مبارک ہو چاند ہوا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی عید الفطر پہ ملنے والا زخم تازہ تھا کہ نیا گھاؤ مل گیا، یہ کیا کیسے اور کیوں ہوگیا، تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ اب تو لگتا ہے تبدیلی سر پہ ہی سوار ہوگئی ہے۔ یہ کیا غضب کہ ملک اس مسئلہ پر ایک ہوتا نظر آ رہا ہے جس مسئلہ ٔ پر دو صوبوں کے مفتی کبھی نہ ایک ہو سکے۔ میں چاند ڈھونڈنے کے مسئلہ ٔ کی بات کر رہی ہوں۔ کہ اب یہ مسئلہ ٔ مسئلہ نہیں رہا، پورے ملک میں چاند ایک ساتھ ہی چڑھنے لگا ہے، مجھے حیرت ہو رہی ہے چاند ایسے شہرہ آفاق مسئلہ پر مفتی مشرکوں کی ایجاد کردہ سائنسی آلات جیسی شرکیہ چیزوں کی صداقت پہ سر جکھا کر بیٹھ گئے ہیں۔

نہ صرف سر جھکائے ہیں بلکہ سائنس دانوں کو سچا ثابت کرنے پہ آمادہ بھی نظر آرہے ہیں، یوں لگ رہا ہے مولوی نے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے آدھی اینٹ ہٹا کر سائنس کو راستہ بھی دے دیا ہے تو بس اب دیکھتے جاؤ باقی اینٹ پر سائنس خود ہی قبضہ کر لے گی۔ وہ کیا کہتے ہیں کھڑے ہونے کو جگہ دیں بیٹھنے کو ہم خود ہی بنا لیں گے یہ محاوہ غالباً ایسے ہی وقتوں کے لیے بنا تھا۔ اسے قدرت کا کرشمہ کہیے یا پھر کسی کے تعویذوں کا اثر کہ کایا پلٹ رہی ہے، پورے ملک میں سب کو چاند ایک ساتھ نظر آنے لگا ہے۔ میں یہ تو نہیں جانتی کہ غلط ہورہا ہے یا صحیح مجھے تو بس اتنا لگ رہا ہے ہماری خوشیوں کو نظر لگ گئی ہے کہ یہی دو دن خوشیوں کے تھے وہ بھی عقل والے سائنس کے توسط سے چھین رہے ہیں۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ پچھلی عید الفطر پر مسلمانوں کے خالص اسلامی چاند پر سائنسی کیلنڈر نے قبضہ کر لیا تھا لیکن اب عید الاضحیٰ بھی مفتیوں کے ہاتھ سے نکلتی نظر آ رہی ہے

مسلمانوں کا سب سے خوبصورت تہوار عید ہے ہمارے تہواروں کے ساتھ خوبصورت روایتیں بالکل ویسے ہی جڑی ہیں جیسے پیدائشی طور پہ سر دھڑ جڑے بچے۔ روایتیں تو ہر عقیدے اور مسلک و ملک والوں کی اپنی ہوتی ہی ہیں یقیناً وہ بھی ان روایتوں کو خوبصورت ہی کہتے ہوں گے، لیکن پھر بھی ہماری روایتیں کچھ زیادہ ہی خوبصورت ہیں۔ کہ ہماری سب سے قدیم و خوبصورت روایت تو ہر موقع پر کسی بھی بات پہ تنازع کھڑا کرنا ہے، خاص کر مذہبی حوالے سے نہ چاہتے ہوئے بھی تہوار اکثر متنازع ہو جاتے ہیں۔

خواہ وہ تنازع چاند ہی کا کیوں نہ ہو، عید الفطر کامتنازع ہونا بھی اپنی مثال آپ ہے۔ ہمیں تو چاند کے تنازع کی ایسی لت پڑ چکی ہے کہ اب جو عید متنازع نہ ہو اس کا مزہ ہی نہیں آتا۔ ہر سال پوری شان و شوکت کے ساتھ عید الفطر کو متنازع بنایا جاتا اور مولویوں کی چاند کشی میں عوام کا بھلا ہو جاتا انھیں عید کی دوہری خوشیاں نصیب ہو جاتیں، لیکن برا ہو کسی سے یہ خوشی دیکھی ہی نہیں گئی اور وہ سائنس کی لاٹھی لے کر پہنچ گیا، جی عید تو طے ہے کل ہو کر رہے گی، مسکین مولوی کہاں تک طاقتورں سے متھا لگاتا کہ جس کی دوربین اسی کا چاند، آخر ڈر کے مارے مولوی نے ہتھیار پھینک دیے، بات مان لی، اعلان کر دیا کہ ہاں جی کل ہی عید ہے۔

کیا غضب کر دیا، کیا تھا جو ڈٹ جاتے اور سائنس کو کہہ دیتے کر لو جو کرنا عید تو پرسوں ہی ہوگی تو آج یہ دن تو نہ دیکھنا پڑتے، کاش مولانا صاحب ہمت تو کرتے، آپ کہہ کے تو دیکھتے پھر اگر کوئی آپ سے اختلاف کرتا تو لگا دیتے اس پہ کفر کا فتوی اور کر دیتے اسے خارج از اسلام، کون روکنے والا تھا آپ کو، لیکن نہ جی آپ تو شاید بس اپنی جاٹ والوں ہی سے متھا لگا سکتے ہیں طاقتور سے نمٹنا آپ کے بس سے باہر ہے۔ آپ کا کیا گیا ہمارے لیے تو عید کا سارا حسن چاند دیکھنے سے تھا وہ بھی ختم ہو گیا اب کھلنڈروں کے لیے آ گئی ہے کیلنڈری عید۔

سائنس والوں نے لانڈری سے آئے ہینگر میں ٹنگے کپڑوں کی طرح کئی سال پہلے کیلنڈر بنا کے دیوار پہ ٹانگ لیا ہے اور اس پر عید کی تاریخ کے نشان بھی لگا دیے ہیں کہ فلاں سال کے فلاں دن فلاں عید ہو جائے گی۔ بھئی سچی بات ہے ایسی روکھی پھیکی عید ہمیں تو مزہ نہیں دیتیں۔ ہمیں تو وہی متنازعہ عیدیں پسند تھیں جس میں ہر بار چاند دیکھنے پہ تنازعہ ہوتا۔ کسی کو چاند نظر آتا تو کسی کو چاند نظر آتی۔ آج تک کسی نے نہیں سوچا تھا کہ سال کے باقی مہینے بھی چاند نکلتا ہے، کوئی خدا کا بندہ اس پہ دھیان دینے کو تیار نہ ہوتا کہ دیکھو چاند نکلا یا نہیں، نہیں نکلا تو کیوں نہیں نکلا اور اگر نکل آیا تو کیسے، کوئی ساتھ والے ہمسائے کو بتانے کو بھی تیار نہ ہوتا کہ گلی میں آج چاند نکلا۔

کسی کو ان مہینوں سے محبت ہوتی تو چاند کی رویت پہ تنازع بھی ہوتا، یوں لاوارثوں کی طرح چاند کو دھان پان سے مفتی منیب کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جاتا، کہ حضور جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے بلکہ پشاور والے بھی اپنے چار بندوں کی بیٹھک لگا کر چاند ڈھونڈ رہے ہوتے۔ یہ تو بس شعبان گزرنے کی دیر ہوتی کہ چاند کی ڈھونڈیا پڑ جاتی، ہر طرف چاند چاند ہو جاتا۔ یہ عید کی خوبصورت روایت ہی تو ہے کہ مفتی پوپلزئی اپنے لاؤ لشکر سمیت چاند ڈھونڈنے نکلتے اور مفتی منیب الرحمان بھی اپنے دلداروں کے ساتھ چاند کے پار جانے کو تیار ہوتے، کہ دید ہو گی صاحب تو عید ہوگی۔

کوئی مانے نہ مانے لیکن صاحب مفتی منیب الرحمان کی یہ خوبی تو ہے کہ جب دید کی نیت باندھ لیں تو پھر چاند قضا نہیں کرتے، پھر تو چاہے کچھ بھی ہو چاند نکال کر ہی دم لیتے لیکن اگر دل مضطر کو تڑپانا مقصود ہو تو پھر صبر کا پیکر بنے بیقرار دل کے لیے دعا کرتے جلد اٹھ جاتے۔ اور نا سمجھ لوگ رمضان کے شروع یا آخر میں شور ڈال دیتے کہ مولوی روزہ کھا گئے، موا روزہ نہ ہوا حلوہ ہو گیا جسے مولوی کھا گئے ان کے کھانے کو یہی رہ گیا کیا؟

جب آدھے سائنسی آلات استعمال کر کے پورا چاند ڈھونڈیں گے تو پھر یہ تو ہوگا، اجی کچھ اور نہ سمجھیں یہی تنازعہ ہوگا اور تو کچھ ہونے سے رہا، جو بھی تھا عید کا حسن تو اسی تنازعے میں تھا جب دو مفتی اچھے خاصے ہلال کو حرام کرتے نظر آتے تھے لیکن لگتا ہے وہ بھی اب قصہ ماضی بن جائے گا۔ ۔ ناس ہو سائنس والوں کا جو پچھلے برس سے چاند دیکھنے کا تنازعہ ختم کرنے میں لگے ہیں اور آسمانی چاند کو بغل (کیلنڈر ) میں دبانے کوشش میں ہیں۔

بھلا اس عید کا لطف کیا آئے جس میں دید کی طلب نہ ہو۔ وہ تو بھلا ہو مفتی صاحب کا جنھوں نے اپنی طرف سے تھوڑی سی سہی لیکن تنازعے کی روایت کو قائم رکھنے کی شدید کوشش کی تھی اور اپنے مزاج کے دھیمے پن میں عوام کی بے صبری کا مزہ لیتے رہے لیکن پھر آخر میں سائنس کے سامنے ہتھیار ڈال کر چاند کے نکلنے کا اعلان کر کے چلتے بنے، کیا تھا جو ایک روزہ اور کر لیتے۔ اگر مفتی صاحب تب ڈٹ جاتے تو سائنس والوں کو جرات نہ ہوتی کہ اپنی من مانی کرتے ہوئے جلدی جلدی میں ذوالقعد میں ہی عید البقر کا چاند پیدا ہونے کی تاریخ دے دیتے۔

سمجھ نہیں آ رہی اب خوشی کا اظہار کرو یا دکھ کا کہ ہم مفتی پہ تکیہ کیے بیٹھے رہے اور چاند سائنس لے اڑئی۔ دو مفتیوں کے تصادم نے عید الفطر کا چاند سائنس والوں کے حوالے کیا کیا وہ شوخے بقر عید کا چاند بھی بغل میں دبا کر بیٹھ گئے ہیں۔ پہلے مولوی مولوی سے ٹکراتا تھا لیکن اب سائنس مولوی سے ٹکرانے لگی ہے اور لگتا ہے مولوی سائنس کے منہ لگ کر اپنا منہ خراب نہیں کرنا چاہتے سو توبہ استغفار کرتے سائیڈ پہ ہوگئے ہیں۔

دشمن نے خبر اڑائی ہے کہ ذوالقعد میں بقر عید کی تاریخ مل گئی ہے قیاس کہتا ہے اس کا پتہ بھی ”الٹرا ساونڈ“ سے چل گیا ہوگا۔ ترقی کی رفتار دیکھیں پہلے سنتے تھے چاند نکلتا ہے لیکن اب کہ جدید دور میں چاند نے روش بدل لی ہے اور پیدا ہونا شروع کر دیا ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں بڑے چھوٹے آپریشن کی ضرورت بھی پڑ جائے۔ چلیں اصل مسئلہ تو پیدائش ہی ہے جیسے بھی ہو۔ ہم تو ان لوگوں سے ہوں گے جو اوپرے دل سے سہی مگر کہہ دیں گے مبارک ہو چاند ہوا ہے، ہماے پاس مبارک دینے کے سوا چارہ جو کوئی نہیں۔ لو جی چاند پیدا کرتے کرواتے بقر عید سر پہ پہنچ گئی ہے۔ آپ بقر عید کے لیے بکرا ڈھونڈیئے میں ذرا اپنے بکرے نما چاند کو ڈھونڈلوں، وہ نہ ہو کہیں وہ بھی کسی کی دور بین کی زد میں آ جائے اور کوئی دیدہ دل اسے داب کے بیٹھ جائے اور آسمانی چاند کی طرح زمینی چاند بھی میری دسترس سے نکل جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *