عدلیہ کی بے بسی، پولیس اسٹیٹ اور سائیں سرکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عنایت اللہ بھٹو صاحب (ایڈشنل سیشن جج کھپرو) کے لیے مشہور ہے آپ Face دیکھ کر نہیں Case دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔

یہ دو تصاویر اس کی گواہ ہیں، ایک طرف گاؤں کا انپڑھ غریب چاچا مبارک (مقتول کا والد) تو دوسری طرف 19 گریڈ کا پولیس افسر ۔ (قاتل)

جب چاچا مبارک اپنے بے گناہ بیٹے کی پولیس کے ہاتھوں جھوٹے مقابلے میں قتل کا مقدمہ ایڈیشنل سیشن جج کھپرو کے پاس لایا ( 22 اے کے تحت ) تو شہر کے دو انسان دوست وکلاء نے مفت کیس لڑنے کا اعلان کیا، دوسری طرف مہنگے ترین وکلاء کی خدمات لی گئیں۔ لیکن بھٹو صاحب نے 19 جون کو تاریخی فیصلہ دے کر عوام کا عدلیہ پر اعتماد بحال کیا اور ثابت کیا فیصلے چہرے دیکھ کر نہیں میرٹ پر کیے جائیں گے۔

ایک فیصلے نے پولیس محکمے میں زلزلہ برپا کر دیا۔ ایک ہیڈ منشی سے لے کر ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد تک سب اپنے پٹے بھائیوں کو بچانے میں لگ گئے۔ جج صاحب نے پولیس کو دو دن دیے کہ مبارک علی کی فریاد پر سابق ایس ایس پی سانگھڑ ذیشان صدیقی، انسپیکٹر علن عباسی، انسپیکٹر ذوالفقار، گلزار مری SHO، اسحاق سنگراسی SHO، شریف جمالی SHO اور اے ایس آئی ایاز مری کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

چاچا مبارک انیس تاریخ کو کھپرو سٹی تھانے پر گئے تو ایس ایچھ او کھپرو تھانہ وسیم ارباب نے ایف آئی آر کاٹنے سے دو ٹوک جواب دے دیا، 20 جون کو بھی گئے تو تھانے سے سارا عملہ غائب، 21 کو بھی گئے لیکن ایس ایچ او کا وہی جواب، 22 جون کو مبارک علی نے توہین عدالت کی درخواست دی، کورٹ سے 200 فٹ کی دوری پر تھانہ ہے، ایس ایچ او کو بلوایا گیا لیکن وہ نہ آیا، جب فریادی درخواست لے کر گیا تو تھانے کے گیٹ بند تھے۔

پہلے ہمیں بھی یہی لگتا تھا کہ راؤ انوار کو بچانے کے پیچھے مقتدر حلقے ہیں لیکن جب سے سانگھڑ پولیس کی مکاریاں دیکھ رہا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ فوج خوامخواہ بدنام ہے یہ پولیس اسٹیٹ ہے جو چاہے جب چاہے کر لے اسے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

عدلیہ کی بے بسی تب دیکھی جب 20 گریڈ کے جج کے آرڈر کو 11 گریڈ کا ایس ایچ او ہوا میں اڑانے لگا، توہین عدالت کے نوٹس پر پولیس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی، جج صاحب کرتے تو آخر کیا کرتے؟

فیصلوں پر عمل کرانے والی پولیس ریاست سے زیادہ قاتلوں کی وفادار بن گئی تھی، اور تو اور پانچ چھ گریڈ کا منشی بھی کورٹ آرڈرز کا ٹھٹا اڑانے لگا۔

سوچتا ہوں یا تو ججز کا گریڈ بھی ایک اے ایس آئی کے برابر کیا جائے یا انہیں اتنا اختیار دیا جائے کہ بیس گریڈ کے ڈی آئی جی کو بھی قانون پر عمل نہ کرانے پر ہتھکڑیاں لگا سکیں۔

یہ کام پولیس تو ہرگز نہیں کرے گی تو انہیں رینجرز یا فوج کے ذریعے قانون کی حکمرانی قائم کروانے کا اختیار دیا جائے، تو آئندہ SHO ارباب اور SSP عثمان غنی جیسے لوگ خود کو پبلک سرونٹس سمجھیں گے۔

اس سارے معاملے سے سائیں مراد علی شاہ غافل رہے، وہ ڈی آئی جی رپورٹ کو پبلک نہ کر سکے کیونکہ اس میں پولیس کے کالے کرتوتوں سے پردہ چاک کیا گیا تھا۔

جب 48 سینٹی گریڈ میں لوگ احتجاج کریں، کورونا کی وبا کے دوراں اپنی زندگی رسک پر رکھ کر سڑکوں پر مظاہرے کریں، پولیس کے ڈنڈے کھائیں زخمی ہوں، روڈ بلاک ہوں، جلاؤ گھیراؤ ہو تب جا کر سائیں سرکار کی آنکھ کھلے گی۔

ان کا کردار صوبے میں ٹاؤن کے اس کارندے جیسا ہے جو ہر شام کو چھابڑی والے، ریڑھی والے سے دس بیس روپے وصول کر کے مالک کو پہنچاتا ہے، یہ کام بیچارہ خوش اسلوبی سے نباہ رہا ہے تبھی تو مالک کا مکمل اعتماد ہے، باقی صوبے میں کیا ہو رہا ہے اس سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ پچھلے پانچ چھ سالوں کے دوراں موصوف نے کسی ایک بھی افسر کو رشوت یا نا اہلی کی بنیاد پر معطل کرنا تو دور کی بات نوٹس بھی نہیں بھیجا، ان کی پالیسی ہے ”کھاؤ اورکھلاؤ۔“

پولیس محکمے نے ادارے میں موجود کالی بھیڑوں کو بچانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہوا ہے، آج ہاء کورٹ سے مایوسی پلے پڑی ہے اب دیکھتے ہیں وہ کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں یا اسی طرح ٹال مٹول سے کام لیتے رہیں گے۔

کھپرو کے باشعور عوام سے گزارش ہے اب یہ بلا احتجاج کے بغیر ٹلنے والی نہیں ہے، پر امن احتجاج کرنا پڑے گا تب جا کر قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائے گا،

نہ گفتگو سے نہ وہ شاعری سے جائے گا
عصا اٹھاؤ کہ فرعون اسی سے جائے گا
اگر ہے فکر گریباں تو گھر میں جا بیٹھو
یہ وہ عذاب ہے دیوانگی سے جائے گا۔

( نوٹ۔ 26 رمضان المبارک 20 مئی کو کھپرو شہر کے دو مزدور نوجوان بے گناہ جھوٹے پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے والدین ایف آئی آر کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، کورٹ آرڈر بھی ساتھ ہے لیکن پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی ہے۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *