دریا کے دوسرے کنارے والی لڑکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تانیا سے میری ملاقات ہوئی جب میں نے نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی سے کمپیوٹر اینڈ انفورمیشن میں ماسٹرز کر رہا تھا۔ وہ ہمارے ہی گروپ میں تھی۔ تعارف ہوا تو بولی۔

” تمہارا نام حسن ہے۔ پاکستانی ہو کیا؟” میں نے اثبات میں سر ہلایا۔

” میں انڈین ہوں۔ مسلم فیملی سے ہوں۔ حیدرآباد میرا شہر ہے”

” اردو آتی ہے؟” میں نے اردو میں پوچھا۔

” ہاں ہاں مجھے بہت اچھے سے اردو بولنا آتا ہے” اس کے اس انداز پر میں بے تحاشا ہنس دیا۔ وہ بھی ہنسی۔ اور ہماری دوستی ہو گئی۔ وہ مجھے بہت اچھی لگنے لگی۔ اتنی کہ جس دن وہ آنے میں دیر کر دیتی میں بے قرار ہو جاتا۔ وہ جب آتی تو مجھے ہر چیز حسین لگنے لگتی۔ ہم گروپ اسٹڈی کرتے تھے۔ ہمارے گروپ کے سبھی لوگ اس سے متاثر تھے۔ وہ حسین بھی تھی اور ذہین بھی۔ محنت بھی بہت کرتی تھی۔ اس کے پاس بے شمار آیڈیاز ہوتے، پلاننگ ہوتی، بھرپور انرجی، جوش و خروش سے جلدی جلدی اپنی بات کرتی اور چاہتی کہ ہم سب اسے سمجھ لیں۔۔ وہ ہمارے گروپ کا اثاثہ بن گئی۔ اس کے ساتھ وقت بہت خوشگوار گذرتا۔ بات بات پر قہقہے لگاتی، مذاق کرتی، اور ہمیشہ خوش نظر آتی۔ زبان ایکسپریس ٹرین کی رفتار سے چلتی۔ لگتا تھا کہ خیالات کا ایک سمندر جس پر کوئی بند نہیں۔

پھر ایک دن ہمارا گروپ سیشن تھا ہم اس کا انتظار کرتے رہے۔ کسی نے کہا ” اسے فون کرو” اور ہمیں پتہ چلا کہ ہم میں سے کسی کے پاس اس کا نمبر نہیں ہے۔ مجھے سارا دن بے قراری رہی۔ کہیں دل نہیں لگا۔ اگلے دن وہ آ گئی۔ اس کا حلییہ کچھ عجیب سا تھا۔ مسکا ہوا لباس، الجھے ہوئے بال، سوجی ہوئی آنکھیں۔ تھکی ہوئی سی۔ سب نے اس کا حال پوچھا۔ وہ بہت کھوئی کھوئی سی لگی۔ سب فکرمند ہوئے۔

” تم ٹھیک تو ہو نا؟” میں نے تشویش ظاہر کی۔

” میں ٹھیک ہوں” اس نے یقین دلایا اور ہم نے مان لیا۔ اور اس کا فون نمبر بھی لے لیا۔ دو دن میں نارمل بھی ہو گئی۔ اور مجھے بہت اچھی لگنے لگی۔ جلد ہی مجھے یہ احساس ہونے لگا کہ وہ میرے دل میں سما رہی ہے۔ یہ ڈر بھی کہ شاید یہ سب یکطرفہ ہوگا۔ کیونکہ اس کی طرف سے کبھی کوئی ایسی حوصلہ افزائی نہیں ہوئی۔ اس کا رویہ تو سب ہی ساتھ دوستانہ تھا ہر ایک سے گرمجوشی سے ملتی۔

ایک دن کلاس کے بعد ہم اکھٹے نکلے۔ وہ ساتھ چلتی رہی میں اس ساتھ قدم ملاتا چلتا رہا۔ پھر اچانک پتہ نہیں کہاں سے مجھ میں اتنی ہمت آ گئی کہ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے ہاتھ نہیں چھڑوایا بلکہ مسکرا دی۔ میری جان میں جان میں آئی۔ سارا دن سرشاری میں گذرا۔ رات بھی اس کے ہی خوب دیکھتے گذری۔

میری دوستی بڑھ کر اب محبت کی سرحد پہ کھڑی تھی۔ میں سرحد کے پار اترنا چاہتا تھا لیکن تذبذب میں تھا۔

وہی بات کہ۔ میں جسے پیار کا انداز سمجھ بیٹھا ہوں۔ وہ تبسم وہ تکلم تری عادت ہی نہ ہو۔

ایک بار ہمت کر کے کہہ ہی دیا۔ ” مجھے لگتا ہے کہ مجھے کچھ کچھ تم سے محبت ہو گئی ہے” وہ کھل کھلا کے ہنسی” کچھ کچھ کیوں؟ پوری کیوں نہیں؟” مجھے اطمینان ہوا کہ اسے بات بری نہیں لگی۔

 ایک دن وہ پھر غایئب ہوگئی۔ میں نے فون کیا جواب نہیں ملا۔ سارا دن اداسی میں گذرا۔ گھر آ کر پھر فون کیا اس نے اٹھا لیا اور بتایا کہ وہ ٹھیک ہے بس مایگرین ہے۔ کل آئے گی۔ اگلے دن آئی تو بہت تھکی تھکی سی لگی۔ سب نے کہا کہ کل اسے ہم نے مس کیا۔ وہ میری طرف متوجہ ہوئی۔ “آپ مجھے کتّا مس کئے جی؟”

“اتّا” میں نے دونوں بازو پھیلا کر اسی کی انداز میں جواب دیا۔ وہ بے تحاشا ہنسی۔

میں اس کے بارے اتنا ہی جانتا تھا جتنا اس نے مجھے بتایا۔ اس کے پاپا کا انڈین فوڈ اسٹور ہے۔ اسٹور کا نام سن کر میں حیران بھی ہوا اور پریشان بھی وہ نیویارک کا سب سے بڑا انڈین فوڈ اسٹور تھا۔ اس کی ممی کو پارٹیز کرنے کا بہت شوق ہے۔ ایک بڑا بھائی ہے وہ شکاگو کا اسٹور چلاتا ہے۔ اس کا گھر نیو یارک میں مین ہٹن کے جوار میں ہڈسن اسکویئر میں تھا جو متمول لوگوں کی رہایئش گاہ ہے۔ گھر یونیورسٹی سے بہت دور ہے اس لیئے یہیں ایک اپارٹمنٹ ایک اور لڑکی کے ساتھ لے رکھا ہے۔ ویک اینڈز میں گھر جاتی ہے۔

میں سوچتا رہا کہ اسے اپنے بارے میں سب سچ بتاوں۔ یا کچھ چھپا جاوں۔ لیکن پھر سارا سچ بتانا ہپی مناسب لگا کہ میرے ابو ایک پیتزا ہٹ پر ہیڈ شیف ہیں، امی وال مارٹ پر کیشیئر ہیں۔ ایک چھوٹا بھائی ہے پڑھ رہا ہے۔ گھر ہمارا متوسط علاقے کلنٹن ہل میں ہے۔ ابو اور امی دونوں کا ادب سے لگاؤ ہے۔ شاعری وغیرہ چلتی رہتی ہے۔ ہم دونوں بھائی فٹ بال دیکھتے ہیں اور ابو کرکٹ۔ امی نے بیک یارڈ میں سبزیاں اگائی ہوئی ہیں۔ ہرا دھنیا، پودینہ۔ مرچیں، بھنڈی اور چھوٹی مولیاں۔ ہم سب صبح پانچ بجے اٹھے ہیں۔ ابو ناشتہ بناتے ہیں امی اپنا اور ہم سب کا لنچ لے جانے کے لیئے تیار کرتی ہیں۔ ابو گاڑی میں امی کو چھوڑتے ہوئے اپنے کام پر چلے جاتے ہیں میں اور بھائی سب وے لیتے ہیں۔ اتنا کچھ بتایا اور وہ بولی” امی پودینے اور مرچوں کی چٹنی بھی بناتی ہیں؟” ” ہاں ” ” تو کسی دن بنوا کر لانا۔ ” میں اگلے ہی دن پراٹھے اور چٹنی لنچ میں لے گیا اور اس نے چٹخارے لے کر کھایا۔

 اور پھر اسے بھی مجھ سے محبت ہو گئی۔۔ کچھ کچھ نہیں بلکہ پوری۔ میں جانتا تھا وہ میری پہنچ سے دور ہے۔ بڑے گھرانے کی ہے، انڈین ہے، آزاد خیال ہے۔ حسین ہے اور کافی بے باک بھی۔

ہم نے ایک سمسٹر پاس کر لیا اب دوسرا چل رہا تھا اور ہماری محبت بھی ساتھ ساتھ بڑھ رہی تھی۔ سب ہی جان گئے تھے کہ ہم کپل ہیں۔ وہ سب کے سامنے میرے گلے لگ جاتی، میرے گال چوم لیتی، رومنٹک جملے اچھالتی۔ میں کبھی محظوظ ہوتا، کبھی شرم سے سرخ پڑ جاتا۔ اور کبھی مجھ ہر گھبراہٹ طاری ہو جاتی۔ ایک دن وہ پھر بغیر کسی اطلاع کے غائب ہو گئی۔ میں نے فون پر فون کیئے لیکن جواب نہیں ملا۔ کلاسز کے بعد میں اس کے اپارٹمنٹ پہنچ گیا۔ دروازے کی گھنٹی بجائی۔ اس کی روم میٹ نے دروازاہ کھول دیا اور اشارے سے تانیا کے کمرے کا بتا دیا۔ میں نوک کر کے اندر چلا گیا۔ وہ بستر پر آڑی ترچھی لیٹی تھی۔ میں نے آواز دی تو چونکی۔ اور غضب ناک نگاہوں سے مجھے دیکھا

 تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟” وہ چیخ کے بولی۔ میں گویا زمین میں گڑ گیا۔ ” وہ۔۔ تم۔۔۔ آئی نہیں۔۔ میں حال پوچھنے۔۔۔ چلا آیا”۔ ” میں ٹھیک ہوں۔ جاو۔ ” وہ شدید غصے میں تھی۔ میں الٹے قدموں واپس ہو لیا۔ رات گئے اس کا مسیج آیا “سوری۔۔ کل بات ہو گی” میں نے جواب نہیں دیا۔ اگلے دن آئی تو جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہی التفات وہی گرمی جذبات وہی ہنسی مذاق۔ تنہائی ملتے ہی بولی” آپ ہماری باتاں کا برا نہیں منایئے۔ یہ مایئگرین بہت تکلیف دیتا ہے۔۔ ہوش میں نہیں رہتے ہم۔ خسم سے شرمندہ ہیں، سوری جان” اس نے ہاتھ جوڑے۔ میں پگھل گیا۔ اس کی انہی باتوں پر تو میں فدا تھا۔ ” تم کوئی دوا نہیں لیتیں؟” ” ہاں لیتی ہوں۔ لیکن فایئدہ نہیں ہوتا”

پھر ایسے کئی واقعات ہوئے۔ اسے شبنم سے شعلہ بنتے دیکھا۔ شہد سی میٹھی زبان کو زہر اگلتے سنا۔ لیکن اب مجھے اس کا ہر انداز اچھا لگنے ایک دن کلاس کے دوران مجھ سے بولی” چلو آج شاپنگ پر چلتے ہیں” میں ساتھ ہولیا۔۔ میرے لیئے تو اس کا ساتھ چلنا، ہاتھ تھامنا بہت بڑی بات تھی۔ وہ مجھے ایک بہت بڑے شاپنگ مال میں لے گئِ۔ ایک دوکان سے دوسری دوکان۔ خریداری پہ خریداری۔ شاپنگ بیگز تھامے میرے ہاتھ دکھ گئے۔ وہ اندھا دھند خریداری کر رہی تھی۔ ہر ادایئگی کارڈ سے کر رہی تھی۔ میں حیران تھا۔ وہ آرمانی کی بوتیک پہنچ گئی۔ ایک مردانہ جیکٹ منتخب کر کے بولی ” اسے ٹرائی کرو۔ تمہارے ناپ کی ہے نا؟”

” نہیں۔۔۔ ہر گز نہیں” میں جھنجھلا گیا۔ ” کیوں نہیں؟” ” میں اتنی مہنگی چیز افورڈ نہیں کرسکتا” ” ارے یہ میرا گفٹ ہے تمہارے لیئے” ” میں نہیں لے سکتا یہ گفٹ۔ میرے لیئے تو گھر والوں کے سوالوں کا جواب دینا مشکل ہو جائے گا۔ کیا کہوں گا کہ کہاں سے لی ہے یا ملی ہے” ” وہ تم سے پوچھیں گے کیا”؟ اس کی آنکھیں میں بہت حیرانی تھی۔ شاپنگ کے بعد برگر کھایا اور لدی پھندی تانیا کو اس کے اپارٹمنٹ تک چھوڑ کر میں گھر آ گیا لیکن میرے دماغ میں الجھنیں تھیں۔ ہماری اس محبت کا انجام کیا ہوگا؟ وہ میرا ساتھ کہاں تک دے سکے گی؟ ہم ساتھ چل بھی سکیں گے؟ پھر میں نے خود کو اور اپنی محبت کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیا۔

آخری سمسٹر ختم ہونے کو تھا۔ ہم سب اپنے تھیسیس میں لگ گئے۔ ساتھ ہی جاب کی تلاش بھی شروع کر دی۔ نتائج آ گئے۔ ہمارا گروپ اچھی طرح کامیاب ہوا۔ تانیا کے گریڈز ہم سب سے بہتر تھے۔ ہم نے جاب ڈھونڈنے شروع کر دیئے۔ تانیا کو جلد ہی آفر آ گئی۔ مجھے چھے انٹرویوز کے بعد کام ملا۔ اب ہماری عملی زندگی شروع ہو گئی۔ تانیا اپارٹمنٹ چھوڑ کر اپنے گھر واپس چلی گئی۔ ہمارا ملنا کم کم ہو گیا۔ لیکن فون پر رابطہ رہا۔ ایک دن ہم کافی پر ملے۔

 ” حسن اب وخت آ گیا ہے” ” کس بات کا وقت؟” میں چونکا۔ ممی پاپا ملنا چاہتے ہیں تم سے۔ میں نے سب بتا دیا ہے انہیں۔ ” مجھ پہ ایک بار پھر حیرانی کا پہاڑ ٹوٹا۔ میں نے ابھی اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔۔ ابھی ابھی تو جاب شروع ہوئی ہے۔ مجھ پر ذمہ داریاں ہیں۔ والدین کو سمجھانا اور منانا ہے۔ پورا مقدمہ لڑنا ہے۔ لیکن مجھے اس کی بات مانی پڑی۔ ایک شام میں پھول لے کر ان کے بڑے سے گھر پہنچ گیا۔ تانیا میرا بازو پکڑ کر اپنے لیوینگ روم تک لے گئی۔ جہاں اس کے ممی پاپا بیٹھے تھے۔۔ میرا انٹرویو شروع ہو گیا۔ اتنے پسینے مجھے اپنی تھیسیس کی پیشکش میں نہیں آئے اور اتنا نروس میں کسی جاب انٹرویو میں نہیں ہوا۔ پاپا نے میرا فیملی بس منظر، تعلیمی ریکارڈ، جاب کی نوعیت سب پوچھ ڈالا۔ ممی نے پوچھا” آپ دونوں ایک دوسرے کو اچھا سا جان گئے ہیں نا؟” میں نے سر ہلا دیا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *