ڈیپریشن کی ہلاکت خیزی یا عدم قابو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل ہندوستان کے ایک نوجوان اداکار کی خودکشی کا بہت ذکر ہے۔ خدا اس کی مغفرت کرے بہت افسوس ناک واقعہ ہے۔ اس کے ساتھ اخبارات رسائل اور میڈیا پے ڈپریشن سے متعلق بہت بحث ہو رہی ہے۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ ایک بھرپور صحت مند اور توانا انسان اپنے اوپر خدا کی اتنی ساری نعمتوں کو نظرانداز کردے اوراس کی توجہ صرف محرومیوں اور مشکلات پر ہی مرکوز ہو جائے۔ یہ انتہائی ناشکرا پن ہے۔ جو خدا سے دوری کا نتیجہ ہے۔ یہ بھی کیا کہ انسان منفی سوچ کو خود پر اتنا حاوی کر لے کہ اس کو جینے کے لیے کوئی وجہ ہی نظر نہ آئے۔ اور زندگی سے مایوس ہوکر اپنا ہی دشمن ہو جائے۔

حالانکہ انسان کو جینے کے لیے دو وقت کے کھانے اور ایک چھت کی ضرورت ہوتی ہے جس میں وہ اپنے پیار کرنے والے کنبے کے ساتھ امن اور سکون سے رہ سکے۔ وہ انہی چند باتوں کے سہارے ایک پر سکون زندگی گزار سکتا ہے۔ یعنی اگرانسان کو زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی میسر ہوں تو وہ خوشی سے جی سکتا ہے۔ چہ جائے کہ دولت بنگلہ گاڑیاں شہرت سب کچھ میسر ہو اور وہ ناخوش ہو۔ اور وہ خود کو غیر محفوظ سمجھے۔ دیکھا گیا ہے کہ ہر طرح کی عیش وعشرت اور دولت شہرت کے باوجود اگر لوگوں کو ان میں ذرا سی کمی بیشی ہونے کا خدشہ بھی ہو تو وہ ان کو اتنا بدحواس کردیتی ہے کہ ان کو زندگی بے معنی لگنے لگتی ہے۔ بہت کچھ ہوتے ہوئے بھی لوگ اپنے آپ کو زیرو سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ یہ اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کو جینے کے لئے چند بنیادی چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اللہ تعالی نے دنیا بہت خوبصورت بنائی تھی۔ بعض مثبت سوچ کے انسانوں نے اپنی محنت لگن اور روشن تخیلی سے اس کو اور بھی خوبصورت بنایا۔ بڑی محنت سے اونچی اونچی عمارتیں بڑے بڑے محل حویلیاں اور پلازے بنائے۔ ہزاروں میل لمبی سڑکیں بنائیں ذرائع روابط آسان کیے۔ تفریح کے لیے خوبصورت مقامات اور ناقابل یقین پارک بنائے۔ حصول معاش کے نئے امکانات متعارف کروائے۔ انسانی بہبود کے لیے بڑے بڑے ادارے قائم کیے۔ زندگی کو آسان کرنے کے لیے تحقیقات اور ایجادیں کیں۔

لیکن افسوس کہ اس کے ساتھ کچھ منفی بلکہ شیطانی سوچ رکھنے والے تاریک ذہنوں نے اسلحے بنائے، مارا ماری کی، جنگیں کروائیں انسانی خون سے زمین کو سرخ کیا۔ نفرتیں پھیلائیں بے راہ روی کو فروغ دیا۔ وساوس پھیلائے۔ مذہب کو نفر ت پھیلانے ک آلۂ کار بنایا اورانسانوں کی زندگیاں جہنم بنائیں۔ حرص و لالچ کے جال بچھائے۔ دولت اور شہرت کی دوڑ نے عام اور سطحی سوچ والوں کو بے چین کر دیا۔ اور وہ اس کے پیچھے باولوں کی طرح انتھک طور پر دوڑنے لگے۔ جیسے کہ یہ آب حیات ہو یا دنیاوی اور اخروی نجات کا ذریعہ ہو۔ جب کہ زندگی درحقیقت بڑی آسان اور سادہ تھی۔ لیکن وہی بات کہ اس کو انسان ہی نے انسان کے لیے شکل کر دیا ہے۔

اللہ تعالی نے دنیا کاجو یہ ماحول بنایا ہوا ہے انسان کے حواس خمسہ اس کو بڑی باریکی سے محسوس کرتے ہیں۔ صبح ہوتے ہی سورج کی روشنی اس کے اندر زندگی کی امنگ پیدا کرتی ہے۔ اس سے انسان کو اتنی انرجی آتی ہے کہ اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ اٹھ کر اس خوبصورت دنیا کو دیکھے اور مسخر کر لے۔ اس کو جو محسوسات دیے گئے ہیں ان کے ذریعے وہ ہوا کی خوشبو، زمین کی خوشبو، سورج کی روشنی، اس کی حدت کو غرض ہر چھوٹی چھوٹی چیز کو بڑے اچھے طور پرمحسوس کرتا ہے۔ موسموں کے تغیر اس کو خوش کرتے ہیں یا اداس کردیتے ہیں۔ غرض یہ کہ ہر چیز اس کے اوپر لازمی طور پراثر انداز ہوتی ہے۔

وہ خوشی خوشی اٹھ کر اٹھ کر ایک نئے دن کی ذمہ داریوں سے نمٹنے کے لیے چاک و چوبند ہوجاتا ہے۔
صبح ہوتے ہی جو بھی قدرت نے اسے مہیا کیا ہوتا ہے یا وہ اس سے لذت طعام کا لطف لیتا ہے۔

یہ صبح کی پہلی خوشی ہر نئے دن میں اس کے لیے ایک ضیافت ایک دعوت ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے جو انسان کو ذائقے دیے ہیں وہ بھی زندگی میں رنگ بھرنے کے لیے بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شکم سیری کا احساس انسان کو ایک خوشی اور سکون دیتا ہے۔ جس کو ہم کسی شمار میں ہی نہیں لاتے۔ اور سوچتے بھی نہیں کہ یہ بھی ایک شکر کا مقام ہوتا ہے۔

انسان چاہے تو چھوٹی چھوٹی چیزوں سے خوشیاں کشید کر سکتاہے۔ بہانے بہانے سے خدا کا شکر ادا کر سکتا ہے۔ لیکن نا چاہے تو سونے کے پہاڑ اس کو خوش نہیں کر سکتے۔ ان پر بھی راضی نہیں ہوتا۔

انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت صحت ہے جس سے وہ دنیا کی ہر نعمت کو محسوس کر سکتا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس سے لطف حاصل کر سکتا ہے۔ یقین کریں ایک خوش وخرم زندگی کے لیے ہمیں مخلص اور قریبی رشتوں کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ان کی ساتھ انسان دال روٹی بھی کھا کر خوش رہ سکتا ہے۔ اصل دولت اپنے رحمی رشتے اور وہ ہیں جن کے ساتھ آپ کا زندگی بھر کے رشتے بنا دیے گئے ہیں۔ دولت اور شہرت ہر گز اس قابل نہیں کہ ان سے دل لگایا جائے۔ یہ تو آج ہیں کل نہیں۔ رشتے اٹوٹ ہوتے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ اصل دولت وہ ہے جس سے وقت پہ آپ کی ضرورت پوری ہو جائے اوربس۔ مادی دولت کی ریل پیل کبھی بھی انسان کی خوشی کی ضمانت نہیں۔ ورنہ نازو نعم میں رہنے والی لیڈی ڈیاناکبھی محرومی کا شکار نہ ہوتی۔ دولت وہ ہے جو انسنا کے کام آئے نہ کہ وہ جو انسان کو ہی کھاجائے۔

انسان کی سب سے بڑی دولت اس کے قریبی رشتے ہیں۔ اگر یہ مخلص مل جائیں تو اس سے بڑا خدا کی طرف سے کوئی انعام نہیں۔ اس لیے اگر کوئی قربانی بھی دینی پڑے، سب کچھ دے کر بھی حاصل کرناپڑے تو ان رشتوں کو حاصل کرنا چاہیے۔ اچھے گھر والوں کے ہوتے ہوئے انسان مشکل سے مشکل حالات میں بھی ٹوٹتا نہیں اورگھبراتا نہیں۔ یہی قریبی رشتے ہوتے ہیں جو آپ کو خدا کے قریب لے جاتے ہیں۔ جب آپ کو ان کی فکر پڑتی ہے تو آپ کو خدا یاد آتا ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ میں ان سے کتنا بھی پیار کرلوں ہوں ان کی وہ حفاظت نہیں کر سکتا جو خدا کر سکتا ہے۔ اس لیے جب آ پ ان کی خاطر خدا سے مدد مانگتے ہیں تو آپ کا تعلق اللہ تعالیٰ سے مضبوط ہونے لگتا ہے۔

ایک زمانے میں شدیدڈیپریشن کاشکار رہی ہوں۔ ایلوپیتھک دوائیوں سے بھی کچھ عرصہ مدد لی۔

زندگی کوسمجھنا اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنا بھی ایک بہت بڑا کام ایک اہم مرحلہ ہے۔ بظاہر یہ انسان کے اپنے بس کی بات نہیں لگتی کیونکہ بعض اوقات وہ جس ماحول میں ہوتا ہے اپنے آپ کو اس میں ان فٹ محسوس کرتا ہے۔ اور بے چین رہتا ہے کہ کیسے وہ ماحول بنے جس کی اس کو خواہش ہے۔ اس شش و پنج میں وہ اپنے پاس موجود نعمتوں کو بھی انجوائے نہیں کر سکتا۔ اور پریشان رہتا ہے۔ اور نا شکرا بن جاتا ہے۔ میں بھی زندگی کے اتار چڑھاؤ سے پریشان رہتی تھی۔

ہر پریشانی کو خود پہ حاوی کر لیتی تھی کہ جیسے اب تو دنیا ہی ختم ہی ہونے لگی ہو۔ پھر میں نے دیکھا کہ ہر مشکل وقت گزر جاتا ہے دعا کرنے سے آسانیاں پیدا ہو جاتی ہے اللہ تعالی کئی اچھی راہیں کھول دیتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم جیسا چاہیں ویساہی ہو۔ اس سے مختلف اور اچھا بھی ہو سکتا ہے۔ تب مجھے دعا کایقین ہوا۔ اصل فائدہ مجھے دعا سے ہوا۔ جتنا خدا سے تعلق پیدا کرو دل اور اعصاب اتنے ہی مضبوط ہوتے ہیں۔ امید قائم رہتی ہے۔ صبر اور دعا! یہ زندگی کے دو کلیدی کامیاب اصول ہیں۔ صرف اسی لیے اپنا تجربہ بتایا ہے کہ انسان اپنے طور پر بھی ڈیپریشن سے نمٹنا چاہیں تو کافی حد تک نمٹ سکتاہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ہماری غذائیں ہماری طبیعت اور مزاج پر بہت اثرا نداز ہوتی ہیں۔ بعض خوراکیں تیز مسالے۔ مرغن غذائیں وغیرہ۔ زیادہ نمک یا زیادہ میٹھا۔ اس لیے ڈیپریشن کی صورت میں خوراک پر بھی غور کرنا چاہیے کیونکہ بعض غذائیں ڈیپریشن کو متحرک کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ جس سے بلڈ پریشر بڑھکر یا کم ہو سکتا ہے۔ سستی اور کمزوری کا غلبہ ہو سکتا ہے یا غصہ بڑھ سکتا ہے۔

الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔ ذرا کمزور پڑو اور مایوسی کا غلبہ ہونے لگے تو ہمیں چاہیے کہ فوراً روحانی جنریٹر چلا ئیں، قرآن پڑھیں نماز پڑھیں اپنے مذہب اور عقائد کے مطابق عبادات کریں۔ خدا کا ذکر آئے تو شیطان بھاگ جاتا ہے۔ نیسے روشنی آئے تو اندھیرا بھاگ جاتا ہے۔ کیون نہ ہو۔ اسے بھاگنا ہی پڑتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر بار دعا کرتے ہی آپ کا مسئلہ حل ہو جائے۔ بس خدا تعالیٰ ایسی تسلی عطا کردیتا ہے کہ آپ مسئلے سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ سیری دے دیتا ہے خدا۔

اس کے ساتھ ساتھ کچھ مادی طریقے بھی آزمانے چاہئیں۔ کچھ لائف سٹائل بدلیں۔ اللہ تعالی کے دیے ہوئے اخلاقی دائرے میں رہ کے دلچسپی کے مشاغل اختیار کریں۔ یعنی صرف اپنی خوشی نہیں دیکھنی اللہ کی رضا کو بھی مد نظر رکھنا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بڑے سے بڑا گناہ بھی وہ خوشی نہیں دے سکتا جو چھوٹی چھوٹی نیکیوں میں مل جاتا ہے۔

مجھے اپنے تجربے سے اندازہ ہوا کہ نیگیٹو انرجی کو پوزیٹو میں بدلا جا سکتا ہے۔ اگر انسان مصروف ہو جائے اپنی پسند کے کاموں میں لگ جائے تو بہت بہتری آ تی ہے۔ ایک ا ور طریقہ سکون کا کسی کی مدد کرنا ہے۔ اگر ہاتھ سے نہیں کر سکتے تو مال سے کردیں۔ اگر یہ دونوں کام نہیں کر سکتے تو کم ازکم دردمندی اور محبت سے ا سکے لیے دعائیں کریں۔ بے حد سکون ملے گا۔

مجھے تنہائی سے بہت ڈر آ تا ہے۔ بچوں کی چھوٹی چھوٹی عمر میں شادیاں کردیں۔ سب اپنے اپنے گھروں کے ہو گئے۔ ماں باپ کے لیے جہاں یہ خوشی کی بات ہوتی ہے وہیں وہ بہت اکیلے ہو جاتے ہیں۔ ہمارے

پاکستان میں بڑی کلوز نٹ سوسائٹی ( ایک گندھا ہوا مربوط معاشرہ، جڑا ہو اخاندانی نظام) ہے۔ وہاں والدین اکیلے بھی ہوں تو آس پڑوس ہوتا ہے۔ کسی نہ کسی سے رابطہ رہتا ہے۔ اپنی زبان اپنا ماحول اپنے موسم۔ اس لیے اتنا اوپراپن اور تنہائی محسوس نہیں ہوتی جتنی دیار غیرمیں ہوتی ہے۔ پردیس میں اپنے دیس والی لگژری میسر نہیں۔

مجھے سب سے زیادہ ڈر تنہائی سے آتا ہے۔ کسی کمرے میں رات کو اکیلی سو بھی نہیں سکتی۔ بلکہ دن میں بھی گھر میں اکیلے رہنا پسند نہیں ہے۔ مگرپچھلے چند سال مجھے اکیلے رہنا پڑا۔ بہت لمبے سال لگے مجھے یہ۔ وہ بیت اجو ہمارے ساتھ رہتا تھا پاکستان چلا گیا۔ میاں جی صبح صبح جاب پر چلے جاتے اور رات کو آتے۔ ان کی جاب ہفتے کے ساتوں دن تھی۔ اس لیے سارا دن گھر پہ اکیلی ہوتی۔ تب خدا ہی کے سہارے وقت کٹا۔ اگر یقین نہ ہوتا کہ خدا میرے پاس ہیں تو اللہ جانے زندہ بھی ہوتی کہ نہیں۔ یہ وقت کاٹناصرف خدا کی مدد سے ممکن ہوا۔ خدا سے تعلق انسان کے ذہن کے اندر نئے در نئے راستے کھولتاہے۔ اب الحمد للہ بیٹا بھی آ گیا ہے بہو بھی اور ایک پوتا بھی۔ الحمد للہ

ایک منطقی نکتہ ہ، نہ جانے مجھے لگتا ہے کہ ڈپریشن ذہین لوگوں کو ہوتا ہے میں اپنی تعریف نہیں کر رہی۔ ذہن ہو گا تو انسان سوچے گانا۔ جس کو سوچ ہی نہیں فکرفاقہ ہی نہیں اس کو کیا دھڑکا ہوگا۔ وہ کیا سوچے گا کس بات کی فکر کرے گا۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ لا علمی بھی نعمت ہے۔

دوسری طرف ایک انسان جب منفی سوچ رکھتا ہے تو وہ اس پر حاوی ہو جاتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ماحول کے عناصر ہماری سوچوں سے منسلک ہیں اس لیے ہماری سوچ کے مطابق متحرک ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے کہاجاتا ہے کہ اچھا سوچو تو اچھا ہونے لگتا ہے۔ برا سوچو توبرا۔ کچھ وقت لگ جاتا ہے مگر ایسا ضرور ہوتا ہے۔

زندگی نے مجھے یہ سکھایاکہ کچھ بھی ہو انسان کو امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اور امید کا منبع و ماخذ صرف خداہے۔ امید صرف خدائے پاک سے تعلق ہونے پر زندہ رہتی ہے۔

ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہمارے افکارواعمال ہماری شخصیت کے گرد ایک ہالہ بنا دیتے ہیں جس کو انگریزی میں ”اورا“ کہتے ہیں۔ یہ ہالہ اچھا بھی ہوتا ہے اور برابھی۔ اسی لئے آپ جب کسی سے ملتے ہیں خواہ وہ کوئی اجنبی ہی کیوں نہ ہو آپ یو تو بڑی جلدی اس سے گھل مل جاتے ہیں یا آپ کو اکتاہٹ اور بیزاری کا احساس ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ہالہ ہوتی ہے۔ ہالہ اگر آپ کی طبیعت کے موافق ہو تو آپ کو کمفرٹ لیول محسوس ہوتا ہے۔ آپ بڑی سہولت اور خوش دلی سے اس کے ساتھ بات کرتے ہیں۔

بس کوشش یہی کرنی چاہیے کہ اپنی سوچ کو مثبت رکھیں۔ اور اپنی روح کی صفائی کے لیے اللہ تعالی سے ہمیشہ تعلق پیدا کرنے میں لگے رہیں۔ یہ وہ عمل ہے جس کی تجدید کرتے رہنا بے حد ضروری ہے۔

یہ چیز انسان کو حرام موت سے بچا کر زندہ رکھتی۔ خودکشی ناصرف جرم ہے بلکہ گناہ عظیم ہے۔ ہر مذہب اس کو رد کرتا ہے۔ انسانی عقل اس کو رد کرتی ہے۔ ہمارا عقیدہ ہے یہی بتاتا ہے کہ یہ وہ گناہ ہے جو کبھی معاف نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی ہمیں اور نئی نسل کو مایوسی کا شکار ہونے سے بچائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply