والے اقدامات سے تاریخ میں اپنے نام ظالم جابر لکھوائے۔ 80 کی دہائی میں ریاست پاکستان اپنے غیر جمہوری سربراہ کی بدولت شدید قسم کی مذہبی جنونیت کا شکار ہوئی اور ملک میں فرقہ واریت کی ایک ایسی لہر نے جنم لیا جس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔

مضموم مقاصد کے حصول کے لئے غیر ریاستی عناصر کی پرورش کی گئی۔ جس کی قیمت عوام آج تک ادا کر رہے ہیں۔ ظلم کی کالی آندھی اندھیری راتوں کے بعد نئی صدی آغاز ہوا جمہوریت کو پھر سے پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور وطن عزیز میں پہلی مرتبہ ایک جمہوری حکومت نے اپنی مدت پوری کر کے دوسری جمہوری حکومت کو انتقال اقتدار کر کے تاریخ رقم کی۔ جمہوریت ابھی پاکستان میں لاغر اور کمزور ضرور ہے لیکن عوام اس لاغر جمہوریت سے آزادی اظہار رائے جیسے کچھ ثمرات فوائد اٹھانے سیکھ رہے ہیں۔

ملک میں اب بھی جمہوریت کا تسلسل خطرے میں ضرور ہے لیکن ایک اعتماد کی فضا میں قائم ہے شاید اب آئین اور پارلیمنٹ کے وقار میں توڑنا مشکل ہو جائے گا۔ غیر جمہوری قوتیں طاقتور ضرور ہیں لیکن شاید اب وہ جرءات نہیں رہی کہ کھلے عام آئین ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جائے۔ وطن عزیز میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی مضبوطی جمہوریت کے تسلسل سے جڑی ہے۔ ناچیز برطانوی وزیراعظم سر ونسٹن چرچل کے برصغیر میں جمہوریت اور آزادی کے حوالے سے ایک مشہور قول کا حوالہ دے کر مضمون کا اختتام کرتا ہے

"Rascals, Rogues and Freebooters”

"Power will go to the hands of rascals, rogues, freebooters; all Indian leaders will be of low calibre & men of straw. They will have sweet tongues and silly hearts. They will fight amongst themselves for power and India will be lost in political squabbles.”

Facebook Comments HS