ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے ہی نال ہے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”جدوں چن پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکدا ہے تے تسی وڈّی طرح یاد آندے ہو“ (جب چاند پہاڑوں کی اوٹ سے جھانکتا ہے تو آپ بڑی بری طرح یاد آتے ہو)۔ اس کی نظریں خلاﺅں میں جمی ہوئی تھیں، ہمارا قلم رک رک کر چلنے لگا۔ ”اگے لکھو جی“ … وہ سنبھل کر بیٹھ گیا۔

عطر کی شیشی پتھر پہ پھوڑ دیں گے

جے خط دا جواب نیئں آیا تے خط لکھنا چھوڑ دیں گے

”یہ تم کسے خط لکھوا رہے ہو؟“ ہم نے قلم روک کر اسے گھورا۔

”اپنے ابّے نوں جی“ (اپنے ابّا کو جی)۔ اس نے دانت نکال دیے۔

”ایسے لکھتے ہیں خط ابّا کو؟“

”تے ہور کیسے لکھدے ہیں، کی تہانوں لکھنا نئی آﺅندا“ (تو اور کیسے لکھتے ہیں؟ کیا آپ کو لکھنا نہیں آتا؟)

”بھئی، ابّا کو ابّا ٹائپ کا خط لکھنا چاہیے۔ یہ تو ایسا لگ رہا ہے، جیسے کسی محبوبہ کو خط لکھوا رہے ہو۔“ ہم نے اٹک اٹک کر کہا۔

”ساڈا مبوب ساڈا ابّا ہی ہے جی۔“ (ہمارا محبوب ہمارا ابّا ہی ہے جی)۔ وہ مکاری سے دانتوں تلے تنکا چباتے ہوئے ہم پر نظریں جما کر بولا۔ ہم نے غور سے اس کے بھولے بھالے چہرے کو دیکھا۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھا، جہاں “Summer of 42” کا عشق ممکن تھا۔ چھریرا بدن، تیکھے نقوش، روشن آنکھیں، ہلکے ہلکے گلابی گال، جھڑوس سے بال، گندے ہاتھ پاﺅں، سردی کا پتا دیتے ہوئے، ناخنوں میں اکثر میل جما رہتا، عمر کوئی تیرہ چودہ برس۔ نام تھا ان کا ”منیر حسین شاہ۔“ منیر حسین شاہ ہمارے گھر میں کیوں ملازم رکھے گئے، اس کی وجہ وہ ’خورشید‘ کا بچہ تھا۔

ایک دن ہم دونوں میاں بیوی نے ’ہفتہ صفائی‘ کا پروگرام بنایا۔ ہماری نیک امّی نے ہمیشہ سختی سے منع کیا تھا کہ گھر میں کبھی کوئی مرد نوکر مت رکھنا۔ یا تو وہ تمہاری چیزیں چرا کر لے جائے گا، یا نیتّا (بدنیت) ہو گا اور اگر تم نے کبھی بھولے سے کوئی عورت نوکرانی رکھ لی تو وہ تمہارے میاں کو چرا کر لے جائے گی، لہٰذا ہم نے ہر طرح سے ’دونوں خطروں‘ سے پرہیز کیا تھا۔

ہمارے موصوف بے انتہا سادگی پسند ہیں، ہمیشہ سفید کرتا، پاجامہ، ہوائی چپّل اور دوسروں کی بیویاں پسند کرتے ہیں۔ مگر اس دن وہ اپنے ’روایتی لباس‘ یعنی لنگی اور بنیان میں ملبوس تھے۔ بنیان بھی ایسی جھرجھری کہ آپ دور سے ہی موصوف کی پسلیاں گن سکتے تھے۔ آپ نے کبھی کھیتوں میں کھڑا کاٹھ کا گڈّا دیکھا ہے؟ انتہائی کھڑ کھڑ۔ اور اِدھر ہمارا حلیہ؟ سب اب تک حیران ہیں کہ آخر موصوف کو ہم میں نظر کیا آیا، اس سے انہیں ’آنکھ کے اندھے‘ والے محاورے پر پورا یقین آ گیا۔ اس پہ سے ہماری خوش لباسی؟ کپڑوں کے سائز کی ہم نے کبھی پروا نہیں کی، بس اتنا لمبا چوڑا ہو، جس میں ہم آسانی سے گھس جائیں، ضرورت محسوس کریں تو چھپ جائیں۔ ’روایتی سنگھار‘ ہم نے یوں نہیں کیا کہ ریشمی کپڑے اور گوٹا زری ہمیں کاٹتے ہیں۔ شادی کے فوراً بعد بچے کھچے پرانے کپڑے واپس لے آئے۔ اس دن صفائی کے خیال سے خوب گھسا ہوا جوڑا نکالا، بالوں کا کَس کر جوڑا باندھا، جھاڑو پکڑ لی اور لگ گئے کام میں۔

”نئی آئی ہو شاید؟“ مہین سی آواز سنائی دی۔ جھاڑو آنکھوں کے سامنے سے ہٹائی تو سورج کی کرنوں سے آنکھیں چندھیا گئیں۔

”کون؟“

”نیا نیا کام پکڑا ہے کیا؟“

اب غور سے دیکھا تو ایک دس بارہ سال کے لڑکے کا ہیولا سا نظر آیا۔

”کتنے پیسے ملیں گے؟“ وہ قریب آگیا۔

”پیسے؟ کیسے؟“ جھاڑو کو ہم جھنڈے کی طرح پکڑے ہونق سے کھڑے رہ گئے۔ ”ہاں پیسے۔ ویسے یہاں کیمپس کے صاحب لوگ بڑے کنجوس ہیں، بہت کم پیسے دیتے ہیں۔“

”ہاں، پیسے تو بہت کم دیتے ہیں۔“ ہمیں کنجوس موصوف کا خیال آگیا۔”کیا ہوا؟ کون ہو تم؟“ جالا صاف کرنے کا ڈنڈا لیے موصوف بھی اندر سے نکل آئے۔

”یہ کون ہے؟“

”میرے میاں۔“

”اچھا! تو تم دونوں میاں بیوی نے ایک ہی جگہ کام پکڑا ہے۔ پھر تو پیسے بھی ڈبل ملیں گے۔“ ہماری تو تلوﺅں کی لگی دماغ کو پہنچی۔ یہ خبیث ہمیں ہمارا ہی نوکر سمجھ رہا ہے۔ ہماری آنکھوں میں خون اتر آیا، جھاڑو فضا میں بلند کی کہ لگائیں۔ موصوف نے آنکھ دبائی اور مسکرائے، ”ہاں بھئی ہم دونوں نے ساتھ ہی کام پکڑا ہے، تم کہاں کام کرتے ہو؟“

”اسٹور کے سامنے، کونے والے گھر میں۔ اچھا میں چلا، پھر آﺅں گا۔“

”پھر مت آنا۔“ موصوف نے آواز لگائی۔ ”اس دفعہ تو بچ گئے دوسری دفعہ ٹکڑوں میں جاﺅ گے۔“

اس کے جاتے ہی ہم نے جھاڑو پٹخی اور ایک جھٹکے سے جوڑا کھولا اور وہیں زمین پر پسر گئے۔ ”ہمیں کچھ نہیں پتا ایک تو ویسے ہی ہماری شکل بنگالی نوکرانیوں جیسی ہے، اس پہ سے یہ کام؟ لوگ ہمیں نوکرانی سمجھتے ہیں، آپ کی بیوی نہیں۔ موصوف ہنس پڑے، مگر ہمارا غصّہ دور نہیں ہوا۔ ”ہنسنے ہنسانے سے کچھ نہیں ہو گا۔“ ہم مزید تپ گئے۔ ”بس اب آپ گھر میں ایک نوکر رکھ لیں۔ جب وہ ہمیں بیگم صاحب کہے گا تو لوگ ہمیں آپ کی نوکرانی نہیں سمجھیں گے۔“ ہم نے منہ پھلا لیا۔ موصوف نے قہقہے میں بات اڑانی چاہی، مگر خورشید کی بات پھانس بن کر رہ رہ کر ہمیں سلگاتی رہی اور یوں بڑی چھان پھٹک کے بعد ’منیر حسین شاہ‘ ہمارے گھر آ گئے۔

کام کرنے کے معاملے میں ان کا عجیب و غریب فلسفہ تھا۔ شروع شروع میں دو تین دن تو لان میں باقاعدہ صفائی کی، ایک ایک پتّا بڑے پریم سے سنوار سنوار کر اٹھایا اور ٹوکری میں سجایا، مگر چوتھے دن جب ہم نے لان میں جھانکا تو دیکھا، ٹانگیں الالے، مزے سے چارپائی پر پڑے ہیں اور آسمان پر اڑنے والے پرندوں کے پَر گن رہے ہیں ساتھ ہی گنگنا بھی رہے ہیں۔

”منیر پتّے کیوں نہیں اٹھائے؟“

”جی پتّے اٹھانے دی کی لوڑ ہے، یہ تو کل وی ڈِگیں گے۔“ (اجی پتّے اٹھانے کی کیا ضرورت ہے یہ تو کل بھی گریں گے)۔

”ارے؟“ … ہم اس کی عجیب و غریب منطق سن کر چکرا گئے۔

”تو اِس کا مطلب ہے آدمی بالکل صفائی نہ کرے؟“

”اجی بس مہینے میں اِک دفعہ ٹرک بلوا لیا کرو، وہ خود ہی کٹھا کریں گے اور لے جائیں گے۔ ہمارے کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوندا ہے۔“ یہ کہہ کر انہوں نے جمائی لی اور آنکھیں موند لیں اور ہمارا ناخوشگوار منظر اپنی آنکھوں سے گم کردیا، یعنی کروٹ بدل لی، گنگنانا وہ پہلے ہی بند کرچکے تھے۔ اپنی تذلیل پر تلملا کر ہم نے اس کو دیکھا، اِس کا احساس ہوتے ہی کم بخت نے سانس بھی روک لی۔ مطلب تھا، بس اب جاﺅ اور تنگ مت کرو۔

اسی شام ہم نے نوٹ کیا کہ آٹا گوندھنے کے بعد بغیر دھوئی پرات بڑی نفاست سے الٹ دی۔

”یہ کیا؟ منیر! پرات کیوں نہیں دھوئی؟“… ہم تڑپ گئے۔

”اجی! دھونے دی کی لوڑ ہے، آٹا تے کل وی گندھے گا (اجی! دھونے کی کیا ضرورت ہے، آٹا تو کل بھی گندھے گا)۔

”گندا۔“ ہمیں ابکائی آگئی۔ ”ارے! تو کیا روز اِسی طرح پرات کو اوندھاتے رہو گے، صفائی کا تمہیں ذرا احساس نہیں۔ اچانک ہماری نظر اس کے میل خوردہ ناخنوں پر پڑی۔ ”منیر! تم نے ان ہاتھوں سے آٹا گوندھا ہے۔ تم نے ناخن نہیں کاٹے؟

”اجی! کاٹن دی کی لوڑ ہے، یہ تو روز ہی بڑھتے ہیں۔ تین چار مہینوں بعد ابّا جبردستی کاٹ دیندا تھا، اب ابّا تے نہیں آ سکدا کشمیر سے۔“ (اجی کاٹنے کی کیا ضرورت، یہ تو روز ہی بڑھتے ہیں۔ تین چار مہینوں میں ابّا زبردستی کاٹ دیتا تھا۔ اب ابّا تو نہیں آ سکتا کشمیر سے)۔

”اب تم بڑے ہوگئے ہو، تم خود کیوں نہیں کاٹ لیتے۔“

”سانوں عادت نہیں ہے جی، لو جی آپ کاٹ دو۔“ بڑی معصومیت سے ہاتھ بڑھا دیا۔“ ہمیں تو آگ لگ گئی کہ یہ کیا مصیبت گلے پڑ گئی۔

موصوف، بائیک اسٹارٹ کر رہے تھے کہ بجلی کی سی پھرتی سے لپک کر ان کے سامنے آگئے۔ موصوف نے اپنا پاﺅں روک لیا۔

”صاحب! پہلے ہی دن طے ہوا تھا ناں کہ ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے نال ہے؟“ (صاحب پہلے ہی دن طے ہوا تھا ناں کہ ہمارا سارا خرچہ تمہارے ساتھ ہے)۔

”ہاں تو؟“ موصوف پریشانی میں اپنا کھلا ہوا منہ بند کرنا بھول گئے ”تمہیں کس چیز کی ضرورت ہے؟“

”صاحب! کھانا پینا، اوڑھنا بچھونا سب تہاڈے نال ہے، ہے ناں“ انہوں نے مزید تصدیق چاہی۔

”ہاں تو پھر؟“ موصوف کی پریشانی اب بھی دور نہیں ہوئی۔

”تو پھر صاب! جب اپنی نسوار خریدنا تو ساڈے لیے وی اِک پڑیا بندھوا لینا۔“

موصوف مارے غصّے کے ناچ گئے۔ ”ابے تو سمجھتا ہے کہ میں ، ’نسوار‘ کھاتا ہوں؟“

”تو کیا تم مرد نہیں ہو صاب؟“ لہجے میں شک اتر آیا اور آنکھوں میں بے یقینی۔

”بکواس بند کرو اور ہاں سنو! نسوار نہیں آئے گی۔“

”وہ کیوں صاب؟ تم ہی نے تو کہا تھا کہ ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے نال ہے۔“

”ابے، اب کیا میں دکان پر کھڑا ہوکر تیرے لیے نسوار خریدوں گا۔ لوگ کیا کہیں گے؟ کتنے کی آتی ہے؟“ موصوف نے تلملا کر کہا۔

”پانچ روپے دے دو جی۔“

”یہ لو۔“ موصوف نے ’بھنا‘ ہوا نوٹ تھمایا اور تپتے ہوئے ڈپارٹمنٹ چلے گئے۔

شام تک منیر حسین شاہ کی نظر موصوف کی چپّل پر پڑگئی، جو موصوف بڑے ارمانوں سے چھانٹ کر ’اِنگلش بوٹ ہاﺅس‘ سے لائے تھے۔ فوراً ان کی آنکھیں چمکیں،

”صاب!“

کیا ہے۔“

”صاب! آپ ایسی چپّل سانوں وی لا دینا۔“

”وہ کیوں؟“

انگلی اٹھا کر دبنگ لہجے میں بولے، ”دیکھو صاب پہلے ہی دن طے ہوچکا ہے کہ…“

”تہاڈا سارا کھرچہ ساڈے نال ہے“ موصوف نے دانت پیسے۔ ”اب آپ کل ہمیں تھری پیس سوٹ لانے کا بھی کہیں گے اور کسی دن آپ فرمائیں گے، ہمیں بھی ایسی ہی دلہن لادو جیسی تمہاری ہے۔“ مگر منیر حسین شاہ یا تو لطیف طنز سمجھتے نہیں تھے یا جان بوجھ کر انجان بن گئے۔ اپنے کان گھٹنوں میں دبا کر بیٹھ گئے اور ٹی وی پر نظریں جمالیں۔ خیر جمعہ بازار سے منیر کے لیے کابلی چپّل لانی پڑی۔

ایک ہفتے تو منیر حسین شاہ نے بڑی پھرتی دکھائی اور پھر اس کے بعد ان کی روٹین یہ ہوگئی کہ اِدھر موصوف گئے اور ادھر انہوں نے باہر لان میں درخت کی ٹھنڈی چھاﺅں میں چارپائی بچھائی اور پرندوں کے پَروں کے ساتھ ساتھ درخت کے پتّے بھی گننے شروع کردیے۔ ہم اندر سے آواز لگاتے، ”منیر آٹا گوندھ لو“۔ ”ماڑی بکھی میں درد ہے جی“ (میری پسلی میں درد ہے جی)۔ بے نیازی سے جواب دیتے اور پھر نظریں آسمان پر جما دیتے۔

”منیر برتن دھولو۔“

”بتایا ناں، ماڑی بکھی دکھتی ہے، جھکا بھی نہیں جاندا۔“

اس دن بھی یہی حال تھا۔ ہر آواز کے جواب میں وہی ٹیپ کا مصرعہ ”ماڑی بکھی میں درد ہے جی۔“ اسی وقت موصوف گھر آگئے، ان کی نظر اینٹینا پر پڑی وہ کچھ ٹیڑھا ہو رہا تھا۔ ”منیر یہ ٹی وی کا اینٹینا ٹھیک کرنا ہے۔“

”ابھی لو صاب!“ اور منیر حسین شاہ اپنی ’بکھی‘ کا درد بھول کر بندر کی سی پھرتی سے بغیر سیڑھیوں کے پائپ پکڑ کر چھت پر چلے گئے اور بڑے جوش و خروش سے اینٹینا ٹھیک کرنے لگے۔ ہماری آنکھوں میں اپنی ناقدری پر آنسو آگئے۔ کم بخت! ہماری ہر بات کے جواب میں ’بکھی میں درد‘ اور اَب یہ سارا درد ، موصوف کو دیکھتے ہی غائب۔ ’کمینہ‘ ہم نے دانت پیسے، نیچے آیا تو ہم نے وہیں پکڑ لیا، ”اب تیری بکھی کا درد کہاں گیا؟“

”اوپر اینٹینا میں“ مکاری سے مسکرایا۔ ہمیں محسوس ہوا کہ آنکھ بھی دبائی۔ موصوف کو جب بتایا تو دہرے ہو گئے۔

”یار! تم بہت بھولی ہو، اب یہ چار دن کا لڑکا بھی تمہیں چلانے لگا، تم اس پر بیگمات والا رعب کیوں نہیں ڈالتیں۔“

”اگر رعب اور دبدبہ ہمارے پاس ہوتا تو آج ہم یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہوتے۔“ ہم نے منہ بسورا۔ ”ہمارے سر نے کہا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ تم نے ڈپارٹمنٹ میں ٹاپ کیا ہے، مگر تمہاری شکل دیکھ کر تو لڑکے تمہیں چٹکیوں میں اڑا دیں گے۔“

”وہ تو میں دیکھ رہا ہوں۔“ موصوف بھی قائل سے ہوکر بولے، ”اور ہاں اگر اِس پر رعب ڈالنا ہے تو کل سے دو چوٹیاں باندھنا بند کردو اور اپنی شکل پر ذرا بیگموں والی خباثت پیدا کرو۔“ مگر لاکھ کوششوں اور ہیئر اسٹائل بدلنے کے باوجود وہ ہمارے رعب میں نہ آیا، البتہ ہم ضرور اس کی شخصیت سے مرعوب ہوگئے اور ہم نے اس کے منشی کا کام بھی سنبھال لیا اور اپنے چھوٹے موٹے کام، مثلاً خط لکھنا، بٹن ٹانکنا وغیرہ وغیرہ، وہ ہم سے کروانے لگا۔

بالوں کے معاملے میں بھی وہ اتنا ہی گندا تھا، جتنا کہ لان کے معاملے میں۔ موصوف کو اس کے بالوں سے گھن آتی تھی۔ ایک دن اسے پکڑ لیا، ”منیر جاکر اپنے بال چھوٹے کروالو۔“ منیر حسین شاہ کا ہاتھ فوراً اپنے سر پر چلا گیا،آنکھوں میں ایک کنواری لڑکی کی سی وحشت اتر آئی، جیسے کوئی اس کی عزت کے درپے کھڑا ہو۔

”نہیں صاب جی ! میرے بال؟ یہ نہیں کاٹوں گا۔ تم ناخن کٹوا لو۔ پھرتی سے اپنے ہاتھ آگے کردیے۔

”یہ گندے ناخن؟“ موصوف کا دھیان بالوں سے ہٹ کر ناخن پر چلا گیا۔ ”فوراً کاٹو اِنہیں۔ رفعت اسے نیل کٹر لا دو۔“

”صاب ! یہ کیا چیز ہے، ٹِڈّے جیسی؟“ نیل کٹر دیکھ کر حیران رہ گیا۔

”نیل کٹر ہے۔ لو ناخن کاٹو۔“

”صاب! ہمارے گاﺅں میں یا تو نائی کاٹتا تھا، یا پھر ابّا۔“

”ابے تو“ موصوف نے دانت پیسے۔

پھر تھوڑی ہی دیر بعد اِن گناہ گار آنکھوں نے دیکھا کہ موصوف، لنگی بنیان پہنے اکڑوں بیٹھے ہیں، آنکھوں سے کراہت اور بے بسی دونوں ابل رہی ہیں اور منیر حسین شاہ کے ناخن اتارے جارہے ہیں۔ ایسے سمے وہ ہمیں خاندانی نائی لگے۔

دوسرے دن منیر حسین شاہ آٹا گوندھتے گوندھتے کھبڑ کھبڑ اپنا سر کھجا رہے تھے، سارا سر آٹے سے سفید ہوگیا۔

”یہ کیا کر رہے ہو، ہاتھ دھوﺅ۔“ ہم نے ڈانٹا۔

”صاب نے ناخن کاٹ کر بڑا ظلم کیتا جی“ (صاحب نے ناخن کاٹ کر بڑا ظلم کیا جی)۔”وہ کیوں؟“

”اب میں جوئیں کیسے پکڑوں گا۔“

”جوئیں؟ سنیے!“ ہماری آواز کپکپا گئی۔ ”اس کے تو سر میں جوئیں بھی ہیں۔ گندا کہیں کا، آٹے میں ٹپکائے گا، ابھی کاٹیے اس کے بال۔“

”کیوں؟ میں کیوں کاٹوں۔“ موصوف بھنا گئے۔ ”منیر جاﺅ! نائی کے پاس جاکر بال کٹوا آﺅ۔“

”نہیں اس کے سر میں جوئیں ہیں، اس کا سر منڈوا دیں۔“

”پھر دس روپے لوں گا جی۔“

”مگر نائی تو پانچ روپے لیتا ہے۔“

”پانچ روپے میں خود کو راجی (راضی) کروں گا جی، اپنے بال اتروانے پر۔“ وہ مکاری سے مسکرایا۔

”اچھا دس لو۔“

”صاحب سانوں نائی کے ول چھڈ آﺅ۔“ (صاحب مجھے نائی کے پاس چھوڑ آﺅ)۔

”ارے یوٹیلیٹی اسٹور کے پاس ہی تو ہے، جہاں سے کل سامان خریدا تھا۔“

”میں پیدل نہیں جاﺅں گا، ماڑی ٹنگ (ٹانگ) دکھتی ہے، ویسے بھی تم نے وعدہ کیا تھا کہ ساڈا سارا کھرچہ…“

”پتا ہے، پتا ہے۔“ موصوف نے پھرتی سے بات کاٹی۔

”تو صاب جی! ہمیں ایک ’سے کل‘ (سائیکل) لادو۔“

”لو اَب انہیں سائیکل بھی لا دو۔“ موصوف سلگ گئے۔ بہرحال، پڑوسی سے سائیکل مانگ کر دی گئی اور پھر منیر حسین شاہ سائیکل لے کر ایسے غائب ہوئے، جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔

پڑوسی کے لڑکے نے بار بار آ کر پوچھا، مگر پانچ گھنٹے تک اس نے صورت نہ دکھائی۔ شام کو ہاتھ پاﺅں دھول میں اَٹے ہوئے، دانت نکلے ہوئے، پیدل سائیکل چلاتے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ اور غضب خدا کا منیر حسین شاہ کے بال اسی کے سر پر دھرے ہماری بے بسی پر مسکرا رہے تھے۔

”اب آرہا ہے تو، یہ بال کیوں نہیں منڈوائے۔“

”صاب جی! وہ پیسے ڈِگ گئے تھے۔“ (پیسے گر گئے تھے)۔

”تو پھر واپس کیوں نہیں آیا؟“

سوال سن کر یوں مسکرائے، جیسے سامنے صاب جی نہیں پونے تین سال کا احمق بچہ کھڑا ہو۔

”صاب جی! اتنے دنوں بعد ’سے کل‘ (سائیکل) ملی تھی، سوچا موج اڑاﺅں۔“

”موج پانچ گھنٹوں تک اڑائی جاتی ہے اور یہ سائیکل لیے پیدل کیوں چلا آرہا ہے؟ یہ بیٹھنے کے لیے ہوتی ہے، گھسیٹنے کے لیے نہیں۔“

”صاب جی! ٹیوب پھٹ گئی۔“ بھنائے ہوئے موصوف موٹر سائیکل پر بیٹھے، منیر حسین شاہ بھی اچک کر صاب کے پیچھے بیٹھ گئے اور دونوں نئی ٹیوب خریدنے چلے گئے۔

خیر صاحب! قصّہ مختصر تین مرتبہ ’بال منڈوائی‘ کے پیسے ’ڈِگے‘ تو موصوف نے پھر لنگی اور بنیان پہنا اور اکڑوں بیٹھ گئے اور منیر حسین شاہ کے نائی بن گئے۔ بالوں کے ساتھ ساتھ آنسوﺅں کے قطرے بھی زمین پر گِرتے رہے۔ ”رہنے دیجیے بچہ ہے“ ہمیں ترس آگیا۔ منیر نے آدھا گھٹا ہوا سر اٹھایا اور بڑی یاسیت سے مسکرایا۔ عجیب تشکر آمیز مسکراہٹ تھی۔ آئینہ سامنے کرکے اپنی شکل دیکھی تو بڑی پسند آئی۔

”ہاں رہنے دو صاب! سامنے سے سر صاف ہے، اب جوئیں سامنے سے نہیں ڈِگیں گی۔“

”اپنا سرجھکا۔“ موصوف غرائے۔ ”میری آنکھوں کے سامنے یہ ’پرنچا مرغا‘ گھومتا رہے گا۔ اب اتنا بھی بد ذوق نہیں ہوں میں۔“

پھر منیر حسین شاہ کے آنسو اور بال زمین پر گِرتے رہے، یہاں تک کہ بالکل صاف شفاف چندیا نکل آئی۔

”صاب! بہت ظالم ہو۔ اب ہمیں سر پر سردی لگے گی تو کیا کریں گے۔“

”ٹوپی پہن لینا۔“

”تو پھر لادو صاب۔“

”اپنی تنخواہ میں سے لاﺅ۔“

”نہیں صاب! یاد کرو، تم نے وعدہ کیا تھا کہ ساڈا سارا کھرچہ تہاڈے نال ہے۔“

موصوف کی آنکھوں میں عجیب سی بے بسی گھل گئی۔ ”ہاں بھئی تہاڈا سارا کھرچہ…“

پھر شاید قدرت کو ہم پر رحم آہی گیا۔

”بیگم جی!“

”کیا ہے؟“ منیر حسین شاہ کو تیار اور پیٹھ پر گٹھری دیکھ کر ہم چونکے۔

”صاب کہاں ہیں؟“

”اندر۔“

”بلاﺅ جی، اَسی جا رہے ہیں۔“

”مگر کیوں؟“

”وہ ابّے کی چٹھی آئی ہے، مگر میں کیا منہ لے کر جاﺅں گا جی۔“

”خیریت تو ہے؟“

”نہیں، دونوں طرح سے کھیریت (خیریت) نہیں ہے۔ وہاں ابّا بیمار ہے اور یہاں…“

منیر کی آواز بھرا گئی۔

”اور یہاں کیا؟

”وہ مجھے نہیں پہچانے گا جی! میرے ناخن بھی کاٹ دیے، کپڑے بھی دھلوا دیے اور روزانہ نہاتا ہوں جی اور اَب … اب تو میرے بال بھی نہیں رہے۔“ آنسو گالوں پر بہنے لگے۔

”اب تو انسان کا بچہ بن گیا ہے۔“

”میں ابّا کا بچّہ ہی ٹھیک تھا۔ خیر! میں پھر بھی جاتا ہوں جی، وہ بہت بیمار ہے ناں۔“

”واپس آﺅ گے؟“ موصوف قریب آگئے۔

”ہاں ضرور صاب!“ آستین سے ناک پونچھ کر بڑے پر عزم لہجے میں بولے۔

”ضرور آﺅں گا جی! اپنے ’سوہنے‘ صاب کے پاس۔“

ہمارے بارے میں اپنی رائے اس نے محفوظ ہی رکھی، جس کے لیے ہم بڑے ممنون تھے۔ ان کے ہاں کشمیر میں صرف بھیڑ اور بکریاں کالی ہوتی ہیں یا پھر کوے۔

”ہم دعا کریں گے۔“ موصوف کے چہرے پر ایک دم غم کے بادل اتر آئے اور وہ بڑی کمزور سی آواز میں بولے۔

”میری واپسی کی صاب!“ اس کی آنکھیں چمکیں۔

”ہاں…کہ تم واپس نہ آﺅ۔“ موصوف دھیرے سے بولے۔ جو اس نے سنا نہیں۔

”میرے ابّا کے لیے بھی دعا کرنا۔ صاب بہت یاد آﺅ گے۔“ وہ ان سے لپٹ گیا۔

ہم اطمینان سے کھڑے رہے، ہمیں پتا تھا کہ کشمیر میں لوگ کالی بھیڑوں اور کووں کو بالکل گلے نہیں لگاتے۔

”یہ لو“ پانچ سو روپے نکال کر موصوف نے دیے۔

”مگر میری تنکھوا؟“

”وہ بھی دیتے ہیں، بیگم تم حساب کردو، ان پیسوں سے تم باپ کو پھل وغیرہ کھلانا۔“

”صاب! ٹرین کا کرایہ بھی تو دو۔“

”وہ کیوں؟“

”صاب ! یہ تو پہلے ہی دن سے طے ہے کہ…“

”ہاں ہاں پتا ہے، مگر یہ طے نہیں ہوا تھا کہ تمہارا باپ بیمار پڑے گا۔“

”صاب! اس کی بیماری کا کھرچہ تھوڑی مانگ رہا ہوں، وہ تو اس کا صاب بھرے گا۔

مگر میں تو تمہارا ملازم ہوں اور ہاں ساتھ ہی کھرچی بھی دینا۔“

”یہ کھرچی کیا ہوتی ہے؟“

”راستے میں ریل میں کھانا کھاﺅں گا، دہی بلے کھاﺅں گا اور مونگ پھلیاں بھی، تمہیں تو پتا ہے ریل میں کتنی بھوک لگتی ہے۔“

موصوف نے بے بسی سے بالوں میں انگلیاں پھیریں اور کرایہ اور خرچی نکال کر ہتھیلی پر دھر دی۔

”صاب! یہ تو ایک طرف کا کرایہ ہوا، واپسی کا بھی تو دو ناں۔“

”وہ واپس آ کر لے لینا۔“

اور اس دن کے بعد سے موصوف کی دعاﺅں میں ایک اور دعا شامل ہوگئی کہ میرے پیارے اللہ میاں ! تو منیر حسین شاہ کو وہیں کشمیر میں ہی کوئی اچھی سی نوکری دلا دے اور اسے ہمیشہ ’کشمیر‘ میں ہی خوش رکھ۔“

ابھی کچھ ہی دنوں پہلے کی بات ہے جب ہم نئے نئے اس گھر (C-5) میں شفٹ ہوئے۔ ایک دن گھر صاف کرتے کرتے باہر نکل گئے۔

”اچھا تو اَب تم نے اس بنگلے میں نوکری پکڑی ہے؟“

”ہاں“ ہم مسکرائے۔ جھاڑو ہاتھ میں پکڑ لی۔

”اور میں بھی انہیں کے ساتھ ملازم ہو گیا ہوں۔“ موصوف نے چہرے سے رومال ہٹایا اور مسکراتے ہوئے سامنے آگئے۔

”یہ تو بہت ہی اچھا ہوا۔“ خورشید سادگی سے مسکرایا ”میں اسی لائن کے آخری بنگلے میں کام کرتا ہوں، C-1  میں۔

اور پھر ایک دن شام کو ہم بڑے بنے سنورے موصوف کے باہر نکلنے کا انتظار کررہے تھے اور لان میں ٹہل رہے تھے کہ خورشید سامنے آگیا تھوڑی دیر تو وہ ہمیں دور سے ہی دیکھتا رہا پھر جھجکتا، جھجکتا قریب آ گیا۔

”سنیے! وہ، وہ آپ کی شکل کی جو نوکرانی ہے، وہ جو پیچھے ڈی سولہ(D-16)  میں اپنے میاں کے ساتھ کام کرتی تھی وہ کہاں گئی؟“

”وہ یہیں ہے۔“ موصوف مسکراتے ہوئے سامنے آگئے۔

عجیب اتفاق ہے مالک اور مالکن دونوں اپنے نوکر، نوکرانی پر گئے ہیں۔ وہ حیران ہوتا ہوا رکتا، رکتا واپس چلا گیا۔

ایک دن جھاڑو دیتے دیتے ہمیں ایک دم منیر حسین شاہ شدّت سے یاد آیا۔ ہمیں خیال آیا کہ، موصوف نے جو وعدے منیر حسین شاہ سے کیے تھے شادی کے بندھن میں بندھتے وقت بالکل یہی وعدے انہوں نے اپنے سسرالیوں سے بھی کیے تھے یعنی ساڈا سارا کھرچہ موصوف دے نال ہے مگر اَب جب کبھی بھی ایک لپ اسٹک کے لیے پیسے مانگو تو تیوری پر بل پڑ جاتے ہیں اور ایک عدد لیکچر جو فضول خرچ بیویوں کے بارے میں ہوتا ہے ہماری ناک پکڑ کر ہمارے حلق سے نیچے اتار دیتے ہیں۔ پھر آخر میں بڑی کراہت بھرے لہجے میں ایسی بیویوں سے (جو ساری زندگی ’بیوائیں‘ بننے کی تگ ودو میں لگی رہتی ہیں) بڑی نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ مگر موصوف نے منیر حسین شاہ کے وہ وہ لاڈ اٹھائے کہ کیا کوئی میاں اپنی سگی بیوی کے اٹھائے گا۔

جاتے جاتے منیر حسین شاہ ہمیں بھی ایک ’سبق‘ دے گیا تھا مگر حسبِ معمول بڑی دیر میں عقل آئی۔ خیر دیر آید درست آید اور پھر ہم نے اسی وقت جھاڑو پٹخی اور موصوف کو بائیک سے اترنے سے پہلے ہی سمجھا دیا کہ بھئی آج سے ساڈا کھرچہ بھی تہاڈے نال ہے ورنہ سمجھ لو آگے بندوق کی نال ہے مگر وہ موصوف ہی کیا جو ایک ہی ہلّے میں ہتھیار ڈال دیں فوراً لوٹ پوٹ کر طوطا بن گئے اور آنکھیں نکال لیں اور ہمیں اشارے کنائیوں کے بجائے صاف صاف بتا دیا کہ ایسی بیویوں سے عقل مند میاں اسی طرح چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ ہم منیر حسین شاہ سے۔ بس اس کے بعد جیسے کسی نے کیلوں سے ہمارا منہ ٹھوک دیا۔ آنکھوں میں آنسو لیے چپ چاپ جھاڑو اٹھالی اور جھاڑو کی سر سر ہمیں یہ مصرع سنانے لگی:

کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جاناں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply