آدمی کس سے مگر بات کرے؟
جب ہر طرف سے غم اور بیماری نے گھیرا ہو اور کوئی دوا بھی نہ ہو تو ایسے دن وبا کے دن کہلاتے ہیں۔ دن بدلنے سے دنیا بدل جاتی ہے۔ دیرینہ آسرے چھوٹ جاتے ہیں، سدا بہار ٹوٹکے افواہوں کی طرح بے وقعت ہوجاتے ہیں۔ اطمینان کا قحط پڑ جاتا ہے، سینے بھاری اور زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔ انسان غموں سے دور بھاگتا ہے مگر غم خبر بن کر اس تک پہنچ جاتے ہیں۔ بری خبروں کا ایک شور ہے جو چاروں طرف سے آرہا ہے۔ اور پھر جس وبا کا ہمیں سامنا ہے وہ تو یوں بھی دوری اور تنہائی میں بری خبریں سہتے جانے کی اذیت کا دوسرا نام ہے ۔ آپ کسی کا غم بانٹنے نہیں جا سکتے، کوئی آپ کو کاندھا دینے سے نہیں آ پاتا۔ دلی ہمدرد بھی ساحل کا ہجوم بن جاتے ہیں جو چلاتا ہے مگر بچا نہیں پاتا۔ لوگ تنہا ہی اپنی مصیبتوں میں پھنس جاتے ہیں۔
وبا نے مکڑی کے جالے کی طرح انسانوں کے بیچ کوئی ان دیکھا جال بن دیا ہے۔ کتنے انسان مر رہے ہیں مگر کچھ سمجھ نہیں آتا۔ ان لوگوں پر بھی مصیبتوں کے منہ کھل گئے ہیں جو زندگی بھر ہمارا سہارا بنے رہے۔ زندگی میں بہت کم لوگ ایسے ملتے ہیں جن سے کوئی خونی رشتہ بھی نہیں ہوتا لیکن وہ ویسے ہی اہم اور زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور ہم انہیں بھی اپنا خاندان اور کنبہ سمجھنے لگتے ہیں۔ ان کا دکھ درد بھی اپنا محسوس ہوتا ہے۔ میری زندگی میں بھی ایسے چند رشتے موجود ہیں جن میں سر فہرست میرے استاد ہیں۔ میں نے ہمیشہ سنا کہ استاد باپ کی طرح شفیق ہوتا ہے لیکن میرے ساتھ اس کے برعکس ہوا۔
میرے استاد سر زاہد میرے لیے ماں جیسی ہستی ہیں، وہی بے لوث محبت اور ویسا ہی مہربان سلوک۔ وہ ان دنوں جرمنی کی ایک یونیورسٹی میں ریسرچ ایسوسی ایٹ ہیں۔ میری ان سے ملاقات 2002 میں ہوئی تھی جب کمپیوٹر سائنس میں میری ڈگری میں ہمیں ریاضی پڑھاتے تھے۔ اسی دوران ان کی دوستی میرے بھائی سے بھی ہوگئی اور وہ ہمارے گھر کا ایک حصہ بن گئے۔ ہم اکثر ان کے گھر جاتے جہاں ان کی والدہ ہمیں بالکل اپنے بچوں کی طرح سمجھتیں اور ویسا ہی پیار بھرا رویہ اپناتیں۔ بعد ازاں زاہد صاحب اپنی تعلیم کے سلسلے میں انگلینڈ چلے گئے۔ وبا کے ان دنوں میں میرے محسن میرے استاد کی والدہ بھی دنیا سے گزر گئیں، میرے لیے ماں کی طرح شفقت سے بھرپور انسان یتیم ہو گیا مگر کیسی بے بسی ہے کہ وہ اپنی ماں سے سات سمندر دور اور میں ان دونوں سے بھی دور۔ میں یہ سب لکھنا چاہتی تھی مگر الفاظ گم ہوجاتے تھے۔ دل کہیں ٹھہرتا نہیں اور پریشانی بڑھتی جاتی ہے ۔ میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ آخر بے بس ہونا کیا ہوتا ہے اور اب یہی کچھ خود میرے ساتھ پیش آیا۔
میرا استاد جس نے مجھے میرے لڑکپن سے زندگی کی چال سکھائی، مجھے گر کر سنبھلنے کا حوصلہ دیا، مجھے بتایا کہ میں کون ہوں اور زندگی ہم سے کیسے کیسے امتحان لیتی ہے اور کیسے ہمیں خودداری اور عزتِ نفس کے ساتھ ان آزمائشوں سے باہر نکلنا ہے۔ آج اس شخص کے سر پر آسمان ٹوٹ پڑا لیکن کوئی اسے دلاسہ دینے نہ جا سکا۔ میں جب پہلی بار انگلینڈ آئی تو یہاں بھی وہ میرے سب سے بڑھ کر مددگار تھے۔ کوئی الجھن ہوتی مجھے ان کا خیال آتا۔ کیسی کیسی پریشانیاں ان سے بانٹ لیتی تھی، ان سے مل کر رو لیتی تو صدمہ آ دھا رہ جاتا تھا۔ مجھے ان کی مہربان موجودگی اور بے لوث محبت پر یقین تھا اور یہ یقین ایک ڈھال کی طرح میرے ساتھ رہا۔
میں زندگی میں آج جس مقام پر ہوں اس میں ان کا بہت دخل ہے۔ ان کی تربیت اور رہنمائی نے کبھی مجھے تنہا نہیں چھوڑا۔ وہ ایک شخص ہی میرے لیے والدین جیسا ہے بلکہ بعض اعتبار سے تو ماں باپ سے بھی بڑھ کر، میں ان سے ہر بات کہہ لیتی تھی بنا کسی خوف کے کہ وہ کیا سوچیں گے۔ ایسا تو حقیقی ماں بھی نہیں کرتی، وہ بھی ناراض ہوجاتی ہے۔ میں انہیں ہمیشہ کہتی تھی کہ آپ میری ماں ہیں۔ اور ان کی شخصیت ایسی ہی مہربان تھی، اپنے اردگرد کے لوگوں کے دکھ خود میں جذب کرلینے اور انہیں گلے سے لگا لینے اور حوصلہ دینے والی شخصیت۔
ایک ایک کر کے کتنے ہی برس اور مہینوں کے ان گنت منظر میرے ذہن سے گزرتے رہے۔ انہیں جب اطلاع ملی ہوگی وہ جرمنی میں ہوں گے، اس پیاری ماں کے آخری دیدار سے بھی محروم جو انہیں رخصت کرتے آنسوؤں بھری آنکھوں سے ہمیشہ یہی بات کہتی، بیٹا نجانے اب کب ملنا ہو، ہو بھی یا نہ ہو۔ وقت کتنا ظالم ہے، اس بار بھی الوداع ہوتے ہوئے ماں بیٹے میں یہی بات ہوئی ہوگی مگر قضا بھی پاس کھڑی سن رہی تھی۔ اب دوبارہ ملنا نہ ہوسکا اور کبھی بھی نہ ہوسکے گا۔ دنیا اس عارضی بحران سے آگے نکل جائے گی، سب کچھ پھر سے ویسا ہوجائے گا، سفری پابندیاں اٹھ جائیں گے ، آنا جانا بحال ہوجائے گا مگر یہ ماں بیٹا پھر کبھی نہ مل پائیں گے۔
وہ مسیحا صفت انسان جو ہماری چھوٹی چھوٹی پریشانیوں کا ضامن تھا آج کس قدر تنہا اور اکیلا ہوگا اور ہم جو ہمیشہ اس سے ہمت پاتے رہے آج کتنے لاچار ہیں کہ اس اطلاع پر رونے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ آج ان کے گھروں میں سوگ ہے مگر کوئی پرسہ تک دینے نہیں جاسکتا۔ لوگ دیواروں سے سر لگائے تنہا رو رہے ہیں ۔ ان دیواروں میں در کیسے کھلیں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ میتیں نجانے کب تک گھروں میں پڑی رہ جائیں گی۔ دو چار دن کی تعزیت سے نمٹ جانے والا معاملہ بہت بڑھ جائے گا۔
وبا کے دنوں میں زندوں اور مُردوں کے نصیب ایک سے بدل جاتے ہیں۔ دن بدلتے ہیں تو سب کچھ بدل جاتا ہے۔ ہم اپنے پیاروں کے غم میں شریک ہونے سے محروم ہو گئے، ہم پر کیسی دوہری مصیبت ٹوٹی ہے۔ دنیا کس قدر اندھیری نظر آتی ہے، نجات کے تمام راستے سراب لگتے ہیں، ہر ڈھارس بے معنی ہوگئی ہے۔ آدمی کس سے مگر بات کرے؟


