دلی سے اہل لاہور کے نام۔۔۔ ایک تعزیت نامہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھائی محمود الحسن،

آپ کی وال پر ظفر حسن صاحب کے گزر جانے کی خبر دیکھی۔ دل ڈوبنے لگا۔ نومبر میں اُن سے ایرج مبارک کے گھر پر، اس کے بعد ڈیفنس کے کلب میں ناشتے کی میز پر ملاقات ہوئی تھی۔ کسے پتہ تھا کہ یہ آخری ملاقات ہے۔ آج آپ نے تصویر یں بھیجیں تو خیال آیا کہ اُس روز ملاقات کی صبح ہم سب خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ معلوم نہیں کیا سوچ رہے تھے۔

انتظار صاحب جب تک لاہور میں رہے، ہر سفر میں ظفر صاحب سے ملاقات ہوتی تھی۔ کتنے خاموش، وضعدار اور سیدھے سادے انسان تھے۔ نہ اپنی مغربی یونیورسٹیوں کی تعلیم کا زعم، نہ اپنے اقتصادی اور سماجی مرتبے اور حیثیت کا۔ ایک روز اُن کے موبائل سے فون کرنے کی ضرورت پڑی تو اندازہ ہوا کہ اُن میں سادگی بھی کتنی تھی۔ مشکل سے چار پانچ ہزار روپے والا معمولی سا انسٹرومنٹ۔ ہم نے کہا، بازار میں اس سے بھی سستا فون مل سکتاتھا۔ ہنس دئیے، کہنے لگے کہ میرا کام اسی سے چل جاتا ہے۔

انھوں نے یہ معمول بنا لیا تھا کہ انتظار صاحب کو اور ہمیں ایک دو بار کھانے کے لیے باہر ضرور لے جاتے تھے۔ ایک رات ہمیں ڈائننگ ایریا میں کچھ دیر انتظار کرنا پڑا کہ کوئی میز خالی نہیں تھی۔ ہم نے کہا…. ظفر صاحب، یہ کیا طلسم ہے کہ معیشت کی بدحالی کے قصے عام ہیں اور یہاں، اتنے مہنگے ہوٹل میں بھیڑ کا یہ عالم۔ ہنس دیے، بولے، یہی تو مزہ ہے پاکستان بننے کا۔

انھوں نے اپنی حالی اور سرسید کے نظریہ فطرت والی کتاب تحفتاً دی تھی۔ اُس پر بات چلی تو ہماری اس رائے سے بھی بے مزہ نہیں ہوئے کہ آپ نے دنیا دیکھی ہے۔ امریکا کی یونیورسٹی کے تربیت یافتہ اور فارغ التحصیل ہیں، اس کے باوجود اتنی تنگ نظری! پھر ہنس دیے۔ کیسے اعلا ظرف انسان تھے اور کتنے دوست نواز۔

مجھے نسیم بیگم کی گائی ہوئی ایک غزل چاہیے تھی۔ انتظارصاحب کے ساتھ ہمیں لیے ہوئے کوئی گھنٹے بھر لاہور کی میوزک شاپس کا چکر لگاتے رہے۔ آخر وہ کیسٹ ڈھونڈ کر ہی دم لیا۔ہر ملاقات میں ہجرت سے پہلے اپنے وطن کا اور عسکری صاحب کا تذکرہ ضرور ہوتا تھا۔ مگر کوئی نوسٹلجیا نہیں۔ بس کچھ قصے دہراتے رہتے تھے۔ اب کیا عجب کہ لاہور آنا ہی نہ ہو، لیکن حالات اگر بہتر ہوئے اور سفر ممکن ہوا تو وہاں ظفر صاحب بھی بہت یاد آئیں گے۔

ویرانی اور وحشت بڑھتی جا رہی ہے۔ گھر میں مقید ہیں۔ ابھی حسبِ معمول تمام ٹیسٹ ہوئے تو ہم نے اپنے ڈاکٹر سے پوچھا، باہر نکل سکتے ہیں؟ انہوں نے دو ٹوک انداز میں منع کر دیا۔ پچھلے کچھ برسوں میں ایک ایک کر کے کتنے دوست چلے گئے۔ اب کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ پھر بھی، تالا بندی کے موسم میں ایک مقید اور بے برگ و بار زندگی کے باوجود، یہ موہوم امید پیچھا نہیں چھوڑتی کہ آنے والے دن بہتر ہوں گے۔

آصف فرخی کا غم کیا کم تھا کہ ہم نے ظفر صاحب کو بھی کھو دیا۔ آج دل پر بوجھ بہت تھا۔ باتیں کر کے کچھ ہلکا ہو گیا۔

خیر طلب

شمیم حنفی

28  جون 2020

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply