کیا حکومت چند دن کی مہمان ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا نہ آتا تو اس حکومت جس کا ہونا، نہ ہونا برابر ہے، کا رونا دھونا کب کا ختم ہو چکا ہوتا۔ کیونکہ جو بونا ہوتا ہے وہی کاٹا جاتا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ کے اندر اندر ہونے والے کچھ واقعات کو سرسری طور پر بھی دیکھا جائے تو بقول میر یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ
جی کا جانا ٹھہر گیا ہے، صبح گیا یا شام گیا

یوں تو شروع دن سے ہی اس حکومت کی کوئی کل سیدھی نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص بیساکھیوں پر کھڑی حکومت کی کل کل سے جان چھڑانا چاہتا تھا مگر مقطعے میں سخن گسترانہ بات یہ آن پڑی تھی کہ جو جواری گدھے کو گھوڑا سمجھ کر میدان میں لے آئے تھے انہوں نے اس پر سرمایہ کاری بہت بھاری کر رکھی تھی۔ اس لیے یہ ساری مارا ماری جاری رہی اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ حالیہ بجٹ میں سوائے دفاعی اداروں کے کسی شعبے کے لیے بھی خیر کی کوئی خبر نہیں تھی۔

بجٹ کا احوال اور زوال یہ ہے کہ جی ڈی پی اور ٹیکس گروتھ کی شرح پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار منفی میں چلی گئی۔ ن لیگ اپنے پانچ سال میں ٹیکس کولیکشن 1900 ارب سے دوگنا یعنی 3800 ارب تک لے آئی تھی۔ موجودہ حکومت نے بجٹ خسارہ 34 کھرب 37 ارب چھوڑا ہے جبکہ ن لیگ یہ خسارہ کم کر کے 14 کھرب پر لے آئی تھی۔ بیساکھیوں کے سہارے ساکھ بنانے میں کوشاں اس حکومت نے دفاعی بجٹ میں ریکارڈ 11.8 فیصد اضافہ تو کر دیا ہے مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں رتی برابر اضافہ نہیں کیا۔

اس کے علاوہ مہنگائی میں بھی ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ صحت، زراعت اور تعلیم کے لیے مختص کیے گئے بجٹ کو دیکھ کر گنجی کے نہانے اور نچوڑنے والی مشہور زمانہ ضرب المثل یاد آتی ہے۔ مہنگائی کی شرح سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9.1 ہے مگر حقیقت حال اس سے بھی زیادہ دگرگوں ہے۔ شرح سود مر مر کے 8 فیصد پر لائی گئی ہے جو اب بھی نواز دور سے کہیں زیادہ ہے۔

اس لولی لنگڑی حکومت کے پاس اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے نابلد عوام کو دینے لیے صرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی کا لولی پاپ ہے جس میں اول تو معاشی کاری گروں نے دو نمبری کی ہے اور دوم کسی ملک کی معیشت کو ماپنے کا یقیناً یہ واحد اشاریہ نہیں ہے۔ اس پاکستان دشمن بجٹ کو ملک کے تمام نامور معاشی ماہرین، بڑے کاروباری اداروں اور شخصیات اور عوامی حلقوں نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

معاشی ابتری کے ساتھ ساتھ بلوچستان کی بی این پی پارٹی جس کی قومی اسمبلی میں چار سیٹیں ہیں، نے حکومت کے ساتھ اتحاد ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ زین بگٹی اور دوسرے اتحادی و ہم خیال بھی خواب و خیال بنتے جا رہے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی سیاسی تبدیلی کا آغاز بلوچستان سے ہوا چاہتا ہے۔ بلوچستان کا سب سے بڑا مسئلہ آئے دن مسنگ پرسنز کی تعداد میں ہونے والا اضافہ ہے۔ چار سال قبل اٹھائے گئے اپنے بھائی کی تلاش میں ماری ماری پھرنے والی بلوچستان کی ایک بہن نے آخر کار پچھلے دنوں خود کشی کر لی۔

اس سانحے نے بلوچ قائدین اور عوام کے تن بدن میں آگ لگا دی ہے۔ اس کے علاوہ 2014 میں مسخ شدہ باپ کی لاش اور 2016 میں اپنے اکلوتے بھائی کے لاپتہ ہونے پر نوحہ کناں بولان میڈیکل کالج کی طالبہ مہرانگ کی گرفتاری اور رہائی سے پیدا ہونے والی صورت حال بھی حکومت کے لیے درد سر بنی ہوئی ہے۔ یہ طلبہ و طالبات آن لائن کلاسز کے اجرا کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ادھر قومی اسمبلی میں حکمران پارٹی کے اپنے ایم ایز وزیر اعظم کو مستعفی ہونے کے مشورے دے رہے ہیں۔ نازک اندام اتحادی ق لیگ اور ایم کیو ایم کی ناراضی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ فواد چودھری کا انٹرویو بتا رہا ہے کہ اندرون خانہ حکومت کے حالات نہایت ہی پتلے ہیں۔ جہانگیر ترین گروپ کی طرف سے بغاوت کی تلوار الگ سر پر لٹک رہی ہے۔

رہی سہی کسر شوگر، آٹے، ادویات اور اشیائے خور و نوش کی کمیابی اور گرانی نے نکال دی ہے۔ ابھی لندن میں جہانگیر ترین کی ملاقات نواز شریف سے ہوئی نہیں مگر وزیر اعظم کے چہرے پر ابھی سے بارہ بج گئے ہیں۔ ایک پیج والا بیانیہ بھی کہیں گم ہو گیا۔ کورونا اور مافیاز نے الگ قیامت برپا کر رکھی ہے۔ وزیر اعظم کی قومی اسمبلی میں کی جانے والی بے ربط نمائشی اور فرمائشی تقریر بے بسی اور بے بصیرتی کی گمبھیر کہانی سنا رہی ہے۔

نیب، ایف آئی اے کی کارروائیاں اور بچگانہ وارداتیں بھی الٹا وزیراعظم کے گلے پڑ رہی ہیں۔ شہباز شریف کی ضمانت قبل از گرفتاری، جسٹس فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس کا خارج ہونا اور بی آر ٹی و فارن فنڈنگ کیسوں کی سر پر لٹکتی تلوار نے وزیر اعظم کے اوسان اس قدر خطا کر رکھے ہیں کہ موصوف ایوان بالا میں عالمی دہشت گرد اور لاکھوں پاکستانیوں کے قاتل اسامہ بن لادن کو شہید قرار دے رہے ہیں۔

پارلیمانی اجلاس کی اندرونی کہانی بھی باہر آ گئی جس میں وزیراعظم نے آنے والے چھ ماہ کو تخت یا تختے سے مشابہ قرار دیا ہے۔ یقیناً انہیں فرینڈلی اپوزیشن سے تو کوئی خطرہ نہیں۔ پھر یہ الٹی میٹم کن قوتوں کی طرف سے ہے، یہ سب کے لیے سربستہ نہیں بلکہ کھلا راز ہے۔

جولائی اگست تک نواز شریف بھی مکمل صحت مند ہو کر واپس آنے والے ہیں۔ ان کی آمد کا خوف بھی حکومت کو پریشان کر رہا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوامی سطح پر اضطراب، ہیجان اور بے چینی بڑھ رہی ہے۔ یوں لگ رہا ہے کہ حالات مکمل طور پر وزیراعظم کی گرفت سے نکل چکے ہیں اسی لیے قومی اسمبلی میں کی جانے والی ان کی حالیہ تقریر کا لب و لہجہ اور اسلوب معذرت خواہانہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم قوم کا باپ ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ان کے ایک معزز وزیر آرمی چیف کو قوم کا باپ کہہ چکے ہیں۔ مگر جب یہ کنٹینر پر کھڑے ہو کر سابق وزیراعظم کو برہنہ گالیوں سے نوازتے تھے تو تب انہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ وزیراعظم قوم کا باپ ہوتا ہے؟

محض دو سال کے اندر اندر سیاسی حالات کا اس قدر سرعت سے پلٹا کھانا وزیراعظم اور ان کی حکومت کے لیے مقام عبرت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کی حکومت تاریخ کی وہ خوش قسمت حکومت ہے کہ جسے مقتدر اور دیگر اداروں کی مثالی اور غیر مشروط حمایت ملی مگر بدقسمتی سے اس کے باوجود یہ حکومت اپنی نا اہلی اور اقربا پروری کی وجہ سے کسی بھی شعبے میں واجبی کارکردگی دکھانے میں بھی ناکام رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امپائر نے عمران خان کے لیے وکٹ کیپر سمیت تمام میدان خالی کروا کے مریل اور ناتجربہ کار باؤلر لگایا تھا مگر اس کے باوجود ہر گیند بیٹ پر آنے کے بجائے پیڈز پر لگ رہی ہے۔ امپائر اپنا نہ ہوتا تو کپتان پہلے ہی اوور میں ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین سدھار چکے ہوتے بلکہ حکومت کی کرسی پر آتے ہی نہ۔

کپتان کے لیے سیاست کو پابہ زنجیر کیا گیا، عدالت اور نیب کو گرفت میں لایا گیا، میڈیا کو جکڑا اور جمہوریت کی گردن مروڑی گئی۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی کپتان کی حکومت ڈلیور نہ کر سکے تو امپائر کب تک بدنامی مول لے گا؟ اب تو ملک کی بربادی اور تباہی کی ذمہ داری ڈھکے چھپے انداز اور اشاروں کنایوں میں نہیں بلکہ براہ راست امپائر کے سر منڈھی جار ہی ہے۔ متحدہ اپوزیشن کی مشترکہ پریس کانفرنس اور پٹرولیم مصنوعات میں اچانک اضافے نے بھی ملک کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ سو موجودہ سیاسی صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ امپائر مجبوری میں بہت جلد کوئی قدم اٹھانے والا ہے۔ 2020 وسط مدتی انتخابات کا سال ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *