میں اور قرنطینہ!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قرنطینہ کسی ہسپانوی حسینہ کا نام نہیں بلکہ قرنطینہ اس علیحدگی کے دوارنیے کا نام ہے ’جو ایک ممکنہ مریض پرلازم ہوجاتا ہے جب اس میں کسی وبائی مرض کی علامتیں ظاہر ہوں یا ظاہر ہونے کا امکان ہو۔ صاحبو! ہم بھی آج کل ایک گوشہ تنہائی میں یہ قرنطینیائی ایام گزار رہے ہیں۔ جب کرونا کی وبا بے لگام ہوئی تو ہمارے اکثر پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے ہم پیشہ فیملی فزیشن نے اپنے کلینکس کو مقفل کر دیا اور منظر عام سے خود کو دور کر لیا۔

ایسا کرنا ان کا حق ہے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ ہمارے ہاں اور دنیا بھر میں میڈیکل کے بنیادی قانون کے تحت ایک ڈاکٹر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے اپنی خدمات پیش کرنے سے کر سکتا ہے۔ یہ بالکل اسی طرح ہے‘ جس طرح ایک جج اور وکیل کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اگر چاہے تو کسی مقدمے کی سماعت اور وکالت سے معذرت کر لے۔ قصہ مختصر یہ کہ اس فقیرپیشہ کو یہ پیشہ ورانہ حق استعمال کرنا گوارا نہ ہوا۔ مجھے قطعاً مناسب معلوم نہ ہوا کہ جن خاندانوں کے ساتھ دو اڑھائی عشروں سے طبی ہی نہیں بلکہ معاشرتی اور روحانی حوالے سے بھی تعلقات استوار ہیں ’انہیں اس افتاد ناگہانی میں بے یار ومدد گار چھوڑ دیا جائے۔

بیس پچیس برس پہلے جن بچے بچیوں کو گود میں دیکھا کیا کرتے‘ آج وہ اپنے بچوں کو گود میں اٹھا کر لا رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے کلینک بند نہ کیا۔ ۔ ۔ آخر وہی ہوا جس کا احتمال تھا کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ ۔ ۔ تمام تر حفاظتی تدابیر کے باوجود ایک مریض سے مجھے یہ وائرس منتقل ہو گیا۔ ابتدا میں جونہی بخار، گلے میں ہلکی سی سوزش اور جسم میں درد اور نقاہت کا آغاز ہوا ’میں نے فوراً اپنے گھر کے ایک چھوٹے سے لائبریر ی نما کمرے میں‘ جسے ہم نماز والا کمرہ کہتے ہیں ’خود ساختہ قید تنہائی کاٹنے کی ٹھان لی۔

چند ضروری ادویات، برتن، کپڑے، تولیہ اور بستر وغیرہ لے کر سب سے الگ تھلگ خود کو محصور کر لیا، لیکن ہم ایسے بھی معتکف نہ تھے کہ دنیا سے رابطہ کٹ جائے، لیپ ٹاپ اور موبائل ساتھ ہو تو دنیا آپ کے ساتھ ہے، ایسے میں بندہ معتکف کم اور مشتہر زیادہ ہوتا ہے۔ ہم نے ایک احتیاط البتہ ضرور اختیار کی، سوشل میڈیا پر بیماری کا سٹیٹس نہ لگایا۔ دعاؤں کی ضرورت تو ہمیں تھی لیکن ہمدردیاں سمیٹنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔

یہ قرنطینہ زندگی کو عجب قرینہ سکھا گیا۔ یہ چودہ دن دراصل ایک ایسے قیدی کی قید تنہائی کی داستان ہوتی ہے جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہو گا، اسے زندگی کی قید سے رہائی دینے کے لئے تختہ دار پر بھی لٹکایا جا سکتا ہے، اسے کسی آئی سی یو میں ایک سے دو ہفتے کی قید بامشقت بھی سنائی جا سکتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ بخار اور نقاہت کے چند درے لگا کر چودہ دن کے بعد اسے واپس نارمل زندگی میں بھیج دیا جائے۔

یعنی قرنطینہ میں داخل ہونے والا ان تینوں ممکنات سے گزر سکتا ہے۔ ممکنہ موت کی چاب اپنے اس قدر قریب محسوس کرتے ہوئے خود احتسابی کا گوشوارہ نظروں کے سامنے کھلنے لگا۔ ”پہلی کرن“ میں درج اپنا ہی جملہ آنکھوں کے سامنے گھومنے لگا ”مہلک بیماریوں کا علم سیکھنے والے یہ نہیں جانتے کہ وہ خود کس بیماری سے ہلاک ہوں گے“ ، سوچا ’وبا میں مرنے والا شہید ہوتا ہے، ممکن ہے اسی بہانے معصیت مغفرت میں تبدیل ہو جائے۔ زندگی میں کیا کھویا‘ کیا پایا؟ مالک کی نعمتوں کی لگاتار ناقدری پر افسوس ہوا۔ وقت، وجود اور وسائل جو اس حیات مستعار میں امانت کے طور دیے گئے تھے ’ان کے بے ڈھب ضیاع پر افسوس رہا۔ اس کی عطا اور اپنی خطا میں کوئی نسبت معلوم نہ ہو سکی۔

سب سے زیادہ افسوس اپنی زیرترتیب کتابوں کے ممکنہ ضیاع کا ہوا۔ دل میں آیا کہ جلدی سے فہرست بنا دوں، ممکن ہے ’پس ماندگان اور شاگردان فراغت ملنے پر انہیں کتابی شکل دے سکیں۔ ”ساز انا البحر“ ، ”عکس خیال“ اور ”در احساس“ کے ترتیب شدہ مسودے تو دوستوں کو یاد ہی ہوں گے۔ البتہ آیات حسرت میں دو قیمتی تالیفات دل میں پھانس بن کر موجود رہیں۔ ۔ ۔ ”کشف المحجبوب“ کا آسان اردو ترجمہ اور مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے ساتھ گزرے ہوئے شمسی کیلنڈر کے آٹھ سال اور آٹھ دن کی ”بیتی“ کے نام سے روداد۔

مخلص دوستوں کے بارہا اصرار کے باوجود بوجوہ آپ بیتی کا سلسلہ شروع نہ کر سکا، سوچتا رہا‘ ایسی بھی کیا جلدی ہے، زندگی کی شام پڑے گی تو اپنے شام کی باتیں لکھنا شروع کریں گے۔ ۔ ۔ کیا معلوم تھا کہ بعض اوقات اچانک جھٹپٹا ہو جاتا ہے، تاریک بادل چھا جاتے ہیں اور شام سے پہلے ہی کسی ترتیب کے بغیر زندگی کا یوم ختم ہو جاتا ہے۔ اچھا کیا کہ اپنی ای میل اور فیس بک کا پاس ورڈ بچوں کو دے رکھا ہے، تعزیتی مصروفیات سے فارغ ہو کر وہ لیپ ٹاپ کے پیٹ سے سب کچھ برآمد کر سکیں گے۔

اشعار و اقوال واصفؒ کی تشریحات پر مشتمل کتاب ”کتاب چہرے“ تبصرے کی غرض سے چوہدری ریاض احمد اور ظہیر بدر سمیت کچھ دوستوں کو دے رکھی ہے، رفیق طریق علی فراز علی کا تبصرہ بھی شامل ہے، اس نے فون پر عیادت کرتے ہوئے ادبی انداز میں دعائیہ تبصرہ کیا ’تمہیں کیسے کچھ ہو سکتا ہے‘ ابھی تو تمہاری کتاب پر میرا تبصرہ چھپنا ہے۔ میں نے جلدی سے فہرست جاری کر دی ہے تاکہ لواحقین و متاثرین کے لئے سند رہے اور بوقت ”ضرورت“ کام آئے۔

بہرحال دوستوں کو نوید ہو اور دشمنوں کو خبر۔ ۔ ۔ کہ سات دن کے بعد علامات واپس جانا شروع ہو گئیں۔ سوچتا ہوں ’آئندہ پوری زندگی ہی کیوں نہ قرنطینہ میں گزاری جائے۔ لوگوں سے کم تعلق، لکھنے پڑھنے سے رغبت، عبادت و عبرت سے تمسک اور ہر دن کو ایک غنیمت سمجھتے ہوئے گزارا جائے۔ آخر وہ بیماری جو اپنے ساتھ لے کر جائے گی‘ اس نے بھی تو کسی دن آ کر ہی رہنا ہے۔ اس مہلک بیماری کے آنے سے پہلے، یعنی جانے سے پہلے تمام کام مکمل باشد کیوں نہ کر لیے جائیں، تاکہ وقت مفارقت حسرت کی بجائے مسرت کا شادیانہ بجائے۔

شادم از زندگی خویش کہ کارے کردم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *