آپ اپنی زندگی میں کن محاذوں پر جنگ لڑتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھ سے کئی نوجوان دوست پوچھتے ہیں
”ڈاکٹر سہیل! ہم آپ کو ایک کامیاب رائٹر اور ڈاکٹر، ہیومنسٹ اور سائیکو تھراپسٹ کے طور پر جانتے ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ آپ اس منزل تک کیسے پہنچے۔ آپ کو اس کامیابی کے راستے میں کن دشواریوں اور کن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا اور آپ ان سے کیسے نبرد آزما ہوئے؟“

آج میں آپ سے اپنی زندگی کی چند آزمائشوں کا ذکر کرنا چاہتا ہوں اور زندگی کے ان محاذوں کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جن پر میں کئی سالوں بلکہ کئی دہائیوں سے جنگ لڑ رہا ہوں۔

جب مجھے اپنی نوجوانی میں اندازہ ہو گیا کہ میں ایک غیر روایتی انسان ہوں تو مجھے یہ بھی احساس ہو گیا کہ مجھے اپنی راہ خود بنانی ہے اور مجھے اپنی غیر روایتی زندگی کے لیے قربانی بھی دینی ہے۔

میری پہلی آزمائش یہ تھی کہ میں ایک ماہر نفسیات بننا چاہتا تھا لیکن پشاور یونیورسٹی اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں آپ سب کچھ بن سکتے تھے ماہر نفسیات نہیں بن سکتے تھے۔ چنانچہ میں کئی دن تک کسی ماہر نفسیات کے کلینک کی تلاش میں پشاور کی گلیوں اور بازاروں میں گھومتا پھرا۔ آخر بعد از تلاش بسیار مجھے ڈاکٹر احمد علی کا کلینک مل گیا۔ میں نے جب ان کے ساتھ کام کرنے اور کچھ سیکھنے کی درخواست کی تو انہوں نے میرے ذوق و شوق اور میرے جذبے کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنی شاگردی میں قبول کر لیا۔ میں تین مہینے تک ان سے نفسیات کے اسرار و رموز سیکھتا رہا اور پھر میں ایران چلا گیا۔

ایران میں میں نے شہر ہمدان میں بو علی سینا کے مزار کے سامنے ایک بچوں کے کلینک میں ایک سال کام کیا اور مغربی دنیا کی یونیورسٹیوں کے نفسیات کے شعبوں میں سینکڑوں درخواستیں بھیجیں۔ ایک سال بعد مجھے نیوزی لینڈ، آئرلینڈ اور نیو فن لینڈ میں داخلہ مل گیا۔ میں نے کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی میں داخلہ اور کینیڈا چلا آیا۔

نفسیات میں ایف آر سی پی حاصل کرنے کے بعد میں نے اپنے مریضوں کے لیے ایک سیلف ہیلپ پروگرام تشکیل دیا جس سے پچھلی چند دہائیوں میں سینکڑوں مریضوں اور ان کے خاندانوں نے استفادہ کیا۔ وہ ایک غیر روایتی پروگرام ہے اور گرین زون لونگ کہلاتا ہے۔ اب ہم نے مریضوں اور دوستوں کے لیے اس کی ایک ویب سائٹ بھی بنائی ہے
www.greenzoneliving.ca

اپنے غیر روایتی فلسفے اور طرز زندگی کی وجہ سے مجھے پچھلی تین دہائیوں میں تین محاذوں پر جنگ لڑنی پڑی۔

پہلا محاذ مذہب کا محاذ تھا۔ جب لوگوں کو پتہ چلا کہ میں ایک دہریہ ہوں تو وہ مجھ سے دور ہو گئے۔ چونکہ روایتی لوگ اخلاقیات کا رشتہ مذہب سے جوڑتے ہیں اس لیے ان کے لیے یہ ماننا مشکل تھا کہ ایک غیر مذہبی انسان کی بھی اخلاقیات ہو سکتی ہیں۔ میں نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی کہ میں انسان دوست ہوں اور انسانی آزادی اور انسانی حقوق کا احترام کرتا ہوں لیکن ان کے لیے ایسی سوچ ایک معمہ تھی۔ جب روایتی اور مذہبی لوگوں کو پتہ چلا کہ ہماری فیمیلی آف دی ہارٹ میں کئی ایتھیسٹ، کمیونسٹ، انارکسٹ اور ہیومنسٹ موجود ہیں تو پہلے تو وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے لیکن پھر ہماری ادب دوستی اور انسان دوستی کو دیکھ کر ان میں سے بہت سے واپس آ گئے۔

دوسرا محاذ ادب کا محاذ تھا۔ بہت سے لوگوں کو میری تخلیقات پر یہ اعتراض تھا کہ میں بہت سادہ زبان میں شاعری، افسانے اور مضامین لکھتا ہوں۔ وہ کہتے تھے کہ اس طرح تو دسویں جماعت کا طالب علم لکھتا ہے اور میں انہیں ادب میں سہل ممتنع کی اہمیت اور افادیت پر غور کرنے کی دعوت دیتا تھا اور میرؔ کا یہ شعر سناتا تھا

کہا میں نے گل کا ہے کتنا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا

برٹرینڈ رسل کہا کرتے تھے کہ انہیں سادہ زبان میں لکھنا سیکھنے میں پچاس برس لگے۔ ایسا لکھنا بظاہر آسان لیکن درپردہ مشکل کام ہے۔ میری نگاہ میں مشکل دقیق اور گنجلک مضامین اور نظریات کو عام فہم زبان میں بیان کرنا اتنا آسان نہیں جتنا لگتا ہے۔ ہمیں اس کی مثالیں صوفیانہ شاعری اور اساطیری کہانیوں میں ملتی ہیں۔

جب ہم کہتے ہیں کہ ہم عوام کے لیے لکھتے ہیں تو میں کوشش کرتا ہوں کہ ایسی زبان میں لکھوں کہ عوام سمجھ سکیں۔ بہت سے ادیب، شاعر اور دانشور ایسی ثقیل زبان میں لکھتے ہیں کہ ان کی تخلیقات کو عوام سمجھ ہی نہیں پاتے اور میں ان تحریروں کو پڑھ کر یہ سوچتا رہتا ہوں کہ اگر عوام سمجھیں گے ہی نہیں تو اس سے استفادہ کیسے کر سکیں گے۔

تیسرا محاذ محبت کا محاذ ہے۔ پاکستان کے بہت سے عوام و خواص فرازؔ کے اس مصرعے پر ایمان رکھتے ہیں
؎ ہم محبت میں بھی توحید کے قائل ہیں فرازؔ

اور وہ محبت بھی شادی کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ محبت ایک آزاد پنچھی کی طرح ہے جسے آپ کسی روایتی شادی کے پنجرے میں بند کرنے کی کوشش کریں تو کچھ عرصہ بعد وہ پرندہ اداس ہو جاتا ہے۔ مشرق میں ایک مولوی صاحب دو اجنبیوں کو نکاح پڑھا کر میاں بیوی بنا دیتے ہیں۔ ایسے دو اجنبی جن میں کوئی جذباتی و ذہنی و رومانی و روحانی ہم آہنگی نہیں ہوتی اور وہ نجانے کتنے برس اور دہائیاں دریا کے دو کناروں کی طرح متوازی زندگیاں گزار دیتے ہیں۔

میں جب عوام و خواص سے کہتا ہوں کہ میں محبت کا قائل ہوں شادی کا نہیں تو وہ بہت حیران ہوتے ہیں اور جب کہتا ہوں کہ انسان فطری طور پر یک زوجی نہیں ہے تو پریشان ہو جاتے ہیں۔ ان کے لیے یہ تصور کہ ایک انسان ایک سے زیادہ انسانوں سے محبت کر سکتا ہے بہت عجیب تصور ہے۔

میں جب روایتی اور مذہبی مردوں اور عورتوں سے محبت کی بات کرتا ہوں تو وہ گناہ و ثواب کی بات شروع کر دیتے ہیں اور گفتگو میں مولوی کو لے آتے ہیں۔

میں ان سے کہتا ہوں کہ آپ دنیا بھر کے سنتوں، سادھوؤں، صوفیوں، شاعروں، ادیبوں، فنکاروں اور دانشوروں کی سوانح عمریاں پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ انہوں نے کتنی غیر روایتی رومانوی زندگیاں گزاریں یہ علیحدہ بات کہ ان پر فتوے بھی لگے اور وہ تنقید کا نشانہ بھی بنے لیکن انہوں نے وہ سب تنقیدیں اور سب فتوے مسکرا کر برداشت کیے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ محبت دو انسانوں کا ذاتی معاملہ ہے اور ان کا ضمیر صاف ہے۔ وہ اس شعر پر کارفرما تھے

؎ بس ایک ثبوت اپنی وفا کا ہے مرے پاس
میں اپنی نگاہوں میں گنہگار نہیں ہوں

جو دوست مجھے قریب سے جانتے ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ میں انسان کی آزادی کا قائل ہوں۔ ہر انسان کا اپنا شعور اور اپنی عقل ہے اور وہ اپنے ضمیر کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا حق رکھتا ہے۔

چونکہ میرے ادب اور مذہب، روایت اور محبت کے بارے میں خیالات، احساسات اور نظریات غیر روایتی ہیں اس لیے بہت سے لوگ مجھ پر تنقید بھی کرتے ہیں اور مختلف حوالوں سے اعتراض بھی کرتے ہیں۔ میں نے تین سال پیشتر جب، ہم سب، پر کالم لکھنے کا آغاز کیا تو شروع میں بہت سے مولویوں نے سنگ باری کی لیکن میں نے اپنی نانی اماں کے قول
اک چپ تے سو سکھ۔ ۔ ۔

پر عمل کرتے ہوئے خاموشی کی چادر اوڑھے رکھی اور وہ میری خاموشی سے تنگ آ کر آہستہ آہستہ یا تو محفل چھوڑ کر چلے گئے اور یا انہوں نے میری غیر روایتی سوچ اور لکھنے کے انداز کو دل سے لگا لیا۔

میں تو جب اپنے ماضی کی طرف نگاہ اٹھاتا ہوں تو فیض احمد فیضؔ کا یہ شعر گنگناتا ہوں
؎ فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 352 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply