میں نے سی ایس ایس کا امتحان کیسے پاس کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ ہفتے یہ خبر پڑھی تھی کہ ڈپٹی کمشنر آفس گجرات میں تعینات پرائیویٹ سکریٹری ٹو ڈپٹی کمشنر عبدالخالق کے بیٹے محمد نصیر نے اس سال سی ایس ایس کا امتحان پاس کر لیا ہے۔ یہ جان کر بہت خوشی ہوئی۔

1983 ء میں عبدالخالق نے ڈی سی آفس میں بطور جونئر کلرک بھرتی ہوئے تھے۔ اپنی محنت کی بدولت دفتر ہذا میں مختلف حیثیتوں میں کام کرتے ہوئے وہ 1995 میں اسٹینو گرافر ترقی پا گئے۔ مزید ترقی پانے کے بعد 2005 ء سے وہ پی ایس ٹو ڈپٹی کمشنر کام کر رہے ہیں۔

عبدالخالق اور اس کے بیٹے محمد نصیر کی کامیابیوں کی یہ بے مثال کہانی انتھک محنت اور جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے اس گھرانے کی کامیابی پر علاقے بھر سے لوگ مبارکبادیں دینے ان کے گھر پہنچ رہے ہیں۔

گجرات کی تحصیل کھاریاں کے گاؤں کوٹلی شاہ جہانیاں سے تعلق رکھنے والے عبداخالق اپنے ہونہار بیٹے نصیر کے سی ایس پی افسر بننے پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ عبدالخالق نے گجرات سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ ”ضلع کچہری گجرات میں اپنی ملازمت کے دوران ان کا بہت سے ڈپٹی کمشنروں، اسسٹنٹ کمشنروں اور دیگر اعلیٰ سرکاری آفسران سے واسطہ پڑتا رہا ہے۔ ان کی حیثیت اور اختیارات کودیکھ کر اس کے دل میں بھی کبھی کبھی یہ خواہش مچلتی تھی کہ کیا کبھی وہ دن بھی آئے گا۔ جب اس کی اولاد میں سے کوئی ایسے عہدے تک پہنچے گا۔

اپنے بیٹے سے انہوں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تو ہونہار بیٹے نے اس کے آگے سرتسلیم خم کیا۔ بیٹے کی اپنی بھی خواہش تھی۔ لہٰذا ”دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی“ کے مصداق اس کے بیٹے نے یہ معرکہ سر کر لیا ہے ”۔

اس سوال کے جواب میں کہ اس کے بیٹے کو سی ایس ایس میں اہم خیال کیے جانے والے محکموں جیسے، پی اے ایس، پولیس یا فارن سروس گروپس کی بجائے ان لینڈ ریونیو سروس آف پاکستان گروپ الاٹ ہوا ہے۔ کیا انہیں کوئی مایوسی تو نہیں ہوئی؟ کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”قدرتی طور پر خواہش تو ہر شخص کی ہوتی ہے کہ اعلیٰ محکمہ اسے ملے۔

لیکن اس کے لیے یہی بہت بڑا اعزاز ہے کہ اس کے بیٹے نے سال ہا سال کلرک رہنے والے باپ کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ ان کے بیٹے کی کامیابی ہمارے سارے خاندان کے لیے ایک اعزاز ہے۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران رزق حلال سے جو کچھ کمایا اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیا ”۔

عبدالخالق کے بقول ان کا ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں۔ اور چاروں ہی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔ بڑی بیٹی نے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز ڈگری کی ہے۔ دوسری بیٹی ایم اے ایجوکیشن ہے۔ دونوں درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ جبکہ چھوٹی بیٹی نے ایل۔ ایل۔ بی کیا ہے۔ بطور وکیل مقامی بار کی ممبر کے ساتھ ساتھ وہ سول جج کے امتحان کی تیاری بھی کر رہی ہے۔

محمد نصیر، جنھوں نے گزشتہ دنوں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہے نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ ”وہ آج کل گورنمنٹ ذمیندار کالج گجرات میں بطور لیکچرر زوالوجی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے نے یونیورسٹی آف گجرات سے زوالوجی میں ایم فل کیا ہوا ہے۔ بی۔ ایس آنرز زوالوجی میں انہوں نے یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا اور گولڈ میڈل کے حق دار ٹھہرے تھے۔

اس سے قبل انہوں نے دو دفعہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کا امتحان بطور لیکچرر بھی پاس کیا ہے۔ وہ گورنمنٹ کالج منگووال ضلع گجرات میں بیالوجی کے لیکچرر بھی رہے ہیں۔ اور کچھ عرصہ ڈی ایچ او آفس گجرات میں بطور ہیلتھ ایجوکیشن افسر بھی کام کر چکے ہیں۔

سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کیسے حاصل کی؟ کے جواب میں محمد نصیر کا کہنا ہے کہ ”انہوں نے امتحان کی ساری تیاری خود کی۔ لاہور یا اسلام آباد جا کر کسی اکیڈیمی کو جائن نہیں کیا۔ پرانے پیپرز کو سامنے رکھ کر اپنے نوٹس بنائے۔ اور تیاری کرتے ہوئے لکھنے کی بہت زیادہ پریکٹس کرتا رہے“ ۔

محمد نصیر کے بقول 2018 ء میں بھی اس نے سی ایس ایس کا امتحان دیا تھا۔ تحریری امتحان اور انٹرویو پاس کرنے کے باوجود بھی اس کی ایلوکیشن نہیں ہو سکی تھی۔ 2019 ء میں اس نے پھر چانس لیا۔ اس بار اللہ کے فضل، اپنی محنت اور والدین کی دعاؤں سے اسے کامیابی ملی ہے۔ اور گروپ ایلوکیٹ ہونے والے 214 کامیاب امیدواروں میں اس کا نمبر 68 واں ہے۔ اور اسے انکم ٹیکس یعنی ”ان لینڈ ریونیو آف پاکستان“ گروپ الاٹ ہوا ہے۔

محمد نصیر کا کہنا تھا کہ ”زوالوجی میں ایم فل کرنے کے بعد اس کا ارادہ اسی شعبے میں پی۔ ایچ ڈی کرنے کا تھا۔ بطور استاد انہیں شعبہ درس وتدریس بے حد پسند ہے۔ کہاں زوالوجی اور کہاں اب انکم ٹیکس؟ اس سوال کے جواب میں نصیر کا کہنا تھا کہ“ بلاشبہ اب ایک نئی دنیا اور نیا شعبہ اس کا منتظر ہے۔ مگر وہ اس حیثیت میں بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز کی خدمت کرنے کی بھرپور کوشش کریں گا ”۔

مقابلے کے امتحان کی وہ تیاری کیسے کرتے تھے؟ کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں محمد نصیر نے بتایا کہ ”وہ دیگر اخبارات و جرائد کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ پی ٹی وی، انگلش چینل انڈس نیوز اور اکانومسٹ میگزین کا مطالعہ کرتا تھا۔ تحریری امتحان میں اس نے لازمی مضامین کے ساتھ ساتھ پولئٹکل سائنس، کانسٹی ٹیوشنل لاء، پاکستان انڈیا ہسٹری، پنجابی اور زوالوجی کے اختیاری مضامین رکھے تھے“ ۔

تحریری امتحان میں کامیابی کے بعد سی ایس ایس کے انٹرویو میں تجربہ کیسا رہا؟ کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ”انٹرویو کا دورانیہ پچیس سے تیس منٹ کے درمیان تھا۔ انٹرویو کرنے والوں میں چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن حسیب اطہر کے علاوہ دو اور لوگ تھے“ ۔

” سارا انٹرویو انگریزی زبان میں ہوا تھا۔ حالات حاضرہ، جنرل نالج کے علاوہ زیادہ تر سوالات ایلیکٹو ٹائپ تھے۔ زوالوجی، پنجابی اور ہسٹری کے سوالات میں بلے شاہ اور شیر شاہ سوری کے متعلق سوالات پوچھے گئے تھے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہوئی تقریر کے چار اہم نکات کے متعلق سوال بھی شامل تھا۔

اس کے علاوہ عالمی سطح پر گلوبل وارمنگ کے کیا پرابلم ہیں۔ اور پاکستان اس کا مقابلہ کیسے کر سکتا ہے کے متعلق بھی تفصیل سے سوالات پوچھے گئے تھے ”۔

کیا پاکستان میں سی ایس ایس کرنا بہت مشکل کام ہے؟ اس سوال کے جواب میں نصیر کا کہنا ہے کہ ”سی ایس ایس کو ایسے ہی ہوا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ دوسرے امتحانات کے کی طرح اس امتحان میں کامیابی کی کنجی محنت اور خوب تر پریکٹس ہے۔ کم انگریزی کی سمجھ بوجھ رکھنے والا بھی اپنی محنت کی بدولت اس میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ اور یہ ضروری بھی نہیں کہ سب سی ایس ایس کرنے والے بہت ہی لائق ہوتے ہیں۔ امتحان کی تکنیک کا آپ کو پتہ ہونا چاہیے“ ۔

نصیر نے بتایا کہ ”دو دفعہ اس نے سی ایس ایس کا امتحان دیا ہے اور دونوں بار پاس بھی کیا ہے۔ ان کا تجربہ یہ رہا ہے کہ انگلش کے تحریری امتحان میں محدود وقت میں آپ کو دو ہزار الفاظ کا کم از کم مضمون لکھنا ہوتا ہے۔ لمبے لمبے فقرے لکھنے کی بجائے اگر سادہ، مختصر مگر جامع فقرے لکھے جائیں تو آپ کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ جتنے لوگ اس امتحان میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ ان کی ذہانت کا معیار کم و بیش ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔

گروپوں کی تقسیم اور ایلوکیشن میں محض چند نمبروں کا فرق ہی ہوتا ہے۔ بلکہ بعض اوقات تو آپ محض ایک دو نمبر کم آنے سے اوپر والے گروپ میں جانے کی بجائے نیچے والے گروپ میں آ جاتے ہیں۔ باقی جہاں تک خواہش کا تعلق ہے۔ ہر شخص کی خواہش تو ہوتی ہے کہ اختیارات کے حوالے سے اہم شمار کے جانے والے گروپوں جیسے، پی اے ایس، فارن سروس یا پولیس وغیرہ میں جایا جائے۔ تاہم ذاتی طور پر طور وہ اپنے ملنے والے ان لینڈ ریونیو گروپ سے مطمئن ہیں ”۔

نصیر کے مطابق ان کے والدین کی بھی چونکہ خواہش تھی اور پھر والدین کی خواہش میرا اپنا بھی شوق بن گیا کہ سی ایس ایس کے میں کامیابی ضرور حاصل کرنی ہے۔ خواہش، لگن، شوق اور محنت، یہ چار عناصر ہوں تو تب جا کر کسی بھی امتحان میں کامیابی آپ کا مقدر بنتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *