فواد چودھری نے کیا غلط کہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فواد چودھری کایاں سیاستدان ہیں، دو حکومتیں بھگتا چکے، اینکر بھی رہے اور اوپر سے وکیل بھی ہیں، میڈیا میں ان رہنے کا فن خوب جانتے ہیں، آج کل ان کے وائس آف امریکہ کے لئے سہیل وڑائچ کو دیے گئے انٹرویو کا بھی غلغلہ ہے

موصوف نے اپنے پارٹی قائد عمران خاں کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ صوبے کمزور افراد کے حوالے کردیئے جو اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے اس وجہ سے حکومت پر تنقید ہو رہی ہے، ان کا فقرہ بہت ہی سخت تھا کہ ”ٹیم تو کپتان نے ہی تیار کرنا ہوتی ہے“ ، پھر انہوں نے جہانگیر ترین، اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی پارٹی میں دھڑے بندی کو بھی نشانہ بنایا کہ اس وجہ سے پارٹی اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی اور جو اسے ڈلیور کرنا چاہیے تھا نہیں کرسکی، ان کے انٹرویو کا خلاصہ ایک لائن میں یہی بنتا ہے کہ حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور اگر اگلے چھ ماہ میں کارکردگی نہ دکھائی تو چھٹی سمجھیں

اپوزیشن نے ظاہر ہے اس پر پوائنٹ سکورنگ کرنا ہی تھی، ادھر ان کی پارٹی کے ساتھیوں نے بھی ان کے خوب لتے لئے، پنجاب کے وزیراطلاعات فیاض چوہان نے حسب عادت اور حسب روایت میڈیا پر آکر نازیبا الفاظ میں فواد چودھری پر تنقید کی، یہ ان کی مجبوری ہے، شاید جماعت اسلامی نے ان کو بیہودہ زبان استعمال کرنے پر ہی برداشت نہیں کیا ہو گا، پھر کچھ وفاقی وزراء نے بھی اپنی زبان کھولی اور کہا کہ ان کو میڈیا پر ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا

ہر بندہ اپنی عقل اور سمجھ کے مطابق ان کے بیان کو اپنے انداز میں لے رہا ہے، مجھے ان کی یہی بات اچھی لگتی ہے کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی گمبھیر مسائل پر کھل کر بات کرتے ہیں، وزارت ملنے کے باوجود وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے، ”یہی بات اچھی ہے میرے ہرجائی کی“ وزیر بننے کا مطلب یہ تو نہیں کہ آپ وزارت بچانے کے لئے آنکھیں، کان اور زبان بند کر لیں کہ مجھے کیا جو ہورہا ہے ہونے دیں، میری تو وزارت پکی ہے نا۔

جرات اور بہادری اسی کا نام ہے کہ آپ ہر جگہ حق اور سچ پر ڈٹ جائیں، مخلص دوست وہی ہوتا ہے جو آپ کو آپ کی خامیوں کے بارے میں آگاہ کرتا رہے، ایسے انسان کی قدر کرنا چاہیے، فواد چودھری نے بہت سے مواقع پر کلمہ حق کہا، فردوس عاشق اعوان کے بارے میں ان کا بیان سچ پر مبنی تھا کہ وہ پلانٹ ہوئی تھیں، میرٹ پر نہیں آئی تھیں، ایسی جرات ایک ایماندار اور بہادر شخص ہی کر سکتا ہے، اب جب حالات اتنے بگڑ چکے ہیں اور چھ ماہ کی مہلت کی باتیں چل رہی ہیں اور وہ پھر بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، ورنہ ڈوبتے جہاز سے سب سے پہلے چوہے ہی چھلانگیں لگاتے ہیں

کوئی بتائے گا کہ فواد چودھری نے سہیل وڑائچ کو کیا غلط کہا ہے، کیا شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کو شروع دن سے ہی جہانگیر ترین کھٹکتے نہیں تھے، ان دونوں رہنماؤں کا مسئلہ یہ ہے کہ خرچ کچھ نہ ہو اور سواد بھی چوکھا آئے، مشرف دور میں اسلام آباد کے معروف اینکر کے ساتھ کھانا کھاتے ہوئے میں نے اسد عمر کی تعریف کی کہ بہت اچھا بولتے ہیں، اینکر نے جواب دیا جی صرف اچھا ہی بولتے ہیں، موصوف کنجوس اتنے ہیں کہ پروگرام میں آتے ہیں تو کہتے ہیں میری گاڑی نہیں ہے، اپنے ڈرائیور سے کہیں ائرپورٹ چھوڑ دے۔

یہی حال جناب مخدوم صاحب کا ہے، دس بارہ سال ملتان رہا، صحافی کو ملاقات کے لئے ترسنا پڑتا تھا، اب جب جہانگیر ترین ہی سارا خرچہ کر رہے تھے تو ظاہر ہے وہ ہرمعاملے آگے ہی ہوں گے، شاہ محمود قریشی تو خیرسے عادت سے مجبور ہیں۔ پیپلزپارٹی میں تھے تو یوسف رضا گیلانی سے کھچے رہتے تھے، ملتان سے ہی تعلق رکھنے والے مخدوم جاوید ہاشمی پی ٹی آئی میں آئے تو خان صاحب کے ہر وقت کان بھرتے رہے بالآخر وہ پی ٹی آئی چھوڑ گئے، اب ان سے جہانگیر ترین برداشت نہیں ہو رہا۔

اسد عمر وزیر خزانہ بنے تو چھ ماہ میں ہی معیشت کا جنازہ نکال دیا، جس پر اتنی لے دے ہوئی کہ موصوف کو ہٹانا پڑا اگر شروع کے چھ ماہ میں معیشت کی سمت درست تعین کر دی جاتی تو شاید یہ حالات نہ ہوتے، جہانگیر ترین عمران خان سے مخلص تھے، ان کو ہر معاملے سے آگاہ رکھتے جس کا بدلہ اسد عمر نے جہانگیر ترین سے لے لیا، جب پارٹی لیڈر سرکاری اور پارٹی عہدوں کے لئے لڑتے رہیں گے تو ظاہر ہے حکومت عوام کو کیا ڈلیور کرے گی، لیڈروں کی ساری صلاحیتں ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں صرف ہوگئیں، عوام گئے جہنم میں۔

کپتان کی ٹیم کے کھلاڑیوں کی قابلیت اور صلاحیتوں کا اندازہ لگا لیں جو چیز سستی کی جاتی ہے وہ مارکیٹ سے غائب ہوجاتی ہے، پٹرولیم مصنوعات کو ہی لے لیں، ایک ماہ ہونے کو ہے، پٹرول کی قیمت میں تاریخی کمی کی گئی مگر اب تک عوام کو سستا پٹرول میسرنہیں، گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہوکر پٹرول لے رہے ہیں، دو، تین ماہ میں پٹرول کی قیمت 44 روپے کم ہوئی ہے جبکہ ڈیزل بھی تقریباً اتنا ہی سستا ہوا ہے، مگر مجال ہے کہ مہنگائی میں رتی برابر بھی کمی آئی ہو، اس کے برعکس جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمت دو روپے بڑھتی ہے تو ہر چیز پانچ سے دس روپے مہنگی کردی جاتی ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اتنی کمی پر کپتان کی ٹیم کے کھلاڑی باصلاحیت ہوتے تو اس وقت کپتان کی مقبولیت کا ریکارڈ اتنا اونچا ہوتا کہ سابقہ ریکارڈ ٹوٹ جاتے مگر حالات سب کے سامنے ہیں۔

آٹا دیکھ لیں، گندم کی سرکاری قیمت 1400 روپے من مقرر ہوئی مگر نئی فصل آنے کے باوجود 2000 روپے من سے کم نہیں مل رہی، ٹڈی دل ہزاروں ایکڑ پر فصلیں کھا چکے ہیں، کسان تباہ ہوگیا مگر اسپرے اس طرح نہیں ہو رہا جس طرح ہونا چاہیے، اسپرے کے لئے جہاز اسی طرح متاثرہ علاقے میں پہنچتا ہے جس طرح کبھی امریکہ بحری بیڑہ نے پاکستان پہنچنا تھا۔

کپتان کے نعرے تھے پولیس ریفارمز کریں گے، پونے دو سال کی حکومت میں کیا ہوا، جتنی مایوسی انصافی حکومت نے عوام میں پھیلائی ہے، میں نے زندگی میں کسی حکومت کی نہیں دیکھی، ایسے میں فواد چودھری کی باتیں عوام کے دل کو لگتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply