سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو میں فواد چوہدری نے آدھا سچ بولا


ہر سیاسی اور غیر سیاسی تنظیم میں اندرونی اختلافات ہوا کرتے ہیں۔ ہر آرگنائزیشن ان اختلافات کو پنپنے، بیان کرنے، مان لینے یا مسترد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ سیاسی جماعتوں میں یہ صلاحیت دیگر اداروں کی نسبت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اگر پی ٹی آئی میں کچھ بڑے لوگوں کے اختلافات تھے تو اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس سے حکومت کو نقصان پہنچا۔ حکومت کو نقصان کارکردگی نا دکھانے پر پہنچا، پارٹی کے اندرونی اختلافات سے نہیں۔

پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ معاشی ترقی ملکی اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق دو ادوار میں ہوئی۔ ایک ایوب خان اور دوسری ن لیگ کی آخری حکومت۔ دونوں ادوار میں حکومت کے اندر بہت سے لوگوں کے طاقتور لوگوں کے شدید اختلافات ہے۔ پچھلی حکومت میں خواجہ آصف اور چوہدری نثار ایک دوسرے سے سلام کے روا دار نہیں تھے مگر، ان اختلافات کا ہر گز مطلب معاشی ترقی یا گورننس کی رکاوٹ نہیں تھا۔

فواد چوہدری کے مطابق عمران خان کی حکومت سے بہت سی توقعات وابستہ تھیں جن کا تعلق نظام کی اصلاح سے تھا۔ یہ بات درست بھی ہے اور غلط بھی۔ نظام کی جن خرابیوں کو عمران خان نے بائیس سال بیان کیا وہ خرابیاں اصل میں مسائل کی وجہ نہیں تھیں۔ مثال کے طور پر کرپشن، اقربا پروری، میرٹ کا فقدان۔ یہ سب کچھ خرابی نہیں خرابی کی نشانیاں تھی جبکہ خرابی کہیں اور تھی۔ بائیس سال عمران خان لوگوں سے ان باتوں پر داد لیتا رہا جو داد لینے کے قابل ہی نہیں تھیں۔

فواد چوہدری بھی پوری بات بتانے کی بجائے آدھی بات بتا کر سائیڈ پہ نکل گئے۔ پاکستان کی نظام کی خرابیاں صرف اور صرف دو ہیں۔ ایک کا تعلق حق حکمرانی سے ہے۔ پاکستان میں حکمرانی کا حق کسے ہے؟ عوام کو یا دیگر کو۔ جبکہ دوسری خرابی مذہب اور سماج کے آپسی میل جول سے متعلق ہے۔ سماج میں مذہب کا کردار کیا ہونا چاہیے اور فرد، سماج، ریاست اور مذہب کا باہمی تعلق اور توازن کیا ہو گا۔ بجائے ان دو بنیادی مسائل پر گفتگو کرنے کے، صرف کرپشن، اقربا پروری، انصاف میں تاخیر یا دیگر بچگانہ باتوں سے اگلے بائیس سال مزید لوگوں کو بیوقوف تو بنایا جا سکتا ہے مگر مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ فواد چوہدری اس نقطے پر پنجابی والا دڑ وٹ گئے۔

فواد کے مطابق حکومت میں آنے سے پہلے نظام کی تبدیلی کے بارے عمران کے خیالات واضح تھے مگر جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود کے جھگڑوں نے سارا کھیل خراب کیا۔ اس سے زیادہ علمی اور عقلی بددیانتی ناممکن ہے۔ نظام کی تبدیلی کا جو نسخہ عمران خان بائیس سال بتاتے رہے اس کا تعلق دو نکات سے تھا۔ ایماندار قیادت جو عمران خان کی صورت مبینہ طور پر ملک اور قوم کو حاصل ہو گئی اور میرٹ کی حکمرانی۔ اگر لیڈر ایماندار ہو گا اس کے بچے اور جائیداد ملک کے اندر ہو گی تو وہ میرٹ پر تعیناتیاں کرے گا۔

ملک چلانے کے لئے ٹیکس کی ضرورت ہے جو لیڈر کی ایماندار قیادت ہر صورت ممکن بنائے گی۔ بائیس سال عمران خان جن جن نکات اور تجاویز کو نظام کی درستگی کی ضمانت کے طور پر پیش کرتا رہا وہ سبھی آج ان کو حاصل ہیں۔ مگر نظام کی درستی تو دور کی بات جو کچھ ان کو ملا وہ بھی اپنی اصل حالت میں موجود نہیں۔ چھ فیصد کی معاشی پیداوار منفی ڈیڑھ فیصد تک جا پہنچی ہے۔ فواد نے تین لوگوں کے آپسی جھگڑوں کو نظام کی تبدیلی جیسے معاملے سے ملا کر آم کو کریلے سے ملایا ہے۔

ایک جانب فواد چوہدری کا دعوی ہے کہ جہانگیر ترین کو اسد عمر اور اسد عمر کو جہانگیر ترین نے فارغ کروایا تھا دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ سیاسی خلا غیر سیاسی لوگوں نے پر کیا۔ اگر اتنے اہم وزرا ایک دوسرے کے درپے تھے اور پھر کامیاب بھی رہے، ایسے میں یہ کیسے مان لیں کہ سیاسی خلا غیر سیاسی لوگوں نے پر کیا۔ یہی لوگ سیاسی تھے، انہی نے ایک دوسرے کو فارغ کروایا تو غیر سیاسی لوگ خلا کیسے پر کر گئے۔ پہلے بھی اسد عمر طاقتور ترین تھے اور آج بھی ہیں۔

شاہ محمود کا کلا پہلے بھی مضبوط تھا آج بھی ہے۔ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں یہ لوگ پوری طرح طاقتور ہیں اور ان کے دائرہ اختیار کے باہر کوئی طاقت باقی نہیں۔ بجائے یہ ماننے کے کہ یہ دونوں اور ان جیسے دیگر اپنے اپنے وقت میں مکمل طور پر طاقتور مگر مکمل طور پر ناکام رہے، فواد سارا مدعا کسی تیسرے پر ڈال رہے ہیں جو ہمارے تاریخی شعور کا وہ کانسٹینٹ ہے جو ہر اہم تاریخی واقعے اور سانحے کا ایسا جواز فراہم کرتا ہے جس کے بعد لوگوں کی عقل کام کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ فواد اسی راستے کے مسافر معلوم ہوتے ہیں اس لئے مسئلے کی نشاندہی تو کرتے ہیں مگر وجوہات کے نقطے پر ڈنڈی مارتے ہیں

اسلامی دنیا میں عمران کی لیڈری والی بات پر سہروردی کے صفر بٹا صفر بٹا صفر والے جملے سے زیادہ کچھ کہنا لفظوں کا ضیاع ہے۔ مہاتیر محمد اور اردگان کے ساتھ وعدے وعید کرنے کے بعد مکر جانے اور پھر اسلامی ٹی وی چینل کا عندیہ دے کر ترکی ڈرامے کو پی ٹی وی پر چلانے والے کردار فواد چوہدری کے نزدیک اگر لیڈر ہیں تو چپ ہی بھلی ہے۔ سلامتی کونسل کی مشہور تقریر جس کے بعد پوری کابینہ پھولوں کے ہار لے کر ائر پورٹ استقبال کے لئے جا پہنچی، جب تعریف کی سرچ لائیٹ میں پوری طرح شرابور تھی تو مودی نے کشمیر کو بھارتی ریاست کا حصہ بنا دیا۔ فواد چوہدری کے نزدیک اسلامی دنیا کی لیڈری کے واحد حقدار اس وقت مکمل طور پر کلیو لیس تھے۔ پارلیمنٹ کے فلور پر موصوف پوچھتے رہے کہ میں کیا کروں۔ بہرحال جیسا لیڈر ویسے وزیر، اس سے زیادہ اب اس پر بندہ کیا کہہ سکتا ہے۔

فواد کے مطابق صوبائی قیادت کو دیکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ اس قابل ہے کہ سویلین بالا دستی قائم ہو۔ فواد یہ بات کہنے سے پہلے شاید بھول گئے کہ اس قیادت کو عمران خان نے خود چنا ہے۔ اس وقت پنجاب جس کی آبادی آدھے پاکستان کے برابر ہے، اس کا وزیر اعلی عثمان بزدار ہے، جسے عمران وسیم اکرم پلس کہتے ہیں۔ چونکہ عمران خان کو تو کوئی یاد دلانے والا ہے کہ جناب آپ ہی وزیر اعظم ہیں، لگتا ہے فواد کو یہ یاد کروانے والا کوئی نہیں کہ صوبائی قیادت کو عمران خان نے ہی چنا ہے۔ بائیس سال عمران نے ہمیں بتایا کہ لیڈر ذمہ دار ہوتا ہے جو ٹیم بناتا ہے۔ فواد کو چاہیے کہ بائیس سال میں بائیس ہزار بار دہرائی عمران خان کی باتوں کو ایک بار پھر سنے۔ ۔ ۔ کم از کم یہ نقطہ تو کلیئر ہو ہی جائے گا۔

فواد نے اٹھارہویں ترمیم پر جو بات کی وہ سب سے دلچسپ ہے۔ وفاق نے ساٹھ سال تک اختیار اپنے پاس رکھے اور کسی کو نہیں دیے۔ اٹھارہویں ترمیم ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے اور ابھی تک اس پر پوری طرح عملدرآمد بھی نہیں ہو سکا مگر اسے لپیٹنے کی سب کو جلدی پڑ گئی۔ اور سیاسی سوجھ بوجھ اور معاملہ فہمی کی حالت یہ ہے کہ جس وفاق کی ناکامی کی داستان چھ دہائیاں پرانی ہیں اختیارات واپس اسے دینے کو مسئلے کا حل بتایا جا رہا۔ اگر وفاق کے وزیر یا سیکریٹری سب سے زیادہ طاقتور ہوں تو یہ ٹھیک ہے مگر صوبوں کے ہوں تو غلط۔

Facebook Comments HS

One thought on “سہیل وڑائچ کے ساتھ انٹرویو میں فواد چوہدری نے آدھا سچ بولا

  • 02/08/2020 at 12:25 شام
    Permalink

    Bila Shuba social media ne her dosre bande ko writer bana dia lekin Quality of writing or history ki intahai km maloomat ne tou iss profession ka nuqsan kia issi lie credibility khatm ho gai
    I regret I wasted my time while reading this article. Hum sub should review their quality parameters.
    Iss article ma history analysis galat han.

Comments are closed.