نسلی القابات اور طاقت کا حصول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جب انسان نے اصل میں ہوش سنبھال تو زرعی دور کا افتتاح ہوچکا تھا۔ زرعی دور قبائلی دور نظام کو لایا تو اس میں بقا  کی جنگ یہ تھی کہ جس قبیلے سے خوف آتا تھا تو آپ اسے پہلے حملہ کرکے مار دیتے۔ آٹھ، دس ہزار سال تک یہ نظام چلا اس کے ساتھ ہی سلطنتوں کا وجود آ گیا تو وہاں بھی طاقت کے نظام کو برقرار رکھنے کے لئے محکوموں اور ممکنہ مخالفوں کو کچل دیا گیا۔ سلطنتوں میں بھی طاقت کے اصول کے لئے قبائلی بغاوتیں ہوئی، پھر ایتھینز کا جمہوری دور آیا اس میں طبقات تھے لیکن ان طبقات میں بھی ایک طرح کی جنگ تھی۔

اسلامی تاریخ میں آئیے تو اسلام نے اس نحوست کے درخت کو اچھا خاصا جھٹکا دیا۔ لیکن خاندانی عصبیت اور طاقت کا نشہ اموی اور عباسی دور میں بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ قصہ مختصر آج کی ٹیکنالوجی بھی طاقت کے حصول کی جنگ کا حصہ ہے۔ تو اس مختصر مگر تمام سی تاریخ میں طاقت انسان کا محور رہا ہے۔ اور اس جنگ میں ہر کوئی دوسرے کو اس وجہ سے مارتا رہا کہ میں آپ سے بہتر ہوں امریکا پورے دنیا میں موت یہ کہہ کر پھیلاتا ہے کہ ہم تہذیب یافتہ ہیں اور آپ کو بھی تہذیب یافتہ بنائیں گے تو جو اس جنگ میں ہمارے سامنے آئے گا وہ نہیں رہے گا۔

چوں کہ امریکہ طاقتور ہے اس لئے جو اس کا دوست وہ بھی کچھ نا کچھ طاقتور۔ آج ہم میں سے ہر وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ میں چوہدری، مری، بگٹی، مینگل، بزدار یا کوئی اور نام استعمال کرتا ہے۔ تو دراصل وہ پہلے اس قبیلے کی حیثیت کو مانتا ہے اور پھر خود کو اس سے نتھی کرکے اس قبائلی روح کو خود میں محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ میرا تعلق یہاں سے ہے اور میں اتنا طاقتور ہوں۔ بھلے اس کا تعلق نہ ہو۔ در اصل یہ نام یہ القابات طاقت کی نشانیاں ہیں۔ اور کمزور طاقت کے منبع تلاشتا ہے جب اسے وہ طاقت کسی نسلی نام میں ملتا ہے تو وہ ایک فرضی و من گھڑت رشتہ بنا کر اس میں سے اپنا طاقت دکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ بلوچ قوم کی تو روایت رہی ہے۔ عربوں کی ہزار سالہ عروج و طاقت کو دیکھ کر ہم نے خود کو عربوں سے جاملایا، کہ بلوچ عرب سے ہے۔ حالانکہ اس کا سادہ سا مطلب تھا۔ ہم عربی ہیں، شاید آس پڑوس ہم سے مڈبھیڑ سے پہلے یہ سوچ کر ڈر جائے۔

لیکن وائے افسوس کہ ہم کو عرب آج تک عجم کہتے ہیں۔ اسی طرح بلوچ اور غیر بلوچ معاشروں میں افترائی سیدوں کی کہانیاں۔ حالانکہ تاریخ اس کو یکسر رد کرتی ہے۔ کبھی ہم نے خود کو افغانوں کے آغوش میں افغانی انسیسٹرز سے نتھی کیا۔ حالیہ دور میں ارطغرل ڈرامہ کو بھی طاقت کے منبع سے جوڑنے کے بہانے کے طور پر بھی عوام نے استعمال کیا۔ حالانکہ کجا ترک عثمانی و کجا من و تو۔ تو طاقت کی طرف یہ مقناطیسیت ہر اس قوم و قبیلہ کی عادت ہے جسے اپنی بقا و شناخت پہ شک ہو۔

اور جاہل معاشروں میں افتراپردازی سے حقیقت بنوانا مشکل نہیں، کیونکہ یہ معاشرے علم و تحقیق سے پرے ہوتے ہیں۔ آپ طاقت کے معاملے میں زیرو ہیں اور آپ کے لئے سارے راستے بھی بند ہیں کہ جہاں سے آپ ایک افترائی کہانی گھڑیں اور پل جھپکتے سردار بن جائے تو آپ کے لئے راست اس طور کھلیں گے جب آپ معاشرے میں طاقت کا کوئی اور دروازہ کھٹکٹائیں گے۔ مثلاً غیر قانونی دھندے یا خود اکیس بائیس گریڈ کا افسر بن کر قانون بن جائیں پھر آپ کو معاشرے میں وہی رتبہ وہی عزت ملے گا تو آپ چاہیں تو ایک افترائی نام کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ کیونکہ آپ طاقت ور ہوتے ہیں اب آپ کے لئے ممنوعات ختم ہو چکیں بلکہ لوگ فخر سے آپ کا نام اپنے یا اپنے بیٹے بیٹوں کے ساتھ جوڑنے میں فخر محسوس کریں گے۔ تو معاملہ سادہ ہے کہ یہ تمام نام، تمام القابات طاقت بٹورنے کا دھندا ہے۔ یہ تب تک ضروری ہے جب تک ہماری سوچ جمہوری اور انسان دوست نہیں ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *