پاکستان اور مذہبی شدت پسندی

پاکستان سے مراد ایک ایسی ریاست ہے۔ جس کے بانیوں کے منشور کے مطابق پاکستان مذہبی تو تھا لیکن ایسا مذہبی جس میں رہنے والے تمام گروہ، فرقے اور مذاہب بغیر کسی تفرقے کے اس میں ایسے رہ سکیں گویا یہ ان کی اپنی جاگیر ہو۔ بانیان پاکستان اور آج کے پاکستان میں فرق کوہ ہمالہ کی بلندیوں سے بھی زیادہ ہے۔ بانیان پاکستان سے مراد وہ پاکستان تھا جس میں ایک شیعہ گورنر جنرل، ایک ہندو وزیر قانون، ایک

Read more

مندر اور مسجد کی سیاست

برصغیر زمین کا ایک ایسا خطہ رہا ہے۔ جہاں لوگ بہت پرامن طور طریقوں سے زندگی گزارتے چلے آ رہے ہیں۔ برصغیر پر کئی خاندانوں کی حکومت رہی جن کا تعلق مختلف مذاہب سے رہا ہے لیکن انگریز حکومت نے برصغیر پر جو اثرات چھوڑے ہیں ان کی حدت آج تک بہت شدت سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ انگریز دور نے مذہبی منافرت کا جو بیج ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان بویا ہے نا جانے وہ کب ختم ہوگا۔

Read more

اسلامی جمہوریہ کا جمہوری تشخص خطرے میں

قیام پاکستان کے بعد سے ہی جمہوریت کو وطن عزیز میں بحال رکھ پانا جوش شیر لانے کے مترادف رہا ہے۔ قائد کی بہت جلد وفات نے نوزائیدہ ریاست کو سنبھلنے اور ریاست میں جمہوری اداروں کو مضبوط ہونے کا موقع ہی نہ دیا جبکہ دوسری طرف بھارت میں جواہر لال نہرو کا آزادی کے بعد بہت لمبے عرصے تک اقتدار میں بنے رہنا بھارت کے جمہوری مستقبل کو بہت طاقتور بنا گیا۔ ابھی پاکستان قائد کی اور وزیراعظم لیاقت علی خان کی شہادت کے صدمے سے باہر ہی نکلا تھا کہ ملک میں آئینی بحران کھڑا ہو گیا۔ چھوٹی چھوٹی بات پر وزیراعظم بدلے جانے لگے تو ہمسایہ ملک کے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے طنزیہ کہا
”میں تو اتنی دفعہ لنگی نہیں بدلتا جتنی دفعہ پاکستان کے وزیراعظم تبدیل ہوتے ہیں“

Read more