ہم صرف قبرستانوں میں ہی متحرک ہوں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس خطے میں جبر کی مرقع کشی کی جائے تو ناممکن ہے کیونکہ ہمارے محافظ ہماری خیالی وسعت سے زیادہ ہمارے وجود پر ظلم مسلط کرچکے ہیں۔ ہماری مائیں بہنیں اسی لئے دوپٹہ اتارنا زیادہ پسند کرتی ہیں گویا پہنا ہوا دوپٹہ کسی بھی ناکے پر جفاکشی سے اتار لیا جاتا ہے۔ وردی پر لگے ستاروں کی تیز چمک سے مسافروں کی آنکھیں دھندلی ہوتی چلی جا رہی ہیں اور عین ممکن ہے کہ یہ ہر آنے جانے والے اندھا کر گزرے گی۔ بہ جائے حیرت کے اب تو جبر و ستم کے واقعات سننا اور دیکھنا عادت بن گیا ہے۔ دن بہ دن بے حسی ہمارے سروں کا تاج بنتی جا رہی ہے اور اب تو بصارت بھی بنجر ہوتی جا رہی ہے کہ سامنے سڑک پر کسی بشر کی خون کی دھار بھی دیکھو تو گاڑی کی رفتار تیز کیے دیتے ہیں البتہ کہ ہم جانتے ہیں گر اس بندے کو ہسپتال پہنچا بھی دیا تو باوردی افراد اپنے ہی گریبان تک آن پہنچتے ہیں۔ بہ قول شخصے

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے
اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

اس خطے میں احمقانہ حرکات دراصل اس بھڑاس سے سرزد ہو رہی ہیں جو ریاستی جبر، بنیادی ضروریات کی عدم موجودگی، حقوق کی پامالی اور عزت نفس کے مجروح کی وجہ سے ہیں۔ ہر باشعور فرد جانتا ہے کہ یہاں پرامن احتجاج کرنے پر بھی غنڈے آپ کو کسی سرکس کا جانور سمجھ لیں گے اس کے باوجود آپ اگر منتشر سوچ کے ساتھ گالم گلوچ یا غلط لہجہ استعمال کرتے ہیں تو پھر ایکشن کے ری ایکشن کے لئے بھی تیار رہیں۔ یہاں جس کے پاس جتنی طاقت ہے وہ اس کا اتنا ہی منفی استعمال کرتا ہے۔

یہاں کتنے ہی شہریوں کا حلق میں خون جما دیا گیا۔ ناکے پر تلاشی لیتے ہوئے ان کا دل چھین لیا گیا۔ کہیں پورا خاندان ہی مار دیا گیا تو کہیں خاندان کے اولین کمانے والے فرد پر الزام مسلط کر کے قبرستان کا مکین کر دیا گیا۔ کوئی مظلوم ان سے پوچھتا ہے کہ مارنا کہاں سے سیکھا؟ کوئی پوچھتا ہے کہ کتنا مارنا ہے؟ کوئی پوچھتا ہے کہ میرا جرم کہاں ہے؟ تو کوئی پوچھتا ہے کہ اگر میں عمر قید میں ہوں تو حقیقی مجرم کہاں ہے؟

سانحہ ساہیوال کا شمار ہوتو حیرت ہوتی ہے کہ سڑک پر کھڑے باوردی اہلکار کو پولیس تا جج تا جلاد تک کا اختیار ہے اور جو عدالت پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ کتنے ہی مقتولوں کے نام ان کی لاش کی طرح فائل کے اندر گلتے سڑتے جا رہے ہیں۔ البتہ یہاں کسی کو اس کی اوقات بتائی ہی نہیں جا رہی۔ ہمارے بچوں پر لگنے والی کمائی کا بڑا حصہ بطور ٹیکس سے خریدے گئے اسلحے سے ہمارے ہی ابدان پر گولیوں کا تمغہ لگایا جا رہا ہے۔ اور ہم اپنے ہی تابوت کے سوراخ سے باہر دنیا کو اسی طور چلتے دیکھ رہے ہیں۔ وہ سوراخ جو تابوت پر گولی مارکر ایجاد کیا گیا۔

بہتر سالوں سے اس زمین پر ماسوائے بارود کے اور کچھ نہیں بویا گیا جس کی بدولت فضا انتشار سے آلود ہو چکی ہے اور ہر شخص انفرادی طور پر منتشر ہوچکا ہے۔ جواب کس سے طلب کریں؟

قائد محترم سے جن کے ایک ارادے نے ملک کے بننے سے قبل ہی کئی گردنیں اتروا دیں۔ ملک پاکستان کے حصول کے روزاول سے اب تک ہم نے بس برسیاں ہی منائی ہیں۔ اور بس بھی سڑک پر سفر کیا وہ کسی نا کسی شہید کے نام کے ساتھ منسوب ہے۔ سوا اٹھائیں تو سوال اٹھانے والے اٹھا لیے جاتے ہیں، اگر کوئی جواب دینے لگے تو اس کو چوک پر لٹکانے کی دھمکی بطور پینشن ہر ماہ دی جاتی ہے۔

مجھ سے کچھ دوستوں نے شکوہ کیا کہ تم فلانے کے لئے آواز نہیں اٹھاتے یا فلانی تحریک کا حصہ نہیں بنتے۔ گویا میں نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ بے حسی کو گلے کا طوق بنا کر یونہی دنیا کی دوڑ میں بیساکھیاں لے کر چلتا پھروں۔

ہمارے پاس سائبر طاقت ہے ہم اس پر جس طرح چاہیں ویسے بولتے ہیں، یہی عامر نے کیا اور حالت نیم ہوشی میں جو انبار اس کے اندر تھا سب اگل دیا۔ پولیس کے پاس کسی کی بھی عزت مجروح کرنے کا اختیار ہے سو وہ انہوں نے کیا۔ سرپرست انتظامیہ چونکہ خود بھی اسی کنویں کے مینڈک ہیں جو کنویں کے اندھیرے سے واقف ہیں سو انہوں نے ماسوائے مجرمان کو معطل کرنے کے کچھ نہ کیا جو کہ عین ممکن ہے جلد بحال کر دیے جائیں گے۔

میرا تو اس ورچوئل دنیا سے جی اکتا گیا ہے کہ ہر طرف سے محض بری خبریں ہی سننی کو ملتی ہیں۔ کہیں طالبات کو ان کے ہی دوپٹے کا پھندا بنا کر کھینچا جا رہا ہے تو کہیں کسی طالب علم کو سال پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی استاد فکر کا جامہ پہنتا ہی ہے تو اس پر توہین رسالت مسلط کر کے اس کی پگڑی اتار دی جاتی ہے۔ کہیں ماں اپنے بیٹے کی مسخ شدہ انگلیوں کی ہڈیوں کی تقسیم پر گریہ کر رہی ہے تو کہیں کوئی بہن سڑک پر بیٹھی اپنے بھائی کا انتظار کر رہی ہے۔

کہیں چوکیدار تنخواہ لیتے ہی گھر کے اندر ہی چوری کر رہے ہیں۔ کسی بھی تنظیم یا گروہ کے بغیر آپ کی پہچان نہیں اور اگر پہچان ہے بھی تو وہ پہچان وطن سے غداری ہے۔ ہمارا نصاب ماسوائے خودپسندی کے کچھ بھی نہیں۔ ہر روشنی سے ہم کو دور رکھا جا رہا ہے۔ ملکوں سے شہروں تک، مذہبوں سے مسلکوں تک، نسل تا رنگ ہر چیز میں ہم کو بانٹ دیا گیا۔
متحرک ہونے کی اس کے علاوہ کوئی امید نہیں کہ ہم صرف قبرستانوں میں ہی متحرک ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply