وزیر اعظم عمران خان کا دورہ مظفر آباد اور آزاد کشمیر کے عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ماضی میں جب بھی پاکستان کے وزراے اعظم آزاد کشمیر تشریف لاتے، تو نہ کوئی سڑک بند کی جاتی اور نہ ہی عوام کی نقل و حرکت پر کوئی ناجائز قدغن لگائی جاتی، بلکہ یہ لیڈرز، چاہے وہ محمد خان جونیجو ہوں، راجہ پرویز اشرف ہوں یا نواز شریف ہوں، وہ کھلے عوامی اجتماعات سے بڑے بڑے جلسوں میں خطاب کرتے اور ان کی سیکیورٹی کے لیے کوئی سڑک، کوئی راستہ کبھی بند نہیں کیا جاتا رہا۔ آج وزیر اعظم عمران خان کی آمد پر کئی میل کے دائرے میں تین ضلعوں کی پولیس لگا کر ہزاروں عوام کے رہایشی علاقے اس طرح سیل کر دیے گئیے کہ پورے علاقہ میں کسی بھی طرف کو داخل ہونے والی ہر گلی، ہر سڑک چاہے اس کا پی ایم ہاؤس کے راستے سے بالکل کوئی تعلق نہ بھی ہو، شدید ترین گرمی میں بند کر دیے گئے کئی سو پولیس موبائلز اور کاریں ہر جگہ تعینات کر دی گئیں اور جلال آباد ایریا، دومیل سیداں ایریا، ایئر پورٹ روڈ، سنگڑی میرا ایریا اور روڈ، زیرو پوائنٹ ایریا، میڈیکل کالج کے مضافات اور ساتھ تعمیر سرکاری افسر کالونی کے پورے ایریا کو بند اور محسور کر دیا گیا، بلکہ ہر گھر کے سامنے عملی طور پر پولیس تعینات کر دی گئی۔

ایسی سیکیورٹی جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی آمد پر بھی نہیں تعینات کی جاتی رہی۔ یہ رویہ حکمرانوں کے اندر کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ اتنا ہی خوف اور ڈر تھا تو اسلام آباد میں ہی کشمیر ہاؤس تشریف لا کر وہ کچھ کر اور کہہ لیتے، جو یہاں آزاد کشمیر میں آ کر کہنا اور کرنا تھا۔ عوام کو ذلیل و خوار کرنا اور سڑکوں پر محسور کرنا اور بددعائیں لینا کیا ضروری تھا۔ یہ وقت آزاد کشمیر کے عوام کے لیے بھی فیصلہ کن ہے کہ ان کو اپنے تشخص کی حفاظت کے لیے آواز اٹھانی چاہیے اور حکومت پر یہ واضح کر دینا چاہیے کہ عوام آزاد کشمیر کے عوام کے، تشخص اور اختیارات پر اور ان کا سیاسی درجہ تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کی شدید مزاحمت کریں گے اور اگر طاقت کے بل پر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف یو این او کے مبصرین اور نمائندوں کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا جائے گا۔

کل اسلام آباد میں چین کی بہت بڑی فرم ”تھری گورجز انٹرپرائز“ کے ساتھ وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کی موجودگی میں ”کوہالہ ہائیڈرل پراجکٹ“ کی تعمیر کے لیے معاہدہ دستخط کیا گیا، اس منصوبے میں چین ڈھائی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ یہ بہت اچھا اور مفید منصوبہ ہے جو پاکستان اور آزادکشمیر کے شاندار مستقبل کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا، لیکن ضرورت اس امر کی تھی کہ اس معاہدے کے ساتھ ہی آزاد کشمیر کے عوام کو یہ بھی بتایا جاتا کہ ان کو اس منصوبے کی تکمیل کے بعد رائلٹی، حصے، اور دیگر مستقل فوائد کی شکل میں کیا حاصل ہو گا۔

اس بارے میں آزاد کشمیر کے عوامی حلقوں میں جائز طور پر خدشات پاے جاتے ہیں کیونکہ ماضی میں آزاد کشمیر کی حدود میں بننے والے بڑے بڑے منصوبوں جن میں منگلہ ڈیم اٙپ ریزنگ پراجکٹ خاص طور پر قابل ذکر ہے، جس میں آزاد کشمیر کے عوام نے اپنی بستیاں اپنے اجداد کی قبریں بلکہ اپنا کلچر تک پاکستان کی محبت میں قربان کر دیا لیکن جیسے ان سے تلافی کے وعدے کئیے گئے ان پر عمل نہیں کیا گیا اور بہت سے ایسے باشندے جن کے پاس نہ تو اور کسی جگہ کوئی زمین یا ملکیت تھی ان سے ابتدا میں وعدہ کیا گیا کہ جس شہری کے پاس کچھ زمین نہیں بچے گی اس کو آزاد کشمیر میں ہی متبادل زمین بھی دی جائے گی اور اس زمین کا مناسب معاوضہ بھی دیا جائے گا لیکن عملی طور پر یہ ہوا کہ ڈیم کی اپ ریزنگ کا کام مکمل ہو جانے کے بعد ان مالکان کو کوڑیوں کے مول زمینوں کا معاوضہ دیا گیا۔

اور متبادل زمین بھی نہیں دی گئی یہ معاوضہ جات اتنے کم تھے کہ کنالوں کے ادا شدہ معاوضے سے کسی جگہ ایک مرلہ زمین خریدنا بھی ناممکن تھا۔ اسی طرح کنالوں پر تعمیر شدہ شاندار مکانات کے عوض ”لوز فلنگ“ پر قائم شدہ کالونیز میں چند چند مرلہ زمین دی گئی۔ زمین لیتے وقت اصل دو سو بہتر فٹ کے مرلہ کے حساب سے لی گئی اور کنالوں پر تعمیر شدہ مکانات کے عوض دو سو ستائیس فٹ پر مشتمل مرلہ کی شکل میں چند مرلہ پر مشتمل پلاٹ دیے گئیے جو بھرائی والی ناقص زمین پر تعمیر کی وجہ سے اکثر کریک ہو چکے ہیں اور اب ان متاثرین کی کوئی بات سننے کو بھی تیار نہیں۔

جن متاثرین کی کل زمین ہی یہی تھی وہ تو مکمل طور پر بے یار و مدد گار اور ذلیل و خوار ہو چکے ہیں۔ یہ جابرانہ رویہ عوام میں نفرت اور ردعمل پیدا کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ اسی طرح نیلم جہلم پراجکٹ کے متاثرین کے ساتھ بھی کئیے گئے وعدے پورے نہیں کئیے گئے۔ اور اب کوہالہ ہائیڈرل پاور کے منصوبے سے بھی اس علاقے کے بہت سے رہائشی باشندوں کی زمینیں، مکانات اور تعمیر شدہ انفراسٹرکچر متاثر ہو گا۔ وزیر اعظم کو اپنی تقریر میں یہ ذکر ضرور کرنا چاہیے تھا، کہ ان منصوبوں کے منافع سے آزاد کشمیر کو کیا حصہ ملے گا، اور متاثرین کی بعد آباد کاری کے لیے کیا اقدامات کئیے جائیں گے۔ کشمیر کے عوام نے ہمیشہ پاکستان کے لیے بیش قدر قربانیاں دیں ہیں اور آج بھی دے رہے ہیں، لہذا ان کی محبت اور قربانیوں کی قدر کی جانی چاہیے نہ کہ ان سے مفتوحہ عوام جیسا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *