سردار نصیر ترین: تورغر کے ’مارخور ہیرو‘ اور جنگلی حیات کے تحفظ کی سنہری روایات

شبینہ فراز - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سورج دھیرے دھیرے پہاڑوں کی اوٹ سے بلند ہو رہا تھا۔ اس کی سنہری کرنیں پہاڑ اور وادی دونوں کو سونا رنگ کر رہی تھی۔ سلاواتی پہاڑی کی چوٹی پر مجھ سمیت کچھ سرپھرے سلیمان مارخور کو دیکھنے کے لیے سانس روکے دوربین آنکھوں سے لگائے کھڑے تھے۔

جب پیروں کے نیچے پتھر سرک رہے ہوں اور ہر لمحہ ایک دشوار چڑھائی سامنے ہو تو پہاڑوں پر چڑھنا آسان نہیں ہوتا مگر مارخور دیکھنے کے شوق میں ہانپے کانپتے یہ ایڈونچر بہ خوشی کر لیا گیا تھا۔

اس روز ہم نے 20 سے زائد مارخور دیکھے اور یہ ایک سنسنی خیز تجربہ تھا جو دو دہائیاں گزرنے کے بعد آج بھی یادداشت میں تروتازہ ہے۔

یہ سردار نصیر ترین سے ہماری پہلی اور آخری ملاقات تھی جو چند روز پہلے 81 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ سردار نصیر ترین جنھیں بلوچستان کا ’مارخور ہیرو‘ بھی کہا جاتا ہے، ان لوگوں میں شامل تھے جو زندگی گزارتے نہیں بلکہ جیتے ہیں۔

وہ ماحول اور جنگلی حیات کے حقیقی معنوں میں محافظ تھے، اور پاکستان میں جنگلی حیات کی اہمیت کو اجاگر کرنے والے ماحول دوستوں کے ہراول دستے میں شامل تھے۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں پھلتی پھولتی جنگلی حیات خصوصاً سلیمان خور کی نسل کی کرہء ارض پر بقائے ثانوی ان ہی کی مرہون منت ہے۔ ان کے جلائے ہوئے دیے کئی دہائیوں تک ان کالے پہاڑوں کو منور کرتے رہیں گے۔

Markhoor

پشین شہر کوئٹہ کے شمال میں واقع ہے اور یہاں پشتونوں کا ایک قبیلہ’ترین‘ آباد ہے ۔ آخری سردار کے بیٹے ہونے کے ناتے سردار نصیر ترین کو ایک سردار کے مانند کروفر سے زندگی گزارنی چاہیے تھی مگر بغاوت ان کی مٹی میں گندھی تھی سو زندگی گزارنے کے لیے انھوں نے اپنی مرضی کی راہیں تراشیں۔

بیرون ملک سے انٹرنیشنل ریلیشنز کی ڈگری کے حصول کے لیے بھیجے گئے تاکہ واپس آکر افسر شاہی کی مسند سنبھال سکیں مگر افتاد طبع یہاں بھی آڑے آئی اور تخلیق کے شوق کو پورا کرتے ہوئے آرٹ کے شعبے کا انتخاب کیا اور فلم میکنگ کی ڈگری حاصل کر لی۔

وہ خود ہنستے ہوئے کہتے تھے ’میں ایک ایسے ہنر کی تربیت لے رہا تھا جسے ہماری روایات میں مراثیوں کا کام سمجھا جاتا ہے۔‘ وہ کچھ عرصہ ’ڈزنی فلمز‘ سے بھی وابستہ رہے اور کئی سال دیار غیر میں گزارنے کے بعد بالآخر اپنے لوگوں کے لیے کچھ کر دکھانے کا عزم انھیں واپس لے آیا۔

فلم میکنگ میں ان کا میلان دستاویزی فلموں کی جانب تھا اور واپس آکر وہ بلوچستان کی تہذیب و ثقافت پر فلم بنانا چاہتے تھے تاکہ دنیا کے سامنے بلوچستان کے مثبت پہلو اجاگر کیے جاسکیں۔

ساﺅتھ پنجاب فارسٹ کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹیو اور سردار صاحب کے ساتھ طویل عرصہ کام کرنے والے طاہر رشید نے بتایا کہ ’محکمہ جنگلی حیات بلوچستان نے سردار صاحب سے کہا کہ وہ ان کی دستاویزی فلم میں ضرور تعاون کریں گے لیکن پہلے انھیں جنگلی حیات کے حوالے سے ایک فلم بنا کر دیں جو پہاڑوں میں بڑی تعداد میں موجود ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سردار صاحب کیمرا پکڑے، ایک پہاڑ سے دوسرے پہاڑ چڑھتے رہے مگر دور دور تک اس ’جنگلی حیات‘ کا کہیں پتا نہ تھا جو محکمے کے بقول بڑی تعداد میں موجود تھی۔ بڑی مشکل سے چند مادہ مارخور نظر آئیں جو شاید شکاریوں سے بچ گئی تھیں کیونکہ نر اپنے بڑے اور خوبصورت سینگوں کی بنا پر آسانی سے شکاریوں کے نرغے میں آجاتے ہیں۔‘

سردار نصیر ترین اس صورت حال سے بہت مایوس ہوئے، انھیں اندازہ ہو گیا کہ جنگلی حیات صرف محکمے کے کاغذات میں پھل پھول رہی ہے درحقیقت زمینی حقائق اس سے مختلف ہیں اور شاید یہی ماہیت قلب کی گھڑی تھی۔

Markhoor

تورغر کنزرویشن پروجیکٹ کی ابتدا

سردار نصیر اپنی مٹی اور اس کے وسائل سے جڑے ہوئے تھے، وہ جانتے تھے کہ سلیمان مارخور اور افغان اڑیال کی نسلیں معدومی کے قریب ہیں اور بلوچستان سے ان کے خاتمے کا مطب ان کی نسل کا خاتمہ ہو گا کیونکہ یہ پہاڑ ان کے مرکزی مساکن تھے۔ ان جنگلی حیات کی تحفظ کی سرگرمیوں کے لیے سردار نصیر نے جس دشوار گزار پہاڑی علاقے کا انتخاب کیا وہ تورغر تھا اور یہی تورغر کنزرویشن پروجیکٹ کی بنیاد رکھی گئی۔

بلوچستان کے اس پہاڑی سلسلے کو تورغر یعنی کالا پہاڑ اس لیے کہتے ہیں کہ یہاں کالا پتھر پایا جاتا ہے، تورغر پہاڑی سلسلہ توبہ کاکڑ کے عظیم سلسلہ ہائے کوہ کا ذیلی سلسلہ ہے جو قلعہ سیف اللّٰہ شہر کے شمال میں، قریب سو کلومیٹر شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے۔ یہ ریتلے پہاڑوں کا تقریباً 60 میل لمبا اور 30 میل چوڑا سلسلہ ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے تقریبا 3,300 فٹ بلند ہے۔

بلوچ روایات میں شکار کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ یہ وہ دور تھا جب افغانستان میں روسی شورش جاری تھی اور افغان مہاجرین کے ساتھ افغانی اسلحہ بہت آسانی سے پاکستان میں دستیاب تھا۔ اسلحے کی فراوانی نے شکاریوں کے لیے مزید آسانیاں پیدا کر دی تھیں اور سلیمان مارخور، افغان اڑیال اور چیتے وغیرہ کی نسلیں معدومیت کے قریب پہنچ گئی تھیں۔

کرہء ارض کا نظام توازن پر قائم ہے۔ جب بڑے جانور کم ہوئے تو یہ نظام غیر متوازن ہوا اورجس کی وجہ سے تخت سلیمان اور توبہ کاکڑ کے علاقوں میں جانور سہہ کی تعداد بڑی تیزی سے بڑھنے لگی جس کی وجہ سے زمین کا کٹاﺅ بہت تیزی سے بڑھا اور جنگلی پستے کے درخت جن پر ان پہاڑوں میں بسنے والوں کا انحصار تھا، ختم ہونے لگے۔ سہہ زمین کے اندر بل بنا کر رہنے والا جانور ہے، یہ درختوں کی جڑیں بھی کھاتا ہے۔

یہ تمام صورت حال انتہائی تشویش ناک تھی۔ ماحول کی بقا، اس کا توازن اورجنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ضروری تھا کہ اس علاقے میں ہر حال میں شکار کو روکا جائے اور یہ کام کسی جوئے شیر لانے سے کم نہ تھا۔

سردار نصیر ترین کے اپنے الفاظ میں’یہ ایک قبائلی علاقہ تھا اور بلوچ روایات میں شکار کو مردانہ سپورٹس کی اہمیت حاصل تھی لہذا میرے لیے اصل چیلنج مقامی افراد کو شکار سے باز رکھنا تھا۔‘

بلوچوں کو شکار سے تائب کروانے کے لیے مرحوم نواب تیمور شاہ جوگیزئی جو خاص طور پر جوگیزئی قبیلے اور پورے پشتونوں کے نواب تھے، کو قائل کر کے ساتھ ملایا گیا۔ اس کے علاوہ تورغر میں بسنے والا جلال زئی قبیلے جسے نیم خانہ بدوش قبیلہ کہا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ بھیڑ بکریاں پالتے اور موسم بہار میں شمال کی جانب کوچ کر جاتے ہیں اور پھر موسم سرما کے شروع ہوتے ہی واپس پہاڑی علاقے میں آ جاتے ہیں اور سب سے زیادہ شکار کے شوقین تھے۔

ان سمیت اس ڈویژن میں بیس کے قریب قبائل آباد ہیں۔ یہ سب سال میں دو مرتبہ تورغر کے علاقے سے گزرتے ہیں۔ ان گزرنے والے قبائل کو سختی کے ساتھ نئے قانون کو ماننے پر آمادہ کیا گیا اوران لوگوں نے شکار پر پابندی کا قانون نہ چاہتے ہوئے بھی قبول کرلیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ جوگیزئی قبیلے سے مخالفت مول لے کر وہ امن و امان کے ساتھ تورغر سے گزر نہیں سکتے۔

دوسرا بڑا مرحلہ تورغر کنزرویشن پروجیکٹ میں مقامی افراد کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لیے ان افراد کے روزگار کے ذرائع پیدا کرنا تھے تاکہ وہ دل سے اس منصوبے کو قبول کریں اور اخلاص سے کام میں حصہ لے سکیں۔ شکار پر پابندی کے لیے ابتدا میں سات گیم وارڈن رکھے گئے اور ان کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب کیا گیا جو شکار کے شوقین رہے تھے لیکن اب سردار نصیر نے انھیں جنگلی حیات کا محافظ بنا دیا تھا۔ علاقے میں جانوروں کا تحفظ اور شکاریوں پر نظر رکھنا ان ہی کی ذمے داری تھا۔

گویا پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے، زیادہ سے زیادہ گارڈ جلال زئی قبیلے سے لیے گئے تاکہ یہ قبائل بھی اس عمل میں شریک ہوں۔ زیادہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے ہر سال گارڈ تبدیل کیے جاتے رہے تاکہ نئے لوگوں کو بھی موقع مل سکے۔

جب تورغر کنزرویشن پروجیکٹ کا قیام عمل میں آیا تو امریکا سے فش اینڈ وائلڈ لائف ماہرین کو مدعو کیا گیا۔ پروجیکٹ کے تحت سب سے پہلا سروے ان ہی ماہرین نے کیا۔

طاہر رشید کے مطابق ’ابتدائی سروے کے مطابق سلیمان مارخور کی تعداد 120 اور افغان اڑیال تو 70 سے بھی کم بچے تھے۔ سمجھ لیجیے کہ ان کی معدومی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بج چکی تھی۔ اگر تدارک کے اقدامات نہیں کیے جاتے تو ناقابل تلافی نقصان ہوتا۔ لہذا سب سے پہلے حکومت کے ساتھ مل کر اس علاقے کو محفوظ قرار دلوایا گیا جسے بلوچی میں ’پرگور‘ کہتے ہیں۔‘

تورغر کنزرویشن پروجیکٹ شروع ہونے کے چار سال بعد جب 1989میں وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ، حکومت بلوچستان نے ایک عمومی سروے کیا تو معلوم ہوا کہ اس علاقے میں دونوں انواع کی تعداد چار سو سے بڑھ گئی ہے۔ یعنی صرف چار سال کے قلیل عرصے میں جانوروں کی تعداد دگنی سے زیادہ ہوگئی تھی۔

Markhoor

ٹرافی ہنٹنگ

سردار نصیر ترین کا دوسرا بڑا کام ٹرافی ہنٹنگ کو متعارف کروانا ہے۔ جنگلی حیات کے بچاﺅ کے ساتھ مقامی افراد کے فلاح و بہبود کے حوالے سے امریکی ماہرین سے صلاح و مشورے کے بعد یہ طے کیا گیا کہ یہاں ایک غیر سرکاری تحفظاتی مہم ہی تورغر کی جنگلی حیات کو معدوم ہونے سے بچا سکتی ہے۔

لہذا جب جانوروں کی تعداد مستحکم ہوئی تو تورغر کنزرویشن پروجیکٹ نے ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کا آغاز کیا جسے دنیا بھر میں جنگلی حیات کے وسائل کے پائیدار استعمال کا مستند طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ لوگ (ٹرافی) شکار کے لیے ایک کثیر رقم خرچ کرتے ہیں اور اس رقم کا 20 فیصد حکومت اور 80 فیصد اسی آبادی کی تعلیم، صحت اور ترقیاتی ڈھانچوں پر خرچ ہوتا ہے۔

سلیمان مارخور کے شکار کے 60,000 امریکی ڈالر اور 17,000ہزار ڈالر افغان اڑیال کے شکار سے حاصل ہوتے ہیں( یہ تمام جانور بوڑھے نر ہوتے ہیں)۔ ایک سال میں پانچ سے سات اڑیال اور چار مارخور کے لائسنس دیے جاتے اور یہ پیسہ مقامی افراد کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاتا ہے۔

اپنا فائدہ دیکھ کر کمیونٹی دل و جاں سے جانوروں کی حفاظت کرنے لگی اور اب کسی کی مجال نہ تھی کہ کسی جانور کے شکار کا سوچ بھی سکے۔ اکا دکا واقعات ہوئے بھی تو مقامی افراد نے ان سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ لیا۔ بعد ازاں ٹرافی ہنٹنگ کے پروگرام ملک کے کئی علاقوں میں بھی شروع کیے گیے۔

جانوروں کے تحفظ کے اقدامات کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ 2011 کے سروے کے مطابق ان تورغر کے پہاڑوں میں 3,500 سے زائد سلیمان مارخور اور 2,280 کے قریب افغان اڑیال مشاہدہ کیے گئے۔

کام بڑھتا گیا اور پھر اپریل 1994میں پروجیکٹ کا نام بدل کر سوسائٹی فار تورغر انوائرنمنٹ پروٹیکشن کر دیا گیا جو اب بھی کامیابی کے نئے میدان سر کر رہا ہے۔

Markhoor

سلیمان مارخور اور اڑیال

پاکستان کا قومی جانور مارخور ہے جو جنگلی بکری کی ایک قسم ہے۔ سلیمان مارخور دراصل مارخور کی ایک ذیلی نوع ہے۔ اس مارخور کو کوہِ سلیمان کی مناسبت سے سلیمان مارخور کہا جاتا ہے۔ سلیمان مارخور کا سائنسی نام کیپرا فالکورنی جرڈونی ہے اور اسے سیدھے سینگھوں والا بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس کے سینگ دوسرے مارخوروں کے سینگ کے مقابلے میں چھوٹے اور اس میں بل بھی کم ہوتے ہیں۔

یہ بلوچستان کے پہاڑوں اور افغانستان کے اس پہاڑی علاقے میں پائے جاتے ہیں جو بلوچستان کی سرحد سے ملتا ہے۔ بلوچستان میں یہ کوئٹہ، ژوب اور شرانی پہاڑوں میں بھی نظر آجاتے ہیں مگر ان کا اصل مسکن تورغر کے پہاڑ ہیں۔

اسی طرح دنیا بھر میں اڑیال کی چھ ذیلی نوع ہیں جن میں چار پاکستان میں پائی جاتی ہیں۔ جس میں افغان اڑیال، بلوچستان اڑیال، پنجاب اڑیال اور لداخ اڑیال شامل ہیں۔

پاکستان میں جنگلی حیات اور خصوصاً محفوظ علاقوں کے قیام کے بانی عاشق احمد خان نے سردار نصیر ترین کے کام کے حوالے سے یوں اظہار خیال کیا: ’سردار نصیر ترین یا تورغر کے منصوبے کی کامیابی کی اس سے بڑی دلیل کیا ہو سکتی ہے کہ ان کی وجہ سے سلیمان مارخور اور افغان اڑیال کی نسلیں معدومی سے بچ گئیں۔ کسی ایک نسل کی معدومی بھی ناقابل تلافی نقصان ہے۔ سمجھ لیجے کہ فطرت کی اربوں برسوں کی محنت پر پانی پھر جاتا ہے۔‘

’ہر نوع دوسری نوع کی بقا کی ضمانت ہے۔ سلیمان مارخور کے مسکن میں ادویاتی پودوں کی بھر مار ہے لیکن اگر سلیمان مارخور وہاں نہیں ہوگا تو زمین کی زرخیزی اور بے شمار پودوں کی نمو نہیں ہو سکے گی۔ کرہ ارض کے ماحولیاتی نظام میں انسان سمیت ہر نوع ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔‘

بین الاقوامی اعزازات

جنگلی حیات کے تحفظ کے نمایاں کام پر سردار نصیر ترین کو 1996 میں نیدرلینڈ کی حکومت کی جانب سے انھیں ’نائٹ ہڈ ان آرڈر آف دی گولڈن آرک‘ کا اعزاز دیا گیا جو دنیا بھر میں ماحول اور جنگلی حیات کے لیے کارہائے نمایاں کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔ جبکہ فرانس کی حکومت نے انھیں اپنے امتیازی ایوارڈ برائے تحفظ جنگلی حیات سے نوازا۔

اس کے علاوہ ایک بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل کونسل فار گیم اینڈ وائلڈ لائف کنزرویشن نے بھی تورغر کنزرویشن پروجیکٹ اور سلیمان مارخور کی نسل کے احیا پر 2008 میں ایک عالمی سطح کے ایوارڈ کا اجرا کیا جس کانام ’مارخور کنزرویشن ایوارڈ‘ رکھا گیا۔

اس ایوارڈ کے اجرا کے لیے باقاعدہ اور باضابطہ طور پر سردار نصیر سے اجازت لی گئی۔ ایوارڈ پر سلیمان مارخور ہی کی تصویر کندہ ہوتی ہے۔ 2010 میں سوسائٹی فار تورغر انوائرنمنٹل پروٹیکشن کو بھی اس’مارخور کنزرویشن ایواراڈ‘ سے نوازا گیا۔

تحفظ ماحول اور جنگلی حیات کے حوالے سے سردار نصیر ترین کی خدمات کا اعتراف بین الاقوامی سطح پر تو کیا گیا ہے مگر افسوس انھیں اپنے ملک میں پزیرائی نہ مل سکی۔ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین حکومت سے پرزور مطالبہ کر رہے ہیں کہ کم از کم بعد از مرگ سردار نصیر کے لیے کسی سول ایوارڈ کا اعلان کیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14558 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp