نگار جوہر پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل: کیا فوج میں مذہبی حلقے کا غلبہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی فوج میں پہلی بار لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ایک خاتون کی تقرری کا اعلان کیا گیا ہے۔ ان کی اس تقرری کے بعد مختلف حلقوں میں اس بارے میں متضاد خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی فوج میں پہلی بار لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ایک خاتون کی تقرری کا اعلان کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر نگار جوہر فوج میں میجر جنرل کے عہدے سے ترقی پا کر لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر پہنچنے والی پہلی خاتون ہیں۔ ان کی اس تقرری کے بعد مختلف حلقوں میں اس بارے میں متضاد خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر نگار جوہر گرچہ پاکستان کی متعدد خواتین کے لیے باعث فخر شخصیت ہیں تاہم ان کی بطور لیفٹیننٹ جنرل تقرری کے بعد سے اس فیصلے کو مختلف زاویوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر نگار جوہر کا تعلق خیبر پختونخوا میں صوابی کے علاقے پنج پیر سے ہے۔ ان کا تعلق اس علاقے کے معروف مذہبی گھرانے سے ہے۔ اس بارے میں پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث بھی ہو رہی ہے کہ کیا ڈاکٹر نگار کی اس اعلیٰ عہدے پر تقرری کے پیچھے ان کے پس منظر کا ہاتھ ہے؟

ڈی ڈبلیو نے اس بارے میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی چند معروف خواتین کے ساتھ بات چیت کی۔ خاص طور سے ایسی خواتین جو نہ صرف خود کسی اعلیٰ عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی ہیں بلکہ وہ پاکستان کی ہر طبقے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کی ترقی اور ان کے حقوق کے لیے سرگرم بھی ہیں۔

دوہری رائے

ڈاکٹر فرزانہ باری انسانی، خاص طور سے خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم ہیں اور پاکستان کی ایک معروف اسکالر اور ماہر تعلیم بھی ہیں۔ نگار جوہر کی پاکستانی فوج میں اعلیٰ عہدے پر تقرری کے بارے میں ڈوئچے ویلے کے ساتھ بات چیت میں ان کا کہنا تھا، ”میرا موقف دو طرح کا ہے، ایک میرا اصولی موقف ہے اور دوسرا آج کی مناسبت سے کہ ہم اس کو کس طرح دیکھتے ہیں۔ اصولی موقف میرا یہ ہے کہ میں ذاتی طور پر فوج کے بطور انسٹیٹیوشن ہی کے خلاف ہوں۔

17 ویں صدی میں قومی سلامتی کی ریاست کا تصور جو دنیا میں ابھرا اور پھر اس کے بعد جو خون خرابے ہوئے ہیں، ملک کو بچانے اور محب الوطنی کے نام پر، پھر اسلحے کی صنعت اور اس کا کاروبار، اس نے پوری دنیا کے وسائل کو اس طرف ڈائرکٹ کر دیا اور انسان بہت پیچھے رہ گئے۔ ہم ایک ایسا سماج بنانا چاہتے ہیں جہاں فوج جیسے اداروں کی ضرورت ہی نا ہو۔ تو ایسے اداروں میں خواتین کا اونچے عہدوں تک پہنچنا کوئی خوشی منانے کی بات نہیں ہے۔“

فرزانہ باری نے تاہم ملک کے اہم اور فیصلہ ساز اداروں میں خواتین کی ترقی اور انہیں بھی یہ مقام ملنے جیسے اقدامات کو مثبت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا، ”خواتین جس بھی شعبے میں کام کرنا شروع کرتی ہیں وہاں پر وہ اپنی جگہ بناتے ہوئے اپنا کیرئیر بناتی ہیں اور اپنے ادارے میں فیصلہ سازی کی سطح تک پہنچتی ہیں، وہ بہت اہم ہے اور اسے ہم مثبت سمجھتے ہیں۔ آخر کار یہ خواتین کا اپنا انتخاب ہوتا ہے کہ وہ کس ادارے کو جوائن کریں۔ وہاں کی فیصلہ سازی میں ان کا بھی حصہ ہونا چاہیے۔ اس لحاظ سے ایسے اداروں میں خواتین کو ترقی ملنا خوش آئند بات ہے میں اس کو مثبت اقدام کہوں گی اور ایسی خواتین کی یہاں تک پہنچنے کی کوششوں کو ہم سراہتے بھی ہیں۔“

ترقی کا تعلق خاندانی وراثت سے؟

موجودہ حکومت پر اس حوالے سے غیر معمولی تنقید کی جا رہی ہے کہ یہ فوج کو مختلف شعبوں میں بہت زیادہ شمولیت کا موقع فراہم کر رہی ہے اور یہ بھی کہ پاکستانی فوج کا ایک مخصوص حلقہ مذہبی انتہا پسندانہ رجحانات کا حامل ہے۔ ایسے میں فوج کی پہلی خاتون لیفٹیننٹ جنرل بننے والی ڈاکٹر نگار جوہر کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

نگار جوہر صوبہ خیبر پختونخوا سے آئی ایس آئی کے ایک نامور افسر میجر عامر کی بھانجی ہیں اور ان کا خاندان پاک فوج سے نسلوں سے منسلک ہے ان کے والد بھی آئی ایس آئی میں کرنل کے عہدے پر فائز رہے ہیں اور ان کے مرحوم شوہر بھی افسر تھے اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کے ماموں مولانا محمد طیب ممتاز عالم دین اور مرکزی امیر اشاعت ’التوحید و السنتہ العالمیہ‘ ہیں۔ اس پس منظر کے ساتھ ڈاکٹر نگار جوہر کی تقرری کے بارے میں ڈوئچے ویلے کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کی ایک مشہور صحافی اور پشاور میں آج ٹی وی کی بیورو چیف فرزانہ علی نے کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ اتنے اہم عہدے پر خیبر پختونخوا کے پدرسری معاشرے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی تعیناتی ایک انتہائی اہم بات ہے اور میں اسے بہت مثبت قدم سمجھتی ہوں کیونکہ یہ وہ عہدے ہیں جو مردوں کی ملکیت سمجھے جاتے تھے اور اب ’گلاس سیلنگ‘ ٹوٹ رہی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ میری یہ خواہش ہے کہ ہم پاکستان میں ایسا نظام بنائیں کہ جہاں اتنی اہم پوسٹوں تک ہر طبقے کی خواتین کی رسائی ہو۔ تب جا کر معاشرتی سطح پر سوچ اور نظام میں تبدیلی آئے گی۔ مثال کے طور پر ایک سیاسی خاندان سے تعلق رکھنے والی خاتون کا پارلیمنٹ تک پہنچنا شاید اتنا تبدیلی کا باعث نہ ہو جتنا نچلے طبقے کی خواتین کا وہاں تک پہنچنا ہے کیونکہ حقیقی تبدیلی خاندانی وراثت کو آگے لے کر چلنے سے نہیں بلکہ ہر طبقے کی برابر شمولیت سے ممکن ہوتی ہے۔“

کیا خواتین کی ترقی کا دار و مدار ان کے پس منظر پر ہے؟

خیبر پختونخوا سے ہی تعلق رکھنے والی ماہر قانون اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن رخشندہ ناز، جنہیں گزشتہ برس صوبائی حکومت نے انسداد ہراسانی کی پہلی محتسب مقرر کیا تھا، نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ڈاکٹر نگار جوہر کی بطور لیفٹینینٹ جنرل تقرری کے موضوع پر گفتگو کی۔ رخشندہ ناز کا کہنا تھا کہ پاکستانی خواتین ہر سطح پر نگار جوہر کی تقرری کا خیرمقدم کر رہی ہیں۔ کیونکہ پاکستان کی تاریخ میں خواتین کی اہم شعبوں میں اونچے عہدوں تک پہنچنے کی جدوجہد پرانی ہے۔ ان کے بقول، ”عدلیہ میں بھی دیکھ لیں تو سپریم کورٹ میں آج تک کوئی خاتون جج نہ بن سکی۔ خواتین ججز کے 2 فیصد کوٹے کو سینیٹ میں رد کر دیا گیا۔ صوبائی سطح پر اکا دکا خواتین ججز نظر آتی ہیں۔ شریعت کورٹ میں آج تک کوئی خاتون جج مقرر نہیں ہو سکی۔“

رخشندہ ناز کا کہنا ہے کہ فوج بھی پاکستانی معاشرے کا ایک پدرسری ادارہ ہے۔ لوگ بس یہی سمجھتے ہیں کہ فوج اور پولیس جیسے اداروں میں صرف مرد ہی اونچے عہدوں پرفائز ہو سکتے ہیں۔ رخشندہ ناز کے بقول، ”ڈاکٹر نگار کی بطور لیفٹینینٹ جنرل تقرری گرچہ ہیلتھ سیکٹر میں ہے مگر یہ بھی نہایت اہم شعبہ ہے۔ خاص طور پر کووڈ انیس کے بحران کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ ان شعبوں پر حکومت کی کتنی کم توجہ رہی ہے۔ اب ڈاکٹر نگار بہت اہم کردار ادا کریں گے۔“

ایک اور اہم شعبے کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے رخشندہ ناز کا کہنا تھا، ”پاکستانی خواتین پیس ’کیپنگ فورس‘ یا امن دستوں کا حصہ بن کر بیرون ملک بھی جا رہی ہیں۔ اب پاکستانی خواتین کو نان ٹریڈیشنل یا غیر روایتی اداروں میں بھی آگے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمارے ملک میں نوکریوں کے لیے خواتین کا 10 فیصد کوٹا موجود ہے لیکن یہ بھی ابھی پر نہیں ہے۔ جینڈر سینسیٹییو پالیسی کی ضرورت ہے۔“

اس سوال کے جواب میں کہ آیا ایک خاص طبقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خواتین ہی کیوں اونچے عہدوں تک پہنچ پاتی ہیں؟ رخشندہ ناز کا جواب تھا، ”دو ہزار آٹھ میں جب 12 ویں Constituent Assembly میں آئینی ترمیم کے تحت خواتین کو 17 فیصد کوٹا ملا تھا اس وقت بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ کون کس کی بہن، کس کی بیٹی یا بیوی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں اب تک زیادہ تر شعبوں میں مرد ہی اوپر سے اوپر آتے رہے۔ وہ بھی تو سیاست کو وراثت کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔ پاکستان میں سیاست کی پوری پوری سلطنتیں قائم ہیں۔ جب کوئی عورت ترقی پا جائے تو سب شور شروع کر دیتے ہیں۔“

رخشندہ ناز کا اپنی مثال دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وہ ’سیلف میڈ‘ خاتون ہیں کسی کی سفارش سے پختونخوا کی انسداد ہراسانی کی پہلی محتسب نہیں بنیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اگر سفارش اور تعلقات یا رشتہ داریاں ترقی کا سبب بنتی ہیں تو یہ اصول خواتین اور مردوں دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ وہ خواتین کی ترقی اور کامیابی پر اس طرح کے خیالات کے اظہار کو معاشرے کی ’گھسی پٹی سوچ‘ کے علاوہ کچھ نہیں سمجھتیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 30 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa

Leave a Reply