سندھ، ڈرگز مافیا اور ام رباب چانڈیو کا کیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منشیات فروشی اور منی لانڈرنگ ایسی لعنت ہے جس نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کو ایف اے ٹی ایف کی میٹنگز میں حاضریاں لگوانے پر مجبور کر دیا ہے۔ منشیات فروش گروہ اس قدر منظم اور با اثر ہیں کہ ان تک پہنچنا اداروں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے جرائم اور منشیات کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھ اعشاریہ سات فیصد پاکستانی منشیات استعمال کر رہے تھے اور اب تک اس میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔

جرمن صحافتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق 2019 میں پاکستان کے اندر تقریباً چھہتر لاکھ افراد منشیات کے عادی تھے۔ ان میں سے اٹھتر فیصد مرد اور بائیس فیصد خواتین ہیں۔ اے این ایف نے اس سلسلے میں کارروائیاں شروع کیں اور منشیات فروشوں کو جیلوں میں بھجوایا۔ دو ہزار انیس کے آخر میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے 352 آپریشن کیے اور 389 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف کیسز دائر کروائے۔ 1156 کلوگرام افیون، 281 کلوگرام ہیروئن اور 16772 کلوگرام حشیش برآمد کر کے تلف کی۔

یہ منشیات فروش گروہ اب سکول کالجز اور یونیورسٹیز تک آن پہنچے ہیں اور آنے والی نسل کو برباد کر کے پاکستان کا مستقبل تاریک کرنے میں دن رات ایک کر رہے ہیں۔ آنے والے وقت میں پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے منشیات فروشوں کو گرفتار کر کے عدالتوں میں پیش کرنا پڑے گا۔ ہر منشیات فروش کو کسی نا کسی با اثر شخصیت کی پشت پناہی حاصل ہے جو دھڑلے سے اس مکروہ عمل کو سرانجام دے رہے ہیں۔ سندھ میں سکھر، دادو، سانگھڑ اور حیدرآباد میں منظم گروہ اس کام میں ملوث ہیں۔

آئے روز یہ گروہ آپس میں لڑتے ہیں اور ذاتی رنجش کی بنیاد پر ان کے قتل ہونے کی خبریں آتی رہتیں ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسے کیسز میں مقتول کے ورثاء حقائق پر پردہ ڈال کر اصل بات کو چھپا لیتے ہیں اور ایسے بیانات جاری کرتے ہیں جس سے قتل جیسی گھناؤنی واردات کے نتائج معلوم کرنے کے لیے سیکیورٹی کے اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس بارے میں مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں کہ ”دنیا میں سب سے زیادہ قتل و غارت سیاسی میدانوں میں ہوئی جن پر مذہب کی چادر اڑھا دی گئی“ ۔ کچھ ایسا ہمارے ہاں بھی ہوتا آیا ہے کہ مقتول کو عوامی ہمدردی مہیا کرنے کے لیے غلط بیانی کی جاتی ہے۔

بظاہر ذاتی دشمنی کی بنا ہونے والی ایک قتل کی واردات جس پہ ہمدردی کی چادر اوڑھا دی گئی وہ سترہ جنوری 2018 کی صبح نو بجے ضلع دادو میہڑ شہر کے تھانے سے چند قدم کے فاصلے پر ہوئی۔ اس واردات کی کہانی عوام الناس تک اس وقت پہنچی جب ام رباب نامی ایک بچی کی عدالت کی سیڑھیوں سے ننگے پاؤں اترتے وقت کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس قتل کی واردات میں ام رباب کے گھر کے آگے اس کے دادا کرم اللہ چانڈیو، والد مختیار چانڈیو اور چاچا قابل چانڈیو کو قتل کر دیا گیا تھا۔

ایف آئی آر، عینی گواہوں اور تفتیش کے مطابق اس دن صبح ٹھیک نو بجے ایک گاڑی میں تین افراد غلام مرتضیٰ، غلام قادر اور سکندر چانڈیو جا رہے تھے۔ یہ ام رباب کی فیملی کے انتہائی قریبی ممبرز ہیں، ام رباب کے والد مختار چانڈیو ان کے راستے میں کھڑے تھے اور انہوں نے گاڑی میں سوار افراد کو لعنت دی، جس کے بعد گاڑی میں سوار ام رباب کے رشتے کے چاچا غلام مرتضیٰ نے ان پر گولی چلا دی، وہ زخمی ہوئے اور اپنے گھر کی جانب بھاگے، گاڑی میں بیٹھے ملزمان ان کے پیچھے آئے اور گاڑی میں بیٹھے دوسرے شخص غلام قادر نے جو ام رباب کا چچا تھا اس نے رپیٹر گن کی گولیوں سے ام رباب کے والد مختار چانڈیو موقع پر مارے گئے، ام رباب کے گھر سے بھی اس فائرنگ کے جواب میں گولیاں چلیں۔

والد کے گن مین نے فائرنگ کرنے والے ام رباب کے رشتے کے چاچا غلام قادر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا، اس دوران ام رباب کے دادا کرم اللہ بھی آ گئے اور انہوں نے گولیاں چلانے والے ایک ملزم سکندر چانڈیو کو اپنی رپیٹر گن کے ذریعے قابو کرنے کی کوشش کی، ام رباب کے رشتے کے چاچا غلام مرتضی نے ام رباب کے دادا کو سینے پر گولی ماری جس سے وہ زمین پر گرے اور پلٹ کر سکندر نے کرم اللہ کے پیٹ میں گولی مارکر ہلاک کر دیا، اس دوران گولیوں کا شور سن کر قریب موجود حجام کی دکان سے ام رباب کے چاچا قابل چانڈیو بھی بھاگتے ہوئے آئے، سکندر چانڈیو نے اسے بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

سپریم کورٹ میں بعض ملزمان کے وکیل سردار لطیف کھوسہ کی دائر کردہ اپیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس واقعے کے مرکزی ملزمان میں غلام مرتضیٰ اور سکندر چانڈیو ہیں، جنہوں نے براہ راست قتل کیا۔ مرکزی ملزم غلام مرتضیٰ مفرور ہے۔ اس واقعہ کے بعد جب ایف آئی آر درج ہوتی ہے تو حیران کن طور پر اس میں دو شخصیات کو نامزد کیا جاتا ہے جن کا اس واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ان میں ایک نام رکن سندھ اسمبلی برہان خان چانڈیو کا ہوتا ہے اور دوسرا نام رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیو کا ہے۔ حالانکہ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس دن برہان خان چانڈیو ٹنڈو محمد خان میں حاجی صوبو خان چانڈیو کے گاؤں میں وزیراعلٰی سندھ اور بلاول بھٹو کا استقبال کر رہے تھے جہاں انہوں نے دوپہر کا کھانا اکٹھے کھایا۔

اس تقریب کی فوٹیج میڈیا پہ لائیو چلی تھی اور دوسری شخصیت سردار خان چانڈیو جائے وقوعہ سے لگ بھگ 70 کلومیٹر دور اپنے فارم ہاؤس پر اپنے غیر ملکی دوستوں کے ساتھ موجود تھے۔ اس میں ایک اور حیران کن پہلو یہ بھی ہے کہ اس واقعہ میں ام رباب کے والد کے گن مین نے حملہ کرنے والے چچا غلام قادر چانڈیو کو بھی فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ جب غلام قادر چانڈیو کی اہلیہ نے ام رباب کے خاندان کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی تو اس ایف آئی آر کو بی کلاس کر دیا گیا۔

اور اب آتے ہیں ام رباب کی فیملی کی طرف، کہا جاتا ہے کہ ام رباب کے دادا مقتول کرم اللہ چانڈیو کی وجہ شہرت بہت اچھی نہیں تھیں، انڈر گراؤنڈ کے سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی خبریں مشہور ہی تھیں۔ بہت سے لوگ ان پر قتل، منشیات فروشی اور زمینوں پر قبضے کے الزامات لگاتے ہیں۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ ایسے لوگوں یا گروہوں کو با اثر شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے، کرم اللہ داد بھی مقتدر طاقتوں جیسے لیاقت جتوئی کے ساتھی رہے ہیں۔

متعدد قتل کے کیس میں الزام میں ام رباب کے مقتول دادا کو پولیس نے 1986 میں گرفتار بھی کیا، مگر جس روز ان کے کزن بدنام زمانہ ڈاکو یعقوب چانڈیو کا قتل ہوا اس سے اگلے روز انہیں رہائی مل گئی جس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ مبینہ طور پر کرم اللہ چانڈیو پولیس کے مخبر بن گئے تھے۔

ایک ایف آئی آر کے مطابق، ام رباب کے والد مختیار چانڈیو پرسائتھ چانڈیو نامی شخص کے قتل میں بھی نامزد تھے اور اے این ایف سکھر نے 2005 میں مختیار چانڈیو پر چھ من چرس رکھنے کا مقدمہ درج کیا اور اپنی آخری سانسوں تک ام رباب کے والد ان دونوں مقدمات میں اشتہاری رہے۔ ام رباب کے چچا منظور چانڈیو کے خلاف بھی 2005 میں منشیات رکھنے پر ایف آئی آر درج ہوئی تھی۔

اب یہ بات قرین قیاس لگتی ہے کہ منشیات فروشی اور قتل کی واردات میں ملوث یہ خاندان اپنے ہی رشتے داروں، غلام قادر چانڈیو اور ساتھیوں کے ساتھ ذاتی دشمنی اور رنجش کی بنا پر قتل ہوا مگر برہان چانڈیو اور سردار خان چانڈیو جو اپنے جائے وقوعہ پر موجود نا ہونے کے ناقابل تردید شواہد فراہم کر چکے ہیں اس کے باوجود انہیں اس کیس میں گھسیٹا جا رہا ہے تاکہ منشیات فروشی اور گینگ وار طرز کے تنازع پر سیاسی مسئلے کی چادر چڑھا دی جائے۔

جب قتل کرنے والے لوگ ام رباب کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تو برہان چانڈیو اور سردار خان چانڈیو کا اس مسئلے سے کیا تعلق؟ اس سوال کا جواب شاید کوئی نا دے سکے کیونکہ ان پر انگلی اٹھانے والی ایک لڑکی ام رباب ہے۔ مگر اس سندھ کی ان ام رباب جیسی بیٹیوں کو انصاف کون دلائے جن کے والد اور بھائیوں کو گینگ وارز میں قتل کیا گیا، جس کے بھائی اور والد کو ڈرگز مافیا نے نشے کی لت لگائی۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ مشکوک کردار کے حامل مقتولین کو ان کی بے قصور بیٹی کی وجہ سے معصوم گردانا جا رہا ہے جبکہ اس خاندان کی مبینہ غیر قانونی کارروائیوں کی تاریخ اس بیٹی کی تاریخ پیدائش سے بھی پہلے کی ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ اس معاملے کی ریاستی سطح پر جانچ پڑتال کی جائے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے معاملے کی جڑ تک پہنچنے میں آسانی ہو۔ نا تو ام رباب چانڈیو کے ساتھ ناانصافی ہو اور نا ہی برہان چانڈیو اور سردار چانڈیو کو کسی ایسے جرم کی سزا ملے جس سے ان کا تعلق نا ہو۔ اس معاملے کو ہمدردی کی بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر پرکھا جائے تاکہ تحقیقات میں ان سے وابستہ دوسرے گروہوں کا پتہ لگایا جا سکے۔

ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں آنے سے بچنے کے لیے اور گرے لسٹ سے خارج ہونے کے لیے پاکستان کو ایسے تمام کریمنل بیک گراؤنڈ والے خاندانوں کا پتہ لگانا پڑے گا تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ بحال ہو سکے۔ ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جائے کہ کون ایسے کیسز کو سیاسی رنگ دے رہا ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس ڈرگ کارٹل یا مافیا سے نظر ہٹانے کے لئے تہرے قتل پر مظلومیت کا جال بنا جا رہا ہو؟ تاحال ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش نہیں کی جا رہی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
بشیر معراج پلیجو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply