حالات 1962 والے لگتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مطالعہ تاریخ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تقسیم برصغیر کے بعد چین کے خارجہ تعلقات دونوں ہمسایہ ممالک یعنی بھارت اور پاکستان سے دوستانہ نہیں تھے حالانکہ انڈونیشیا اور چین کی جنگ میں پاکستان نے اپنی افواج کو انڈونیشیا بھیجنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ چین کو پاکستان کے اس عمل کو حق دوستی یا حمایت سمجھتے ہوئے پاکستان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں کوئی۔ چین کی طرف سے سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا۔ لیکن چین کے اس رد عمل کی بھی ایک وجہ تھی اور وہ یہ تھی کہ جب پاکستان کو روس اور امریکہ کے دورہ کی دعوت دی گئی تو بہت سے ممالک کا گمان تھا کہ پاکستان اپنے پڑوسی ملک روس کا دورہ کرے گا۔

لیکن ایسا نہ ہو سکا پاکستان کے پہلے وزر اعظم لیاقت علی خان نے امریکہ کے دورہ کو ترجیح دی جسے وقت اور حالات نے غلط ثابت کیا اور اب اتک ایسا ہو رہا ہے۔ سیاسیات کا مطالعہ اگر کیا جائے تو کتب التواریخ سے بے شمار ایسی مثالیں دستیاب ہوں گی کہ کبھی بھی اپنے سے دور سپر پاور کو اپنے قریب عالمی طاقت پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔ تاریخ سیاسیات کی سب سے معتبر اور قدیم کتاب کوتلیہ چانکیہ کی ارتھ شاستر میں وضاحت سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ہمیشہ قریبی سپر پاور کو اپنا دوست بنایا جائے کیونکہ کمزور ریاستوں کی بقا انہیں سے ہوتی ہے۔ اپنے سے دور عالمی طاقتوں سے اس لئے نہیں کہ جب کبھی بھی آپ کو مشکل پیش آئے گی تو قریبی سپر پاور سب سے پہلے آپ کی مدد کو پہنچے گی نا کہ وہ طاقت جو آپ سے ہزاروں میل کے فاصلہ پر ہو۔ اس کا عملی مظاہرہ پاکستان 1965 کی جنگ میں عملاً دیکھ بھی چکاہے کہ امریکی بحری بیڑہ جنگ کے اختتام تک نہ پہنچ سکا۔

1959 میں چین نے لداخ کے متنازعہ علاقے میں اچانک بھارتی پٹرولنگ ٹیم پر حملہ کر دیا جس میں بھارت کے سترہ فوجی مارے گئے۔ ساتھ ہی چین نے بھارت پر اپنا عسکری دباؤ ڈالنے لئے سرحدی علاقوں پر اپنے طیاروں کی پروازوں کو بھی اڑانا شروع کر دیا۔ پٹرولنگ ٹیم پر حملہ اور سرحدی علاقوں پر پروازوں سے بھارتی حکومت ایک بار ہل کے رہ گئی، نہرو نے جواب میں یہ بیان بازی کرنا شروع کردی کہ چین سے لداخ پر حملہ کا جواب دیا جائے گا اور چین کو سبق سکھایا جائے گا، اور یہ بھی کہ سرحدی علاقوں پر چینی طیارے اگر پرواز کرتے ہیں تو انہیں مار گرزیا جائے گا۔ کیونکہ نہرو کو لگتا تھا کہ وہ اکیلا ہی چین کا مقابلہ کر لے گا۔ انہی دنوں پاکستانی فوج کے کمانڈر جنرل ایوب خان نے نہرو کو پیش کش کی کیوں نہ بحر ہند کے گرم پانیوں کی حفاظت مشترکہ طور پر کی جائے یعنی مشترکہ دفاعی معاہدہ۔ لیکن نرو نے ایوب خان کی اس پیش کش کو ٹھکرا دیا۔

چین اور بھارت کے حالات اسی طرح کشیدگی میں چلتے رہے۔ اسی دوران 1961 میں بھارت نے پرتگال کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا۔ میدان جنگ پرتگال نہیں تھا بلکہ بھارت کا مشہور سیاحتی مقام گووا تھا۔ گووا ان دنوں میں پرتگال کے قبضہ میں تھا چونکہ پرتگال اپنے اصلی وطن سے دور اپنی افواج کو مزید وہاں نہیں رکھنا چاہتا تھا اس لئے اس نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت خیال کی۔ اس طرح گووا کے مقام پہ لڑی جانے والی اس جنگ میں بھارت کو فتح ہوئی۔

فتح کے اس نشہ میں چور بھارت نے اب پاکستان اور چین کوکسی خاطر میں لانا چھوڑ دیا۔ تکبر کا یہ عالم تھا کہ 12 اکتوبر 1962 میں جب چین نے بھارت کو صلح کی پیش کش کی تو بھارت نے اسے مسترد کر دیا۔ چین نے بھی اسی رات اکسائی چن اور ارونا چل پردیش پر دھاوا بول دیا۔ چین نے نہ صرف پانچ دنوں میں ان شہروں پر قبضہ جما لیا بلکہ بھارت کے ساتویں بریگیڈ کے کمانڈر جان دلوی کو زندہ گرفتار کر لیا۔ چین اگرچہ آسام تک کا علاقہ اپنے قبضہ میں کرچکا تھا پھر بھی اس نے خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔ 1962 کی بھارت چین جنگ کے چند ماہ بعد ہی پاکستان اور چین کے درمیان ایک سرحدی معاہدہ ہوا۔

پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات کی بنیاد دراصل یہاں سے شروع ہوتی ہے۔ پھر یہ دوستی ایسی بڑھی کہ ان دو ممالک کے دوستانہ تعلقات کے بارے میں یہ بات ضرب المثل بن گئی ہے کہ

Higher than Himalaya,Deeper than sea,Sweater than honey.

1962 کی چین بھارت جنگ اگرچہ چین نے خود ہی ختم کردی، پھر بھی نہرو امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے استدعا کرتا رہا کہ اسے جدید جنگی ہتھیاروں سے مدد کرے، اور تو اور روس اور برطانیہ بھی بھارت کو جنگی فوجی امداد کی پیش کش کر رہے تھے۔ ایسے میں bruce ridel اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ پاکستان کے پاس یہ ایک موقع تھا کہ چین کے ساتھ وہ کشمیر پر حملہ کردیتا۔ لین پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رکن ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا کیونکہ امریکہ ایسا نہیں چاہتا تھا۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ کی بات مان کر ایوب خان نے بہت بڑی غلطی کی جس کا اعتراف بعد ازاں ایوب خان نے کیا بھی۔ اگر واقعی اس وقت جنرل ایوب خان حملہ کر دیتا تو بھارت کسی صورت بھی دو محاذوں پہ اپنا دفاع نہیں کر سکتا تھا۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب چین نے اپنی مرضی سے جنگ بندی کا با قاعدہ اعلان کر دیا تھا تو پھر بھارت کیوں امریکہ سے جدید اسلحہ لیتا جا رہا تھا اس کا جواب تاریخ کی کتابوں سے ہمیں 1965 کی پاک بھارت جنگ سے ملتا ہے کہ جو اسلحہ بھارت نے امریکہ سے حاصل کیا تھا وہ سب کا سب اس نے پاکستان پر حملہ میں استعمال کیا۔ مدد خداوندی اور جذبہ شہادت کے باعث پاکستان کو اس جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی وگرنہ ہم سے ہر لحاظ سے کہیں طاقتور بھارت کبھی بھی شکست نہ کھاتا۔

اگر اس تناظر میں دیکھا جائے تو اب بھی چین، بھارت اور پاکستان میں ویسی ہی صورت حال ہے بس فرق صرف یہ ہے کہ اب چین پاکستان کے ساتھ مکمل طور پہ کھڑا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ ہے کہ اس بار بھارت چین کے ساتھ ساتھ پاکستانی سرحدی علاقوں پہ بھی وقفہ وقفہ سے فائرنگ کرتا جا رہا ہے۔ پاکستان کی قیادت کو 1962 والے حالات وواقعات کو ذہن میں ضرور رکھنا چاہیے اور کبھی بھی اس بھول یا زعم میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ بھارت چین کے ساتھ جنگ کر رہا ہے تو وہ ہمارا محاذ نہیں کھولے گا بلکہ ہمیں ہر وقت اپنی سرحدوں کی حفاظت کے لئے اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنا ہے اگرچہ چین بھارت کی صلح ہو بھی جائے تب بھی۔ کیونکہ 1962 کے تین سال بعد ہی بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *