میر شکیل الرحمن کی رہائی کا فیصلہ ہو گیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”جنگ جیو“ گروپ کے مقتدر حلقوں کے ساتھ معاملات حتمی طور پر طے پا گئے ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا سیٹھ میر شکیل الرحمن 7 جولائی کو ”باہر“ آ جائیں گے دوسری طرف رزاق داؤد اور غلام سرور خان جیسے متعدد اہم وفاقی وزراء کا بھی جلد حکومت سے باہر کر دیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد عمر کی قربانی بھی خارج از امکان نہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا ہاؤس ”جنگ جیو“ گروپ نے بالآخر حکومت کے آگے گھٹنے ٹیک دیے ہیں اور غیرعلانیہ ڈکٹیشن قبول کر لینے پر رضا مندی دے دی ہے۔ اس سلسلے میں گروپ کے نمبر ٹو یعنی میر شکیل الرحمن کے بڑے صاحبزادے میر ابراہیم اور مقتدر حلقوں کے مابین مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں، وزیراعظم عمران خان کو بھی اس بابت اپنے رویے میں لچک پیدا کرنے پر آمادہ کر لیا گیا ہے لہٰذا قوی امکان ہے کہ 7 جولائی کو آئندہ تاریخ سماعت پر نیب لاہور ہائی کورٹ میں میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت کی مخالفت نہیں کرے گا اور ضمانت کی درخواست منظور کر لئے جانے کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا سیٹھ کو براہ راست سروسز ہسپتال لاہور سے رہا کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف آنے والے دنوں میں وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ہونے والے رد و بدل میں وفاقی وزیر ہوا بازی غلام سرور خان کے علاوہ وزیر تجارت رزاق داؤد سمیت متعدد بڑے ناموں کی چھٹی کرا دیے جانے کا امکان ہے، بالخصوص ایسے چہرے جو اپنے ذاتی کاروبار کی بنا پر مفادات کے ٹکراؤ کے حامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں نے وزیراعظم کی ٹیم میں ایسی شخصیات بارے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، مقتدر قوتوں نے 26 جون کو پٹرول کی قیمت میں یکمشت 25 روپے اضافے کے واقعہ کے بعد ایک روز قبل فارغ کیے جانے والے وزیراعظم کے مشیر ندیم بابر کے حوالے سے بھی اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور سوال اٹھایا تھا کہ ایک ایسا شخص کس طرح وزیراعظم کا سب سے پسندیدہ مشیر ہے جو اپوزیشن لیڈر، سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا بھی سب سے پسندیدہ مشیر تھا اور شہباز شریف نے اسے سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ کا پراجیکٹ انچارج بھی بنایا ہوا تھا۔ ۔

جبکہ موجودہ وفاقی حکومت میں بجلی اور پٹرولیم کے شعبوں میں سٹیک ہولڈر ہونے کے باوجود پاور سیکٹر اور پٹرول سیکٹر عملاً اسی کے حوالے کیے ہوئے ہیں جو ”اورئنٹ پاور کمپنی“ اور ایک تیل کمپنی کا مالک ہوتے ہوئے پاور اور پٹرول سیکٹرز میں متصادم مفادات رکھتا ہے، آئی پی پیز مالکان میں شامل ہوتے ہوئے آئی پی پیز یعنی پرائیویٹ بجلی گھروں کے بڑے سکینڈل بارے حکومتی کارروائی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 26 جون کو ندیم بابر نے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کے ساتھ جا کر پٹرول کی قیمت میں 25 روپے اضافے کی سمری براہ راست وزیراعظم سے منظور کرا لی تھی، اور یہی اقدام ان کی چھٹی کی وجہ بنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply