غم روزگار اور خدا کا وعدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کے وبائی دور میں ہر کوئی اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے، ہر کسی کو یہی فکر لاحق ہے کہ آگے کھائیں گے کہاں سے، پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک تو ایک طرف ترقی یافتہ ممالک بھی اسی پریشانی میں مبتلا ہیں۔

کل تک کچھ رجائیت پسند یہ امید دلا رہے تھے کہ کھانے پینے کی فکر سکینڈے نیویا اور سنگاپور جیسے ممالک کو کرنی چاہیے پاک سر زمین میں گندم سے چاول تک اور دالوں سے مسالا جات تک ہر چیز پیدا ہوتی ہے، اگر کل کو عالمی تجارت نہ بھی شروع ہوئی تو کم از کم ہم بھوکے نہیں مرتے مگر پھر ٹڈی دل کے پے درپے حملوں کے باعث فصلوں کی پیداوار امید سے بہت کم ہونے کا مژدہ بھی سنا دیا گیا، اب اگرچہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے نام پر کاروبار کی بھرپور اجازت دیدی گئی ہے مگر پھر بھی ہر کوئی معاش کی فکر میں مبتلا ہے۔

سورۃ بنی اسرائیل میں اللہ رب العزت نے فرمایا کہ انسان جلد باز واقع ہوا ہے، پھر سورہ انبیاء میں فرمایا کہ انسان ایسا جلد باز ہے کہ گویا جلد بازی سے ہی بنایا گیا ہے۔

ہم وقتی طور پر اپنی محدود عقل کے پیمانوں پر حالات کو پرکھتے اور پھر فیصلہ کر لیتے ہیں، جب حالات ہماری سوچ کے مطابق رخ نہیں لیتے تو ہمیں فکر لاحق ہونے لگتی ہے، حالانکہ معاش خدا کی طرف سے مقرر کردہ ہے، اللہ قرآن میں فرماتا ہے کہ ”تمہارے لیے زمین میں ایک (مقررہ) وقت تک ٹھکانا اور معاش (مقرر کر دیا گیا) ہے“ ۔ (سورۃ البقرہ، آیت 36 ) پھر سورۃ الحجر میں فرمایا: ”اور ہم ہی نے تمہارے لیے اور ان لوگوں کے لیے جن کو تم روزی نہیں دیتے، اس (زمین) میں معاش کے سامان پیدا کیے ہیں“ ۔ (آیت 20 )

اس کے باوجود ہمارا بھروسا ظاہری ذرائع پر ہے، ہمیں یہ لگتا ہے کہ اگر جی ڈی پی میں اضافہ نہ ہوا، اگر کورونا کا فی الفور خاتمہ نہ ہوا، اگر تجارتی پابندیاں نہ ہٹیں تو شاید ہم بھوکوں مر جائیں گے، حالانکہ خدا نے ہی سامان معیشت اور اسباب پیدا کیے ہیں اور ہر جاندار کے رزق کا ذمہ بھی لیا ہے، مگر پھر ہمیں اپنی ذمہ داریاں ستانے لگتی ہیں۔ یہاں مجھے اس شخص کا قصہ یاد آ گیا جو ایک لاعلاج مرض میں مبتلا تھا:

ایک دفعہ ایک ایسی مجلس سے گزر ہوا جہاں کئی لوگ بیٹھے تھے مگر ایک ہی شخص اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ اس کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کسی خطرناک مرض میں مبتلا ہے، ایسا مرض کہ ڈاکٹروں نے اسے جواب دے دیا ہے۔ وہ بتا رہا تھا کہ جب میری رپورٹس آئیں تو ایک دفعہ تو میرا سر چکرا گیا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔ میں وہیں بیٹھ گیا۔ جب ڈاکٹر نے دیکھا کہ میری ہمت بالکل جواب دے گئی ہے تو اس نے مجھے پانی پلایا، اپنے پاس بٹھایا، میری ہمت بندھائی اور پھر مجھ سے دو سوال پوچھے۔ ڈاکٹر کے ان دو سوالوں سے میں موت کے خوف سے آزاد ہو گیا۔

ڈاکٹر نے کہا کہ انسان کو جب موت نظر آئے تو وہ اپنے گھر والوں، بیوی بچوں کا سوچتا ہے، اسے یہ فکر لاحق ہو جاتی ہے کہ میرے بعد میری اولاد کا کیا ہو گا، وہ طرح طرح کے اندیشوں اور اوہام کا شکار ہو جاتا ہے۔ پھر ڈاکٹر نے پوچھا کہ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جس نے اپنے بچوں کے لیے ترکے میں خاصی رقم چھوڑی ہو مگر آج اس کی اولاد پائی پائی کی محتاج ہو؟

بڑا آسان سا سوال تھا، میرے اردگرد حتیٰ کہ میرے خاندان میں بھی کئی پیسے والے ایسے تھے جنہوں نے ترکے میں بہت کچھ چھوڑا مگر ان کی ناخلف اولاد یا تو جائیداد کے جھگڑوں میں پڑ گئی یا چند ہی سالوں میں ساری جائیداد اجاڑ کر بیٹھ گئی۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ ایک نہیں، بہت سے لوگ دیکھے ہیں۔

پھر ڈاکٹر نے دوسرا سوال کیا کہ کیا کوئی ایسا شخص دیکھا ہے، جس کے باپ نے اس کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو اور آج اسے سب کچھ میسر ہو؟

یہ بھی آسان سا سوال تھا۔ میں کسی اور کی کیا مثال دیتا، خود ان لوگوں میں سے تھا۔ میرے والد جب فوت ہوئے تو گھر میں نہایت عسرت کا عالم تھا مگر اللہ نے اپنے فضل سے خوب نوازا اور پھر پیسے کی ریل پیل بھی دیکھی۔ ایسے بھی بے شمار لوگوں کو میں نے دیکھ رکھا تھا۔ اس کا جواب بھی ہاں میں دیا تو ڈاکٹر بولا: زندگی کا یہی سبق ہے۔ ممکن ہے آپ اپنی اولاد کے لیے کروڑوں اربوں کی جائیداد چھوڑیں مگر وہ چند ہی سالوں میں کنگال ہو جائے، یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اپنے لواحقین کے لیے کچھ نہ چھوڑیں اور اللہ ان پر اپنی مہربانی فرمائے۔ ضروری یہ نہیں کہ آپ نے اولاد کے لیے کیا چھوڑا ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ آپ نے اولاد میں کیا چھوڑا ہے۔ وہ شخص لوگوں کو بتا رہا تھا کہ ڈاکٹر کی بات میرے ذہن میں بیٹھ گئی اور ایسی بیٹھی کہ میں موت کے خوف سے آزاد ہو گیا۔

اسی طرح سیدنا عمرؒ بن عبدالعزیز سے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ جب ان کا آخری وقت آیا تو ان کا برادر نسبتی ہشام بن عبدالملک، جو کہ حضرت عمرؒ کے پیشرو خلیفہ عبدالملک کا بیٹا تھا، ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ امیرالمومنین! آپ کے بارہ بیٹے ہیں اور جو جمع پونجی آپ چھوڑ کر جا رہے ہیں، میرے بھانجوں کے حصے میں تو صرف 2، 2 درہم ہی آئیں گے۔ یہ آپ کے بعد کیا کریں گے؟ میں ایک لاکھ درہم آپ کو ہدیہ کرنا چاہتا ہوں، یہ ان بچوں کے کام آئیں گے۔

عمرؒ بن عبدالعزیز نے فرمایا ”یہ پیسہ جہاں جہاں ظلم و ستم کر کے تم نے یہ پیسہ جمع کیا ہے یہ وہیں خرچ کر آؤ، میری اولاد کو تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں“ ۔ اس کے بعد آپ نے اپنی اولاد کو مخاطب کر کے فرمایا ”میرے سامنے دو راستے تھے، ایک تو یہ کہ میں بھی تمہارے ماموؤں کی طرح ظلم و ستم کر کے بیت المال سے خوب مال بناتا اور تمہیں سونے میں تول دیتا مگر اس کے بدلے میں مجھے جہنم کی آگ کا ایندھن بننا پڑتا اور تمہارا باپ جہنم کی آگ سہنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس لیے میں نے تمہارے لیے صبر و شکر کے راستے کا انتخاب کیا ہے لیکن یہ میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ تمہیں ضائع نہیں کرے گا لہٰذا جب کبھی ضرورت پڑے تو اللہ سے مانگ لینا، وہ تمہیں خالی ہاتھ نہیں لوٹائے گا “ ۔

عمرؒ بن عبدالعزیز کا ترکہ کم و بیش ایک سو بیس درہم بنا اور ہر بیٹے کے حصے میں دس درہم آئے اور جب ہشام کا انتقال ہوا تو اس کے ہر بیٹے کے حصے میں دس لاکھ درہم آئے مگر پھر چشم زمانہ نے وہ منظر بھی دیکھا کہ دمشق کی جامع مسجد میں جہاد کے لیے سامان کا اعلان ہوا تو عمرؒ بن عبدالعزیز کے ہر بیٹے نے سو سو اونٹ اور گھوڑے دیے جبکہ اسی مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر ہشام بن عبدالملک کی اولاد بھیک مانگ رہی تھی۔

اسی طرح قرآن میں سورہ الکہف میں حضرت خضرؑ اور حضرت موسیٰؑ کا واقعہ بیان کیا گیا کہ حضرت موسیٰ و خضر علیھما السلام دوران سفر ایک بستی میں پہنچے تو انہیں بھوک نے ستایا، انہوں نے بستی والوں سے کھانا مانگا مگر وہاں کے لوگوں نے ان مسافروں کو کھانا دینے سے انکار کر دیا۔ دونوں حضرات تھوڑا آگے بڑھے تو ایک دیوار پر نظر پڑی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضرؑ نے اس دیوار کی مرمت کر کے اسے سیدھا کر دیا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری طلب کرتے (اور یوں ہم ان پیسوں سے کھانا خرید لیتے ) اس پر حضرت خضرؑ نے فرمایا کہ یہ ایک فوت شدہ نیک بندے کا مکان ہے اور اس کے نیچے اس کا خزانہ دفن ہے، اگر یہ دیوار گر جاتی تو اس کا خزانہ ظاہر ہو جاتا (اور بستی والے اسے لوٹ لیتے ) اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ دیوار کی مرمت کی جائے تاکہ اس شخص کے یتیم بچے جب جوان ہو جائیں تو اپنے باپ کا مدفون خزانہ خود نکالیں۔

عمرؒ بن عبدالعزیز کا اشارہ غالباً اسی جانب تھا کہ خدا نیک بندے کی اولاد کو بھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ نیکی بالخصوص حق حلال کی کمائی گئی دولت اس سمندر کی طرح ہے جو خشک ہو جائے تو بھی ریت سے نمی نہیں جاتی۔ انسان اپنے مستقبل، اپنی اولاد کی خاطر کیا کچھ نہیں کرتا؟ اگر کچھ نہیں کرتا تو وہ خدا کی ذات اور اس کے وعدے پر توکل اور صبر ہے۔

پاکستان میں تو یہ بات کئی بار ہو چکی، کچھ عرصہ قبل انڈونیشیا کے وزیر برائے مذہبی امور لقمان حکیم سیف الدین کا یہ بیان بھی پڑھنے کو ملا تھا کہ انڈونیشیا میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی وجہ عہدیداروں کی لالچی بیویاں ہیں، لوگ اپنی بیویوں کو خوش کرنے کے لئے بدعنوانی میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے قانون بیرسٹر ظفر اللہ کا یہ بیان بھی آن ریکارڈ ہے کہ کرپشن کی وجہ بیویوں کی فرمائشیں ہیں۔

بندہ خدا پر توکل کر کے اسباب اختیار کرے تو خدا کبھی مایوسی کو پاس پھٹکنے نہیں دیتا مگر جن کا ایمان ہی یہ ہو کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، ان کی محنت کا ثمر ہے تو وہاں خدا بھی بندوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، خواہشات کے بے لگام گھوڑے کی طنابیں اگر کھینچ کر رکھی جائیں تو زندگی کی بہت سی مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، وگرنہ وہی میاں محمد بخش والی بات کہ

جنہاں پچھے پاپ کمائے کتھے او تیرے گھر دے؟
پیر پسارے پیا وچ ویہڑے، کڈو کڈو کر دے

(جن کی خاطر تم نے گناہوں کا بوجھ ڈھویا اب وہ کہاں ہیں، اب تمہارا جنازہ گھر کے صحن میں پڑا ہے جبکہ تمہاری اولاد (خوف کے سبب) جلد سے جلد تمہاری میت گھر سے نکالنے کے درپے ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *