لٹکتا انصاف اور ام رباب کی پروان چڑھتی سیاست

اپنے خلاف ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف الم بلند کرنا انصاف کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا زیادتی کرنے والے حق دبانے والے قتل کرنے والے ہاتھوں کو اپنے حوصلے اور ہمت سے زنجیروں میں جکڑ کر کیفر کردار تک پہچانا بے شک جہاد کی افضل ترین قسم ہے۔

جب کوئی غاصب و جابر کسی کمزور و ناتواں پر اپنی طاقت و حاکمیت کا مظاہرہ کرنے کے لئے خون کی ہولی کھیلتا ہے تو اس ماں جیسی ریاست کا اولین فرض بن جاتا ہے کہ ان سرکش سپوتوں کو ایسا سبق سکھائے کے وہ ہاتھ پھر کبھی کسی مظلوم کے کمزور جسم پر نہ پڑیں، لیکن کبھی مظلوم کی جدوجہد انصاف کے حصول میں چھپ کر ذاتی مفاد بن جاتی ہے جس میں پیسہ شہرت سیاست یا دوسرا کوئی مقصد شامل ہوجاتا ہے اور پھر مظلومیت بھی کیش ہونے لگتی ہے۔ آہ و پکار آنسوؤں میں ڈوبی سرخ آنکھیں سب بناوٹی بن جاتی ہیں۔ ایسے میں دھرتی ماں بھی مظلوم کی کہانی میں چھپے تہہ در تہہ جھوٹ اور مکر کو پہچان نہیں پاتی اور دھوکہ کھا جاتی ہے۔

Read more

سندھ، ڈرگز مافیا اور ام رباب چانڈیو کا کیس

منشیات فروشی اور منی لانڈرنگ ایسی لعنت ہے جس نے پاکستان کے اعلیٰ حکام کو ایف اے ٹی ایف کی میٹنگز میں حاضریاں لگوانے پر مجبور کر دیا ہے۔ منشیات فروش گروہ اس قدر منظم اور با اثر ہیں کہ ان تک پہنچنا اداروں کے لیے مشکل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے جرائم اور منشیات کی 2013 کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چھ اعشاریہ سات فیصد پاکستانی منشیات استعمال کر رہے تھے اور اب تک اس میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔

جرمن صحافتی ادارے ڈی ڈبلیو کے مطابق 2019 میں پاکستان کے اندر تقریباً چھہتر لاکھ افراد منشیات کے عادی تھے۔ ان میں سے اٹھتر فیصد مرد اور بائیس فیصد خواتین ہیں۔ اے این ایف نے اس سلسلے میں کارروائیاں شروع کیں اور منشیات فروشوں کو جیلوں میں بھجوایا۔ دو ہزار انیس کے آخر میں اینٹی نارکوٹکس فورس نے 352 آپریشن کیے اور 389 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا اور ان کے خلاف کیسز دائر کروائے۔ 1156 کلوگرام افیون، 281 کلوگرام ہیروئن اور 16772 کلوگرام حشیش برآمد کر کے تلف کی۔

Read more