گمان


کشتی سست رفتاری سے آگے بڑھ رہی تھی۔ بوڑھا ملاح اپنے کم سن پوتے کے ساتھ جانب منزل تھا۔ شام کے سائے گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ بوڑھے ملاح نے فکر مندی سے غروب ہوتے سورج کو دیکھا، سفر کافی زیادہ تھا لیکن اس کے ناتواں بازوؤں میں اتنا طاقت نہ تھی کہ کشتی کی رفتار بڑھا سکے۔ بچہ گہری نیند کی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ سمندر کے درمیان ایک چھوٹے بچے کا ساتھ اور طوفان کے بارے میں سوچ کر اس کی پریشانی میں اضافہ ہوتا گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس عمر میں طوفان کا مقابلہ کرنا اس کے بس کی بات نہیں ایک ہچکولا ہی کشتی الٹ سکتا ہے اور بچے کو ساتھ لے کر طوفان میں سے نکلنا ناممکن تھا۔ سورج کے غروب ہونے کی دیر تھی کہ آسمان پر بادلوں کی آمد شروع ہو گئی۔ طوفان کا سوچ کر بوڑھے ملاح نے جھرجھری سی لی اور آگے بڑھ کر بچے کو سینے سے لگا لیا۔ اسے اپنی نہیں بچے کی فکر ستا رہی تھی۔

بچہ آنکھیں کھول کر حیرانی سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ سمندر اس کے لیے نیا نہیں تھا لیکن اپنے دادا کی آنکھوں میں خوف دیکھ کر سہم کر رہ گیا۔ بوڑھے نے پیار سے اس کا چہرہ تھپتھپایا۔ اسی اثنا میں ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور کشتی نے ہلکا سا ہچکولا کھایا۔ بوڑھے کا چہرہ متغیر ہو گیا، بچہ بھی گھبرا کر رونے لگا۔ ”کچھ نہیں ہوگا ہم بہت جلد منزل پر پہنچ جائیں گے۔ اللہ پر بھروسا رکھو بوڑھے نے اسے تسلی دی۔ کیا اللہ ہمیں بچا لے گا اس طوفان سے؟ بچے نے معصومیت سے سوال کیا۔

بچے کا سوال سن کر خوفزدہ بوڑھا ایک لمحے کے لیے پرسکون سا ہو گیا۔ اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکان آ گئی۔ ہاں ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو گا اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کر دے گا۔ بچے نے مطمئن ہو کر آنکھیں موند لیں۔ اس یقین تھا کہ اللہ اسے بہت جلد گھر پہنچا دے گا۔ کیونکہ ایک مرتبہ اس کی ماں نے کہا تھا کہ اللہ تم سے مجھ سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ یہ بات سوچ کر وہ مطمئن سا ہوگیا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں اس سے بہت پیار کرتی ہے۔

اس کا مطلب اللہ مجھ سے میری ماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے اس کے چہرے پر مسکان سی آ گئی۔ اور سوچتے سوچتے نیند کی گہری آغوش میں چلا گیا۔ جوں جوں موسم میں خرابی آ رہی تھی بوڑھے ملاح کی حالت خراب ہو رہی تھی۔ آسمان پر گہرے بادلوں نے قبضہ جما لیا تھا۔ کسی بھی وقت بارش شروع ہو سکتی تھی۔ اسے موت اپنے سامنے دکھائی دے رہی تھی۔ اضطرابی نظروں سے وہ بار بار اردگرد دیکھ رہا تھا۔ بچاؤ کی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی تھی۔ بادلوں کی گھن گرج سیدھا اس کے دل پر لگ رہی تھی۔ سارے بدن پر کپکپی طاری ہو چکی تھی۔ اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا۔

صبح کا اجالا ہر طرف چھا چکا تھا۔ کشتی کنارے پہ جا لگی۔ شور سے بچے کی آنکھ کھلی تو خود کو ماں کی آغوش میں پایا۔ خوشی سے اس کے چہرے پر مسکان آ گئی اللہ نے اسے بچا لیا تھا لیکن یہ کیا اس کا باپ اور دوسرے لوگ اس کے دادا پر جھکے ہوئے تھے اور وہ بے حس و حرکت پڑا تھا۔ اس کی ماں بھی پریشان تھی۔ پر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اللہ کے بارے میں اس کا گمان جیت گیا تھا اور اس کے دادا کو شکست ہوئی تھی۔

Facebook Comments HS