ورڈزورتھ بطور نقاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ادب و شاعری ہو یا ریاست و معاشرت ہو، مذہب و اخلاق ہو یا فلسفہ و تنقید ہو، ہر شعبہ ہائے زندگی میں ایک ارتقا نظر آتا ہے، ہر زمانے میں ان علوم کی ماہیت کو نئے سے نئے زاویوں سے سمجھا گیا اور ان پر مباحث سے کئی ایک نئے راستے کھلے، تقریباً ہر دور میں مفکرین و فلاسفہ نے اپنی بساط کے مطابق ان علوم میں اضافے کیے، جس سے ایک فطری طور پر تغیر واقع ہوا اور دوسرا ضرورت وقت کی بنیاد پر ارتقا نظر آتا ہے۔

افلاطون سے ارسطو تک، اور پھر ہوریس، کوئن ٹیلین سے لان جائی نس تک، ادب و شاعری کے حوالہ سے اعلیٰ معیارات کے حامل اصول نظر آتے ہیں، جو آج بھی کلاسیک کا درجہ رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں ان فلاسفہ نے ادب و شاعری کے نظریات و اصول خالصتاً فلسفیانہ بنیادوں پہ استوار کیے تھے۔ دانتے، فلپ سڈنی، بن جانسن، اور جان ڈرائیڈن تک سلسلہ چلتا ہے ان ناقدین ادب نے جو اصول مقرر کیے وہ تنقیدی نقطہ نظر سے ترتیب دیے گئے۔ آگے چلتے ہیں اور بات ورڈزورتھ تک آتی ہے تو ایک واضح اثراتی اور تاریخی تسلسل و ارتقا دکھائی دیتا ہے، اس بات کی وضاحت آگے جا کر ورڈزورتھ کے تنقیدی نظریات میں ہم پیش کریں گے لیکن اس مذکورہ بات سے کارل مارکس کا ایک جدلیاتی اصول یاد آ رہا ہے کہ کس طرح کائنات میں ربط، اثر انداز کا سلسلہ اور تغیر موجود ہے، جدلیاتی اصول ملاحظہ ہو:

”کائنات کی اشیا ایک دوسرے سے مربوط ہیں، ہر شے دوسری پر اثر انداز ہو کر تغیر پیدا کرتی ہے“ ۔

اسی جدلیاتی اصول کا عملی ثبوت ہم افلاطون سے ورڈزورتھ تک پیش کریں گے اور ساتھ ورڈزورتھ کے اپنے افکار کی صراحت بھی کریں گے، آگے بڑھنے سے پہلے ہم ورڈزورتھ کا ارسطو کے تصور المیہ کے اجزا پلاٹ اور صورت حال کے رد کا مختصر جائزہ پیش کرتے ہیں۔

ورڈورتھ Lyrical Ballads کے دیباچے میں جو ادبی و تنقیدی اصول ترتیب دیتا ہے اس میں وہ اپنے نظریات کی ابتدا اٹھارہویں صدی کے عام رجحانات سے کرتا ہے، وہ شاعری میں بناوٹ اور محدود ہیئتوں کے خلاف ہے، اس بات کو وہ اپنے دیباچے میں بھی پیش کرتا ہے، ورڈزورتھ کے نزدیک جس چیز کی اہمیت ہے وہ ”شدید جذبات کا بے ساختہ اظہار“

(Spontaneous overflow of the powerful feelings)

ہے، یہاں یہ بات ارسطو کے نظریے، پلاٹ اور صورت حال کے رد کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جذبات و احساسات کو اہمیت دیتے ہوئے، ورڈزورتھ اس کا اظہار اپنی نظموں میں بھی کرتا ہے، وہاں جذبہ اپنے بھرپور اظہار کے ساتھ سامنے آتا ہے اور عمل و صورت کو متعین کرتا ہوا نظر بھی آتا ہے۔

اٹھارہویں صدی کے آواخر میں کولرج جرمنی میں فلسفہ پڑھنے گیا، جرمنی اس وقت فلسفہ کا مرکز سمجھا جاتا تھا، 1799 میں کولرج اپنے ساتھ ورڈزورتھ کو بھی جرمنی لے گیا تا کہ وہ بھی فلسفہ پڑھے۔ ورڈزورتھ نے جرمنی جا کر جہاں اور فلاسفہ کو پڑھا وہیں شیلنگ کو بھی پڑھا اور اس کے ”تصور فطرت“ سے اس قدر متاثر ہوا کہ اپنی شاعری و تنقید میں اس کو سب سے زیادہ اظہار کا ذریعہ بنایا، دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ورڈزورتھ کا تصور فطرت شیلنگ کے تصور فطرت کی ارتقائی صورت ہے، اس کے ساتھ ہی ورڈزورتھ پر کولرج کا بھی بہت اثر نظر آتا ہے کیونکہ وہ بھی کولرج کی طرح اس بات کا قائل نظر آتا ہے کہ فنکار خود ہی اپنے فن کو جانچنے کا معیار مقرر کرتا ہے اور وہ اپنے قارئین میں عمدہ ذوق پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ورڈزورتھ انسان کو فطرت سے ہم آہنگ دیکھنا چاہتا ہے اور وہی انسان اس کے نزدیک اچھا انسان ہے جو فطرت سے جڑا ہوا ہو۔ شاعری کے مقصد کو بھی وہ اسی عمدہ انسان سے جوڑتا ہے اور شاعری کو ایسی ہی معیاری انسانی زندگی کا عکاس قرار دیتا ہے۔ اسی ذیل میں وہ کہتا ہے فطری انسان کی زبان احساس سے بھرپور ہوتی ہے اور فطری انسان مستقل اور مضبوط احساس کا حامل ہوتا ہے۔

ورڈزورتھ شعری زبان کے متعلق عوامی لب و لہجہ کا قائل ہے اور کہتا ہے شاعری فطری زبان میں ہونی چاہیے کیونکہ مخلص جذبات کی عکاسی فطری زبان میں ہی سب سے بہتر ہو سکتی ہے۔ اس بات کی ذیل میں ہم پہلے ورڈزورتھ کی بات کا اعادہ کرتے ہیں اور پھر افلاطون کی بات کا تناظر بطور نمونہ کے پیش کیے دیتے ہیں کہ کس طرح ادب و شاعری کے لئے بنائے گئے قدما فلاسفہ و ناقدین کے ادبی اصول تسلسل کے ساتھ تغیر پذیر اور اثر پذیر رہے ہیں۔ ورڈزورتھ شاعری کو ”شدید جذبات کا بے ساختہ اظہار“ کہتا ہے اور افلاطون شاعری کے حوالہ سے جب شاعرانہ جنون کی بات کرتا ہے تو اس کا مقصود یہاں جذبوں کو موضوع بنانا ہے، ورڈزورتھ کا جذبات کی شدت کا اظہار ایک طرح کا جہاں جمالیاتی نظریے کے زیر اثر ہے وہیں یہ افلاطون کے نظریے کا تسلسل بھی نظر آتا ہے۔

ورڈزورتھ انسان اور فطرت میں دوئی قائم نہیں کرتا بلکہ انہیں لازم و ملزوم سمجھتا ہے، وہ کامل انسان سمجھتا ہی اسی کو ہے جو جتنا زیادہ فطرت سے ہم آہنگ ہو گا۔ شاعر کے ذمہ وہ یہ کرتا ہے کہ شاعر، فطرت و انسان کی ہم آہنگی کو لفظی پیکر اور تخیلاتی تمثیل کے ذریعہ منکشف کرے۔ وہ شاعری کو محض جمالیاتی تسکین کا ذریعہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے کل علم کی روح جمال سمجھتا ہے، وہ قوت متخیلہ کو شاعری کی رنگ آمیزی کے لئے ناگزیر سمجھتا ہے۔

وہ شاعری کو اجتماعی زندگی میں اہم جانتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے نوع انسان علم و جذبے کے باہمی اشتراک سے وسیع سطح پہ اپنے آپ کو متحد رکھتا ہے۔ زبان کے حوالہ سے وہ سلاست کا قائل ہے کہ سادہ زبان ہی شاعری کے ظاہر و باطن میں حسن پیدا کر سکتی ہے۔ جہاں وہ شاعری کو علوم و فنون کی روح لطیف کہتا ہے وہیں شاعری کو علم کا ذریعہ بھی خیال کرتا ہے۔ شاعری میں صداقت و اخلاقی مقاصد کی بات بالترتیب خالص جذبات اور انسانوں کے مابین محبت، کے حوالہ سے کرتا ہے۔

شاعری میں اوزان و بحور کو وہ پسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اس سے جمالیاتی حظ کا حصول ہوتا ہے۔ شاعری کو جذبہ کی بنیاد پر لازوال کہتا ہے اور تجربہ صداقت کی بنیاد پر اسے دوسروں لوگوں اور علوم (فلاسفہ اور سائنس ) سے ممتاز کرتا ہے جو کہ شاعر نہیں ہیں۔ وہ شاعری میں آرام دہ لمحوں کی بات جذبات کے حوالہ سے کرتا ہے۔

(Emotions recollected in tranquility)

ورڈزورتھ فن کو تجربے کے حوالہ سے بڑی اہمیت کا حامل گردانتا ہے، وہ فطرت کو بھی اس تجربے کا حصہ بناتا ہے اور اسے وقیع درجہ دیتا ہے، آخری عمر میں تو وہ فن کاری کا بہت نام لیوا نظر آتا ہے، اسی حوالہ سے اپنے ایک دوست کو بھی لکھتا ہے :

”نظم گوئی عام تصورات سے بہت زیادہ فنی ریہرسل کا تقاضا کرتی ہے“

وہ کہتا ہے فطرت کو شاعر کی ذہنی کیفیت کا بھی حصہ بننا چاہیے تب جا کر وہ تجربہ کی بھٹی سے گزر کر قدر و قیمت کا حامل ہو گا۔ وہ اپنی نظموں میں فطرت کے تجربے کو پیش کرتا ہے اور اس کی نظمیں فطرت کی عکاس نظر آتی ہیں، نظموں میں وہ تجربے کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا نظر آتا ہے وہ کہتا ہے اس طرح ہی تجربے اور فطرت کو ہم آہنگ کرنے سے الہیاتی کشف حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ورڈزورتھ کہتا ہے شاعر اظہار کی سب سے اعلی صورت تب ہی پا سکتا ہے جب وہ احساس کے تجزیے سے آگاہ ہو اور وہ احساس اس نے فطرت پر غور و فکر کے ذریعے حاصل کیا ہو۔

ورڈزورتھ کہتا ہے شاعری کا کوئی نہ کوئی جواز یا مقصد ہونا چاہیے اور اس کو قاری پر اثرات سے ہی معلوم کیا جا سکتا ہے وہ کہتا ہے شاعری کے ذریعے شاعر کوئی اہم پیغام دے۔

” معیاری شاعر لوگوں کے احساس کو منظم کرتا ہے۔ انہیں نئے احساسات سے باخبر کرتا ہے، احساس کو شائستہ، پاکیزہ اور مربوط و مضبوط بناتا ہے، اختصار کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ فطرت سے جوڑتا ہے، ہمیشگی فطرت سے جس سے تمام اشیا کو جذبہ ملتا ہے“ ۔

ورڈزورتھ کے ہاں فطرت بھی دو طرح کی نظر آتی ہے ایک کو وہ خارجی فطرت کہتا ہے کہ یہ فطرت انسان کی ذہنی و جذباتی صلاحیتوں پر اثرانداز ہوتی ہے اور اسے ایک خاص پیکر میں ڈھال دیتی ہے جبکہ دوسری فطرت کو وہ انسانی فطرت کہتا ہے کہ یہ فطرت انسانیت سے انسان کی قدروقیمت بڑھا دیتی ہے۔

جس طرح ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ ورڈزورتھ قوت متخیلہ کو شاعری کی رنگ آمیزی کے لئے ضروری خیال کرتا ہے، ہم اس کی تھوڑی مزید صراحت کریں گے کہ کیسے ورڈزورتھ اس کو ضروری خیال کرتا ہے؟ وہ متخیلہ کو داخلی شے سمجھتا ہے، اس کا متخیلہ کا تصور معروض سے جڑا نظر آتا ہے تبھی تو وہ یہ کہتا ہے جو موضوعات عام زندگی سے لیے جاتے ہیں قوت متخیلہ کی بوقلمونی کی بنیاد پر وہ شعری موضوعات کا مرتبہ حاصل کر لیتے ہیں، اسی ذیل میں وہ یہ لکھتا ہے کہ:

” شاعری کا کام یہ ہے کہ وہ چیزوں کو اس طرح مستعمل نہ کرے جیسی وہ ہیں بلکہ جیسی وہ نظر آتی ہیں۔ اس طرح نہیں جیسے ان کا اصلی وجود ہے بلکہ اس طرح جیسے وہ احساسات اور جذبات کے روبرو خود کو پیش کرتی ہوں“ ۔

وہ متخیلہ کو بذات خود تخلیقی قوت سمجھتا ہے اور کہتا ہے کہ جو فطرت کے مظاہر کی طرح چیزوں کو خلق کر سکتا ہے، اس کا خیال ہے کہ متخیلہ، تکثیریت کو اکائی میں بدل دیتا ہے، اس کے ساتھ ہی وہ اسے مرکز سے لامرکز میں تبدیل کرنے والی شے بھی سمجھتا ہے۔ ورڈزورتھ متخیلہ کے برعکس متصورہ کو بھی تخلیقی شے سمجھتا ہے کہ یہ دونوں قوتیں ہی اشیا کو جمع کرتی ہیں اور ان میں ربط بھی قائم کرتی ہیں۔ ہم ورڈزورتھ کی اس بات پر ہی اختتام کرتے ہیں کہ انسانی ذہن اور فطرت کے عمل کی مطابقت اور اس کو اعلی حسیاتی سطح پہ پیش کش کرنے کی صلاحیت شاعری میں مسرت کا حصول ممکن بناتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *