شہادت (گواہی) امانت ہے اسے حقدار تک پہنچائیں!
امام علی علیہ السلام کی ایک زرہ گم ہو گئی یا یوں کہئے کہ چوری ہو گئی۔ خلیفہ وقت حضرت علی رض نے وہ زرہ بازار میں ایک دکان پر دیکھ لی اور اس کا مطالبہ کر دیا۔ دکاندار کے انکار پر معاملہ قاضی تک جا پہنچا۔ قاضی نے علی مرتضی علیہ السلام سے پوچھا کہ آپ کا دعوی اس زرہ پر ہے! کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے جو یہ گواہی دے کہ آپ کا اس زرہ پر دعوی درست ہے، امام علی نے اپنے بیٹے حضرت حسن علیہ السلام کو گواہی کے لئے ہیش کیا تو قاضی نے امام حسن کی گواہی قبول کرنے سے انکار کر دیا حضرت علی علیہ السلام نے قاضی سے سوال کیا کہ کیا تم حسن کی گواہی کو جھوٹا مانتے؟
قاضی نے جواب دیا نہیں میں حسن کی گواہی کو جھوٹا نہیں کہتا مگر شریعت محمدی کے مطابق باپ کے حق میں بیٹے کی گواہی قابل قبول نہیں۔ اور فیصلہ حضرت علی کے خلاف سنا دیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس فیصلے کے سامنے بلکہ یوں کہئے کہ شریعت نبی ﷺ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔ اس مصدقہ روایت سے قانون شہادت اور اور شہادت (گواہی) کی اہمیت و افادیت واضح ہو کر سامنے آتی ہے۔
اول یہ کہ گواہی کی حیثیت امانت کی ہے گواہ امین ہے، واقع کا، گفتگو (بیان) ، اور فعل و عمل کا جس کی بابت اس کے پاس علم واقع، بیان، یا فعل و عمل کے جزئیات یا تفصیلات موجود ہوں یعنی بیان اس کی موجودگی میں دیا گیا، کسی فعل و عمل کا اس کی چشم دید حیثیت میں وقوع پذیر ہوتے ہوئے اسے دیکھا گیا ہو۔ ایسا شخص گواہ یا شاہد۔ کہلائے گا۔ ایسا کوئی بھی شخص جو کسی معاملہ کے بارے میں کچھ بھی معلومات رکھتا ہے اس بابت شہادت کا امین ہے اور اس امانت کو مکمل ایمانداری سے اس کے درست مقام یا عدالت تک پہنچانا اور بیان کرنا ہی اسے اس امانت کی ادائیگی سے عہدہ برا ہونے کی شرط اول کے طور پر ذمہ دار ہے۔
قانون شہادت کی آئینی توجیح جو بھی ہو۔ قرآن و سنت اور احادیث کی روشنی میں شاہد (گواہ ) اپنی ذاتی حیثیت میں رضاکارانہ طور پر امین ہے امانت دار کا امانت کو اس کے مالک کے سپرد امانت کی اصل حیثیت میں پہنچانا اس کا فرض عین ہے۔ وہ اس فرض کو ادا کر کے ہی اس فرض سے عہدہ براہ ہو سکتا ہے دوسری کوئی صورت اس مقصد حصول فرضیت کی نہیں ہے۔ سوائے یہ کہ امین امانتوں کی سپر داری کے لئے کوئی ایسا انتظام کرے کہ گویا وہ انتظام امین اصل کا نعم البدل ہو۔
یہاں اس امر کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے مجھے واقعہ ہجرت کے وقت سے بہتر کوئی مثال سجھائی نہیں پڑتی کہ جب نبی ﷺ کو مکہ سے مدینہ ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے مکہ چھوڑنے کا ارادہ فرمایا تو آپ کے پیش نظر یہ مسئلہ بھی تھا کہ جو کچھ بھی اہل مکہ نے آپ کے پاس امانتیں رکھوائی ہوئی تھیں انہیں ان کے اصلی مالکان تک کیونکر پہنچایا جائے کیونکہ آپ کے مکہ سے رخصت ہونے کا وقت تیزی سے نکلتا جا رہا تھا اور کفار مکہ آپ کی تلاش میں شد ومد سے سرگرم عمل تھے۔
اور دوسری طرف آپ کی جلد از جلد مکہ سے روانگی اشد ضروری تھی ایسے میں امانتیں ان کے مالکوں تک پہنچانا اس قلیل وقت میں ناممکن تھا۔ تو نبی ﷺ نے اپنے سب سے زیادہ قابل اعتماد جانثار دین جن کی تربیت آغوش نبی میں ہوئی تھی یعنی اپنے چچا زاد بھائی حضرت علی مرتضی کو اس کام کے لئے چنا کہ وہ بستر نبی پر سوئیں بھی اور صبح سب امانتیں امانتداروں کے حوالے کر کے ہجرت فرمائیں۔ گویا امانت کی واپسی یا سپر داری کی ذمہ داری تفویض بھی کی جا سکتی ہے مگر یہ حق سپر داری صرف ایسے قابل اعتماد شخص ہی کو دیا جاسکتا ہے جو امین کی نظر میں آخری حد تک امین سے قریب ترین بھی ہو اس جیسی خصوصیات رکھتا ہو اور جیسا فیصلہ نبی نے اپنے نیم البدل کے طور پر علی مرتضی جیسی ہستی کو چن کر کیا کہ وہ اس مرتبہ منصبی کی ادائیگی میں نبی کی بشری وجودیت کے حوالے سے قریب تر تھے۔
چونکہ ہیش نظر تحریر کا مقصد عوام الناس کو برملا شہادت یا گواہی دینے کی ترغیب دینا ہے کیونکہ رائج الوقت نظام انصاف کی بنیاد شہادت و گواہی پر کھڑی ہے قاضی یا جج بذات خود جائے وقوعہ پر ناموجود ہے اس کو انصاف مہیا کرنے کے منصب پر منصب کی حیثیت میں فائز کیا گیا ہے اور منصب ایک زاویے سے خدائی منصب ہے اسے درست اور انصاف و قانون کے مطابق فیصلے تک پہنچنے کے لئے گواہی/شہادت کی ضرورت ہوتی ہے لہذا شاہد/گواہ پر ازخود یہ ذمہ داری عائد ہوجاتی ہے کہ وہ معاملے کی بابت اپنی گواہی عدالت تک رضاکارانہ طور پر پہنچائے تاکہ مجرم سزا پائیں اور بے گناہ سزا سے بچ سکیں۔
مہذب معاشروں میں ہم نے دیکھا ہے کہ اگر کوئی واقعہ رونما ہتا ہے تو اس وقت وہاں موجود لوگ خود بخود اپنا نام مکمل رضاکارانہ طور پر مقدمہ کی گواہی کے لئے لکھوا دیتے ہیں چونکہ یہ کام وہ معاشرے میں انصاف و قانون کی سربلندی اور معاشرے کو جرائم سے پاک رکھنے اور جلد انصاف مہیا کرنے کے ارادے سے رضاکارانہ طور پر کرتے ہیں لہذا اس وجہ سے ایسے معاشروں میں جرائم کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملتی ہے اور ساتھ ہی سستا اور جلد انصاف معاشرے کے ہر فرد کے لئے مکمل اعتماد کے ساتھ مہیا ہونے کا باعث بھی بنتی ہے
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں انصاف عوام کی دسترس سے دور ہے اور زیر سماعت مقدمات طوالت کا شکار بھی ہیں جس کی بنیادی وجہ شہادت/گواہوں کا سامنے نہ آنا ہے مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ گواہی امانت ہے جو جزا و سزا کو عائد کرنے کا واحد ذریعہ ہے اگر میں اس کا امین ہوں تو میرا فرض ہے کہ میں امانت کو جلد از جلد اس کے مالک تک پہنچا دوں تاکہ سزا و جزا کے قانونی تقاضے پورے ہو سکیں مجرم سزا پائیں اور بے گناہوں کو رہائی۔
اگر میرے شہادت/گواہی کو روکنے سے کوئی مجرم سزا سے بچ گیا اور کسی بے قصور کو سزا ہو گئی تو یاد رکھنا چاہیے کہ انصاف کا ایک دربار میدان محشر میں بھی سجنے والا ہے اور وہاں ہر بے گناہ سزایافتہ اور ہر مظلوم کسی تامل و جھجک کے بغیر میرا گریبان پکڑ کر اللہ کے حضور اپنے لئے انصاف طلب کر لے گا اور وہاں بچنے کی کوئی تدبیر نہ ہوگی۔ اگر ہم کسی شہادت اور گواہی کے امین ہیں تو ہمیں اس امانت کا حق ادا کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ ورنہ بقول شاعر!
ارباب ستم کی خدمت میں اتنی ہی گزارش ہے میری
دنیا سے قیامت دور سہی دنیا کی قیامت دور نہیں۔


