لاہور میں ایک جج کے تجربات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر 1993 میں خیر پور ٹامیوالی سے میری خواہش کے برعکس لاہور میں تبادلہ ہو گیا۔ میں لاہور کے قرب و جوار میں پوسٹنگ چاہتا تھا مگر قدرت کو شاید ہمیں داتا کی نگری میں رکھنا مطلوب تھا۔ لاہور کے بارے میں اپنے تاثرات، تجربات اور یادیں قلمبند کرنے سے قبل ایک جملہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ 1993۔ 1996 والا لاہور آج کے لاہور سے بالکل مختلف تھا۔ کوئی مناسبت، کوئی مطابقت، کوئی تقابل ممکن ہی نہ ہے۔ یہ تقابل کس طرح ممکن ہے؟ 50 لاکھ کی آبادی والا شہر 2019۔ 2020 میں ڈیڑھ کروڑ کے انسانی بحر بیکراں میں تبدیل ہو چکا ہے۔ لاہور جو ٹھوکر نیاز بیگ پر ختم ہو جاتا تھا اب وہاں سے شروع ہوتا ہے۔ 1994۔ 1995 میں 40 کے قریب سول جج، پندرہ ایڈیشنل سیشن جج اور تین چار ہزار ممبران پر مشتمل لاہور بار اب 225 سول ججوں، 75 سے زائد ایڈیشنل سیشن ججوں اور بیس بائیس ہزار کے قریب ممبران پر مشتمل بار ہے جو ایشیا کی سب سے بڑی بار ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے۔ میری ذاتی تحقیق کے مطابق لاہور بار اس وقت صرف ایشیا نہیں بلکہ دنیا کی سب سے بڑی اور منفرد بار ہے کہ وکلا کی اتنی بڑی تعداد دنیا کے کسی بھی شہر میں موجود نہیں ہے۔

2017 میں جب میں سیشن جج لاہور تھا تو صوبہ خیبر پختونخوا سے سینئر سیشن ججوں کا ایک 15 رکنی وفد سیشن کورٹ لاہور کے وزٹ پر بھی آیا۔ بریفنگ کے بعد میں نے انہیں وہ کمرا دکھایا جہاں ہم نے ویڈیو وال کے ذریعہ لاہور کی تقریباً 220 عدالتوں کی کوریج کا انتظام کر رکھا ہے۔ وہ سارے جج صاحبان بڑے متاثر ہوئے اور مجھ سے پوچھا اتنی زیادہ عدالتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے لاہور میں کتنے سیشن جج کام کر رہے ہیں۔ جب انہوں نے یہ سنا کہ صرف ایک ہی سیشن جج ہے تو کورس کی صورت میں ان کے یہ الفاظ اب بھی کانوں میں گونجتے ہیں کہ ”یہ انسانی بساط سے باہر ہے“ ۔

لاہور میں مختلف سیٹوں پر میرا عرصہ تعیناتی تقریباً چودہ سال ہے اور اگر فیروز والا کے دو سال بھی شامل کر لیے جائیں تو یہ سولہ سال بنتے ہیں جو میری سروس کا ایک بڑا حصہ ہے۔ میں بجا طور پر لاہور کے نبض شناسوں میں شامل ہونے کا اعزاز رکھتا ہوں۔ لاہور میں بطور سیشن جج کام کرنے کا ایک الگ ہی تجربہ ہے اس کے لیے الگ سے کچھ اقساط لکھنا پڑھیں گی۔ جس میں کئی دلچسپ و دل فریب کہانیاں، کئی ایڈونچر اور کئی تجربات و حوادث شامل ہوں گے۔

بہرحال ابھی ہم 1994۔ 1996 والے لاہور کا ذکر کرتے ہیں۔ جب لاہور میں دسمبر 1993 جوائن کیا تو بڑے ہی نیک نام اور تگڑے منتظم جناب عبد الحفیظ چیمہ لاہور کے سیشن جج تھے۔ ان کے ہائی کورٹ کے جج بننے کے بعد اگست 1994 میں سید رفیق شاہ صاحب تشریف لائے۔ زیادہ عرصہ نہ رہے۔ بعد ازاں شیخ غلام سرور مرحوم کہ جن کا انتقال چند یوم قبل ہوا ہے وہ سیشن جج لاہور تعینات ہوئے۔ شیخ غلام سرور صاحب ایک با کمال شخصیت تھے۔ بہت ہی مثبت سوچ اور ایک بڑے اچھے انسان تھے۔ شیخ صاحب مرحوم ہمیشہ زمینی حقائق پر نظر رکھتے اور ان کی گفتگو ہمیشہ بصیرت افروز ہوتی جس میں سیکھنے کے بڑے مواقع ہوتے۔ سگریٹ سلگا کر وہ صرف دو کش لگاتے اور پھر بجھا دیتے۔ بڑے ہی وضع دار اور مہمان نواز بھی تھے۔

بات چونکہ اچھے انسان کی ہو رہی ہے اس لیے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ اس وقت معاشرہ کے انحطاط پذیر ہونے کی بڑی وجہ اچھے انسانوں کی کمیابی یا فقدان ہے۔ معروف کالم نگار حسن نثار کے الفاظ میں ہمیں ٹیکنالوجی میں ترقی کی بجائے انسانی کردار سازی پر توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک گنہگار اور خطا کار انسان ہونے کے ناتے شاید یہ بھاشن دیتے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس کر رہا ہوں۔ ایک طویل عدالتی کیریر کے دوران بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات کا شرف ملا مگر اچھے انسانوں کی کمیابی کا قلق پھر بھی رہا۔ ہر وہ آدمی اچھا انسان ہے جو دوسروں کا درد محسوس کرے۔ اپنے ماتحت کو بھی انسان سمجھے۔ اپنے آپ کو دوسرے سے کمتر، اپنی خامیوں اور دوسروں کی خوبیوں پر نظر رکھے۔ ایک اچھا انسان راست باز، برتاؤ میں خوشگواری، معاملات میں شفافیت، رویوں میں عاجزی و انکساری، معاشرت میں حسن سلوک، قول و قرار میں پختگی، تمدن میں توازن، فرائض میں دیانت، جسم میں طہارت و لطافت، اخلاق میں پاکیزگی اور قول و فعل میں یکسانیت کا مرقع اور مجموعہ ہوتا ہے۔ اگر صرف ایک خوبی پر ہی اکتفا کرنا ہو تو اعتدال کا لفظ ہی کافی ہے۔

ان دنوں پہلے اعجاز محمود چوہدری پھر جناب شیخ رؤف احمد اور پھر جناب عبدالستار اصغر سینئر سول جج لاہور رہے۔ آخر الذکر دونوں اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت عدالت عالیہ کے جج بنے اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی نیک نامی میں اضافہ کر کے باعزت ریٹائر ہوئے۔ اس وقت کے نمایاں سول ججوں میں جو نام یاد رہ گئے ہیں ان میں لیجنڈ سید ناصر علی شاہ، بردباری اور وضع داری میں بے مثال چوہدری محمد دین بسرا، خوش مزاج اور ہلکے پھلکے چٹکلے چھوڑنے کے ماہر ایک اعلٰی انسان عبدالقادر شاد، بڑے ہی حلیم الطبع مرحوم خلیل احمد انور، ہمارے بیچ کے نمبر ون اور تگڑے جوڈیشل افسر چوہدری خلیق الزمان، سمارٹ اور دلکش خالد نواز، بڑے ہی منظم اور رولز کے ماہر جاوید رشید محبوبی، بڑے دھیمے مزاج کے خوش گفتار ملک غلام سرور، قانون اور اچھی انگریزی پر دسترس رکھنے والے منظور ڈوگر، رانا اکرم مرحوم، شریف النفس چوہدری رفیق آتش، رانا ریاض، افضل شاد مرحوم، شاعر شیخ حسیب، عابد حسین شیخ مرحوم، چوہدری جمیل احمد، منکسرالمزاج جمیل احمد، بہت ہی زندہ دل منصور خان اور رضاکارانہ طور پر ملازمت سے مستعفی ہونے والے منہ پھٹ رانا ظہور احمد جو آج کل امریکہ میں آسودگی کی زندگی گزار رہے ہیں، شامل تھے۔

سب ہی سول جج بڑے ہی با کمال اور اعلٰی روایات کے امین، وضع دار دوست تھے۔ مگر سید ناصر علی شاہ صاحب کے ساتھ 1993۔ 1994 سے بننے والا ایک قلبی تعلق گزشتہ 26 / 27 سال سے ایک قریبی بھائی بندی اور انس و محبت کی ایک داستان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ناصر شاہ صاحب ایک مرنجاں مرنج، ذہین، معاملہ فہم، وضع دار اور اعلٰی اخلاقی روایات کے امین انسان ہیں۔ جو ہر وقت ایک مثبت سوچ اور لوگوں کی خیر خواہی کے متلاشی رہتے ہیں۔ شاہ صاحب کو لوگ ان کی اچھی اور مشکل انگریزی اور بذلہ سنجی کے حوالے سے بھی جانتے ہیں۔ شاہ صاحب لوگوں کو ہنسانے کا فن بھی جانتے ہیں اور اپنے اوپر ہنسنے کا بھی۔ دوسروں پر ہنسنا بڑا آسان اور خود پر ہنسنا بڑا مشکل کام ہے۔ جو صرف بڑے ظرف والا انسان ہی کر سکتا ہے۔

لاہور بار اس وقت واقعتاً ایک دانشور، پر امن اور پروفیشنل بار تھی جس نے بڑے بڑے نامور وکیل پیدا کیے جن کا اب شاید کسی کے ساتھ تقابل ممکن نہ ہے۔ ذرا چشم تصور سے سے دیکھیے کہ بطور سول جج لاہور ہم نے کیسے کیسے نامور، اعلٰی اخلاق و روایات کے امین، پروفیشنل اور شعبہ عدل و انصاف کے آسمان کے درخشندہ ستارے میدان وکالت میں دیکھے۔ جن میں جناب جسٹس امیر عالم خان، جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس شریف حسین بخاری اور جسٹس نجم الحسن کاظمی نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے نامور وکیل جو اس وقت سول کورٹس میں پریکٹس کر رہے تھے عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ کے جج بنے۔

پھر لاہور بار نے بڑے ہی باکمال اور مرنجاں مرنج حکم قریشی، نہایت وضع دار، ملنسار اور سول لا کے بہترین وکیل جہانگیر اے جھوجھہ، نہایت شریف النفس اور پروفیشنل میاں محمد اقبال کلانوری اور ان کے ہونہار فرزند ارجمند میاں ظفر اقبال کلانوری، ہر حوالے سے ایک اچھے انسان اور پروفیشنل وکیل احمد وحید خان، بڑے وضع دار عالمگیر اور وکیلوں کے لیڈران کاظم خان مرحوم اور میاں اسرار الحق اور بڑے ٹیلنٹ سے مالا مال خواجہ حارث اور دیگر بے شمار بڑی عمدہ صلاحیتوں، قابلیتوں اور وضع داریوں کے حامل وکلا لاہور بار کی شان اور آن تھے۔

لاہور بار کی اس زمانے میں اتنی اعلٰی روایات تھیں کہ شاید اب ہمارے نئے وکلا بھائی اور ہمارے جونیئر کولیگ یقین ہی نہ کر سکیں۔ سول ججی کے تقریباً اڑھائی پونے تین سال کے زمانے میں مجھے یاد نہیں آ رہا کہ کبھی کسی بار کے عہدہ دار نے یا کسی وکیل نے چیمبر میں آ کر کوئی سفارش کی ہو۔ دھونس، رعب کا تو ذکر ہی نہ کریں۔ یہ باتیں نا قابل یقین لگتی ہیں کہ لاہور بار کے بڑے وضع دار صدر سردار مشکور سندھو اپنا ذاتی دعویٰ جس میں وہ خود مدعی تھے میری عدالت میں لے کر آئے تو میں نے کہا کہ اس میں علاقائی اختیار سماعت کا مسئلہ ہے۔ ہنس کر کہنے لگے کوئی راستہ نکل سکتا ہے۔ میں نے کہا مشکل ہے۔ خوش دلی سے دعویٰ واپس لے لیا۔

یہ خواب و خیال کی باتیں نہیں مجھے اچھی طرح یاد ہے بڑے بڑے سینئر وکیل بحث کرنے کے بعد خاموشی سے چلے جاتے۔ اگلے روز ریڈر سے آکر دعویٰ کی قسمت کا پوچھتے اور اگر ان کے خلاف فیصلہ بھی ہوا ہوتا تو وہ جج کی طرف دیکھے بغیر نہایت ادب و احترام کا مظاہرہ کرتے ہوئے چلے جاتے۔ یہ فقرے کہ ”آپ نے جوڈیشل مائنڈ اپلائی نہیں کیا“ ”کبھی پڑھ بھی لیا کریں“ یا ”آپ نے صریحاً زیادتی کی ہے“ یا ”میرا بڑا مضبوط کیس تھا میرے خلاف کیسے ہو گیا“ اور فائلوں کی چھینا جھپٹی سب بعد کی باتیں ہیں۔ اس دور کی لاہور بار ایک سیکھنے کی اکیڈمی تھی۔ افسوس نہ وہ لوگ رہے نہ قدریں۔ عدلیہ کی طرف بھی یقیناً انحطاط آیا ہے۔ ہمیں اس کا بھی ادراک ہے۔ ہمارے ججز میں بھی وہ حوصلہ، بردباری، برداشت یا قابلیت نہ رہی ہے۔ یہ تنزلی اور انحطاط دو طرفہ ہے اور بار اور بنچ دونوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جس نے موجودہ کئی مسائل کو جنم دیا۔ جسے آج ہم بار اور بنچ میں جھگڑوں سے تعبیر کرتے ہیں یہ کافی بحث طلب معاملات ہیں انشا اللہ ان پر تفصیل سے کچھ اور بھی لکھنے کی کوشش کروں گا۔

ایوان عدل کی نئی بلڈنگ کا افتتاح یکم اپریل 1994 کو اس وقت کے صدر پاکستان فاروق لغاری کے ہاتھوں انجام پایا۔ اور ہم ایوان عدل کی نئی بلڈنگ کے پہلے باضابطہ قابضین کے طور پر تاریخ کا حصہ بن گے۔ مگر نئی خوبصورت بلڈنگ پرانے ٹوٹے پھوٹے فرنیچر کے ساتھ کوئی جچ نہیں رہی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ فرنیچر کی فراہمی شروع ہوئی۔ ان دنوں کی ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی بے سروسامانی کا ذکر میں گزشتہ کئی اقساط میں کر چکا ہوں۔

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 2000 سے قبل والی عدلیہ کا موجودہ عدلیہ کے ساتھ موازنہ یا تقابل کرنا مناسب نہ ہے۔ ہم نے سیشن ججوں کو رکشوں اور ٹانگوں پر آتے بھی دیکھا ہے۔ پھر دھکا سٹارٹ ڈاٹسن 120 گاڑیاں اور پھر بلینو سے کرولا جی ایل آئی کا سفر کیا کہنے۔ 2015 تا 2018 کم از کم تین مرتبہ سیشن ججوں کو نئی گاڑیاں ملیں اور ان میں یہ سہولت بھی دی گئی کہ ریٹائرمنٹ پر ایک کرولا جی ایل آئی اس کی ڈپریشی ایٹڈ قیمت پر خرید کر ساتھ لے جا سکتے ہیں۔ ان دنوں سول جج موٹر سائیکلوں، ویگنوں یا زیادہ سے زیادہ سوزوکی کاروں پر سفر کرتے نظر آتے تھے۔ آج الحمدللہ پنجاب کے 1700 سے زائد جوڈیشل افسران کے پاس سرکاری گاڑیاں ہیں۔ اس زمانے میں اکثر بار ممبران بھی ویسپا/موٹر سائکل یا چھوٹی گاڑیوں پر سفر کرتے تھے۔ بڑی اور نئی گاڑی ایک لگژری تھی جو قسمت والوں کے حصہ میں ہی آتی تھی۔

اب ان متذکرہ بالا حالات میں خصوصاً ڈسٹرکٹ جوڈیشری کی زبوں حالی، کسمپرسی اور مستقل محرومی نے پنجاب جوڈیشل افسر ز ایسوسی ایشن کے قیام کا خیال، نظریہ اور احساس جنم دیا۔ اگرچہ اس سے قبل ایک دو hand picked ایسوسی ایشن بن چکیں تھی مگر بوجوہ کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر سکیں لہٰذا اس تناظر میں ایک فعال، قابل قبول، متحرک اور کریڈبل ایسوسی ایشن کا قیام وقت کی ضرورت تھا جسے عملی جامہ پہنانے میں جاوید رشید محبوبی صاحب کی خدمات قابل قدر ہیں۔ عدالت عالیہ سے اس ایسوسی ایشن کی منظوری حاصل کرنا پھر اس کا آئین بنانا پھر الیکشن کا مرحلہ سبھی جان گسل تھے۔ مگر جب کسی کام کو کرنے کا عزم صمیم اور نیت میں اخلاص ہو تو کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی۔

ایسوسی ایشن کے قیام کی اجازت میں اس وقت کے چیف جسٹس جناب جسٹس چوہدری محمد الیاس اور سینئر جج جناب جسٹس اعجاز نثار کا کردار بڑا فعال اور قابل تحسین ہے۔ مارچ 1995 میں ایسوسی ایشن کے پہلے الیکشن ہوئے۔ شیخ غلام سرور صاحب بلا مقابلہ صدر منتخب ہو گئے۔ البتہ بقیہ سیٹوں پر بڑے کانٹے دار مقابلے ہوئے۔ میں نے بھی ایگزیکٹو کی سیٹ کے لیے الیکشن لڑا اور اللہ تعالٰی کے فضل و کرم اور دوستوں کی محبت و شفقت کے سبب بھاری اکثریت سے جیت گیا۔ صرف لاہور میں 144 ووٹوں میں سے مجھے 128 ووٹ ملے۔ شاید یہ ہی وجہ بنی کہ دو سال بعد ہونے والے الیکشن میں مجھے زبردستی جنرل سیکرٹری کے لیے کھڑا کر دیا گیا حالانکہ ان دنوں میں شدید علیل تھا۔ بہرحال وہ بھی بڑی دلچسپ کہانی ہے۔ وہ میرا الیکشن طاہر پرویز صاحب نے تن تنہا لڑا اور ہم سرخرو رہے۔

یہاں اپنی کامیابیوں کا ذکر مقصود نہ ہے۔ بلکہ اس ایسوسی ایشن کی افادیت بتانا مطلوب ہے۔ ایسوسی ایشن کے قیام کا مقصد ہرگز بار یا کسی دیگر ادارہ کے حریف ہونے کا تاثر دینا نہ تھا۔ بلکہ عدلیہ کے دیرینہ مسائل کو حکام بالا تک بڑے ادب و احترام کے ساتھ پہنچانا تھا۔ یہ ایسوسی ایشن تقریباً چھ سات سال تک فعال رہی۔ اس دوران تمام محترم اور معزز چیف جسٹس صاحبان نے ایسوسی ایشن کے وفد کو ہمیشہ خوش دلی سے پذیرائی بخشی۔ ہمارے مطالبات کو ہمدردی سے سنا۔ بے شمار باتیں موقع ہر ہی مانی گئیں۔

ہم جناب چیف جسٹس خلیل الرحمان خان صاحب کے پاس بیٹھے تھے کہ ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے گریڈوں کا ذکر ہوا کہ سول جج تا سیشن جج گریڈ اٹھارہ میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ فرمایا کہ اس پر ضرور غور ہوگا۔ اور پھر تھوڑے ہی دنوں میں سینئر سول جج کو گریڈ 18، ایڈیشنل سیشن جج گریڈ 19 اور سیشن جج کا گریڈ 20 کر دیا گیا۔ اسی طرح کئی قسم کی عدالتی سہولیات فراہم کی گئیں۔ سب سے بڑا فائدہ عدالت عالیہ اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں قائم فاصلے کا خاتمہ ہوا۔ اور عدالتی افسران کو اپنی آواز بلند کرنے کا ایک پلیٹ فارم ملا۔ مگر اس کا نقصان بھی کچھ ہوا۔

اس وقت صرف چار ساڑھے چار سو جج صاحبان ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں کام کر رہے تھے۔ جن میں الیکشن سے قبل بڑی یگانگت، انس و محبت ہوتا تھا مگر ان الیکشنز کی بدولت ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں واضح طور پر گروپ بندی نظر آنے لگی جس کا کئی دوست شکار ہوئے۔ میں ذاتی طور پر بھی اس کا شکار بنا۔ پھر جب ہم نے الیکشن کو سلیکشن میں تبدیل کیا تو یہ ایسوسی ایشن اپنی افادیت، دم خم کھو بیٹھی اور پھر وقت کی گرد کی نظر ہو گئی۔ اس دوران ایک مرتبہ ایک زبردستی ٹھونسی گئی میٹنگ کے سبب عدالت عالیہ سے سرزنش، بلکہ سرزنش ایک چھوٹا لفظ ہے اچھی خاصی ٹھکائی بھی ہوئی۔ جن لوگوں کی ہوئی وہ سب سینئر سیشن جج تھے اور ان کے نام لکھتے ہوئے ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔ سرزنش کروانے والوں میں یہ خاکسار بھی بطور سیکرٹری جنرل شامل تھا کہ اس متنازعہ میٹنگ کا ایجنڈا ہمارے ہی دستخطوں سے جاری ہوا تھا۔ کئی ان کہی اور ان سنی کہانیوں کا امین ہوں۔ شاید خوف فساد خلق خدا ساری باتیں صفحہ قرطاس پر منتقل نہ کر سکوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply