انتہائی سیاسی رویے اور سہولت کا ایکٹو ازم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز میں ہر شخص انتہا کے ممبر پر براجمان ہے، ہر ایک کا ”سچ“ وہی ہے جو اس کی انتہائی سیاسی پوزیشن یا مذہبی فکر کو سوٹ کرتا ہے۔ ادھر کوئی قومی سانحہ ہوتا ہے اور ادھر رویوں کی یہ دراڑیں سوشل میڈیا پر منہ چڑھانا شروع کر دیتی ہیں۔ اعتدال نہ رکھنے کے باعث حق بات کرتے ہوئے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے یا دوبارہ سوچنا نہ پڑتا ہے کہ آپ کے سپورٹر اور فالورز کیا سوچیں گے۔ جب آپ انتہائی پوزیشن پر الفاظ کے ذریعے یا اعمال کے زور پر جا بیٹھتے ہیں تو اکثر آپ گفتگو یا پراسس میں شمولیت کے اہل نہیں رہتے۔

کل کراچی اسٹاک ایکسچینج پر حملہ ہوا جس کا وہاں موجود سیکورٹی اور پولیس اہلکاروں نے بہادری سے مقابلہ کر کے چار دہشت گرد پار لگائے۔ بعد ازاں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے ذمہ داری قبول کی اور یوں سوشل میڈیا پر پھر سے متضاد اور انتہائی رویے دیکھنے میں آئے۔ ان دو طبقات کی بابت عرض ہے کہ اگر آپ کا خیال ہے کہ چونکہ اکثریتی پاکستانی بلوچ مسنگ پرسنز پر آواز نہیں اٹھاتے تو اس لیے بی ایل اے کی دہشتگردانہ سوچ کی نفی آپ نہیں کریں یا جب وہ مزدوروں، ورکروں یا سیکورٹی گارڈز کو گولیاں ماریں گے تو آپ سے کچھ لکھا تک نہ جائے گا، اور آپ کی وال جو سارا سال دیوار گریہ بنی رہتی ہے مگر اس حملے پر خاموش ہے، یا بی ایل اے جب چائنیز قونصل خانے پر حملہ کر کے غریب سیکورٹی گارڈ مار دے تو آپ اسے کھسیانا سا جسٹیفائی کریں یا چپ رہیں، پنجابی اور سرائیکی مزدوروں کے قتل پر بہانے تراشیں، تو یاد رہے، آپ اپنی مرضی کا حق چاہتے ہیں اور یہی ہر فساد اور مفاد پرست چاہتا ہے۔

آپ بلوچ کیس مضبوط نہیں، کمزور کرنے والے ہیں۔ آپ پاکستان پر سارا دن پھبتیاں کسیں، سیکورٹی لیپس ہو جائے تو آپ کی جگتیں ختم نہ ہوں اور اگر سیکورٹی ادارے بہترین ریسپانس دیں تو آپ کی سٹی گم ہو جائے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی شرم نہیں کہ آپ کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں میں آپ کے بے باک تعصب کا بھی اتنا ہی ہاتھ ہے جتنا کسی اور کی عدم برداشت کا ۔ اگر آپ کی لعن طعن محض برائے لعن طعن ہے کہ اب یہاں آپ کے سوشل اور فائنانشل سٹیکس کم رہ گئے ہیں تو میری رائے میں آپ یہاں ہونے والے واقعات اور چیلنجز کے ادنی سٹیک ہولڈر بھی نہیں بلکہ ان بچوں کی طرح ہیں جو کسی اونچی عمارت پر کھڑے ہو کر بس اس لیے نیچے تھوکتے ہیں کہ دیکھیں تھوک کتنی دور جائے گی۔

آپ بھلے اس سے آنکھیں چرائیں کہ سوشل میڈیا پر تو بلے بلے ہے، تاریخ میں آپ ایک متعصب انسان کے علاوہ کچھ نہ گنے جائیں گے، بھلے آپ لبرل ہوں یا کنزرویٹو، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ یاد رکھیے کہ انصاف کے لیے کھڑے ہونے والے دوسری سائڈ کو دیکھ کر اپنے اخلاقیات طے نہیں کرتے، وہ اخلاقیات اور انصاف پسندی سے اس بات سے آزاد ہو کر جڑے ہوتے ہیں کہ باقی اکثریت کسی ایک یا زائد واقعات پر کیسے ری ایکٹ کرتی ہے۔ یہ آئڈیلزم کہلا سکتا ہے مگر اگر آپ بھی آئڈیلزم کی کوشش نہیں کرتے تو کرے گا کون؟ پھر تو ساری حقوق کی جنگ بے معنی ہے۔

دوسری انتہا اور بھی نرالی ہے جسے لگتا ہے کہ سب ٹھیک ہے، جو ہو رہا ہے امریکہ، انڈیا، افغانستان یا ایران کرا رہا ہے اور ہم تو نیکوکاروں میں لمبر ون ہیں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ہے کہ چونکہ چند نوجوان بی ایل اے یا انڈین فنڈنگ کے ہاتھوں بک گئے ہیں اس لیے ”مسنگ پرسنز“ والا سب ڈرامہ ہے اور آپ کی پہلی پوسٹ اس واقعے کے بعد یہ ہے کہ ”چار اور مسنگ پرسنز ہلاک“ تو آپ جہالت اور تعصب کے درجۂ اولی پر فائز ہیں۔ میں ایسی تمام لوگوں کے لیے شرطیہ کہتا ہوں کہ وہ آج تک کسی ایک بھی متاثرہ خاندان یا واپس آ جانے والوں سے نہیں ملے اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اٹھانے والوں کو ہونے والے ”مغالطے“ کی قیمت ادا کس نے کی۔

انہیں سٹیٹ مشینری کے سٹرکچر اور اس کی خامیوں کا ادنی اندازہ بھی نہیں۔ ان کی اکثریت نے مطالعہ پاکستان پڑھی ہی نہیں، بعد ازاں حفظ بھی کی ہے یہ وہ واحد حفظ ہے جس کے لیے یادداشت اور سیاسی فکر، دونوں کا کمزور ہونا ضروری ہے۔ اور یہ بالکل وہی دلیل ہے کہ چونکہ چند مسلمان داعش چلاتے ہیں اس لیے دنیا کا ہر مسلمان اس کا جوابدہ ہے اور اس کو تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور اس کے ساتھ امتیازی رویہ جائز ہے۔

کاش آپ اپنی مصروف سوشل میڈیا زندگی میں سے وقت نکال کر کسی احتجاج میں شامل ہوئے ہوتے یا ان خاندانوں سے ملے ہوتے، کچھ انٹرویو ہی سنے ہوتے، کسی جرنیل کی آپ بیتی میں پڑھ لیتے کہ یہ ”میکنزم“ کتنا کھوکھلا ہے۔ یہ جو مائیں، بہنیں، بچے بوڑھے آپ جو کوئٹہ یا دیگر جگہوں پر اپنے پیاروں کی تصویریں اٹھائے انصاف مانگتے دکھائی دیتے ہیں کہ ہمارے پیارے کہاں ہیں، ہمیں بتاؤ، ان پر الزام ہے تو مقدمہ چلاؤ یا کم از کم یہ بتا دو کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں؟

یہ جو چند روز پہلے ایک بہن نے رو رو کر خود کشی کر لی اور آپ کے کان پر جوں تک نہ رینگی کیونکہ آواز بلوچستان سے تھی اور ظاہر ہے بھائی را کے ساتھ ملا ہوگا، ہے نا؟ کوئی نیوز چینل ایک بھی ایسی التجا نہ دکھائے کہ اوپر سے منع ہے۔ یار خدا کے بندوں سب کے سب را اور بی ایل اے سے جڑ گئے ہیں؟ وہ بھی جنہیں راؤ انوار جیسے پالتو مبینہ طور پر درجنوں کے حساب سے قتل کر دیتے ہیں؟ اور اگر ایسا ہی ہے تو ہم کر کیا رہے ہیں کہ یہ رک نہیں رہا؟

میں نے بلوچستان کے کئی علاقوں کا سفر کیا ہے اور یقین کریں، کسی بھی علاقے کے معمولی پڑھے لکھے انسان کے ساتھ بھی بیٹھ جائیں تو وہ 5 منٹس میں دکھ درد کھول کر سامنے رکھ دیتا ہے۔ کب تک ہمیں اسے انڈین اور افغان پراپیگنڈہ کہتے رہیں گے؟ خدا کا واسطہ انہیں اپنے لوگ، اپنے بھائی بہن سمجھیں اور ان کے دکھوں کو سنیں، اگر آپ انہیں اگنور کرتے رہیں گے تو اس سے قطع نظر کہ اٹھائے جانے والے کس جرم میں اٹھائے گئے یا غائب ہیں، کم از کم نئی بلوچ نسل آپ کی طرفدار نہ بنے گی۔

اس سب کو پس پشت ڈالنے کے لیے سنگدلی کافی نہیں، غیر معمولی ڈھٹائی اور اس پر غیر شرمندہ ڈھیٹ پنے پر مشتمل جہل بھی درکار ہے۔ مشرف دور میں سینکڑوں کے حساب سے لوگوں کو اٹھا کر امریکہ کے حوالے کرنے کی ریت آج بھی کسی نہ کسی شکل اور رنگ میں پائی جاتی ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں۔ عدالتی نظام کی کمزوری یا سیکورٹی کا بہانہ بنا کر من مانی کرنا اور ماورائے عدالت قتل و غارت کو اگر آپ آج جسٹیفائی کریں گے تو یقین کریں کل کو عین اسی بہانے پر آپ اور آپ کے چاہنے والے بھی قتل ہوں گے، یہی دلیل تھی جس پر سیکورٹی گارڈ نے پنجاب کا گورنر قتل کر دیا کہ عدالتوں میں انصاف تھوڑی ملتا ہے اب الزام کچھ بھی ہو، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟

یہی ”فاسٹ جسٹس سسٹم“ ہے جس نے تھوڑے سے بڑے لیول پر سہی مگر اسی اصول پر گوانتانامو بے اور ابو غریب جیسی گھناؤنی تصاویر دکھائیں۔ جس طرح دہشتگردی کی کوئی جسٹیفیکیشن نہیں، اس طرح مادر پدر آزاد سیکورٹی کے نام پر جسے چاہا غائب کر دیا، اس کی بھی نہیں۔ یہ محض سطحی سوچ ہے کہ ”نہیں جی ہوم ورک کے بغیر یہ نہیں ہوتا“ ہوم ورک ہو یا کلاس ورک، انصاف کے تقاضے اگر پورے نہیں تو آپ رکشے میں اٹھائیں یا گاڑی میں، آپ قانوناً مجرم ہیں۔

میں نے اعلی افسران کی وہ پریزنٹیشنز بھی سنی ہیں جس میں وہ اندرون خانہ بلوچستان میں کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہیں دوستو، یہ سیاسی معاملہ ہے، اس کو سیاسی بصیرت سے حل کریں اور کرنے پر زور دیں۔ طاقت کا غیر متوازن، بے باک اور غیر جوابدہ استعمال آپ کے لیے نا صرف اندرونی سیکورٹی کا مسئلہ رہے گا بلکہ گاہے بگاہے بین الاقوامی ذلت کا باعث بھی بنے گا۔ خدا کے لیے ہر اعتراض کرنے والا فنڈنگ لے کر نہیں بات کر رہا ہوتا، وہ بھی اتنا ہی پاکستانی ہے جتنے آپ۔ بلکہ شاید میرے نزدیک وہ زیادہ اہم ہے کہ وہ پاپولر بیانیے کی بجائے پاور فل طبقات سے سوال کرتا ہے۔ آپ کو اس کا انداز و الفاظ پسند نہیں، تو مت دیجیے ساتھ مگر کسی کی نفرت میں حقائق کا یکسر انکار کہاں کا انصاف ہے؟

اب بھی وقت ہے کہ اپنی ایکسٹریم پوزینشنز سی نیچے آئیے اور تعمیری عمل کا حصہ بنیے۔ اپنے ذاتی تلخ تجربات کی بنیاد پر سماجی مباحث کا دھارا غلط جانب موڑنے کی کوشش نہ کیجیے۔ اور سوال کس سے اور کیسے کرنا ہے، سیکھیے! وگرنہ یہ کہانیاں دہائیوں سے چل رہی ہیں مگر شاید دہائیاں اور نہ چل سکیں گی کہ دنیا ہر سال اب دہائی کی پلٹی لیتی ہے۔

Latest posts by سید علی حمید (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سید علی حمید کی دیگر تحریریں

سید علی حمید

علی حمید امن کی بات کرتے ہیں۔ ان کا سوچنا ہے کہ سماج کی بقا و بنت انسانوں کی جڑت سے ہے اور اگر تقسیم ہونی ہے تو صرف محبت ہو۔

syed-ali-hameed has 1 posts and counting.See all posts by syed-ali-hameed

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *