عورت کا المیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلائے ہوئے تھے زہرہ اس اندھیرے میں آنکھیں کھولے کچھ دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی جیسے اسے روشنی سے زیادہ اندھیرے میں دکھائی دے رہا ہو کبیر کو اس سے روٹھے ایک لمحہ ہوا تھا وہ ایک لمحہ قیامت بن کر زہرہ پر ٹوٹا تھا کبیر سے تعلق جس کمزور ذریعے سے بنا تھا ابھی تک اسی کمزوری کا شکار تھا اسے معلوم نہیں تھا کہ یہ فیس بکی تعلق جس کا آغاز رنگین باتوں سے ہورہا ہے اور اس کا انجام کس قدر تکلیف دہ ہوگا انجام سے بے خبر زہرہ بے لوث رشتہ نبھانے پر خار راہ پر نکلی تھی ایسی راہ جس پر صرف دکھ اور تکلیفیں تھیں خوشی کے لمحات کب آتے اور کیسے گزر جاتے ہیں اس کا احساس اسے اگلے دکھ کی آمد پر ہوتا ہے اس کی زندگی کسی کھیل کی شکل اختیار کر چکی تھی وہ کھیل جس کو وہ خود اپنی مرضی سے کھیل بھی نہ سکتی تھی رات کا اندھیرا مزید گہرا ہوتا جا رہا تھا جو اس کی اندرونی تاریکی کو مزید سیاہی میں دکھیل رہا تھا اس کی آنکھیں مسلسل گریے میں مصروف ارد گرد سوالات کی ایک دنیا آباد ہو چکی تھی جو اس کی

بے چینی میں مزید اضافہ کر رہی تھی

کبیر کے ساتھ تعلق کو ایک سال اور 6 ماہ ہوچکے تھے اس عرصے میں اس نے زندگی کو کبھی تلخ پایا اور کبھی شیریں وہ زندگی کا اصل ذائقہ بھول چکی تھی کبیر آج کے مرد سماج کی تعریفوں پر پوری طرح اترتا ہوا لڑکا تھا زہرہ اپنی شخصیت کے برعکس اس کے لیے روایتی عورت کا روپ دھار لیتی ہے یہ کیسے اور کیوں ہوتا ہے اس سب سے وہ خود بھی لا علم تھی

بڑھتی ہوئی رات کی تاریکی میں وہ اپنے ماضی کی راہوں پر نکل پڑی تھی ایسا ماضی جو ذلت آمیز رویوں اور تلخ یادوں کے نشتروں سے بری طرح زخمی تھا اس کے آنسو تیزی سے پلکوں کو چھوتے ہوئے گالوں کے راستے جھولی میں گرے رہے تھے ماضی کے جھروکوں سے گزرتے ہوئے اس کے خستہ وجود پر کب نیند غالب آ گئی اسے خود بھی اس کا اندازہ نہ ہوا

بیرونی کھڑکی کے راستے آنے والی صبح کی پہلی کرن نے جب اس کے گالوں کا بوسہ لیا تو چونک گئی بالکل اسی طرح جس طرح وہ کسی بھی خوشی کے ملنے پر کچھ عرصے سے چونک رہی تھی گزری رات کی کارروائی اسے خواب محسوس ہو رہی تھی لیکن رات کے حقیقت ہونے کی گواہی اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دے رہی تھی

گزشتہ رات کا بوجھ ابھی تک جوں کا توں تھا وہ ان سب حالات سے بھاگنا چاہتی تھی کسی ایسی جگہ جہاں انسانی وجود اس کے قریب نہ آ سکے پر سکون زندگی کا یہ واحد حل وہ پچھلے کئی دنوں سے سوچ رہی تھی جو کہ مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا

زمین سے اٹھتے وقت اس نے کپڑوں کو ایسے جھاڑا جیسے اپنے وجود پر سوار بوجھ کو بھی ساتھ ہی جھاڑنا چاہتی ہو

سورج پوری طرح آسمان پر براجمان تھا وہ کبیر کی طرح سورج کو بھی دیکھنا نہیں چاہتی اسے اس وقت ہر چمکتی چیز میں کبیر کی آنکھوں کی چمک محسوس ہو رہی تھی اس سب سے تنگ آ کر اس نے کھڑکی کے منہ پر پردہ دیا جس پر کمرے میں وہی کیفیت دوبارہ لوٹ آئی

اس کا دل خاموش ہو چکا تھا اس زرخیز زمین پر اب کوئی خواہش کی کونپل نہیں پھوٹتی تھی اب اسے سورج کی پھیکی روشنی پردے پر ہانپتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی بستر پر اس کے وجود کی جگہ اندیشے لیٹے ہوئے تھے اس کی زندگی کے دیگر کام کسی کونے میں پرانے کاٹھ کباڑ میں پڑے اونگھ رہے تھے آنکھوں اور نیند کے درمیان کا رستہ خوف کی دھول سے اٹا ہوا محسوس ہو رہا تھا دماغ ایزی چئر پر جھولتے ہوئے سوچ میں گم تھا وہ ہونے اور نہ ہونے تعلق اور لاتعلقی جیسے دھاگوں میں بری طرح الجھ چکی تھی اس کے ساتھ اس طرح کے کئی دن بیت چکے تھے وہ نمک کی طرح گھل رہی تھی

تعلق کی طرح وجود بھی کمزور پڑ چکا تھا اور خستہ مکان کی صورت کب گر جائے کچھ معلوم نہیں تھا ہر بار غلط فہمیوں کے بعد ہچکولے کھاتا ہوا یہ تعلق اس کی ذات کے لیے روگ بنتا جا رہا تھا یہ اس اذیت کی عادی ہو چکی تھی اسے غموں سے پیار ہو چکا تھا دن کا کافی حصہ گزر چکا تھا لیکن اس کی دنیا میں تاریکی چھائی ہوئی تھی اس نے منتشر وجود کو جمع کیا بکھرے ہوئے بالوں کو دکھوں کی طرح ایک ہی پونی سے باندھ دیا۔ کانپتے ہاتھوں سے کاغذ اور پنسل تھاما اسے نہیں معلوم تھا کہ کیا لکھنا چاہ رہی ہے لیکن وہ لکھ رہی تھی عادت کے مطابق اس نے دونوں طرف سے کاغذ خالی چھوڑ دیا اور درمیان میں لکھنا شروع کیا سفید کاغذ پر

” عورت“ لفظ نمایاں نظر آ رہا تھا جس کے بعد باقی الفاظ اس کی رہنمائی میں لکھے جا رہے تھے شاید عورت کے وجود اور اس کے احساسات و جذبات پر لکھنا چاہتی تھی لیکن تخیل میں آنے والا ہر لفظ اسے عورت کے مقام سے کئی درجے نیچے دکھائی دے رہا تھا اس نے لفظوں سے باقاعدہ طور پر جنگ شروع کر دی تھی کافی وقت جنگ کرنے کے بعد سرخ روشنائی سے دوبارہ لکھنا شروع کیا ”عورت فطرت کا حسین راز ہے جو ہر شخص پر اس کی اوقات کے مطابق وا ہوتا ہے“

اس نے اس لائن کو کاٹا دیا اسے شاید مناسب لوگوں کی طرح مناسب جملوں سے بھی نفرت ہو گئی تھی نیچے کالی روشنائی سے اس نے دوبارہ لکھنے کے عمل کا آغاز کیا ”عورت رنگ ہے جو ہر رنگ کو اپنے اندر جذب کر لیتی ہے اور یہی خصوصیت اس کو ہر خدائی تخلیق سے منفرد بناتی ہے“

اب وہ پوری طرح رنگوں کی دنیا میں کھو چکی تھی ”مطمئن عورت کا رنگ سفید“ اجڑی عورت کا رنگ سیاہ ”“ محبت پانے والی عورت کا رنگ سرخ ”

”بے وفائی جھیلنے والی عورت کا رنگ سرمئی“

”محبت میں ناکام ہونے والی عورت کا رنگ زرد“

” نفرت کا نشانہ بننے والی عورت کا رنگ پیلا“

وہ بری طرح چونکی کاغذ پنسل کی دنیا سے آگے کا سفر اسے غیر مانوس راستے پر گھسیٹتے چلا جا رہا تھا ایسی دنیا جو کبیر کے خیال سے آزاد تھی۔

وہ سارے رنگوں کا مرقع بن چکی تھی اس کی ذات میں کوئی نیا رنگ اپنانے کی نہ ہمت تھی نہ خواہش۔ ۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *