معراج محمدخاں کی تا دم مرگ ہڑتال: ایک سچا اور کھرا انقلابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آدمی انقلابی ہو اور ابتلا سے نہ گزرے۔ اس کا کوئی آدرش ہو اور نظریاتی بحران میں خاموش تماشائی بنا رہے اور وہ ظلم اور زیادتی دیکھے اور خاموش رہے۔ ایسے موقعوں پر معراج محمد خاں جیسے لوگ جبر اور استبداد کی پرواہ کیے بغیر دیوانہ وار نکل کر اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی لوگ معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں۔ ان کی للکار، ان کا کلمہ حق، ان کا کردار اور ان کی ثابت قدمی دوسروں کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ معراج محمد خان بھی ایک نظریاتی آدمی تھا اور ایک بے مثال انقلابی لیڈر۔

میری پوسٹنگ ان دنوں اٹک جیل میں تھی۔ ایک صبح میرے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے فون پر مجھے اطلاع دی کہ کراچی سے ایک اور سیاسی قیدی معراج محمد خاں کو ابھی ابھی ہمارے حوالے کیا گیا ہے۔ یہ وہ دن تھے جب بھٹو صاحب پنڈی جیل میں قید تھے اور پیپلز پارٹی کے بے شمار قائدین اور ارکان اسمبلی کو اٹک جیل میں رکھا گیا تھا۔ یہ بات اس وقت سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کراچی کے قیدی کو پنڈی کی بجائے اٹک کی جیل میں کیوں رکھا گیا ہے۔ ضابطہ کے مطابق اسی روز انہیں دوسرے حوالاتیوں اور قیدیوں کے ساتھ پیش کیا گیا۔

اس میں قیدی کی ہسٹری ٹکٹ تیار ہوتی ہے، جس میں اس کے تمام کوائف نام، ولدیت، ذات، مذہب، قومیت، عمر اگر زخمی ہے تو سرٹیفیکیٹ، وزن، دفعات، مقدمہ نمبر، قیدی کی عمومی صحت کی حالت وغیرہ کا اندراج ہوتا ہے۔ جب ان کو پیش کیا گیا تو انہوں نے مجھے مارشل لا کے خلاف 22 نکات پر مشتمل مطالبات پیش کیے کہ اسے حکمرانوں تک پہنچایا جائے۔ میں نے خان صاحب پر نظر ڈالی اور ان کے مطالبات کی کاپی لے لی۔ خاں صاحب کے بارے ان کی تمام سرگرمیوں کے متعلق ایک زمانہ ہوا پڑھتے رہے تھے۔ ہمارے کالج کا زمانہ بھی وہی تھا جب ایشیا اور افریقہ میں آزادی کی تحریکیں چل رہی تھیں جن ملکوں کو آزادی مل گئی تھی ان میں کسان، مزدور اور پسے ہوئے طبقات کے بارے تحریکیں کام کر رہی تھیں۔ کمیونزم کی وجہ سے ایشیا سرخ تھا۔ ہم نے بھی ترقی پسند ادب اور شعرا خاص طور پر علی سردار جعفری، ساحر لدھیانوی اور فیض صاحب کو پڑھ رکھا تھا، جن کی شاعری مظلوم اور بے بس انسانوں کو روشن مستقبل کے خواب دکھاتی اور ان کی باتیں دلوں کو جھنجھوڑتی تھیں۔ ہمارے ملک میں اس وقت حسن ناصر، فتح یاب علی خاں اور معراج محمد خاں کے نام سے طلبا برادری کافی شناسا تھی۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت کا بھی علم تھا لیکن آج عرصہ بعد اس معراج محمد خان کے ساتھ ہمارا یہ پہلا ٹاکرا تھا۔

میں نے خاں صاحب کو دیکھا اور ایک نظر ان کے مطالبات کو جس میں سب سے پہلا نکتہ بھٹو کو فوراً رہا کیا جائے تھا پھر مارشل لا کو فوری ختم کیا جائے جمہوریت بحال کی جائے اور وعدہ کے مطابق الیکشن کی تاریخ کا اعلان کیا جائے ورنہ میں تا دم مرگ بھوک ہڑتال پر چلا جاؤں گا۔ میں یہ چند نکات پڑھ کر دل ہی دل میں ہنسا کہ جو لوگ مارشل لا لگاتے ہیں وہ کیا ایک قیدی کے مطالبے پر اپنا سارا پروگرام پیک کر دیں گے مجھے تو نہیں لگتا تھا کہ ان میں سے کسی ایک نکتے کو بھی زیر بحث لایا جائے گا۔ قضا و قدر کے مالک بھلا کب ایسی باتوں کو درخور اعتنا سمجھے ہیں۔ میں نے خاں صاحب پر دوبارہ نظر ڈالی، وہ اپنے مطالبات سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ مصمم ارادہ کر کے آئے تھے اور اپنے مطالبات اخبارات تک بھیج کر آئے تھے۔ مجھے ان پر ترس آ رہا تھا کہ یہ نہتا تنہا آدمی کیا کر سکتا ہے۔ جو شکل اور اپنے رویے سے اس قدر نستعلیق اور شائستہ دکھائی دے رہا ہے۔ یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے اندر جوالا مکھی چھپا ہوا ہے۔

دو دن کے بعد حکومت سے کسی قسم کا رد عمل نہ دیکھ کر خاں صاحب نے حسب تحریر بھوک ہڑتاک کا اعلان کر دیا۔ مجھے سروس میں آئے ابھی تین سال کا عرصہ ہوا تھا۔ بڑے بڑے نامی گرامی مجرموں کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کا تو تھوڑا بہت تجربہ تھا۔ جس میں عام طور پر وہ جیل انتظامیہ کو صلاحیتوں کر چیک کرتے ہیں کہ وہ انتظامیہ کو زیر کریں گے یا وہ ان کے احکامات پر چلیں گے۔ چنانچہ اس طرح کی دھمکیاں دراصل ایک دوسرے کو زیر اور زبر کرنے کا فیصلہ کرنے کے لئے ہوتی ہیں کہ آگے ہم نے جیل میں دندنانا ہے یا انتظامیہ کا ان پر حکم چلے گا۔ چنانچہ ان کی بھوک ہڑتال میں ایک کی بجائے کئی آدمیوں کا کھانا بھیج دیا جاتا ہے وہ چپ کر کے اس میں داؤ لگا کر کھاتے رہتے ہیں اور بھوک ہڑتال جاری رہتی ہے۔ اور کچھ عرصے بعد فیصلہ ہو جاتا ہے کہ کون کس پر بھاری رہے گا۔

ہمارا مجرموں کے ساتھ تناؤ کا تجربہ تو تھا لیکن ایک سیاسی آدمی کی بھوک ہڑتال سے کیسے نپٹا جائے، یہ پہلا تجربہ تھا۔ ہم نے تین چار دن تو وہی حکمت عملی اختیار کی لیکن خاں صاحب وہ سچے انقلابی تھے کہ انہوں نے ماسوائے پانی کے خوراک کے ایک ذرے کو بھی ہاتھ نہ لگایا۔ ان کا وزن دن بدن کم ہو رہا تھا۔ ہم اس انتظار میں تھے کہ خاں صاحب چار پانچ دن کی ہڑتال کے بعد گفت وشنید پر آمادہ ہو جائیں گے اور ہڑتال ختم کر دیں گے لیکن وہ اپنے مطالبے سے ایک انچ بھی ہٹنے کو تیار نہیں تھے۔

اسی کشمکش میں سب مارشل لا ایڈ منسٹریٹر نے مجھے ساتویں روز اپنے آفس میں بلایا کیونکہ ان کی ہڑتال کا ذکر ہر روز اخبارات میں شہ سرخیوں میں نمودار ہوتا۔ جب انہوں نے مجھے صورت حال کا پوچھا تو میں نے کہا جینوئین ہڑتال ہے۔ معراج محمد خاں ایک سیاسی ورکر ہے، نہ تو ان پر جبر کیا جا سکتا ہے اور نہ انہوں نے ہماری بات ماننی ہے۔ ان کے مطالبات آپ کی ٹیبل پر ہیں۔ ان کی روزانہ کی میڈیکل رپورٹ آپ کو اور آئی جی صاحب کو بھیج رہا ہوں۔ باہر اخبارات میں ان کی رپوٹیں ماحول کو کشیدہ بنا رہی ہیں ان کی اور ہماری اب نفسیاتی جنگ ہے شاید یہ ایک دو روز میں بریک ہو جائے۔

یار مروا نہ دینا۔ انہوں نے کہا۔۔۔
میں نے کہا سر اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔

اس طرح میں باقاعدگی سے رپورٹیں دے رہا تھا لیکن خاں صاحب اب سوکھ کر کانٹا ہو گئے تھے۔ اب ان کے لئے اٹھنا بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا۔ دودھ اور سافٹ فوڈ سے بھی انکاری تھے۔ دس دن بھی گزر گئے۔ وہ اب ڈرپ پر آگئے تھے۔ لیکن اپنی بات پر قائم تھے۔ میں اس وقت اپنے اعصاب کا تجزیہ کرتا تھا تو کہیں کہیں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگتیں کہ کل خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو حکومت نے سارا ملبہ مجھ پر ڈال دینا ہے۔ اور پھرمیرے دن بھی پریشانی میں گزرنے لگے۔

اگلی صبح میں ابھی گھر پر تھا کہ میرے ملازم نے مجھے بتایا کہ بلوچستان سے ایک بہت بڑی پگڑی والا جنرل ملنے آیا ہے۔ میں نے کہا انہیں ڈرائنگ روم میں بٹھائیں لیکن تضاد اتنا کہ سمجھ میں نہ آئے کہ ایک طرف جنرل دوسری طرف پگڑ۔ میں جب ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو دیکھا ایک بڑی بڑی مونچھوں اور بہت بڑا پگڑ پہنے ایک شخص بیٹھا ہے۔ انہوں نے اپنا تعارف بحیثیت شیر محمد مری کے کروایا۔ آپ بلوچستان کے مشہور سیاسی رہنما اور گوریلا لیڈر تھے۔

ایوب خان کے زمانے میں جب بلوچستان پر فوج کشی کی گئی تو مری صاحب نے ان کے خلاف ایک لمبی مسلح جدوجہد کی تھی جس پر سردار اکبر بگٹی نے انہیں جنرل شیرف کا خطاب دیا تھا۔ کئی سال جیلوں کی زندگی گزاری، ابھی کچھ عرصہ پہلے رہا ہو کر آئے تھے۔ ان کا معراج محمد خاں سے ”آملیں گے سینہ چاکان وطن سے سینہ چاک“ والا تعلق تھا۔ وہ بھی ایک شائستہ آدمی اور بڑے انقلابی تھے اور کئی زبانوں پر عبور، ادیب اور محقق۔ خاطر تواضع کے بعد ان سے خاں صاحب کے بارے لمبی بات چیت ہوئی۔ لب لباب یہ تھا کہ آپ معروضی حالات کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ کیا ایک آدمی کے کہنے پر مارشل لاء ختم ہو جائے گا۔

مارشل لا کی بے رحم طاقتوں کے سامنے آپ اپنا قیمتی آدمی کیوں ضائع کرتے ہیں۔ اس موضوع پر ہماری تین چار گھنٹے بات چیت جاری رہی۔ آخر میں وہ میری بات سے متفق تو ہو گئے لیکن کہا کہ اگرچہ وہ میرے ذاتی دوست ہیں لیکن شاید میرے اکیلے کی بات نہ مانیں میں کل ان کی اہلیہ کو لے آؤں گا اور ہم دونوں مل کر کوشش کریں گے۔ اگلی صبح وہ اور خاں صاحب کی اہلیہ تشریف لے آئیں اور میرے آفس میں آتے ہی وہ غصے سے میرے اوپر برس پڑیں کہ آپ بے حس لوگ ہیں نہ آپ کو ملک کی پرواہ ہے نہ انسانوں کا احترام۔

آپ اپنے ہاتھوں سے ایسے آدمی کو مارنے پر تلے ہوئے ہو جس کی ساری زندگی ظلم کے خلاف لڑتے گزری۔ وہ کافی دیر تک غصے میں بولتی رہیں۔ میں جانتا تھا اور محسوس کرتا تھا کہ واقعی یہ آدمی اس قافلے کا فرد ہے ٹھوکروں پہ جن کی ”جھک سکتے ہیں ایوان و قصور“ جب ان کا غصہ ٹھنڈا ہوا توان کو بٹھایا۔ میں نے صرف اتنا کہا کہ میڈم لگتا ہے آپ خاندان والوں کو ان کی ضرورت نہیں۔ آج بارہواں دن ہے۔ آج تک ان سے ملاقات کے لیے کوئی نہیں آیا۔ بھلا ایک آدمی سے اس طرح کی حکومت کو کیا فرق پڑ سکتا ہے لیکن انسانی سطح پر معاشرہ ایک عظیم انسان سے محروم ہو جائے گا۔ اس طرح کے آدمی ملک میں رہ ہی کتنے گئے ہیں، آپ لوگ ظلم نہ کریں۔ کافی دیر بعد انہوں نے حامی بھری۔ محترمہ اور جنرل شیرف دونوں کی خاں صاحب سے ملاقات کرائی۔ آخر کار دونوں کی منت سماجت سے بھوک ہڑتال ختم کر دی گئی۔ اور میں نے مارشل لاء اتھاریٹیز کو اور آئی جی صاحب کو بھی مطلع کر دیا۔

چند روز گزرے ایک شام ایک کرنل صاحب اپنے گارڈز کے ساتھ جیل پہنچے اور کہا کہ جنرل ضیا الحق معراج محمد خاں سے پریذیڈنٹ ہاؤس میں ملنا چاہتے ہیں۔ کارروائی کے بعد ان کو اللہ کے حوالے کیا گیا۔ اگلے دن خاں صاحب ان سے ملاقات کرکے واپس آئے اور میری ان سے تفصیلی بات چیت ہوئی انہوں نے بتایا کہ جنرل صاحب مجھ سے کافی ہمدردی جتاتے رہے کہ بھٹو نے آپ پر بہت ظلم کیا۔ میری تمام زندگی کی جدوجہد کی بہت تعریف کی۔ پھر کہنے لگے اتنی قربانیوں اور ساتھ دینے کے باوجود بھٹو صاحب نے آپ سے زیادتی کی، پھر بھی ان کا غصہ ختم نہ ہوا۔ آپ کو قید و بند کی صعوبتوں میں مبتلا رکھا، آپ کی ایک لمبی جدو جہد ہے۔ آپ پولیٹیکل ایکٹوسٹ ہیں۔ آپ آرام سے گھر میں نہیں بیٹھ سکتے۔ سندھ میں جو مہاجرین کے ساتھ نا انصافیاں ہوئیں اور اب بھی ہو رہی ہیں آپ اردو بولنے والوں کی پارٹی بنائیں میں آپ کو ہر طرح سپورٹ کروں گا۔ جس پر میں نے ان کو بتایا کہ اس وقت جو ہماری لیبر موومنٹ ہے اس میں پنجابی، سندھی، پٹھان اور بلوچی سب شامل ہیں۔ اگر صرف اردو بولنے والوں کی پارٹی بنائی گئی تو پھر ان سب کا آپس میں بہت بڑا تصادم ہو گا اور اتنا بڑا خلفشار پیدا ہو گا اور لہو بہے گا کہ کراچی جو ایک صنعتی شہر ہے اس کو کنٹرول کرنا آپ کے لیے بھی مشکل ہو جائے گا۔ اس طرح میں نے طریقے سے انکار کر دیا انہوں نے پھر مجھے وزارت کی پیشکش کی جس سے میں نے اپنی کمزور صحت کی وجہ سے معذرت کر لی۔ جنرل صاحب باہر مجھے گاڑی تک چھوڑنے آئے اور کہا کہ کبھی کوئی کام ہو تو آپ مجھ سے ضرور رابطہ کریں۔ میں گاڑی میں بیٹھ گیا اور گاڑی کا دروازہ جنرل صاحب نے بند کر دیا۔ ۔ ۔

آج سوچتا ہوں کہ اس دن سے پاکستان کی قسمت کا دروازہ بھی بند ہو گیا۔ جنرل صاحب کو اردو بولنے والوں کی پارٹی کے لئے تو معراج محمد خاننہ سہی، کوئی اور ایک مہرہ مل گیا لیکن روشنیوں کا شہر اس دن سے تاریکیوں میں ڈوب گیا خود کو سیاسی طور پر محفوظ بناتے بناتے اور انتقامی جذبے کی تسکین میں دہشتگردی کا جن بوتل سے ایسے نکلا کہ اس صنعتی شہر میں بوری بند لاشوں کا پراڈکٹ وافر مقدار میں تیار ہونے لگا۔ اور آرمی کو مستقل مشن مل گیا اس جن کو قابو کرنے کا مستقل مشن اور مصروفیت مل گئی۔ البتہ میں جب کسی اخبار میں معراج محمد خان کا نام پڑھتا ہوں یا کسی ٹی وی پروگرام میں ان کا ذکر ہوتے سنتا ہوں تو ان کے احترام میں میرا سر جھک جاتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments