بھاگ بھری: دہشت اور جنون کا مطالعہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ”میں جب سے اس گاؤں میں بیاہ کر آئی یہاں مسلمانوں کو ہی بستے دیکھا۔ ہاں البتہ گاؤں کی ایک پسماندہ گلی میں عیسائیوں کے کچھ گھر ضرور تھے، جو پورے گاؤں کی بطور بھنگی دیکھ بھال کرتے تھے۔ اس چھوٹی سی آبادی کے مسلمان بھی کیسے تھے، پورے گاؤں میں کوئی باقاعدہ مسجد نہ کوئی امام! حصول ِعلم ِدین کے لئے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہ مدرس! تبلیغی جماعت کا کوئی ماہانہ درس اور نہ ہی چلّہ کاٹنے والے زاہد و عابد مبلغ! مگر نماز پھر بھی پڑھی جاتی تھی۔ امامت کے لئے کوئی بھی بزرگ آگے بڑھ جاتا تھا۔ قرآن بھی سب کو آتا تھا۔ ہاں! شاید اس گاؤں کے باسیوں کے اعتقادات توہم پرستانہ، جاہلانہ اور مشرکانہ بتائے گئے۔ جب میرے سب سے چھوٹے بیٹے کا پالا شہر میں دوران ِحفظ کسی مذہبی جماعت سے پڑا۔ بس پھر کیا تھا، ہمارے گاؤں کے دن پلٹ گئے۔ میرے بیٹے نے خود داڑھی رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائیوں اور اردگرد کے لوگوں کو بھی ترغیب دی۔ آناً فاناً گاؤں میں ایک مسجد کی تعمیر شروع ہوگئی۔ کچھ عرصے بعد ایک مدرسے کا قیام بھی عمل میں آگیا۔ گاؤں کے لوگ چلّہ کشی کے لئے جانے لگے، اور تبلیغیوں کے جتھے بھی گاؤں میں نظر آنے لگے۔ میں بھی اپنے بیٹے کے ان سب کارناموں پر پھولے نہ سماتی، کیونکہ گاؤں والوں کی نظر میں چودھریوں کا جوان بیٹا کیسا نیک اور پارسا نکلا تھا کہ اُس نے اپنے ساتھ گاؤں والوں کو بھی راہ ِراست پر لانے کی ٹھان لی تھی۔ تعریفوں کے اتنے پل دیکھ کر ایک ماں کا خوش ہوجانا بالکل فطری تھا اور پھر مجھ جیسی سادہ عورت نے آخر خود کو بھی کسی طرح بخشوانا تھا۔

دیکھتے ہی دیکھتے بڑے بڑے مولوی میرے بیٹے کے دوست بن گئے، جو کبھی کبھار گاؤں کی مسجد میں جمعہ کا خطبہ دینے بھی آجاتے تھے اور میں اُن کے لئے کھانا بھی تیار کردیتی تھی۔ کہ پھر ایک دن کانوں میں ”سپاہ ِصحابہ“ کے الفاظ پڑے اور اس جماعت کے جانثار گاؤں میں آکر ”کافر کافر شیعہ کافر، جو نہ مانے وہ بھی کافر“ کے نعرے بلند کرنے لگے۔ یہ نعرے کسی حد تک میری سمجھ میں تو آئے، مگر اس کے بعد ان نعروں کی بنیاد پر گونجنے والا سرکش جہاد میری بُدھی میں بالکل نہ آیا کہ کسی انسان کی زندگی چھین لینے کے لئے محض اُس کا شیعہ ہونا کافی تھا؟ آخر میرا بیٹا اس جہاد کا حصہ بننے کی غرض سے ”گوریلا ٹریننگ“ کے مشن پر بنا بتائے روانہ ہوگیا۔ شیعوں کے خلاف یہ جہاد بھی کیسا تھا، جو کراچی، کوئٹہ، گلگت میں تو فعال تھا، مگر پنجاب کے کافر شعیے ابھی واجب القتل قرار نہ پائے تھے۔ جب میرا بیٹا اس ٹریننگ کے دوران گھر ملنے کے لئے آیا تو اُس کے ”فخریہ کارنامے“ سن کر میرے حواس نے کام کرنا چھوڑدیا اور پھر میں بس اتنا کرسکی کہ اُسے دوبارہ گاؤں سے نہ جانے دیا۔ ایک ماں کے لئے ایسا کرنا کچھ آسان نہ تھا۔ اُس کے کپکپاتے جسم کے سامنے اُس کا دیو ہیکل، جواں سال اور خبطی بچہ جہاد کے لئے نہ صرف تڑپ رہا تھا، بلکہ اپنی ماں جہنم کی نوید بھی سنارہا تھا۔ اب اُس کے شب و روز گاؤں کی مسجد میں ہی گزرنے لگے۔ گھر بھی کم ہی آتا۔ آخر خدا خدا کرکے اُسے گاؤں کی ایک حسینہ سے عشق ہوگیا اور اُس پر بیاہ کا بھوت سوار ہوگیا۔ شادی کے بعد وہ اپنی بیوی کو لے کر کینیڈا چلاگیا اور میری جان میں جان آگئی ”۔

 ”مستونگ سے نکلا تو افغانستان سے جہادی سر ٹکراٹکراکے واپس پلٹ رہے تھے اور کشمیر کا میدان گرم تھا۔ لہٰذا میری منزل بھی وہی تھی۔ اسلحے کی ضروری ٹریننگ کے بعد میں راتوں رات دریا پارکرکے اس خوبصورت وادی میں جنگ لڑنے کے لئے دھکیل دیا گیا۔ توپوں کی گھن گرج، اسلحے کی فراہمی اور خون کی ندیاں بہاتے ہوئے میرے شب و روز گزرنے لگے۔ لیکن ایک ہی رنگ کی ہولی کھیلنے کی اس یکسانیت سے میری طبیعت اچاٹ ہونے لگی۔ ہر بار ایک جیسا کھیل کھیلنے کا من نہ کرتا اور پھر ایک دن میں نے واپسی کی ٹھان لی۔ مگر یہاں توواپسی کا راستہ بھی یہی کھیل تھا اور یہی ہولی تھی، جس سے میں تائب ہوچکا تھا۔ راتوں رات طے ہونے والا بالاکوٹ سے مقبوضہ کشمیر کا یہ سفر میں نے اور میرے چچیرے بھائی نے واپسی کی پٹری پر چلتے ہوئے لگ بھگ دو ماہ میں طے کیا۔ آزاد کشمیر پہنچ کر یوں لگا کہ میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہوں اور اب واپس جاکر باقی کی زندگی سکون سے گزاروں گا۔ مگر مستونگ پہنچ کر احساس ہوا کہ راہ فرار ناممکن ہے۔ کیونکہ اسی جہاد کو مفاہیم کے نئے جامے پہنا کر دوبارہ کارگر بنانے کی کوششیں جاری و ساری تھیں۔ اسی دوران مجھے اپنے گھر میں اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے کا حکم ملا اور اُس کے آرام و آسائش کے لئے ہن برسایا جانے لگا۔ سکون کی اس زندگی میں میرے بہت قریب اپنے ہی گھر میں شیعہ سنی محاذ گرم کیا جاچکا تھا۔ بلوچ ابھی 27 ءکی بے مصرف جنگ سے نکلنے نہ پائے تھے کہ دوبارہ بگل بج چکا تھا۔ اس دھرتی پر میں وہ پہلا مجاہد تھا جس نے مائع اسلحے کے ٹینکر سے حملہ آور ہوکر سینکڑوں شیعوں کو اجتماعی قبروں میں ابدی نیند سلادیا۔ اس محاذ کے دم توڑنے کے بعد ایک وقت ایسا آیا، جب ان ہی فوجی کتوں کا گلا گھونٹنا پڑا، جو پہلے ہمیں اسلحہ پہنچایا کرتے تھے اور جائے واردات سے راہ فرار دیا کرتے تھے۔ کیونکہ اب وہ جہاد کے ان عظیم مقاصد سے منہ موڑ کر ہمیں ہی“ دہشت گرد ”قرار دے چکے تھے۔ اسلحے کی ضرورت تواب مجھے ویسے بھی نہ رہی تھی، افغانی، کشمیری، یمنی، عربی جہادیوں سے ٹریننگ کے بعد میں اتنا ماہر ہوگیا تھا کہ مٹی سے بھی بم بناسکتا تھا۔ مگر اب میں محض ایک اشتہاری ہوں۔ میرا بھائی مارا جاچکا ہے اور میں چھپ چھپاکر یہاں زندگی گزار رہا ہوں۔ سب پچھلے رابطے منقطع ہوچکے ہیں۔ مگر میری دہشت آج بھی اُس پورے علاقے پر قائم ہے۔ “

 ”مری آباد کو بسانے والے ہزارہ شاید اپنی تقدیر کے اگلے پنّوں کو نہ پڑھ سکے، جہاں محض شیعہ ہونا انسانیت کا گھناؤنا ترین جرم لکھا تھا۔ مجھے اپنے گرد پھیلی اس عفریت کا علم تو تھا، مگر جب میرے دونوں بیٹے اپنے باپ سمیت ایک مجلس میں اڑادیئے گئے تو مجھے اُس وقت نہ صرف شیعت ایک پاپ لگا، بلکہ دنیا کا ہر مذہب اور اُس کا خدا مجھے جھوٹا نظر آیا۔ میرے پاس تو ان تینوں کے علاوہ کچھ تھا بھی نہیں۔ ابھی ان کی مشترکہ قبر میری ساتھی ہے، جس پر بیٹھ کر روتے ہنستے میرا دن گزرجاتا ہے۔ سوچ رہی ہوں کہ اس قبرستان میں کچھ درخت لگالوں تاکہ یہاں آنے والی دوسری عورتوں کو دھوپ کی شدت کا سامنا نہ کرنا پڑے، جو میری طرح سردی گرمی کی پروا کیے بغیر سارا سارا دن قبروں پر گم صم بیٹھی رہتی ہیں۔ کاش کوئی ایک بم ہم سب پر بھی گرا جائے۔ “

یہ تھیں تین مختلف کہانیاں۔ ایسی ماں کی کہانی جو اپنے بیٹے کی بَلّی نہ دے پائی۔ نام نہاد مجاہد کی کہانی۔ مری آباد کی ایک ماں کی کہانی، جس کی گود اجڑگئی۔ وطن ِعزیز کی ایسی لاکھوں کہانیوں میں سے یہ صرف تین کہانیاں ہیں۔ ایسی سینکڑوں کہانیاں میں آپ کو سناسکتی ہوں۔ جبکہ ایسی ہزاروں کہانیاں آپ خود اپنے اردگرد دیکھ، سن اور پڑھ سکتے ہیں اور ان کا اثر بھی براہ راست محسوس کرسکتے ہیں۔ زیر بحث ناول ”بھاگ بھری“ کا یہی تعلق ہے اس معاشرے سے کہ اس کے کرداروں نے اسی مٹی میں جنم لیا، جس میں، میں اور آپ پیداہوئے اور اسلام کا پرچم بلند کرنے کے کھوکھلے دعووں پر چلتے چلتے ان کرداروں نے کیسی گہری کھائیاں کھود ڈالیں، جس میں نہ صرف خود گر کر بے نام موت مرے، بلکہ اپنے ساتھ کئیوں کو لے ڈوبے۔ یہ ناول مجھے بار بار قلم اٹھانے کے لئے مجبور کرتا رہا۔ شاید اسی لئے کہ یہ میرے گھر کی کہانی تھی۔ ہم سب نے مل کر اسے بھگتا تھا۔ یہ کہانی ہمیں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر بھی کافی عرصہ توڑ مروڑ کر سنائی جاتی رہی۔ یہاں تک کہ کھیل ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا۔ ”بھاگ بھری“ کی اس کہانی کے عینی شاہد میں اور آپ دونوں ہیں۔ یہ ناول نہ تو ایک صدی پہلے کے راج کرتے انگریزوں کا قصہ ہے اور نہ ہی اس سے پہلے کے مغلوں کا۔ بلکہ یہ تو وہ کھیل ہے، جو ہم سب کی آنکھوں پر بشارتوں کی پٹی باندھتے ہوئے مذہب کی افیون سونگھا کر ہمارے سامنے کھیلا گیا اور ہم سب محض تماشائی ہی رہے۔ تاریخ میں ہم ”بھاگ بھری“ کے ان گھناؤنے کرداروں سے کہیں زیادہ سفاک ترین کردار ہیں، جو محض جنتوں کی نوید پر اپنے مذہب سے کھلواڑ دیکھتے رہے اور خود بھی یہ بھول گئے کہ جس خدا نے اپنے ایک پیغمبر کو پوری دنیا کے لئے رحمت بناکر بھیجا، وہ بھلا کسی شیعہ، سرخے، ہندو یا قادیانی سے جینے کا حق چھیننے کا کیسے کہہ سکتا تھا! ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کرنے کے بعد خود امریکہ کے شہریوں نے اپنی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ریاستی نمائندوں پر سوالات کی بوچھاڑ کردی۔ اُس دیس کے لکھاریوں نے اس بات کو ماننے میں ذرا بھی تامل نہ کیا کہ ”امریکہ طاقت کے نشے میں پاگل ہوچکا تھا“ مگر ہمیں تو ابھی تک یہی معلوم نہیں کہ اس پوری جنگ میں ہمارا سجن ساتھی کون تھا اور دشمن کون؟ ویسے بھی 27 سالہ اس تاریخ میں ہم نے غدار کو رہنما اور رہبر کو غدار بنانے میں ذرا دیر نہیں کی۔

اس ناول کا اسلوب کیسا ہے؟ صحافیانہ یا ادبی؟ اس کے کردار کیسے ہیں؟ کس کردار کی حقیقی زندگی میں کس سے مماثلت ہے؟ کہانی کے مکالمے کہاں جاندار ہیں تو کہاں پھسپھسے؟ کردار کہاں اپنے عروج کو چھو رہا اور کہاں پستیاں اُس کا مقدر بن رہیں؟ یہ سب باتیں میری بحث کا موضوع بالکل نہیں ہیں۔ کیونکہ یہ ناول یہ کہانی تو میرے لئے ایک نوحہ ہے۔ نوحہ لکھتے ہوئے الفاظ کے چناؤ کا ہوش کسے رہتا ہے۔ ہاں البتہ اس پورے ناول میں مجھے کسی چیز کی کمی محسوس ہوئی تو وہ وہی تاریخی سنگدل کردار تھے، جو خاموش تماشائی بن کر انسانیت کے پیٹ میں مسلسل گھونپا جاتا خنجر اور اُس سے بہنے والا خون دیکھتے رہے۔ اور پھر دیکھتے ہی رہ گئے۔ یہ ناقابل ِمعافی کردار وہی ہیں، جو مختلف وقتوں میں بندروں، سوؤروں، ریچھوں جیسی شبیہ رکھتے تھے اور انسانیت کے اعلیٰ مقام سے گر کر محض آدمی رہ گئے۔ یعنی ”سوشل اینمل“ کی جگہ صرف ”اینمل“۔ شاید انہی کرداروں کے بارے میں خدا نے کہا تھا۔

(ترجمہ) : ”بلا شبہ ہم نے یہ بار ِامانت پہلے آسمانوں کو پیش کیا اور پھر زمین کو اور پھر پہاڑوں کو۔ مگر اُنہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈرگئے۔ مگر انسان نے اسے اٹھالیا۔ بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے“۔

میرے نزدیک اس ناول کا بنیادی موضوع ”انسانیت کی انسان ہی کے ہاتھوں تحقیر و تذلیل“ ہے۔ جب ایک انسان دوسرے کی نظر میں جینے کے قابل نہ رہے اور اُس کے بنیادی انسانی حقوق اُس جیسا ہی کوئی دوسرا انسان روندنے پر قادر ہوجائے، تو وہ انسانیت کے اعلیٰ مرتبے سے گرجاتا ہے، جہاں وہ انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں رہتا۔ اسے کہتے ہیں تمثال انسانی کی تنسیخ، dehumanization، قحط الرجال، احساس ِانسانیت کا مٹ جانا یا پھر انسان کا انسان ہی نہ رہنا۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ انسان کو اپنے خالق کی صفات کامظہر ہونا چاہیے۔ مگر یہاں تو گاؤں کے وڈیرے اپنے مزارعین کو پیروں میں بٹھاکر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کرتے ہوئے خود کو اشرف المخلوقات گردانتے ہیں۔ اُن کے خیال میں یہ اچھوت اسی قابل ہیں، جو محض ان سیدوں کے درمیان ٹھوکریں کھاتے کتے بلیاں ہیں۔ گویا خدا نے انسان کو پیدا کرکے اُسے خود فرقوں، ذاتوں اور درجوں میں بانٹ دیا ہو۔ اگر اس اچھوت ”بھاگ بھری“ کی ذات وڈیرے کی ذات کے برابر آئی بھی، تو کیسے؟

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وردہ شہزادی کی دیگر تحریریں

Pages: 1 2 3 4

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *