اولاد بدچلن ہو تو عاق اور والدین بد چلن ہوں تو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بسمہ اور رافیعہ تھوڑی دیر اسی مسئلے پہ بات کرتی رہیں، پھر بسمہ اوپر کمرے میں آ گئی۔ آتے ہی کمرے کی کنڈی لگادی اور لیٹ گئی۔ اسے اتنی تھکن محسوس ہو رہی تھی جیسے سارا دن مشقت کی ہو۔ عجیب سا احساس تھا ڈر بھی کہ وہ بالکل اکیلی ہے اور سکون بھی کہ شاید ایک رات تو تکلیف نہیں سہنی پڑے گی۔ اس کے دماغ میں خیالات کی جنگ سی جاری تھی۔ ایک طرف نازیہ تھی جو ہر وقت دوسری عورتوں کی کردار کشی پہ تیار رہتی تھی مگر اپنے ہی دیور سے تعلقات بھی تھے۔

دوسری طرف باسط اور رافع بھائی تھے۔ رافع بھائی والا مسئلہ اسے ٹھیک سے سمجھ میں بھی نہیں آیا تھا۔ اس کا دماغ یہ قبول کرنے کو تیار نہیں تھا کہ رافع بھائی کی رضامندی سے یہ سب ہوا ہوگا۔ پھر باسط تھا جس کا ماننا یہ تھا کہ عورت بے وقوف، کمزور اور بے وفا ہوتی ہے مگر یہی سب خصوصیات کا اظہار اس نے خود بھی کیا۔ بے وقوف نہ ہوتا تو اسلم والے معاملے کو اتنا غلط رنگ دے کر مسئلے کو اتنا نہ الجھاتا۔ کمزور اتنا کہ اگر کوئی عورت اسے اپنی طرف متوجہ کر رہی تھی تو خود کو روک ہی نہیں پایا۔

بسمہ کو تو خیر اب اس بات میں بھی شک تھا کہ نازیہ بھابھی نے ہی متوجہ کیا یا انہیں مجبور کیا گیا جیسا کہ نازیہ بھابھی کا دعویٰ تھا۔ صرف نازیہ بھابھی کا رویہ دیکھا ہوتا تو بات الگ تھی مگر سب کے ردعمل کے پس منظر میں بسمہ کو لگ رہا تھا کہ کہیں نہ کہیں کسی وجہ سے نازیہ بھابھی کو مجبوری میں یہ سب کرنا پڑا ہوگا۔ آج بسمہ کے سامنے مردانگی کا وہ شاندار محل زمیں بوس ہوگیا جس کا چرچا ہر جگہ ہوتا ہے۔ جس کی بنیاد پہ مرد خود کو عورت سے برتر کہہ کر ہر آسائش پہ اپنا حق جتاتا ہے اور ہر خدمت کی ذمہ داری عورت پہ ڈال دیتا ہے۔

جس وقت پولیس رافع اور باسط کو ہتھکڑیاں لگا رہی تھی دونوں کے چہروں کی دہشت دیکھنے والی تھی۔ یہ تھے وہ جو خود کو بہادر کہتے تھے۔ گھر کی عورتوں کے چھپکلی سے ڈرنے پہ مذاق اڑانے والے مرد خود سے ذرا طاقتور کے سامنے خود چھپکلی اور چوہے بن گئے تھے کہ موقع ملتا تو بل میں جاگھستے۔ بسمہ کو ایک دم احساس ہوا۔ میں اس سے ڈر رہی تھی؟ اس باسط سے جو اپنے حق میں دو لفظ بھی نہ بول سکے؟ سارا تنتنا، غصہ صرف خود سے کمزور عورت کے لیے تھا؟

وہ اپنے اندر ایک طاقت سی محسوس کر رہی تھی۔ باسط کو کنٹرول کرنا کتنا آسان ہے۔ وہ لاشعوری طور پہ طنزیہ ہنسی۔ پھر اپنی ہی ہنسی کی آواز پہ چونک گئی۔ وہ لیٹی لیٹی انہی باتوں پہ سوچتی رہی۔ پتا نہیں کیا کیا سوچتے کافی وقت گزر گیا۔ گھڑی پہ نظر پڑی تو اندازہ ہوا کہ تین گھنٹے سے زیادہ گزر گیا ہے۔ اسے خیال آیا واحد بھائی ابھی تک نہیں آئے؟ وہ اٹھ کر نیچے آئی تو ساس سسر کے کمرے سے سسر کی زور زور سے بولنے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کے قدم رک گئے۔

”ساری زندگی تو میں خرچہ نہیں اٹھاؤں گا ناں۔ ابھی وکیل کے پیسے دے دیے تو اگلی دفعہ پھر میرے سامنے کھڑے ہوں گے۔ باسط کی بیوی سے کہو وہ دے، باسط نے گھر میں کچھ پیسے تو رکھے ہوں گے ناں، نہیں بھی ہیں تو اپنے گھر والوں سے مانگ لے بیٹی کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتے کیا؟“

”ارے یہ تو بعد کی بات ہے ناں، مسئلہ تو ابھی ضمانت کے پیسوں کاہے۔ بیٹا ہے آپ کا قرض سمجھ کے ہی دے دیں۔ رانا صاحب! کبھی تو اولاد کو اصولوں پہ ترجیح دے دیا کریں۔“

”حاجرہ بس تم ہمیشہ کی بے وقوف ہی رہنا میرے انہی اصولوں کی وجہ سے آج تک یہ اولاد میرے قابو میں ہے ورنہ دیکھو دوسرے گھروں میں ساس سسر کو جوتے کی نوک پہ رکھا ہوتا ہے کاٹھ کباڑ کے کمرے میں کاٹھ کباڑ کی طرح رکھا ہوتا ہے۔ آج کل کی اولاد کو جتنا سر چڑھاؤ اتنا ہی نقصان ہے۔ بس میں نے کہہ دیا ریٹائرڈ بندہ ہوں، جو پینشن آتی ہے اولاد پہ لٹا کے ہاتھ پاؤں نہیں کٹا سکتا اپنے۔“

دروازہ کھلا تو بسمہ تیز قدم اٹھا کر کچن میں گھس گئی۔ ساس باہر آئیں تو ہاتھ میں موبائل تھا شاید کسی سے بات کرنی تھی انہیں۔

”ہیلو۔ واحد؟ ہیلو۔ ۔ ۔ ہاں سنو میں نے تمہارے ابو سے بات کی ہے بیٹا مگر تمہیں ان کی عادت کا پتا تو ہے۔ میری تو سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہوگا۔ مجھے تو اندازہ بھی نہیں تھا وکیل اتنے پیسے مانگ لے گا۔ ۔ ۔ ۔ ہیں۔ ۔ ۔ ؟ اچھا پولیس والے کو بھی دینے ہیں؟ لعنت پڑے ان پہ اللہ کی۔ غریبوں کو ستانے کے کوئی راستے نہیں چھوڑتے اب اتنی رات میں کوئی کہاں سے پیسوں کا بندوبست کرے گا؟“ وہ کچھ سیکنڈ رکیں۔

”اچھا سنو سنیہ کے جہیز کے لیے کچھ پیسے پڑے ہیں میرے پاس، پچھلے ہفتے کمیٹی کھلی تھی۔“ دوسری طرف سے پتا نہیں کیا کہا گیا

”ارے اللہ بھائیوں کو زندگی دے بھائی ہوں گے تو دوبارہ انتظام بھی ہو جائے گا۔ بس تم میرے بچوں کو چھڑا لاؤ میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہاں ٹھیک ہے فہد کو بھیج دو میں پیسے دیتی ہوں“

ساس بات ختم کرکے فوراً کمرے میں چلی گئیں۔ جیسے وہ بات کر رہی تھیں اس سے پتا چل رہا تھا کہ وہ اپنے میاں سے یہ ساری بات چیت چھپانا چاہتی ہیں۔ کمیٹی والی بات تو بسمہ کو بھی پہلی دفعہ پتا چلی تھی ورنہ جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی اس نے یہی دیکھا تھا کہ جب بھی سنیہ کے جہیز کے بندوبست کی کوئی بات نکلتی تھی تو سسر اور بھائی یا تو بات بدل دیتے یا اپنے خرچوں کی تفصیل بتانے لگتے واحد بھائی ہی تھوڑا بہت سنیہ کی فیس وغیرہ کا خرچ دے دیتے تھے۔

جب سے بسمہ یہاں آئی تھی، رافع بھائی اور باسط نے اتنے عرصے میں خاص طور سے سنیہ کے لیے کچھ نہیں کیا تھا سسر کا کہنا تو یہ ہوتا کہ مجھے اولاد کے لیے جتنا کرنا تھا، کر لیا اب مجھ سے کوئی خرچے کا نا کہے۔ ساس اتنا سن کر خاموش ہوجاتیں۔ بسمہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ آہستہ آہستہ اپنے طور پہ انتظام کر رہی تھیں۔ مگر ان کے پاس کمیٹی ڈالنے کے پیسے کہاں سے آرہے تھے یہ سوچنے کی بات تھی۔ تھوڑا بہت جو بسمہ کو اندازہ ہوا وہ یہ کہ تینوں بھائی جو ہزار پانچ سو مہینے کا خرچ انہیں دیتے تھے اسی میں سے وہ کمیٹی کے پیسے بھی دیتی ہوں۔

آج اسے اپنی سسرال بہت پراسرار لگ رہی تھی ہر بندے کی شخصیت کی کئی پرتیں تھیں۔ ایک دم کوئی بہت اچھی پرت سامنے آجاتی اور ایک دم کوئی بری۔ اس نے شکر بھی ادا کیا کہ ساس نے اسے میکے سے پیسے منگوانے کا نہیں کہا۔ اتنا تو اسے اندازہ تھا کہ میکے سے اس معاملے میں اسے کوئی مدد نہیں ملے گی۔ مگر اسے یہ بھی اندازہ ہوگیا کہ آگے کبھی بھی اس سے یہ تقاضا کیا جاسکتا ہے۔ مگر کب؟ اس کا اندازہ نہیں تھا اسے۔

مزید کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد واحد بھائی، رافع بھائی اور باسط کو لے کر آئے۔ تھوڑی سی دیر میں ہی پولیس والوں نے اچھا خاصا حال برا کر دیا تھا۔ باسط کی ایک آنکھ سوجی ہوئی تھی اور رافع بھائی کا جبڑا۔ دونوں مسلسل کراہ رہے تھے۔ ساس ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر رو رہی تھیں۔ اور وقتاً فوقتاً نازیہ کو کوسنے بھی دے رہی تھیں۔ آخر سسر چڑ کے بولے

”اففو چپ کر جاؤ کم عقل عورت نحوست پھیلا رہی ہو مسلسل۔ یہ شکر نہیں کرتی کہ بیٹے ذرا سی دیر میں واپس آگئے۔“

واحد بھائی ہونٹ چبا رہے تھے

”ابو ضمانت تو ہوگئی ہے مگر مسئلہ بھی چھوٹا موٹا نہیں ہے۔ زنا بالجبر کا الزام ایسا ہے ان بیل ایبل چارج ( ناقابل ضمانت الزام) لگتا ہے۔ پچیس پچیس ہزار دونوں کے، تھانے کے بڑے منشی کو دیے پندرہ ہزار وکیل کو۔ اور جب تک کیس چلے گا اتنے ہی کئی بار دینے ہوں گے ۔“

”پیسوں کا انتظام کہاں سے ہوا۔“ سسر کا ماتھا ٹھنکا
”امی نے دیے کچھ، کچھ میں نے ملا دیے۔“

”واہ حاجرہ بیگم دولتیں جمع کی ہوئی ہیں ہمیں بتایا ہی نہیں۔“ سسر کے الفاظ سے زیادہ لہجے کا شک ساس کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھا۔

”رانا صاحب میری کون سی فیکٹریاں چلتی ہیں یہی مہینے پہ تینوں بیٹے اور آپ جو دیتے ہیں وہ خرچ تو ہوتا نہیں بس وہی ہوتا ہے میرے پاس۔“

”مزے ہیں تم عورتوں کے نہ کام نہ کاج گھر میں بیٹھے بیٹھے ہن برستا ہے تم پہ۔ اس پہ بھی شکر گزار نہیں ہوتیں۔ دیکھ لو نازیہ بیگم کے حال، شوہر کی عزت رکھنے کی بجائے سب کے سامنے اپنی بھی عزت اتاری شوہر کی بھی۔ ارے عزت دار عورت مر جاتی ہے مگر گھر کی بات باہر نہیں نکالتی۔“ پھر ان کی بات باسط کی طرف مڑ گیا

”ایک یہ احمق ہیں۔ بات بھی سنبھالنی نہیں آتی۔ اور ایک بات میں بتا دوں حاجرہ بیگم یہ جو زنخہ پیدا کیا ہے ناں تم نے یہ میری اولاد تو ہو ہی نہیں سکتا۔“

”ابو آپ کے ان طعنوں نے ہی میری زندگی تباہ کردی۔ آپ کی ہی ضد تھی کہ شادی کرو شادی کرو مرد بن کے دکھاؤ۔ جب پتا تھا کہ آپ کے اس مردانگی کے امتحان میں، میں کبھی پاس ہی نہیں ہو سکتا تو مجھے مجبور کیوں کیا تھا؟“

رافع ایک دم پھٹ پڑا اسے شاید پتا بھی نہیں تھا کہ اس کے آنسو بہہ رہے ہیں۔

”بالکل ٹھیک فرمایا برخوردار، میری ہی غلطی ہے۔ آپ کو تو بچپن میں ہی آپ کی برادری کے حوالے کر دینا چاہیے تھا۔ عزت دار مرد کی زندگی آپ کو راس کہاں۔ جایئے ابھی بھی وقت ہے چلے جایئے اپنے لوگوں میں۔“

”ابو میں ہیجڑا نہیں ہوں۔ کیسے یقین دلاؤں؟ میری زندگی ایک جھوٹی عزت کے پیمانے تک پہنچنے کی کوشش میں جہنم ہوگئی ہے۔ اور آپ نے پاس رکھ کر مجھ پہ احسان نہیں کیا بلکہ مجھے مزید ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ میری شخصیت سوائے اس ایک خامی کے کچھ بھی نہیں بچی۔ شادی نہ کرتا تو آپ کی بے عزتی اولاد نہ ہوتی تو آپ کی بے عزتی۔ میں کہاں ہوں میری ذات کہاں ہے؟ خود کو آپ بہت عزت دار مرد کہتے ہیں ناں نکلیں ذرا باہر اور پوچھ کے تو دیکھیں کہ جناب محمد شکیل رانا صاحب کی کیا“ عزت ”ہے معاشرے میں۔

اسکول میں کسی کو پتا چل جاتا تھا کہ ہم آپ کے بیٹے ہیں تو لیڈیز ٹیچرز اور لڑکیاں ہم سے کترا کے گزرتی تھیں۔ اشتہاری مجرموں جیسا رویہ ہوتا تھا ہمارے ساتھ ہر نئی آنے والی اسٹوڈنٹ کو اشاروں میں بتا دیا جاتا تھا کہ ان سے بچ کے رہنا۔ یہ ہے آپ کی مردانگی جس کے جھنڈے گاڑنے کی لیے آپ نے ہماری زندگیاں تباہ کردیں۔ والدین کو کم از کم یہ اختیار تو ہوتا ہے کہ اولاد ان چاہی ہے تو دنیا میں آنے سے پہلے ہی ختم کروا سکتے ہیں۔ آپ جیسے باپ سے اولاد کیسے بچے؟ کیسے ہٹائے یہ ولدیت کا ٹھپا؟ شکر کریں ابو آپ کا سابقہ کسی نازیہ سے نہیں پڑا ورنہ کئی سال پہلے آپ اپنی مردانگی سمیت جیل پہنچ چکے ہوتے۔ مجھے نازیہ سے شکایت نہیں اگر چونٹی کو مسلیں تو وہ بھی پلٹ کے کاٹتی ہے نازیہ تو پھر انسان ہے۔“

”واہ پولیس کی ٹھکائی نے تو ضمیر جگا دیا رافع صاحب کا۔ اب یہ باپ کو بتائیں گے کہ صحیح غلط کیا ہوتا ہے۔ میرے گھر میں رہ کر مجھے آنکھیں دکھائی جارہی ہیں۔ صحیح کہہ رہے ہو کہ ماں باپ کو اختیار ہوتا ہے اور اب مجھے افسوس ہورہا ہے کہ میں یہ اختیار استعمال کر ہی لیتا تم جیسے بیٹے سے ایک اولاد کم ہوتی تو اچھا تھا۔ اور رافع میاں یہ تھانے کچہریاں کوئی مرد کی عزت کم نہیں کرتیں۔ تم جیسے زنانے ہی ڈرتے ہیں ان سے۔“

رافع کچھ سیکنڈز باپ کو گھورتا رہا پھر جھٹکے سے اٹھا۔
”ٹھیک ہے آپ کو مبارک ہو آپ کا گھر اور مردانگی میری واقعی یہاں کوئی جگہ نہیں۔“
رافع دو دو سیڑھیاں پھلانگتا ہوا تیزی سے اوپر گیا

کچھ ہی دیر بعد وہ نیچے آیا تو ایک چھوٹا سا بیگ تھا اس کے ہاتھ میں۔ اس کے چہرے پہ شدید تکلیف کے آثار تھے۔

”دیکھ لیں آپ کی دولت میں سے کچھ نہیں لے کے جا رہا صرف میرے کاغذات اور کچھ ضرورت کی چیزیں ہیں۔“

”رافع بیٹا کیا پاگل پن ہے۔ باپ ہیں تمہارے غصے میں کچھ بھلا برا کہہ دیا تو چپ کر کے سن لو۔ تمہیں بھی پتا ہے فکر کرتے ہیں تبھی ڈانٹتے ہیں۔ کبھی کوئی ماں یا باپ چاہے گا کہ اس کی اولاد کی معاشرے میں بے عزتی ہو؟ چلو رکھ کے آؤ یہ۔“ حاجرہ بیٹے کو جاتے دیکھ کر گھبرا گئیں۔

”جانے دو حاجرہ بیگم اسے۔ ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔ آرام سے رہنے کی جگہ میسر ہے ناں تبھی دماغ آسمان پہ ہیں ان کے۔ پیدا کیا اچھا کھلایا اچھا پہنایا اب باپ سے لمبے ہوگئے تو ہمیں ہماری غلطیاں بتائیں گے۔ جس سے ایک بیوی نہ سنبھلے وہ اور کیا کرے گا۔ آئے گا روتا ہوا کچھ دن میں یہیں۔“

رافع غصے میں تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا پیچھے حاجرہ، رافع رافع کہتی بھاگیں مگر بوڑھی ٹانگیں جوان قدموں کا مقابلہ کیا کرتیں۔ ان کے دروازے تک پہنچتے پہنچتے وہ کافی دور جا چکا تھا۔

”چلو ختم تماشا اپنے کمروں میں جاؤ سب“
ابو ہاتھ جھاڑ کے کھڑے ہوئے وہ کمرے کی طرف مڑے پھر ایک دم مڑے۔

”واحد کل باسط کے سلسلے میں وکیل کے پاس جاؤ تو ایک عاق نامہ بنوا لینا مجھے جلد سے جلد اس کا اشتہار دینا ہے۔“

”ابو آپ آرام کر لیں صبح دیکھ لیتے ہیں اس مسئلے کو۔“

”جو بات کہہ دی سمجھ نہیں آتی؟ تم نہیں جاؤ گے تو میں خود چلا جاؤں گا۔ بوڑھا ہو گیا ہوں تو یہ مت سمجھو کہ تم لوگوں کے رحم و کرم پہ ہوں کسی نے اعتراض کیا تو اس کا بھی نام ساتھ لکھوا دوں گا۔ اور بوریا بستر کے ساتھ روانہ کردوں گا۔“

وہ مڑ کر کمرے میں چلے گئے۔ امی منہ میں دوپٹہ ٹھونسے سسکیاں لے رہی تھیں۔ بسمہ اور سنیہ انہیں چپ کرانے کی کوشش کر رہی تھیں سنیہ خود بھی روتی جارہی تھی۔

—————————————

میں نازیہ رافع ہوں۔ پہلے نازیہ سہیل شیخ تھی کیونکہ والد کا نام محمد سہیل شیخ ہے۔ میں نے جب سے شعور میں قدم رکھا ہمیشہ گھر میں جھگڑے دیکھے۔ امی اور بابا یعنی میرے والد کی آپس میں کبھی نہیں بنی۔ ہم دو ہی بہن بھائی ہیں۔ بھائی بڑا تھا اور اس نے بہت جلد گھر کے باہر کے ماحول میں پناہ لے لی۔ اور میں گھر کے اندر امی اور بابا کی توجہ کے لیے ترستی رہی۔ مجھے کبھی سمجھ نہیں آیا کہ امی غلط ہیں یا بابا۔ دونوں کا جب جھگڑا ہوتا تو ساری اخلاقیات طاق پہ رکھ کر دونوں ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ایک دوسرے کہ کردار پہ کیچڑ اچھالتے دونوں کے خیال میں اولاد دوسرے کی ذمہ داری ہے اسکول میں کبھی کوئی پوچھنے نہیں گیا کہ ہم کیسا پڑھ رہے ہیں یا ہم اسکول آتے بھی ہیں یا نہیں۔

بھائی تو ساتویں کے بعد سے دو دن اسکول جاتا تین دن چھٹی نتیجہ یہ نکلا کہ میں جو ان سے تین سال چھوٹی تھی میں بھی ساتویں میں آ گئی مگر وہ ساتویں میں ہی رہا۔ پڑھائی میں اچھی تھی اس لیے ٹیچرز کو لگتا تھا کہ میں بھائی کے مقابلے میں سمجھ دار ہوں۔ میں شاید تیسری کلاس میں تھی جب پہلی بار مجھے بھائی کی شکایت کے لیے پرنسپل کے آفس بلایا گیا اور اس کے بعد یہ معمول بن گیا۔ تب تک میں پڑھائی میں بس ٹھیک تھی مگر اس دن مجھے احساس ہوا کہ میری اچھی کارکردگی نے مجھے کچھ اہمیت دلوائی۔

میں نے پڑھائی پہ اور توجہ دینے شروع کر دی۔ میں توجہ کے لیے اتنی ترسی ہوئی تھی کہ تھوڑی سی بھی توجہ کے لیے کچھ بھی کرنے کے لیے تیار ہوجاتی تھی۔ میرے پیسے عموماً دوسرے کلاس فیلوز پہ خرچ ہوتے مجھے اچھا لگتا تھا ان کا اپنے اردگرد رہنا، مجھ سے بات کرنا، بہت بچپن ہی سے میں ہر نئے بندے سے بہت جلدی قریب ہوجاتی تھی۔ محلے کی کوئی نئی آنٹی ہوں، بھائی کے دوستوں کی فیملی ہو، کوئی ٹیچر ہو یا کلاس فیلو۔ محلے کی کئی خواتین کو ہمارے گھر کا حال پتا تھا جب تک میں چھوٹی تھی وہ ترس کھا کر مجھے اپنے گھر آنے دیتی تھیں۔

کچھ کو میرے گھر کی چٹپٹی خبروں سے دلچسپی تھی۔ میں ان کے پیچھے پیچھے گھومتی رہتی گھر کی ساری باتیں بتاتی صرف اس لیے تاکہ ان کی توجہ مجھ پہ رہے کبھی کبھی امی اور بابا میں کوئی خاص لڑائی نہیں بھی ہوتی تھی۔ پھر میں کوئی جھوٹا سچا قصہ بنا کے انہیں سنا دیتی۔ پھر میں نے یہی سب کے گھروں کے لیے کرنا شروع کر دیا۔ ایک گھر کی بات دوسرے گھر میں بتاتی دوسرے کی تیسرے گھر میں بلکہ کبھی کبھی تو امی بھی میری بات بہت دلچسپی سے سنتی تھیں جب میں کسی کے گھر کی راز کی بات انہیں بتاتی۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ بہت کار آمد نسخہ ہے توجہ حاصل کرنے کا۔

ایک دم میری پذیرائی بڑھ گئی۔ اور میں اسی طرح نئی نئی کہانیاں گڑ کے ادھر ادھر گھروں میں سناتی رہتی۔ کچھ گھر ایسے بھی تھے جہاں کا ماحول بہت اچھا اور پرسکون تھا۔ شروع شروع میں مجھے وہی گھر سب سے پسند تھے۔ مگر اپنے بچپنے میں، میں بہت خطرناک حرکتیں کر گئی۔ میں نے دوسرے گھروں میں توجہ حاصل کرنے کے لیے ان پرسکون گھروں میں ایک دوسرے کے متعلق بے بنیاد باتیں بتانی شروع کردیں۔ ان کو رسول اللہ کا اور دوسری مقدس شخصیات کے واسطے دیتی کہ میرا نام لیے بغیر بات کیجیے گا۔

کافی عرصے تک ان لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہوا کہ گھر میں ایک دم شروع ہونے والے جھگڑوں کی وجہ میں ہوں۔ مگر باشعور شخص کبھی نہ کبھی سمجھ ہی جاتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ وہ جو مجھے چٹپٹی خبروں کے شوق میں یا توجہ کے لیے ترسی ہوئی بچی سمجھ کر گھر میں آنے دیتے تھے یہی ان کا گھر خراب کرنے کی وجہ تھی۔ عموماً خواتین نے مجھ سے کترانا شروع کر دیا۔ امی کو کہلوادیا کہ آپ کی بیٹی اب بڑی ہوتی جارہی ہے اسے اس طرح دوسرے گھروں میں نہ بھیجا کریں۔

میں اس وقت کوئی 12 سال کی تھی۔ ایک ساتھ ہی دو باتیں ہوئیں خواتین مجھ سے کترانے لگیں مگر کچھ گھروں کے مرد اور جوان لڑکوں نے میری طرف توجہ دینی شروع کردی۔ کیونکہ محلے کے ہی لوگ تھے تو شروعات تو بہت تمیز کے دائرے میں ہوئی اور ایک حد تک ہی پیش قدمی ہوئی شاید اسی لیے میں سمجھ بھی نہیں پائی کہ میرا استعمال ہورہا ہے۔ گھر کی خواتین نے پابندی لگائی تو مردوں نے مجھے ان سے چھپ کر بلانا شروع کر دیا۔ مجھے توجہ چاہیے تھی کوئی بھی ہو۔

آنٹیاں نہ سہی انکل اور بھائی سہی۔ کچھ صرف مجھ سے باتیں کرتے کچھ گود میں بٹھا لیتے کچھ بہانے بہانے سے چھوتے۔ ایجڈ انکل ٹائپ زیادہ دیدہ دلیری دکھاتے تھے۔ ساتھ ہی وہ اپنی بیویوں سے چھپ کر تحفے بھی دیتے۔ مجھے ان کے پاس الجھن ہوتی مگر تحفے بھی توجہ کا ہی نعم البدل لگتے۔ مگر مجھے نوجوان لڑکوں کی توجہ زیادہ پسند تھی۔ وہ بہت کم ہاتھ لگاتے تھے بس باتوں سے ہی دل بہلاتے تھے۔

*****۔ ۔ ۔ ۔ ۔ (جاری ہے ) ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ******

Latest posts by ابصار فاطمہ (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ سندھ کے شہر سکھر کی رہائشی ہیں۔ ان کا تعلق بنیادی طور پہ شعبہء نفسیات سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ناول وافسانہ نگار بھی ہیں اور وقتاً فوقتاً نفسیات سے آگاہی کے لیے ٹریننگز بھی دیتی ہیں۔ اردو میں سائنس کی ترویج کے سب سے بڑے سوشل پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سے بھی منسلک ہیں جو کہ ان کو الفاظ کی دنیا میں لانے کا بنیادی محرک ہے۔

absar-fatima has 88 posts and counting.See all posts by absar-fatima

Leave a Reply